سی آئی اے کے ڈاکٹر کی موت سے پردہ اٹھتا ہے

(Syed Anis Bukhari, Karachi)
اسکا نام فرینک اولسن تھا پیشے کے لحاظ سے وہ ایک ڈاکٹر تھا اور مختلف کیمیکلز پر تجربات کرنا اسکا شوق تھا۔ وہ امریکن آرمی میں فوجی سائینسدان کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہا تھا سی آئی اے ایسے قابل اور با صلاحیت لوگوں کو کتوں کی طرح سونگھتی پھرتی ہے اور اسی اثناء میں کسی طرح اسے سی آئی اے میں کام کرنے کی پیشکش بھی ہوگئی جسے اسنے خوشی خوشی قبول کر لیا اور وہ فورٹ ڈیٹریک کی میری لینڈ لیبارٹری میں سی آئی اے کے انتہائی اہم اور خاص ڈویژن میں بیالوجیکل ہتھیاروں کا معیار جانچنے اور مختلف کیمیکلز تجربات کرنے پر فائز ہوگیا۔اسکا شمار ان چند سائینسدانوں میں ہوتا تھا جو امریکہ میں ایک ایسی ڈرگ پر کام کر رہے تھے جو لیسرجیک ایسڈ سے تیار کی جاتی تھی یہ ڈرگ سرد جنگ کے دنوں میں امریکی مخالف ممالک میں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کیلئے استعمال کی جاتی تھی۔ اور اس ڈرگ کا استعمال غیر قانونی تھا۔ وہ اس ڈرگ کے علاوہ کئی اور ڈرگز کے تجربات میں بھی مصروف تھا۔ امریکا اور کوریا میں سرد جنگ زوروں پر تھی اور امریکاکو خطرہ تھا کہ کہیں کوریا انکے گرفتار کئے ہوئے فوجیوں کی برین واشنگ نہ کر رہا ہو اور اسی مقصد کیلئے امریکہ پوری دنیا میں بیالوجیکل ہتھیاروں پر ریسرچ کرتا رہتا ہے کہ کہیں بھی سرد جنگ کے زمانے میں وہ سی آئی کے ذریعے یہاں کی عوام میں بے چینی پھیلانے کیلئے ایسے جراثیمی ہتھیاروں کو استعمال کرکے اپنے اہداف حاصل کر سکے۔ سی آئی اے کا ایک ونگ جو خاص طور پر ایسے جراثیمی ہتھیار وں کے تجربات میں مصروف رہتا ہے جو وہ سرد جنگ کے زمانے میں مختلف ممالک میں استعمال کرکے وہاں پر مختلف بیماریاں مثلاً اینتھراکس، ملیریا اور مختلف جلدی امراض پھیلا کروہاں کے عوام میں بے چینی پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ وہاں کے عو ام میں موجودہ حکومت کے بارے میں رائے عامہ کو خلاف کرکے اندرونی خلفشار پیدا کیا جائے۔ امریکہ ویتنام اور کیوبا میں بھی بیالوجیکل ہتھیار استعمال کر چکا ہے۔ مگر امریکا خود کو دنیا سے چھپانے کیلئے پوری دنیا میں میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈہ کرتا رہتا ہے اور اندرون خانہ وہ انتہائی شرمناک اور خوفناک حد تک انسانوں کو قتل کرنے کیلئے ایسے ایسے طریقے استعمال کرتا ہے جس سے انسانیت کانپ کانپ جاتی ہے اور دوسرے ممالک کو انسانیت کا درس دیتا ہے ان جراثیمی اور کیمیائی ہتھیاروں کو پوری انسانیت کو قتل کرنا اپنا حق سمجھتا ہے ۔ جہاں امریکہ کے مفادات ٹکرا رہے ہوں وہ انسانوں کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کرنے اور انہیں موت کے گھاٹ اتارکر اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے ۔ حال ہی میں شام کے خلاف اسکی افواج کا کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کئے جانے پر پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور واویلا کیا جا رہا ہے کہ شام ان ہتھیاروں کے استعمال کرنے سے باز رہے مگر امریکہ میں مختلف جگہوں پر اسکی لیبارٹریاں قائم ہیں جہاں وہ بیالوجیکل ہتھیار تیار کرنے اور انہیں استعمال کرنے کے تجربات کرتا رہتا ہے اور اپنے مقاصد کیلئے انہیں استعمال بھی کرتا ہے اور اسے انسانی جانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اسے انسانیت کو قتل کرنے اپنے اہداف حا صل کرنا ہوتے ہیں۔

