جنت کے مسافر؟

(Fateh Muhammad Arshy, Mianwali)
آج میری زندگی کا آخری دن ہے۔ کل مجھے پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا۔ کل مجھے موت آ جائے گی۔ ہاہاہا․․․․․․ موت!!! موت، جس کا نام سن کر بڑے بڑے سورماؤں کا پِتّہ پانی ہو جاتا ہے۔ لیکن میرے لیے تو موت ایک کھیل ہے․․․․․ بچوں کا کھیل! مجھے یاد ہے․․․․․ جس وقت جج صاحب نے مجھے سزائے موت کی خوشخبری سنائی تھی․․․․․ جی ہاں، میں اسے خوشخبری ہی کہوں گا․․․․․․ تو میں نے بہ آوازِ بلند کہا تھا۔’’یا اﷲ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے مجھے سرخرو کیا۔میں مطمئن ہوں کہ اپنے دامن پر اپنے مشن سے غداری کا کوئی داغ لے کر نہیں آ رہا۔یا اﷲ! میرے دامن پر صرف تیرے نافرمانوں کے لہو کے چھینٹے ہیں․․․․․ جن پر مجھے بجا طور پر فخر ہے!!!‘‘
جی ہاں، آپ ٹھیک سمجھے․․․․․ میں ایک خودکش ہوں!!!
پہلے پہل میں بھی آپ جیسا ایک سیدھا سادہ نوجوان تھا۔ پھر اﷲ نے کرم فرمایا اور میری ملاقات قاسم راہی سے ہوئی․․․․․ اور پھر اس کے توسط سے ’’رحمان بابا‘‘ ملا۔ جو میرا پیرومرشد ہے۔ جس کے ایک اشارے پر یہ جان بھی قربان ہے۔ اس نے ہمیں اﷲ کے دین سے روشناس کرایا۔ اس نے ہمیں قرآن کی تفسیر پڑھائی اور بتایا کہ اﷲ کے نافرمانوں سے لڑنا کتنا ثواب ہے!
مجھے یاد ہے، ایک لڑکے نوید نے جذباتی ہو کر کہا تھا۔’’بابا․․․․․ مجھے اسلحہ دیں اور کسی طرح سرحد پار کرا دیں۔ میں انڈیا والوں کو اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کا وہ سبق سکھاؤں گا کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی!‘‘
خلافِ توقع بابا نے کڑک کر کہا تھا․․․․․’’نادان لڑکے․․․․․ تُو انڈیا کی بات کرتا ہے اور یہاں اس ملک میں دین کا جنازہ نکل چکا ہے۔ ہر طرف فحاشی ااور عریانی کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ شیطان ناچ رہا ہے ہمارے بازاروں میں۔ اﷲ کے باغی یہ ہیں۔ ہم نے پہلے انہیں کیفرِ کردار تک پہنچانا ہے․․․․․‘‘
’’لیکن بابا۔‘‘ نوید نے حیران ہو کر کہا تھا۔’’وہ کافر ہیں․․․․․ اﷲ کے کھلے دشمن․․․․․ اور یہ پاکستانی لاکھ گناہگار سہی، مسلمان تو ہیں!‘‘
بابا نے اچانک بڑی نرمی سے کہا تھا․․․․’’نوید بیٹے․․․․․ مسلمان ہو کر اﷲ کی نافرمانی کرنا کفر سے بھی بدتر ہے۔ لہٰذا ہمیں پہلے ان نام نہاد مسلمانوں کے خلاف جہاد کرنا ہے۔ اچھا، اب میٹنگ ختم․․․․․ باقی باتیں کل ہوں گی۔‘‘ بابا نے ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا تھا اور ہم سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔
اس وقت کسے معلوم تھا کہ نوید ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جائے گا!
دوسری صبح نوید کی کٹی پھٹی ہوئی لاش ملی تھی جنگل سے․․․․․ یوں لگتا تھا جیسے اسے کسی درندے نے بھنبھوڑا ہو! سارے کیمپ میں یہی کہانی گردش کر رہی تھی کہ نوید نے چونکہ ’’مقدس مشن‘‘ پر اعتراض کیا تھا، اس لیے اس پر اﷲ کا عذاب نازل ہوا تھا۔ ہم سب سہم گئے۔ ہم پر عجیب سا خوف و ہراس طاری ہو گیا تھا۔
اور وہ دن بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے، جس دن رحمان بابا نے مجھے اور کامران بھائی کو پہلے مشن پر بھیجا تھا۔ رحمان بابا نے کہا تھا۔’’میرے بیٹو!یہ کوئی معمولی مشن نہیں ہے۔ اﷲ کے نزدیک روئے زمین پر بدترین جگہ بازار ہیں۔ لہٰذا وہاں جو لوگ گھومتے پھرتے ہیں، وہ سخت گناہگار اور واجب القتل ہیں۔ اس لیے تم نے کسی مصروف ترین جگہ یہ بیگ رکھنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نافرمان واصلِ جہنم ہوں!‘‘
․اور میں سوچ رہا تھا․․․․․ اﷲ مجھے معاف کرے․․․․․ اس سے پہلے میں بھی اکثر بازار میں جایا کرتا تھا۔ اگرچہ مقصد آوارہ گردی ہرگز نہ ہوتا تھا۔لیکن بابا جو کہہ رہا تھا کہ بازار بدترین جگہ ہیں تو گناہگار تو میں ہو گیا۔ اﷲ مجھے معاف کرے!
