حیاء کی چادر

(Fatima Ishrat, )
 " بیٹا جاگ جاؤ اب۔۔سورچ سر پہ آ پہنچا ہے۔۔۔صبح کی نرم ٹھنڈک کی جگہ چلچلاتی دھوپ نے بسیرا کرلیا ہے۔۔۔اور تم ابھی تک منہ اوندھے پڑی خراٹے لینے میں مگن ہو"۔۔۔

آرزو بیگم نے افشاں کو زور سے جھنجھوڑا ۔۔ساتھ ہی چادر کا سرا کھینچتے ہوئے۔۔۔ڈانٹ پلائ۔۔۔

"کیا ہے اماں ... سونے دیں ناں ۔۔۔جب سے کالج کی چھٹیاں ہوئ ہیں آپ فجر سے مرغے کی بانگ کی طرح۔۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آواز لگانا شروع کردیتی ہیں"۔۔

افشاں آنکھیں مسلنے لگی۔۔۔جمائ کے ساتھ بھرپور انگڑائ بھی لی۔۔۔تکیہ سیدھا کرکے ٹیک لگاکے بیٹھ گئ۔۔۔

"تمہیں کچھ خدا کا خوف بھی ہے کہ نہیں ... ساری دنیا جاگ چکی ہے۔۔۔بلکہ آدھا کام بھی نمٹاچکی ہے اور یہ شہزادی صاحبہ ابھی پلنگ توڑنے میں مصروف ہیں"۔۔۔

اماں کی تیوریاں چڑھ گئیں۔۔۔

"اماں اب ایسا بھی نہیں سب کام تو کرتی ہوں ۔۔۔اکلوتی ہوں پھر بھی کوئ ناز نخرے نہیں اٹھا ئے جاتے۔۔۔الٹا گیہوں کی طرح سارا دن پیسا جاتا ہے"۔۔

افشاں کے چہرے پہ مظلومیت در آئ۔۔وہ شکایتی انداز اپنائے جو منہ میں آیا ... بولتی چلی گئ۔۔۔اسکا موڈ خراب ہوچکا تھا۔۔

"بیٹا اچھے گھر کی لڑکیوں کے ایسے چال چلن نہیں ہوتے کل کو تمہیں پرائے گھر بھی جانا ہے ذرا ہوش کے ناخن لو۔۔۔اور اب یہ عجیب وغریب شکلیں بنانا بند کرو ۔۔۔منہ ہاتھ دھوو۔۔۔اور میرا ہاتھ بٹانے کچن میں آجاؤ... کچھ خاص مہمان آنے والے ہیں۔۔اہتمام کرناہوگا "۔۔

۔۔ آرزو بیگم نے۔۔افشاں کے چہرے کے زاویے کو بھانپتے ہوئے ۔۔۔اپنے لہجے کو نرم کرلیا۔۔۔متفکر سے لہجے میں کہتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔

"اب کون آرہا ہے ہمارے گھر۔۔ سچ اماں میرا بالکل دل نہیں ۔۔۔میں نہیں آؤں گی کسی کے سامنے وامنے۔۔۔مجھے نہیں کرنی کوئ شادی وادی۔۔۔
ابھی تو میرے موج مستی کے دن ہیں۔۔۔ویسے بھی مجھے میری آزادی بڑی ہی پیاری ہے"۔۔
افشاں دوپٹہ ہوامیں لہراتی ۔۔چہک رہی تھی۔۔۔

"اے لڑکی تمھارا دماغ تو ٹھکانے پہ ہے۔۔ یہ جو آئے دن نت نئ ویب کہانیاں پڑھتی رہتی ہو ناں اسی نے تمھارا دماغ خراب کردیا ہے۔۔اور اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو کہ رشتے والےہی آنے والے ہیں"۔۔۔

آرزو بیگم غصے سے چراغ پا ہوچکی تھیں، انہیں افشاں کی باتیں طیش دلا رہی تھیں اسکا اس قدر منہ پھٹ ہوجانا انہیں ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔۔

