آئیے ماؤں کی طرح سوچیں

(Rao Anil Ur Rehman, Lahore)
آیے ماوں کی طرح سوچیں

ہر لمحہ ، ہر گھڑی
ہر صبح ، ہر شام
میری ماں ، تیرے نام
مجھے محسوس ہوا اس کائنات میں صرف دو ہی ہستیاں ہیں جو مایوس نہیں ہوتیں. خدا اور ماں. اس زمین پر کتنے ظلم ہوتے ہیں. کتنی نا انصافیاں ہوتی ہیں. اﷲ کے احکامات کی کہاں کہاں، کتنی کتنی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں اور انسان اپنے اوپر کس حد تک ظلم کرتا ہے.لیکن اس کے باوجود خدا کی رحمت انسان سے مایوس نہیں ہوتی.کھتیاں اسی طرح رزق کاشت کرتی رہتی ہیں، درخت اسی طرح سایہ اور پھل پیدا کرتے رہتے ہیں،ہوائیں اسی طرح چلتی رہتی ہیں، سورج اسی طرح نکلتا رہتا ہے.بارش اسی طرح برستی رہتی ہے اور پانی زمین سے اسی طرح ابلتا رہتا ہے اور رہی ماں تو اس کا ایک ماہ کا بچہ گم ہو جائے یا پانی میں گر جائے اور ساری دنیا اسے یقین دلاتی رہے اس کا بچہ مر چکا ہے لیکن وہ آخری سانس تک اس بچے کا انتظار کرتی رہتی ہے. ہر دستک پر اس کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، وہ ہر خط کی طرف بے تابی سے دوڑتی ہے اور ہر کال، ٹیلی فون کی ہر گھنٹی پر اس کا چہرہ کھل اٹھتا ہے. یہ کیا کمال ہے قدرت کا؟

کبھی ہم نے سوچا ، یہ ماں کی امید ہے ماں کی آس ہے ، امید کی یہ طاقت، آس کی یہ قوت اﷲ تعالیٰ نے صرف ماں کو بخشی ہے. صرف مائیں ہی وہ ہستیاں ہیں جو اپنے مایوس، اپنے نا امید بچوں کوامید کا پیغام دیتی ہیں جو انھیں حوصلہ، جو انھیں قوت دیتی ہیں، جو انھیں خیر کی دوا دیتی ہیں.

اﷲ اور ماں کا بھی عجیب رشتہ ہے. اﷲ جب اپنی رحمت کی گارنٹی دیتا ہے تو وہ فورا فرماتا ہے میں ستر ماو ¿ں سے زیادہ رحیم ہوں ، ادھر ماں بچے کو کبھی مایوس اور غم زدہ پاتی ہے. تو وہ بھی اسے صرف اﷲ سے رابطہ کرنے اور صرف اﷲ سے مانگنے کی ہدایت کرتی ہے. اس دنیا میں شاید ہی کوئی ماں ہو جس کے منہ سے یہ نکلا ہو جس زمین پر اس کے بچے رہتے ہیں وہ زمین تباہ ہو جائے گی. وہ ملک فنا ہو جائے گا یا وہ مکان گر جائے گا. آپ کسی ماں کے سامنے تذکرہ کر کے دیکھ لیں.وہ فورا جھولی پھیلا کر اس جگہ ، اس مقام اس شہر اس ملک کے لئے خیر کی دعا کرے گی جہاں اس کے بچے رہتے ہیں.
میں کہنا چاہوں گی :
پھولو میں جس طرح خوشبو اچچھی لگتی ہے,
مجھے اس طرح میری ما اچچھی لگتی ہے.
خدا سلامت اور خوش رکھے سب کی ماوں کو,
ساری دعاؤں میں یہ دوا اچھی لگتی ہے.
خدا سب کی ماؤں کو سلامت رکھے.آمین

ایک ماں جس کی چادر میں سو پیوند ہوں، جس کے سر پر چھت اور پاو ¿ں میں جوتا نہ ہو وہ بھی اپنے بچے کے لئے محل کے خواب دیکھتی ہے. ایک ماں جس کا بچہ پیدائشی معزور ہو، جس کے بچے کے پاس پہننے کے لئے کرتا اور ستر ڈھانپنے کے لئے پائجامہ نہ ہو اس کی ماں بھی اپنے بچے کو بادشاہ بننے کی دعا دیتی ہے. میں نے اپنی آنکھوں سے ڈاکٹر ماؤں کو اپنے کینسر کے مارے بچوں کو تعویز پلاتے، درگاہوں کی خاک چٹاتے اور ان پڑھ جاہل پیروں سے پھونکیں مرواتے دیکھا ہے. مجھے ابھی تک کینسر کی وہ سپیشلسٹ ڈاکٹر یاد ہے جس کے بچے کو بلڈ کینسر ہوا تو وہ اسے اس سنیاسی کے پاس لے گئی جو تین سال تک اس ڈاکٹر سے بلغم کی دوا لیتا رہا تھا.

یہ کیا ہے ؟ یہ ماں کا یقین ہے. ماں کی امید ہے، ایک ایسی امید ایک ایسا یقین جو اسے مایوس نہیں ہونے دیتا، جو اسے سمجھاتا رہتا ہے ، قدرت کے دامن میں اربوں کھربوں معجزے ہیں ، قدرت چاہے تو مردے اٹھ کر بیٹھ جائیں.
یہ کہہ کر فرشتوں سے جنّت میں چلا جاؤنگا
کہ اپنے ماں کے قدموں کے نشان ڈھونڈہ رہا ہوں

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rao Anil Ur Rehman

Read More Articles by Rao Anil Ur Rehman: 88 Articles with 132223 views »
Learn-Earn-Return.. View More
01 Mar, 2017 Views: 237

Comments

آپ کی رائے