میں انہی خیالوں میں گم تھا کہ رحمان بابا کی آواز مجھے واپس لے آئی۔’’اور یاد رکھو․․․․․ جو اﷲ کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے․․․․․ وہ شہید ہوتا ہے․․․․․ اس لیے اگر پکڑے جانے کا خطرہ لاحق ہو جائے تو تم نے اپنی جان قربان کر دینی ہے!‘‘
’’آپ بے فکر رہیں بابا․․․․․ ہم اپنے مشن سے غداری نہیں کریں گے!‘‘ ہم دونوں نے بیک زبان کہا تھا۔ ہم جانتے تھے کہ اس کے بدلے ہمیں جنت ملے گی!!!
پھر ہم نے صدر کے علاقے میں وہ بیگ رکھ دیا تھا۔شام کو پتہ چلا تھا کہ کئی ’’نافرمان‘‘ مارے گئے تھے اور زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ سچ پوچھیں تو اس وقت میری حالت خراب ہو گئی تھی۔یوں لگتا تھا، جیسے کسی نے میرے دل کو مٹھی میں بھینچ لیا ہو۔ شاید ابھی میرا ایمان کمزور تھا․․․․․ تاہم میں نے اپنی حالت کسی پر ظاہر نہ ہونے دی تھی!
اس کے بعد میں نے کئی مشن مکمل کیے۔ دھرتی کو کئی باغیوں سے پاک کیا۔ لیکن اس کوشش میں خود ہمارے کئی ساتھی بھی مارے گئے تھے۔․ دین قربانی تو مانگتا ہے!
اور پھر ایک دن وہ ہو گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا․․․․․ وہ ۱۶۔دسمبر کا سیاہ ترین دن تھا، جب آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں کو خون میں نہلایا گیا․․․․․ آہ! جنازوں پر پھول تو دیکھے تھے لیکن آج پہلے بار پھولوں کے جنازے اٹھتے دیکھے․․․․․ میں شاید ساری رات چھپ چھپ کر روتا رہا تھا․․․․․ کسی پل چین جو نہیں آتا تھا․․․․!!!
صبح ہوتے ہی میں رحمان بابا کے خاص کمرے میں اس کے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا․․․․․’’ہمیں پتہ چلا ہے کہ کل کے واقعے پر تم روتے رہے ہو․․․․․ تمھاری آنکھیں بھی یہی چغلی کھاتی ہیں!‘‘ بابا نے بغور میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
میرے منہ سے بس اتنا ہی نکلا تھا․․․․․’’لیکن بابا․․․․․ وہ تو بچے تھے․․․․․ بچے تو معصوم ہوتے ہیں․․․․․ جنت کے پھول ہوتے ہیں․․․․․ ان پھولوں کو مسل کر ہمیں کون سی جنت مل جائے گی؟‘‘
بابا نے کڑک کر کہا تھا․․․․’’چپ گستاخ! زبان کھینچ لوں گا۔ کیا تم بھول گئے کہ سانپ کے بچے بھی سنپولیے ہوتے ہیں۔ کیا تم پر میری ساری محنت ضائع گئی؟ کیا تم بے دین ہو گئے ہو؟؟؟‘‘
اور میں نے تڑپ کر کہا تھا․․․․․’’نہ بابا نہ․․․․․ مجھے بے دینی اور غداری کا طعنہ نہ دیں۔میں آپ کے حکم سے جان بھی قربان کر سکتا ہوں۔․ آپ آزما کر تو دیکھیں!‘‘ بابا کی ناراضی کا تصور ہی میرے لیے روح فرسا تھا۔
’’ٹھیک ہے․․․․․میرے بیٹے․․․․․ ٹھیک ہے!‘‘ رحمان بابا نے مجھے اپنے سینے سے لگا لیا۔’’اب ہم عنقریب اپنے پیارے بیٹے کو جنت کے سفر پر روانہ کریں گے!‘‘
میں خوب سمجھتا تھا کہ جنت کے مسافر کون ہوتے ہیں؟ وہ جو اس ’’کارِ خیر‘‘ میں جان بھی قربان کر دیتے ہیں۔ میں نے خوش ہو کر کہا․․․․’’بابا، جلدی انتظام کریں۔ ویسے بھی اب اس فسادی دنیا میں میرا جی نہیں لگتا!‘‘
اور پھر مجھے خودکش بنانے کی خصوصی ٹریننگ شروع ہو گئی۔․ یہ ایک ماہ کی نہایت کڑی ٹریننگ تھی۔ میرے ساتھ کئی نوجوان اور بھی تھے۔ ایک روسی کمانڈر نے ہمیں ہر قسم کے اسلحے کی ٹریننگ دی تھی۔ ہمیں قرآن مجید سے مختلف آیات کا ترجمہ اور تفسیر پڑھائی جاتی تھی۔لیکن عجیب بات ہے کہ ہمیں جو قرآن پاک دیے جاتے تھے، ان پر ترجمہ یا تفسیر لکھی ہوئی نہ ہوتی تھی!