"اما ں جی بھلا ایسی بات کون بتائے گا۔۔۔ یہ تو خود ہی سمجھ میں آجاتی ہے کہ خاص مہمان سے مراد ۔۔۔رشتے والے ہی ہوتے ہیں۔۔۔میں نے بہت سی کہانیو ں میں پڑھا ہے۔۔۔اور آپ نے کیا مجھے بدھو سمجھ رکھا ہے کہ اتنی سی بات بھی نہ سمجھ سکوں"۔۔۔

افشاں آنکھیں پٹپٹاتی بڑے پیار سے اپنی ماں کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔

آرزو بیگم کا اسکی ایسی صورت دیکھکر سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔۔

"اچھا چلو اب جلدی سے کچھ کھالو ... بہت سا کام پڑا ہے عصر کے بعد وہ لوگ خیر سے آجائینگے۔۔
تمھارے ابو بڑی تعریف کر رہے تھے۔۔ کہہ رہے تھے ۔۔ مسز ہمدانی کافی اونچے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں ۔۔۔
انھوں نے تمہیں کسی شادی میں دیکھ لیا تھا جب سے دل اٹک گیا انکا تم میں ۔۔۔ بھائ رفیق جو کہ تمھارے والد صاحب کے اچھے دوست ہیں ،انکی ہمدانی فیملی سے اچھی علیک سلیک ہے انہی کے توسط سے یہاں کا پتہ چلا اور تمھارے لئے پیغام بھجوایا"۔۔

"لڑکا خیر سے انجینیئر ہے۔۔۔ماہانہ پچاس ہزار کے لگ بھگ کمالیتا ہے۔۔۔
اکلوتا ہے ۔۔۔نہ کوئ خاص ذمہ داریاں ۔۔۔ان شآ ء اللہ عیش کروگی۔۔ "

اماں نے افشاں کو تمام تفصیلات سے آگاہ کیا اور خوب اچھی سی تیاری کرنے پہ زور دیا۔۔ ساتھ ساتھ لوزامات کی فہرست بھی بتادی جو شام تک تیار کرنے تھے۔۔۔

افشاں ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہونے کے باوجود۔۔ معتدل انداز سے پلی بڑی تھی اسکی ماں نے اسکی تربیت میں کوئ کسر نہ چھوڑی تھی۔۔۔دینداری ہو یا دنیا داری وہ ہر ایک میں طاق و سگھڑ تھی۔۔۔
ہر کام کو سلیقے سے کرتی۔۔۔بڑوں کا ادب ۔۔چھوٹوں سے شفقت۔ہر ایک سے محبت سے پیش آنا۔۔ حیا کی چادر میں لپٹی ۔۔۔ وہ اپنے ماں باپ کے کلیجہ کا ٹکڑا تھی۔۔۔انکی تربیت کا آئینہ تھی۔۔
شوخ و چنچل۔۔۔ اچھے نین نقش کی مالکہ۔۔۔حسن کی دولت سے مالا مال۔۔۔اور اسکے ساتھ ہی حسن اخلاق نے چار چاند لگادیئے تھے۔۔۔

افشاں نے تابعداری سے اماں کی سب ہدایات سنین۔۔۔اور پھرتی سے سب چیزیں سمیٹ کر منہ ہاتھ دھوکے کچن میں گھس گئ۔۔۔جو ہاتھ لگا کھایا پیا۔اللہ کا شکر بجا لائ
۔۔۔ اور مختلف قسم کے لوازمات کی تیاری میں جت گئ۔۔

"ارے بھئ گھر کی خواتین کہاں ہیں ۔؟؟؟۔اتنا سناٹا کیوں ہے بھئ۔۔۔؟؟؟""

امجد صاحب نے گھر میں قدم رکھتے ہی افشاں اور اسکی ماں کو پکارا۔

آرزوبیگم دوپٹہ سے عجلت میں ہاتھ پونچھتیں ، سر پہ دوپٹہ درست کرتیں ، شربت کا گلاس ہاتھ میں تھامےسرعت سے... کمرے کی جانب بڑھیں

