قدم قدم پر

(مقصود حسنی, قصور)

وہ بڑا ہی شاطر اور چال باز ہے۔ لذت کی راہیں بتاتا ہے۔ لذت کے ذائقوں سے آگاہ کرتا ہے۔ یہ ہی نہیں استوار کرنے میں بھی معاونت کرتا ہے۔ بدبخت جب بھی کڑا وقت آن پڑتا ہے‘ معاونت تو دور کی بات‘ اکثر ڈھوںڈے سے نظر نہیں آتا۔ اس وقت تک اسے کوئی دوسرا شکار مل چکا ہوتا ہے۔ کسی بڑے ٹاسک کی توقع میں شکار کی کٹھن گزار راہوں میں اس کے گندے انڈے بچے دوڑے چلے آتے ہیں۔ مضروب جان لڑاتا ہے لیکن کسی موڑ پر اس کی چل نہیں پاتی۔

اس نے کرایہ پر مکان حاصل کرنا تھا۔ مالک مکان کے سامنے بڑا شریف اور مسکین بن کر آیا۔ اس کی شرافت اسے بھا گئی اور اس نے اسے کرایہ پر اپنے مکان کا بالائی حصہ دے دیا۔ جب کرائے کے مکان کی گلی میں داخل ہوتا ناصرف نظریں نیچی کرکے گزرتا بل کہ سر پر پرنا بھی رکھ لیتا۔ مسجد میں باجماعت صبح کی نماز ادا کرتا۔ ہر کسی سے مسکرا کر اور عجز و مسکینی کے ساتھ ملتا۔ اس کی شرافت میں ملفوف اداؤں کے سب قائل ہی نہیں گھائل بھی ہو گئے اور اسے علاقے کے شریف وسنیکوں میں شمار کرنے لگے۔

اس روز وہ گھر پر اکیلا ہی تھا۔ اس کی بیوی کہیں گئی ہوئی تھی۔ مالک مکان کی آٹھ نو سال کی بچی اپنے کرایہ دار کے بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے آ گئی۔ اس نے شرافت کا جعلی لبادہ وہ پرے پھینکا اور ناصرف اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا بل کہ اس کی جان بھی لے لی۔ پھر موقع پا کر اسے باہر پھینک آیا۔ لمحاتی لذت کے لیے اس نے ناصرف زنا کیا بل کہ قتل ایسا جرم بھی کیا۔

بڑوں سے اس کا بیر کمانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن بچوں کے ساتھ دشمنی سمجھ سے بالاتر ہے۔ انسان تو انسان جانور کے بچے بھی پیارے لگتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ زیادتی ہونا یا ان کی اس طرح سے جان جانا‘ افسوس ناک ہی نہیں شرم ناک فعل بھی ہے۔ پر کیا کریں وہ انسان کے بچوں کے ساتھ بھی روز اول کی دشمنی کماتا ہے۔ اس کے لیے انسان کو ہی مہرہ بناتا ہے‘ چاہے وہ بچہ ہو یا بڑا۔ وہ ان لمحوں میں انسان کی رگ میں اپنے مقاصد لذت کے روپ میں اتار دیتا ہے۔

علاقے میں اس سے پہلے بھی اس قسم کا واقعہ ہو چکا تھا اور لے دے کرکے معاملہ رفع دفع ہو چکا تھا۔ لوگ اکثر سوچتے کہ قاتل کون ہے زنا کرکے معصوم بچی کو کو مار کر پھینک دینے والا یا اس کے مائی باپ جنہوں نے سکوں کے عوض اسے زنا اور قتل معاف کر دیا۔

خیر وہ تو اس کے بڑے کام کا تھا اسی لیے قدم قدم پر اس کی مدد کرتا رہا اور مواقع دستیاب کرنے میں اپنے حربے استعمال کرتا رہا۔ اس کے گندے انڈے بچے متحرک رہے۔ اس کے برعکس یہ کچھ زیادہ کام کا نہ تھا دوسرا اس سے بڑھ کر مردود تلاش لیا ہو گا ورنہ اس کی جان نہ جانے دیتا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مقصود حسنی

Read More Articles by مقصود حسنی: 184 Articles with 114226 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Mar, 2017 Views: 212

Comments

آپ کی رائے