ٹریننگ کے بعد ایک دن مجھے اور میرے ایک ساتھی عدیل کو بارودی جیکٹ پہنا کر مشن پر روانہ کر دیا گیا۔ہم نے جمعہ کی نماز کے دوران ایک مسجد میں خودکش حملہ کرنا تھا۔ مسجد میں بم دھماکہ․․․․؟ یہ سن کر میری تو روح ہی کانپ اٹھی تھی اور رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔ وہ تو بھلا ہو رحمان بابا کا کہ انہوں نے مجھے بروقت سنبھال لیا تھا ورنہ میں نہ دین کا رہتا اور نہ دنیا کا․․․․․ رحمان بابا نے سمجھایا تھا کہ ان مساجد کی مثال ’’مسجد ضرار‘‘ والی ہے۔جو مدینے میں یہودیوں نے بنائی تھی اور اس میں بیٹھ کر مسلمانوں کے خلاف منصوبے بنایا کرتے تھے۔ لہٰذان مساجد کا حکم بھی وہی ہے․․․․․ یعنی انہیں تباہ کر دو اور انہیں آباد کرنے والے ’’باغیوں‘‘ کو قتل کر دو!!!
پھر ہم شہر کی ایک بڑی مسجد پر حملہ آور ہوئے تھے۔ دیکھنے میں تو سارے نمازی نیک لگتے تھے لیکن․․․․․ لیکن میرے کانوں میں رحمان بابا کے الفاظ گونج رہے تھے․․․․’’یہ سب اﷲ کے باغی ہیں․․․․․ انہیں فنا کر دو․․․․‘‘
پہلا دھماکا میرے ساتھی نے کیا تھا۔ میں نے کتنے ہی لوگوں کو خاک و خون میں تڑپتے دیکھا۔ میں اس نظارے میں کچھ ایسا محو ہوا کہ یہ بھی بھول گیا کہ میں کیوں آیا ہوں۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں نے جلدی سے بارودی جیکٹ بلاسٹ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن یہ دیکھ کر میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے کہ جیکٹ میں کوئی خرابی آ گئی تھی․․․․․ وہ بلاسٹ نہیں ہوئی تھی!
سیکورٹی گارڈ کے لیے اتنا ہی وقفہ کافی تھا۔ اس نے فوراً ہی مجھے اپنے مضبوط بازوؤں میں جکڑ لیا۔میں اس کے قابو میں ہرگز نہ آتا، اگر چند شیردل نمازی اس کی مدد کو نہ آ جاتے!
اور یوں مجھے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ مجھ پر تشدد کی انتہا کر دی گئی۔ لیکن یہ حکومت کی خام خیالی تھی کہ وہ مجھ سے کچھ اگلوا سکیں گے․․․․․․ میں تو تھا ہی ’’جنت کا مسافر‘‘․․․․․ مجھے بھلا موت سے کیا ڈر تھا؟
خصوصی عدالت برائے دہشت گردی میں میرا مقدمہ چلا اور بالآخر مجھے پھانسی کی سزا سنا دی گئی․․․․․ اور کل مجھے پھانسی دی جائے․․․․․موت، جس کا نام سن کر بڑے بڑے سورماؤں کا پِتّہ پانی ہو جاتا ہے․․․․․ لیکن میرے لیے تو موت گویا ’’جنت کا پروانہ‘‘ ہے!