"جی وہ ... میں اور افشاں شام کی تیاری کیلئے کچن میں مصروف ہیں "۔۔

آرزو بیگم غائب ہونے کی وجہ بتانے لگیں۔۔ساتھ ہی پاس پڑی کرسی پہ نیم دراز ہوگئیں۔۔

"اچھا جی ۔۔یہ سب اہتمام انکے لئے۔۔۔ہائے ہائے۔۔۔۔۔۔ ہم تو بلا وجہ خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ یہ سب اہتمام اس ما بدولت کیلئے ہورہاہے تھوڑا بہت ان کیلئے بھی کردیا جائیگا۔۔اصل اہمیت تو ہمیں دی جاری ہے ۔۔۔کہ کچھ خاص بنایا جارہا ہے۔۔مگر۔۔یہ کیا۔۔۔۔۔؟؟؟۔۔دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے۔۔۔"

امجد صاحب شرارتا کہتے چلے گئے!!۔۔۔
شوخ مسکراہٹ لئے وہ اپنی بیگم کو دیکھنے لگے۔۔۔!!

آرزو بیگم جھینپ سی گئیں۔۔

"جی ! اللہ تعالی آپکو سلامت رکھے۔۔۔آمین۔۔ایسی بات نہیں۔۔آپکی پسند کو بھی مدنظر رکھا گیاہے۔۔۔آپکی پسندیدہ ڈش بھی شامل ہے شام کے مینیو میں۔۔۔ان شآ ء اللہ۔۔۔"!!

آرزو بیگم جذباتی ہوگئیں انکے جذبات انکی محبت اور عقیدت کی ترجمانی کر رہے تھے۔۔۔۔۔

امجد صاحب کے چہرے پہ انوکھی چمک در آئ۔۔ ہونٹوں پہ دلفریب مسکراہٹ رقصاں تھی۔۔۔

عصر کا وقت قریب آ پہنچا تھا۔۔۔آرزوبیگم کے ہاتھ پیر پھولنے لگے ۔۔ وہ بار بار کچن میں جھانکتیں ... ہر اک تیار کردہ چیز کو باریک بینی سے دیکھتیں ۔۔۔افشاں کو کچھ ہدایت دیتیں۔ پھر دوسری چیزوں کو دیکھنے چلی جاتیں۔۔۔

افشاں نے ہر ایک ڈش کو قبل از وقت تیار کردیا تھا۔۔۔ہر چیز انتہائ لذیذ بنائ گئ تھی ...کچن سے اٹھتی اشتہا انگیز خوشبو اس بات کا ثبوت پیش کر رہی تھی۔۔۔

افشاں تمام لوازمات کو سلیقے سے ٹی ٹرالی میں سجا کے رکھ چکی تھی۔۔۔

ارے افشاں! تم ابھی تک تیار ہونے نہیں۔گئی۔۔؟؟ مہمان بس کسی وقت بھی آسکتے ہیں۔اور تم یوں ہی بھنگن بنی گھوم رہی ہو۔۔۔جاؤ جلدی سے تیا ر ہوجاو ۔۔!!!

افشاں بیچارگی سے ماں کو تکنے لگی۔۔۔ پھر بیزار صورت بنائے۔۔۔اپنے کمرے کی طرف چل دی۔۔۔

آرزو بیگم نے ایک اچٹتی سی نگاہ ساری تیاری پہ ڈالی اور مطمئن سی ہوگئیں۔۔رب کا شکر بجا لائیں ... کہ سب انتظامات سے پہلے اچھےطریقے سے طے ہوگئے تھے۔۔۔

افشاں نے تیزی دکھائ۔۔فریش ہوئ۔۔۔اماں کی پسند کا ڈریس جوکہ پریس ہوکے کب کا ہینگر میں ٹنگا تھا ۔۔زیب تن کیا۔۔۔بالوں کو سنوارا اور کیچر لگا کے کھلا چھوڑ دیا۔۔۔۔آنکھوں میں کاجل ڈالا۔۔۔ ہونٹوں کو ہلکے رنگ کی لپ اسٹک سے آراستہ کیا۔۔۔ آخر میں دوپٹے کو سر پہ سیٹ کرچکی تھی۔۔