فرینک اولسن اپنی موت سے کئی ماہ پہلے یورپ گیا تھا جہاں اسنے امریکی بیس میں نازیوں اور سویت یونین کے شہریوں کی تحقیق اور تفتیش ہوتے ہوئے دیکھی تھی جو اس پر بہت اثر انداز ہوئی تھی۔ اسکے علاوہ وہ بیالوجیکل کیمکل ہتھیاروں پر ریسرچ سے اخلاقی طور پر کافی حد تک دلبرداشتہ ہو چکا تھا او یہ سب کچھ بردداشت کرنا اسکے لئے مشکل تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ پوری دنیا میں معصوم اور بے گناہ لوگوں کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کرکے انہیں موت کی نیند سلا دیا جائے یا پھر انہیں تمام عمر کیلئے اپاہج کر دیا جائے۔ اس نے یہ ٹھان لی تھا کہ اب وہ سی آئی اے کی ملازمت سے مستعفیٰ ہو جائیگا۔سی آئی اے کیلئے یہ کھلم کھلا خطرے سے کم نہیں تھا۔ سی آئی اے کسی طور بھی یہ برداشت نہیں کرتی کہ اسے اپنے ہی ساتھ کام کرنے والوں سے کسی بھی قسم کا کوئی سیکیورٹی رسک ہواور سی آئی اے کیلئے کسی بھی بے گناہ اور معصوم یا پھر انکے منشور سے بغاوت کرنے والے کو مار دینا انکے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ اولسن کو مارنا انکے لئے نہ تو کوئی نیا تجربہ تھا اور نہ ہی مشکل کام تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اولسن امریکی بیالوجیکل ہتھیاروں کے پروگرام کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے اور اگر یہ راز فاش ہو گیا تو وہ پوری دنیا میں انکے لئے بدنامی کا باعث ہو سکتا تھا بلکہ اولسن انکے لئے انتہائی سیکیورٹی رسک بھی ہو سکتا تھا ۔ اور پھر وہی ہوا جو سی آئی اے نے اولسن کی قسمت میں لکھا ہوا تھا۔ اور اسے موت نیند سلانے کیلئے ایک پروگرام تشکیل دے دیا گیا جسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ایک ٹیم کے ذمے یہ کام سپرد کر دیا گیا۔ ایک روز 1953 ء کی صبح کو جبکہ فرینک اولسن نیو یارک کے ایک ہوٹل کی ساتویں منزل پر مقیم تھا پروگرام کے مطابق سی آئی اے کے ایک ایجنٹ نے فرینک اولسن کے سر پر ایک وزنی لوہے کے راڈ سے حملہ کرکے اسے موت کی نیند سلا دیا اور اسے اسکے کمرے کی کھڑکی سے باہر پھینک دیا ۔اسکے کمرے کی یہ شیشے کی کھڑکی ہوٹل کے پچھواڑے کی ایک گلی میں کھلتی تھی جو اتنی مصروف نہیں رہتی تھی ویسے بھی صبح کا وقت تھا اور اس گلی میں رش کم ہی ہوا کرتا تھا۔ جیسے ہی کھڑکی کے شیشے ٹوٹنے کی ایک چھناکے دار آواز پیدا ہوئی فرینک اولسن 75 فٹ کی بلندی سے لہراتا ہوا زمین پر دھڑام سے آگرا ۔ گرنے سے اسکا جسم پھٹ گیا اسے مختلف جگہہ پر چوٹیں آئیں اور زمین خون سے لت پت ہوگئی۔ وہاں پر موجود کمرے میں اور ہوٹل کے لوگ اور دوسرے راہ گیر اس گلی میں جمع ہوگئے لوگ فرینک کی لعش کو دیکھ کر کافی رنجیدہ تھے آپس میں چہ میگویاں شروع ہو گئیں ۔ پولیس کو فون کیا گیا چند منٹوں کے بعد پولیس کی ایک گاڑی آئی اس میں سے چند پولیس والے اترے انہوں نے لعش کی تصویریں اتاریں ۔ ہوٹل کے عملے سے پوچھ گچھ کی کمرے اور جگہ کا معائینہ کیا اور پولیس فرینک کی لعش کو پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال لے گئی۔ سی آئی اے نے اس واقعے کو ایک حادثہ قرار دیکر اس باب کو بند کر دیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ فرینک اولسن نشے میں دھت تھا اور اپنے ہوٹل کے کمرے کی کھڑکی کے قریب کھڑ اتھا کہ وہ ایک دم نشے کی حالت میں لڑکھڑایا اور 75 فٹ کی بلندی سے کھڑکی کے شیشے کو توڑتا ہوا کھڑکی سے باہر زمین پر آگرا جس سے اس کے سر پر اور جسم پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ مر گیا۔ اس حادثے کی وجوہات کو مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھا گیا اور اولسن کے گھر والوں کو اندھیرے میں رکھا گیااوراولسن کی اس ناگہانی موت کے بارے میں کسی کو ہوا تک نہ لگنے دی۔ فرینک اولسن کی موت سی آئی اے کی تاریخ میں اسکے لئے انتہائی بدنامی کا باعث بنی۔ فرینک اولسن کا بیٹا جسکا نام ایرک اولسن تھا اسے اپنے باپ کے بارے میں بہت سی معلومات تھیں کہ اسکا والد سی آئی اے کی ملازمت چھوڑنا چاہتا ہے اور ایرک اولسن یہ بات جانتا تھا کہ سی آئی اے اپنے لئے کسی بھی سیکیورٹی رسک کو برداشت نہیں کرتی اور ایسے لوگوں کیلئے موت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا اسے یقین تھا کہ اسکے والد کو قتل کیا گیا ہے مگر اسے مکمل طور پر اسکی کھوج نہیں مل رہی تھی۔ اسے معلوم ہوا کہ اسکی موت سے پہلے اسکی شراب میں سی آئی اے نے ایل ایس ڈی نامی ڈرگ ملا دی تھی جس سے اس پر بری طرح نشہ طاری ہو چکا تھا ۔ایرک فرینک نے اپنے والد کی موت کی کھوج نکالنے کیلئے مختلف جگہوں سے دستاویزات اکٹھی کرنا شروع کر دیں مگر یہ دستاویزات اس گتھی کو سلجھانے میں نا کافی تھیں اور اس پر اصل حقیقت آشکا ر نہ ہو سکی مگر اس نے ہمت نہ ہاری اور وہ اس کھوج میں مصروف رہا۔ یہاں تک کہ امریکہ کے صدر فورڈ نے اس بات کا یقین دلایا کہ وہ فرینک اولسن کی موت کے بارے میں تحقیق کرکے تما م کچھ منظر عام پر لائینگے۔ ایرک کے خاندان سے تا حال اصل حقیقیت کو چھپایا جا رہا تھا۔ خاص طور پر سی آئی اے میں اسکے والد کا وہ تحقیقی پروگرام جو اسے کوریا کی سرد جنگ کے دوران دیا گیا تھا جسمیں اینتھراکس نامی اور دوسرے بیالوجیکل ہھتیاروں کے بارے میں اسکے تجربات شامل تھے ۔ ان دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی کہ سی آئی اے کے دو انتہائی اہم افسر اس معاملے کو چھپانے میں اہم کردار ادا کر رہے تھے وہ وہائٹ ہاؤس کے دو اہم رکن رمز فیلڈ اور سیکرٹری دیفنس تھے۔ ایرک اولسن کہتا ہے کہ میرے والد کی موت کی اصل وجوہات کو جان بوجھ کر ہم سے چھپایا گیا ۔ وہ کہتا ہے کہ ان دستاویزات کی روشنی میں 22 سال تک ہم سے اصل حالات کو چھپائے رکھا اور میں اس تگ و دو میں تھا کہ کسی طرح اپنے والد کی موت کی اصل وجوھات کو جان سکوں۔ رمز فیلڈ نے ان سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے جو سی آئی اے کو اولسن کی موت کی وجوہات کو چھپانے کے بارے میں کئے گئے ایک میڈیا کے افسر پال نوواک نے کہا کہ سی آئی اے کی سرگرمیاں جنکا تعلق فرینک اولسن کی موت سے تھا اسکی تحقیقات راکفیلر کمیشن اور تنیجتاً کانگریس کی کمیٹی میں بھی کی گئیں جس میں سی آئی اے نے مکمل طور پر ان تحقیقات میں تعاون کرتے ہوئے سی آئی اے نے ان ہزاروں دستا ویزات میں سے دسیوں ایسی دستاویزات پیش کی ہیں جنکا تعلق ان سے تھا اگر کوئی نئی معلومات درکار ہوں تو انہیں موزوں اور مناسب حکام سے رابطہ کرنا چاہئے۔ایرک اولسن کہتا ہے کہ وہ اپنے والد کی موت کی تحقیق کیلئے ایک لمبے عرصے سے لڑ رہا ہے کہ اسکے والد کو سی آئی اے کی غیر قانونی ریسرچ کے سلسلے میں قتل کیا گیا ہے اور اسے یقین تھا کہ وہ ہوٹل کی کھڑکی سے گر کر نہیں مرا بلکہ اسکے والد کو ایک پروگرام کے تحت موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے ۔ اسنے میری لینڈ میں ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں یہ راز افشاء کیا کہ آج وہ اپنے والد کے قتل سے اپنی تحقیقات کی روشنی میں پردہ اٹھائے گا۔ ان نئی دستاویزات سے الزامات تو ثابت نہیں ہو سکے مگر ان دستاویزات سے یہ ضرور ظاہر ہوتا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے سرکاری عہدیدار ایرک اولسن کے تحقیقاتی کام نے ان پر اس کے والد کے قتل کے بہت سے چونکا دینے والے راز منکشف کئے ہیں۔سرکاری عہدیداروں کی وضاحت کے برعکس فرینک اولسن ایک آرمی سائینسدان تھامگر اولسن سی آئی اے کیلئے ایک سپیشل آپریشن پر فورٹ ڈیٹرک کی میری لینڈ لیبارٹری میں بیالوجیکل ہتھیاروں کی ریسرچ پر کام کر رہا تھا۔ ایرک اولسن نے کہا کہ اسکے والد کے ساتھ کام کرنے والے دوستوں نے اسے بتایا کہ اسکا والد انتہائی اہم کام پر مامور تھا اور ان سائینسدانوں میں سے ایک تھا جوایل ایس ڈی نامی اس ڈرگ پر تحقیقات کر رہا تھا جو انسانی دماغ میں متشددانہ روئے کو جنم دیتی ہے۔ایرک اوسلو کہتا ہے کہ اپنی موت سے ایک ماہ پہلے اسے یورپ بھیجا گیا تھا اور امریکی خفیہ تحقیقاتی بیس پر اسنے نازیوں اور روس کے شہریوں کی تحقیقات ہوتے ہوئی دیکھی تھیں۔ ایرک اولسن کہتا ہے کہ اسکا والد اپنی موت کے آخری دنوں میں بہت زیادہ دلبرداشتہ ہو چکا تھا اور اپنے کام کی نوعیت اسے اس بات کی اجازت نہیں دے رہی تھی کہ وہ مذید کام کرے اور اسنے سی آئی اے کی ملازمت چھوڑنے کا ارادہ کر لیا تھا اور سی آئی اے کے ایجنٹ اس کے اس فیصلے سے کافی فکر مند تھے اور انہوں نے اسے سیکیورٹی رسک قرار دے دیا تھااور وہ اس خطرے کے پیش نظر اسے قتل کردینا چاہتے تھے۔1993 ء میں ایرک اولسن نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے والد کی قبر کشائی کروا کر جیمز سٹارز جو ایک فرانزک سائینسدان ہے اس سے اس معاملے کی تحقیقات کروانا چاہتاہے۔ جیمز سٹارز نے اپنی تحقیقی اور تجزئے کی روشنی میں یہ انکشاف کیا کہ فرینک اولسن کو کھڑکی سے باہر پھینکنے سے پہلے اس کے سر میں کوئی بھاری سی چیز ماری گئی تھی اور بعد میں اسے ہوٹل کی کھڑکی سے باہر پھینک دیا گیا۔ فرانزک سائینسدان سٹارز کا یہ انکشاف ایرک اولسن کیلئے ایک واشگاف امید سے کم نہ تھا اور اسنے اپنے والد کے قتل کے بارے میں جو دستاویزات اب تک اکٹھی کی تھیں ان میں سٹارز کا تجزیہ اسکی اس بات کو تقویت دینے کیلئے کافی تھا کہ اسکے والد کی موت ایک حادثاتی موت نہیں تھی بلکہ اسے ایک منصوبے کے تحت قتل کیا گیا ۔ فرانزک سائینسدان سٹارز کی اس تحقیق نے اسکے ابہام کو صحیح ثابت کر دیا اور ایرک نے اپنے والد کی لاش کو دوبارہ دفنا دیا۔ اسے اپنی اس تحقیق پر نہ صرف تسلی ہوئی بلکہ دلی اطمینان بھی ہوا کہ اسنے اپنے والد کی موت کا راز پا لیا۔نومبر1953 ء میں جبکہ فرینک اولسن 43 سال کا تھا اسنے دیپ کریک لاج جو کہ میری لینڈ میں واقع ہے چند سرکاری عہدیداروں کے ساتھ ایک کانفرنس میں شرکت کی مگر چند دنوں بعد ہی اسے واپس بھیج دیا گیا ۔ اسکا بیٹا ایرک کہتا ہے کہ اسنے میری ماں کو بتایا تھا کہ وہ یہ ملازمت چھوڑنا چاہتا ہے۔ لیکن فرینک اولسن نے یہ ملازمت نہیں چھوڑی اور 23 نومبر کو اپنے دفتر کے عہدیداروں کیساتھ نیو یارک چلا گیا ۔ وہ لارلڈ دو مرتبہ گیا ۔ ایک ڈاکٹر جسکا نام ابرامسن تھا وہ ایل ایس ڈی پر تجربات کر نے والا پہلا سائینسدان تھا ۔اولسن وہاں سے واشنگٹن واپس آ گیا اور پھر وہ 28 نومبر کو واپس نیو یارک چلا گیا اور وہاں پر ایک ہوٹل جسکا نام سٹیٹلر ہوٹل تھا وہاں پر قیام کیا اسکا پروگرام تھا کہ وہ اگلے روز ہسپتال میں داخل ہو۔ لیکن علی الصبح 29 نومبر کو اسکی موت واقع ہو گئی۔ اولسن کے خاندان کو اس بارے میں مکمل طور پر معلومات نہ تھیں۔ لیکن 1975 ء میں سی آئی کے کرتوتوں کے بارے میں نائب صدر نیلسن راکفلر نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں بتایا گیا اور واشنگٹن پوسٹ نے یہ اضافہ کرتے ہوئے اپنے اخبار میں لکھا کہ ایک آرمی سائینسدان جسنے نیو یارک کے ہوٹل کی کھڑکی سے چھلانگ لگا دی تھی اسے ایل ایس ڈی دیا گیا تھا جو ایک انتہائی خطرناک ڈرگ ہے۔ ہمیں اس خبر کے پڑھنے کے بعد علم ہوا کہ یہ اخبار تو میرے باپ کے بارے میں کہہ رہا ہے۔ ایرک اولسن کو وہ سب کچھ یاد آ گیا ۔ اسکے خاندان کے لوگوں نے اس اخبار کے رپورٹر سے بات کی یہ ہمارے خاندان کے خلاف بہت بڑی ذیادتی ہے اور کہا کہ وہ اپنے باپ کے قتل کے بارے میں گورنمنٹ کے خلاف عدالت سے رجوع کرینگے۔ کچھ ہی دنوں کے بعد اولسن کے خاندان والوں کو صدر فورڈ نے وائٹ ہاؤس میں ملنے کی دعوت دی اور انہیں یقین دلایا گیا کہ انہیں فرینک اولسن کی موت کے بارے میں ہر طرح کی آگاہی دی جائیگی۔ چند ہی دنوں کے بعد سی آئی اے کے ڈائریکڑ ولیم کولبے نے انہیں اپنے ساتھ دوپہر کے کھانے کی دعوت دی اور ایک فائل دی گئی جو اولسن کی موت کی سی آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ پر مشتمل ایک رپورٹ تھی۔ لیکن یہ دستاویزات اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گئی جنکے جوابات اولسن کی موت کے حالات کے بارے میں کافی تضاد رکھتے تھے۔ اولسن کے خاندان والوں کو بتایا گیا کہ مقدمے میں کافی ابہام پائے جاتے ہیں اور یہ مقدمہ عدالت میں چل نہیں سکے گا اور ان کے خاندان سے وعدہ کیا گیا کہ انکی تلافی کیلئے کانگریس میں ایک بل پیش کیا جائیگا جس کی منظور ی کے بعد اولسن کے خاندان کے مقدمے کو نبٹانے کیلئے ساڑھے سات لاکھ ڈالر ادا کئے جائینگے تاکہ معاملات کسی نہج پر پہنچ سکیں۔ اسی اثناء میں ایرک اولسن نے بہت سے شواہد اکٹھے کر لئے تھے جو سی آئی اے کی سرگرمیوں کے بارے میں تھے مثلاً سی آئی اے کے بارے میں ایک کتابچے میں جو 1950 ء کے اوائل میں ترتیب دیا گیا اس میں یہ راز افشاء کیا گیا کہ گوئٹے مالا میں سی آئی اے نے مصنوعی طور پر لوگوں کی اموات کو ظاہر کیا مگر یہ سب قتل کی وارداتیں تھیں جن میں سی آئی اے نے انتہائی چالاکی اور بے دردی سے موثر طریقے استعمال کرکے ان لوگوں کو قتل کیا تھا اورگورنمنٹ سے یہ باتیں چھپائے رکھیں۔ اسی طرح اسکے والد کے قتل کو بھی حادثاتی موت ظاہر کرکے اسکے قتل کو عوام سے چھپایا گیا۔ایک عرصہ بیت جانے کے با وجود ایرک اولسن نے اپنی تحقیقات جاری رکھیں اور وہ اپنے باپ کی موت کے اس معمے کو حل کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ ایرک اولسن کو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ایک تاریخ کے پروفیسر ڈیوس سے حاصل کردہ دستاویزات سے یہ بات واضح ہوئی کہ وائٹ ہاؤس نے فرینک اولسن کی موت کے اصل حقائق کو اسکے خاندان سے جان بوجھ کر چھپایا۔ نتیجتاً اس مقدمے کی حساسیت کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اس مقدے کی شہادتیں او ر متعلقہ دستاویزات کا سیکیورٹی کے پیش نظر عدالت میں پیش کیا جانا ملکی راز افشاء کئے جانے کے مترادف ہوگا ڈاکٹر اولسن ادارے کیلئے انتہائی حساس نوعیت کے کام پر مامور تھا اگر ادارے کے انتہائی حساس ادارے کے اہم رکن پر تحقیق کی گئی تو ہمارے ملک کی سیکورٹی کے بارے میں بہت سے سوالات جنم لینگے اور ہمارے ملک کی سیکورٹی کے بہت سے رازوں سے پردہ اٹھے گا جو ہمارے ملک کی سیکورٹی کیلئے انتہائی خطرناک ہوگا ۔ اسطرح نیشنل سیکورٹی کے بارے میں اگر یہ راز فاش ہو گئے تو یہ ہمارے انتہائی حساس ادارے(سی آئی اے) کیلئے بدنامی کا باعث ہونگے جس سے ہماری سیکورٹی داؤ پرلگ جائیگی۔ اسی طرح یہ تمام شہادتیں عدالت میں پیش کیا جانا بھی ناممکن ہے لہٰذاوائٹ ہاؤس کے کونسل رہڈرک ہل نے اس بات پر زور دیا کہ مقدمے کو عدالت کے باہر آپس میں طے کر لیا جائے۔اسطرح اس قتل اور اسکے شواہد کو عدالت سے باہر ہی نمٹا لیا گیا اور ایرک اولسن اپنے باپ کی موت کا راز پا لیا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Anis Bukhari

Read More Articles by Syed Anis Bukhari: 93 Articles with 65024 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Mar, 2017 Views: 361

Comments

آپ کی رائے