ٹھہریے․․․․․ شاید کوئی آ رہا ہے․․․․․ ارے، یہ تو جیلر صاحب ہیں!
لو جناب․․․․․ میری آخری خواہش بھی پوری ہو گئی․․․․․ جی ہاں، میں نے اپنی آخری خواہش یہی بتائی تھی کہ ترجمے اور تفسیر والا قرآن مجید دیا جائے تاکہ میں اپنی زندگی کا آخری دن اﷲ تعالیٰ کی پاک کتاب کی تلاوت کرتے ہوئے گزاروں․․․․․ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں نے ترجمے اور تفسیر والا قرآن مجید کیوں منگوایا تھا؟ اس لیے کہ یہاں رحمان بابا تو تھے نہیں کہ مجھے قرآن مجید کا مطلب سمجھاتے۔․ اس لیے یہ فرمائش کی تھی․․․․․ اور اب جیلر صاحب یہی قرآن مجید لے کر آئے تھے۔ جیلر صاحب بہت شریف النفس انسان ہیں۔ نہ جانے کیوں میرے دل میں ان کا احترام پیدا ہو گیا ہے!
٭․․․․․․٭․․․․․․٭․․․․․․٭
شام ہو گئی ہے․․․․ میرے دل کی حالت عجیب ہے․․․․․ چہرے کا رنگ ایسے اُڑ گیا ہے، جیسے جسم سے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ لیا گیا ہو․․․․․ میں اس جواری کی طرح کال کوٹھڑی کی سنگین دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا ہوں، جس نے اپنی ساری جمع پونجی داؤ پر لگا دی ہو اور ہار گیا ہو!
میری یہ حالت دن بھر قرآن پاک کی تفسیر پڑھنے سے ہوئی ہے۔ ’’نور العرفان‘‘ پڑھ کر یوں لگتا ہے، جیسے میرا دل ایمان کے نور سے بھر گیا ہو۔ اب پتہ چلا کہ قرآن تو سراسر محبت کا درس دیتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ سراپا محبت ہے اور شیطان سراپا نفرت۔خدا برباد کرے رحمان بابا کو․․․․․ وہ تو ہر آیت کا اُلٹ مطلب بتاتا تھا اور ہمیں نفرت سے بھر دیا تھا!
خاص طور پر سورۃ النساء کی آیت ۹۳ نے تو مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے․․․․․!
ترجمہ:’’اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے، تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اﷲ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیے تیار رکھا بڑا عذاب۔‘‘
ہائے افسوس! میں بھی کتنا نادان تھا۔ ساری زندگی جہنم کی راہ چلا، اور خود کو ’’جنت کا مسافر‘‘ سمجھتا رہا۔ ہائے افسوس! اب ان انسانیت سوز جرائم کا ازالہ کیسے ہو؟ ان کا کفارہ کیسے ادا کروں؟
اچانک ایک جھماکا سا ہوا ۔ اور میرے ذہن میں سورۃ الزمر کی آیت ۵۳ آئی․․․․․
’’تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اﷲ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اﷲ سب گناہ بخش دیتا ہے، بے شک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
جب اﷲ کرم فرماتا ہے تو دیر نہیں لگتی․․․․․ کچھ دیر بعد جیلر صاحب میری کال کوٹھڑی میں بیٹھے ہوئے تھے اور میں ایک نئے عزم سے کہہ رہا تھا․․․․․․’’جیلر صاحب․․․․․ میں کس منہ سے آپ کا شکریہ ادا کروں۔ آپ کے لائے ہوئے قرآن مجید نے میری آنکھیں کھول دی ہیں۔میں اپنی سزا میں کسی رعایت کا طلبگار نہیں۔کیونکہ مجھے ویسے اپنی اس شیطانی زندگی سے نفرت ہو چکی ہے۔ لیکن میں اپنے گناہوں کا کچھ نہ کچھ کفارہ ضرور ادا کرنا چاہتا ہوں۔تاکہ اپنے رحیم و کریم رب کی بارگاہ میں خالی ہاتھ نہ جاؤں۔ میں آپ کو رحمان بابا اور اس کے پورے نیٹ ورک کے ٹھکانے بتاتا ہوں تاکہ آئندہ کوئی نوجوان ان شیطانوں کے بہکاوے میں آ کر اپنی دنیا و آخرت برباد نہ کر بیٹھے!!!‘‘
ختم شد
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fateh Muhammad
I Am MA Islamiat with First Class Digree.. View More
01 Mar, 2017 Views: 606

Comments

آپ کی رائے
very nice. ....
By: Mini, mandi bhauddin on Mar, 01 2017
Reply Reply
0 Like