ایک آخری تفصیلی نگاہ خود پہ ڈالی۔۔ اور کچن میں گھس گئ۔۔۔

تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اسے ڈائینگ روم سے باتیں کرنے کی آوازیں آنے لگیں ساتھ اسکی اماں جو بولائ بولائ سی کچن کی جانب آرہی تھیں۔۔۔

"ارے افشاں !!جلدی سے چائےکی تیاری کرلو اور ساتھ ٹھنڈا بھی بنا دینا۔مسز ہمدانی اور انکے ہمراہ ایک خاتون اور بھی ہیں جو غالبا انکی بیٹی ہیں۔۔۔ساتھ ان کا بیٹا۔۔داماد۔۔۔اور مسٹر ہمدانی بھی ہیں۔۔!!

مرد حضرات کو ڈرائنیگ روم میں جبکہ خواتین کو پاس کے کمرے میں بٹھادیا گیاتھا ۔۔۔!!

اتنی بڑی گاڑی ہے انکی۔۔۔۔ افشاں کیا بتاؤں؟؟ ۔۔اور ایسا رکھ رکھاؤ ... میں تو ششدر رہ گئ۔۔۔لباس سے لیکر پاؤں کی جوتی تک ہر چیز امپورٹڈ ۔۔۔اعلی معیار ۔۔۔کسی شہر کی ملکہ سے کم نہیں لگ رہیں۔۔۔!!

یہاں اگر تمھارا رشتہ ہوجائے ۔۔۔تو مانو... ہمارے تو نصیب جاگ جائیں۔۔۔!!"

افشاں خاموش سی کھڑی ماں کے تبصرے سن رہی تھی۔۔۔

"اماں آپ نے مجھے کبھی بھی دنیا دار لوگوں اور انکی دنیاداری سے متاثر ہونا نہیں سکھایا۔۔۔ہمیشہ شکرگزاری اور قناعت سے زندگی بسر کرنے کا پاٹھ پڑھایا۔۔۔تو بھلا پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سب ٹھاٹھ باٹھ مجھے متاثر کرسکے۔۔؟؟

اسلئے مجھے ان سب چیزوں میں کوئ دلچپسی نہیں میرے لئے دینداری۔۔ اور اخلاق زیادہ معنی رکھتا ہے۔۔"

افشاں کی باتوں نے آرزو بیگم پہ گہرا اثر ڈالا وہ اس سے بے حد متاثر ہوئیں۔۔ اسکی بلائے لیتیں ٹی ٹرالی گھسیٹتی کمرے میں داخل ہوگئیں۔۔۔ساتھ ہی اسے بھی آنے کو کہہ گئیں۔۔۔

افشاں دوپٹے کو صحیح کرتی کمرے میں داخل ہوگئ ۔۔سلام کرتی۔۔۔آرزو بیگم کے پاس صوفے پہ بیٹھ گئ۔۔۔

مسز ہمدانی اور انکی بیٹی نے اتنی دیر میں پورے کمرے کا جائزہ لے چکی تھیں۔۔۔ انہیں ہر چیز نفاست اور سلیقے سے سجی سنوری دکھائ دی تھی۔۔اور۔۔۔کفایت شعاری ۔۔ بھی نظر آئ تھی۔۔۔

آرزو بیگم نے افشاں کا تعارف کروایا۔۔۔لوازمات پیش کئے۔۔۔افشاں نے بھی ساتھ مدد کی ۔۔چائے کپ میں انڈیلنے لگی اور سب سے پہلے مسز ہمدانی کی جانب کپ بڑ ھایا۔۔۔

انھوں نے بخوشی قبول کیا۔۔رسمی بات چیت کی۔۔۔اپنی پسند کا اظہار کیا کہ کسطرح افشاں انہیں پہلی ہی نظر میں اتنی پیاری لگی کہ دل میں فورا اتر گئ۔۔۔

مسز ہمدانی افشاں سے مخاطب ہوئیں۔۔۔اپنا مخصوص انداز اپنائے۔۔۔۔۔آواز میں کھنک پیدا کرتیں اور با رعب لہجے کے ساتھ۔۔۔ جو انکا خاصہ رہا ہے ۔۔۔ کہنے لگیں۔۔

"بھئ آجکل کا زمانہ کافی فاسٹ فارورڈ اور ماڈ(ماڈرن)ہوچکاہے۔۔۔افشاں بیٹا !!میرے ہمراہ میرا بیٹا بھی آیا ہے۔۔۔وہ ایک نظر تمہیں دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔اس میں ایسی کوئ معیوب بات بھی نہیں۔۔۔

اتنی اجازت تو اسلام بھی ہمیں دیتا ہے کہ جس سے نکاح کا ارادہ ہو اسے ایک نظر دیکھ لیا جائے۔۔تو پھر کوئ اعتراض کرنے والی بات تو نہیں ہوسکتی ۔۔؟؟؟
وہ اپنا مدعا سوالیہ انداز میں بیان کرچکی تھیں...
تم ایسا کرو۔۔ذرا یہ دوپٹہ سر سے ہٹا کر گلے میں ڈال لو۔۔اور بالو ں کو اور سنوار لو۔۔ ذرا میک اپ بھی ڈارک کر آؤ۔۔ میں اپنے بیٹے کو یہیں بلا لیتی ہوں۔۔۔"

مسز ہمدانی کی گفتگو سن کے افشاں کا تو خون ہی خشک ہوگیا۔۔ وہ کچھ دیر تو سمجھ ہی نہ سکی کہ اسے کہا کیا گیا ہے۔۔

پھر جب ذرا ہوش میں آئ۔۔۔تو گویا ہوئ۔۔

"آنٹی جی آپ ہماری مہمان ہیں اور عمر میں بڑی بھی اسلئے آپ کا احترام ۔۔آپکی عزت کرنا۔۔۔ہر طر ح سے لازم ہے ۔۔ آپ ہمارے ہاں پہلی بار آئی ہیں ۔۔ لہذا آپکے اکرام کا بھر پور خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے اور گھر آئے مہمان تو اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔۔۔

بیشک آپکی بات درست ہے۔۔۔ اسلام میں اتنی گنجائش ضرور ہے کہ جس سے نکا ح کی غرض ہو ... اسے ایک نظر دیکھ سکتے ہیں۔۔مگر اسکا بھی طریقہ سمجھایا گیا ہے۔۔

آپ سے پہلی ملاقات ہے۔۔۔۔۔اب تک یہ بھی طے نہیں ہوسکا ۔۔کہ واقعی میں ہی آپکے گھر کی بہو بنوں گی!! ۔۔۔

ایسے حالات میں ... میں کیسے آپکے بیٹے کے سامنے آجاؤں ۔۔وہ بھی اسطرح جسطرح آپنے بیان کیا ۔۔۔؟؟؟

آنٹی ! حیا میری چادر ہے۔۔آج تک کبھی میرا دوپٹہ سر سے اتر نہ سکا۔۔۔میں اگر آپکی بات مان لوں ۔اور آپکےبیان کردہ طریقے سے آپکے بیٹے کے سامنے آجاتی ہوں تو یہ۔۔۔ شیطان کے بہکاوے میں آنا ہوگا۔۔ اگر پہلا قدم اٹھ گیا گناہ کی جانب ۔۔ تو باقی قدم اٹھنے میں دیر نہیں لگے گی۔۔۔

میں آپ سے معذرت چاہتی ہوں میں آپکی اس بات پہ عمل نہیں کرسکتی۔۔۔"

کیونکہ:
"حیاء ایمان کا اک بڑا حصہ ہے "
۔۔(سنن النسائ- 5021)

"بے حیائ جس چیز میں ہوگی اسے عیب دار بنادے گی،جبکہ حیا جس چیز میں ہوگی اسے خوبصورت بنا دے گی" ۔۔۔(سنن الترمذی۔۔1974)

اور سب سے اہم بات

"حیاء جنت میں لے جانے کا ذریعہ ہے"
(سنن الترمذی۔۔2009)

وہ احادیث مبارکہ سنا کے ... دوبارہ معذرت کرتی فورا اٹھ کھڑی ہوئ اور سلام کرکے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ۔۔۔

مسز ہمدانی اور انکی بیٹی کافی حیران تھیں۔۔۔
جبکہ آرزو بیگم مہمان کو رخصت کرکے۔۔۔فی الفور افشاں کے کمرے میں آگئیں۔۔۔

افشاں جو چپ چاپ بیٹھی سسکیاں بھر رہی تھی ... اماں کے آتے ہی انکی گود میں سر دے کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔آرزو بیگم بھی شرمندہ تھیں۔۔انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑیگا۔۔انہوں تو کیا کیا خواب دیکھ لئے تھے۔۔سب چکنا چور ہوچکے تھے۔۔وہ تو اپنی بیٹی کو بس خوش اور خوشحال دیکھنا چاہتی تھیں۔۔۔

بڑی شفقت سے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتیں۔۔۔پیار سے اسے چپ کرواتی رہیں۔۔

اس واقعے کو اک ہفتہ گزر چکا تھا۔۔۔سب نارمل ہوچکے تھے۔۔اسکے بعد سے گھر میں مسز ہمدانی کا دوبارہ تذکرہ نہیں ہوا۔۔۔

"افشاں آج شام کو مہمان آرہے ہیں کچھ خاص بنا دینا۔۔"
آرزو بیگم ہدایات دیتیں۔۔افشاں کی وارڈ روب سے اسکا ڈریس نکالنے لگیں۔۔

"جی اماں پھر کیا کوئ رشتے والے آرہے ہیں؟"
افشاں تشویش میں مبتلا ہوگئ۔۔۔

"ہاں بیٹا لڑکا میٹرک پاس ہے۔۔چھوٹا موٹا کاروبار کرتا ہے۔باحیا اوربا شرع ہے۔۔تمھارے والد کے دوست کے دور پرے کے رشتے دار ہیں۔۔"

آرزو بیگم نے تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔۔

"اماں میرے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ لڑکا با اخلاق۔۔اور دیندار ہے۔۔ "

افشاں نے اپنے تئیں اماں کو تسلی دینی چاہی۔۔

"مگر بیٹا۔ ۔۔!! ۔۔۔۔۔۔خیر جیسے اللہ کی مرضی۔۔"

آرزو بیگم خاموش سی ہوگئیں۔۔

ابھی مشکل سے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ آرزو بیگم افشاں کو پکارتیں اسکے کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔

"کیا ہوا اماں سب خیر تو ہے۔۔۔؟پریشان کیوں دکھائ دے رہی ہیں ۔۔اور حیرت کی بات یہ ہے کہ آنکھوں میں خو شی کی چمک بھی دیکھ رہی ہے۔۔"

افشاں اماں کے چہرے کے تاثرات سمجھنے سے نا اہل تھی۔۔جہاں بیک وقت پریشانی بھی تھی اور خو شی بھی نظر آرہی تھی۔۔

"وہ بیٹا میٹرک والے لڑکے کے گھر سے فون آیا تھا ۔۔ انھوں نے معذرت کر لی ہے دراصل انہیں اپنے ہی خاندان کی کوئ لڑکی پسند آچکی ہے۔۔"

"ابھی میں فون رکھکر پلٹی ہی تھی کہ فون دوبارہ بجنے لگا۔۔"

ریسیو کیا تو مسز ہمدانی تھیں جو اپنی بات پہ بے حد شرمندہ تھیں ... بار بار معافی مانگ رہی تھیں اور گھر آنے کا کہہ رہی تھیں تم سے ملنا چاہتی ہیں ۔۔معافی تلافی کرناچاہتی ہیں۔۔"

"انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہوجائے۔۔۔وہ نادم ہو تو اسے معاف کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔۔۔
میرا رب بھی فورا معاف کردیتا ہے۔۔۔پھر اللہ کو معاف کر نے والے پسند بھی بہت ہیں۔۔"

آرزو بیگم افشاں کے چہرے پہ گہری نگاہ ٹکائے بولیں ...
۔

"بیشک اماں ۔۔میرے دل میں انکے لئے کوئ میل نہیں۔میرا دل انکے لئے بالکل صاف ہے۔۔۔"

آرزو بیگم مسکرانے لگیں۔۔انکو طمانیت کا احساس ہوا۔۔وہ ملائمت بھرئ نظروں سے افشاں کو دیکھنے لگیں۔۔


"وہ دوبارہ آنا چاہ رہی ہیں۔۔۔تمھارے والد نے توصاف کہہ دیا ہے۔۔۔ پہلےافشاں سے پوچھ لوں اگر وہ اجازت دیگی تب ہی بلا ئینگے۔۔"

آرزو بیگم پر امید نظروں سے افشاں کو تکنے لگیں۔۔


"اماں جو آپ دونوں کی مرضی آپ جیسا بہتر سمجھتی ہیں،
کر لیجئے، مجھے کوئ اعتراض نہیں"

آرزو بیگم بہت خوش تھیں انکی آنکھیں پر نم ہوگئیں اپنی بیٹی کی سعادت مندی پر...

مسز ہمدانی کی ندامت واضح تھی وہ افشاں سے معافی مانگ چکی تھیں۔۔

"میرے دل میں آ پکے لئے کوئ بات نہیں آپ پلیز معافی مانگ کے مجھے گناہ گار نہ کیجئے۔۔"
افشاں نے لجاجت سے کہا

مسز ہمدانی بہت خوش ہوئیں اور مطمئن ہو گئیں ۔۔۔پرس سے کنگن نکالے اور افشاں کے ہاتھوں میں پہنا دیئے اور بہت دعائیں دیں ۔۔۔۔اور یہ اعلان کردیا
"اب سے افشاں ہماری امانت ہے"۔۔۔

مسز ہمدانی نے بتایا اس دوران انہوں نے جتنی بھی لڑکیاں دیکھیں وہ انہیں پسند نہ آسکیں۔۔۔ انکے دل کو افشاں کے علاوہ کوئ اچھی لگ ہی نہ سکی ۔۔۔

انہوں نے افشاں سے کہا

"وہ خوش قسمت ہیں کہ انکی بہو اتنی نیک۔۔۔اور
با حیا ہے۔۔۔۔۔اور انہیں خوشی ہے کہ انکی نسلیں اچھی تربیت پائیں گی۔۔۔افشاں جسطرح چاہے رہ سکتی ہے اسے کوئ روک ٹوک کا سامنا نہیں کرنا پڑیگا۔۔۔"

افشاں ... اللہ تعالی کی بے حد ممنوں تھی کہ جسنے اسے دین پہ ثابت قدمی عطا کی تھی۔۔وہ سوچ رہی تھی کہ صرف اللہ کے ایک حکم کے ماننے اور اس پہ ڈٹے رہنے پہ اس غفور ۔۔رحمن۔۔۔نے اتنا نواز دیا۔۔ اگر وہ دین کی تمام باتوں پہ یو ں ہی عمل پیرا رہےبفضل ربی اور ڈٹی رہے تو اسکی زندگی کی ہر چیز خوبصورتی اور کامیابی کی بلندیوں کو چھو لے گی ۔۔۔

#حیا_مسکان
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fatima Ishrat

Read More Articles by Fatima Ishrat: 30 Articles with 19405 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Feb, 2017 Views: 669

Comments

آپ کی رائے
Very nice
By: Mini, mandi bhauddin on Mar, 01 2017
Reply Reply
0 Like