پانامہ لیکس کا فیصلہ

(Ghulam Ullah Kiyani, )
سپریم کورٹ آف پاکستان کا پانچ رکنی لارجر پنچ 25ہزار سے زیادہ دستاویزات کاگہرائی سے جائزہ لے رہا ہے۔ معزز جج صاحبان ا ن کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ وہ تمام باریکیوں اور قانونی موشگافیوں پر غور کر رہے ہیں۔ یہ کام مکمل ہونے کے لئے مہینے نہیں تو مزیدچند ہفتے ضروردرکار ہوں گے۔ اس کے بعد ہی ملک کی سب سے بڑی عدالت کسی نتیجہ پر پہنچے گی۔ ظاہر ہے عدالت پر سب کو اعتماد ہے۔ جج صاحبان صرف انصاف پر یقین رکھتے ہیں۔ فیصلہ جو بھی ہو، سب فریق فیصلہبلا چوں و چراں تسلیم کریں گے۔ بھارت میں ایک نئی ٹرم استعمال ہونے لگی ہے۔وہاں عدل و انصاف کے ساتھ’’ عوامی ضمیر کی تسکین ‘‘کے لئے فیصلے ہو رہے ہیں۔ جیسا کہ کشمیری حریت پسند محمد افضل گورو کو اسی تسکین کے لئے پھانسی دی گئی۔ تا ہم پاکستان میں ابھی تک اس طرح کاکوئی تاثر نہیں پایا گیا۔فیصلہ کیا ہو گا، کوئی نہیں جانتا۔ یہ فیصلہ مختصر نہیں ہو سکتا۔ سیکڑوں صفحات اس کا احاطہ کریں گے۔ فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوششیں بھی ہوں گی۔ لیکن سپریم کورٹ کسی کا اثر قبول کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس کیس کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ پوری قوم کو اس میں الجھا یا گیا ہے۔ جیسے کہ پورے ملک اس کا فریق ہے۔ پی ٹی آئی اور پی پی پی نے جو کردار ادا کیا، وہ حزب اختلاف کو زندہ رکھنے کے لئے خیر معمولی تھا۔ تا ہم دونوں کی دوریاں ہیں۔ جناب عمران خان کا موقف سخت گیر ہے۔ یہی طرز عمل بلاول بھٹو زرداری کا بھی ہے۔ مگر آصف علی زرداری ک نرم گوشہ ہے یا اس طرح کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ریاستوں میں اپوزیشن ہمیشہ اصلاح اور تعمیری کردار ادا کرتی ہے۔ مگر اب صرف سیاست ہوتی ہے۔ کوئی بھی پارٹی زیادہ دیر تک اقتدار سے باہر رہنے کی عادی نہیں۔ حکمرانی کی سب کو لت پڑ رہی ہے۔ اس لئے وہ تعمیر و ترقی کے بجائے کیچڑ اچھالنے یا جو فلاحی اور پیداواری کام کرے اس کی ہر حال میں مخالفت کرتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ کوئی بھی دودھ کا دھلا نہیں ۔ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ لیکن اپنے اقتدار اور دوسروں کی شبیہ بگاڑنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اپنے نظریات بھی مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یا جو آپ کا نظریاتی ہمنوا ہے ، اس کی حمایت ضروری کی جاتی ہے اگر چہ موقف اصولوں کے منافی بھی ہو۔

2018انتخابات کا سال ہے۔ اپوزیشن وسط مدتی الیکشن چاہتی ہے۔ مگر فی الحال اس کی کوئی امید بر نہیں آئی۔ کوئی صورت بھی نظر نہیں آئی۔ مسلم لیگ ن ترقی کے ایجنڈے کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ پاناما لیکس میں وزیراعظم کا نام نہیں آیا۔ اس لئے انہیں براہ راست کسی سکینڈل میں ملوث کرنے کو لوگ معقول نہیں سمجھتے۔ کرپشن کی کوئی بھی حمایت نہیں کر سکتا۔ جو لوگ اپنے لوگوں کی کرپشن پر پردہ ڈالتے ہیں اور دوسروں کا پردہ چاک کرتے ہیں، وہ اصل میں خیانت کر رہے ہیں۔ عوامی نمائیندوں کی یہ شان نہیں کہ کسی پارٹی، علاقے، فرقے یا کسی عصبیت کی وجہ سے وہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں مصروف ہو جائے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو ظاہر ہے خائن کی سزا سخت ہے۔ یہاں نہیں تو وہاں ضرور ملے گی۔ لوگ وقتی طور پر خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں یا اپنی جھوٹی تسلی و تشفی کرتے ہیں۔ کرپشن، فراڈ یادھوکہ دہی بہت بڑا ظلم ہے۔ جو ظلم کی سرپرستی کرے ، اس کا انجام ضرور تباہ کن ہو گا۔ جھوٹ کے وکیل بھی اسی انجام کو پہنچیں گے۔ سمندر پار کمپنیاں قائم کرنا جرم نہیں۔ ان کمپنیوں کے لئے قومی خزانہ کو نقصان پہنچانا یا ٹیکس چوری کرنا جرم ہے۔ یہ جرم ملک کا سربراہ کرے یا کوئی فقیر ، یہ جرم ہی رہے گا۔ کالی دولت کو سفید کرنے کی کوئی صورت نہیں۔ ملک میں لوٹ مار اور کرپشن سے بارگیننگ کی نئی روایت ڈالی گئی ہے۔ چور ے ساتھ یہ ساز باز ہے۔ چور ڈاکو کے ساتھ ساز باز کو سرکاری شکل دی گئی ہے۔ یہ ساز باز کوئی بھی کرے ، جرم تصور ہوتا ہے۔ اس کا خاتمہ ہونا چاہیئے۔ جو فاش غلطی ہوئی ہے اس کا ازالہ ہو۔ کیا کوئی اس جانب توجہ دے گا۔ یہ سوال ہم عوامی مقامات پر سن سکتے ہیں۔ جس کا لوگ جواب چاہتے ہیں۔ یہ گناہ اور برائی کے ساتھ شراکت داری کے برابر ہے۔ ریاست قومی خزانے کی امانت دار ہے۔ کرپشن یا لوٹ مار اگر پائی کی ہے یا اربوں کی، سب برائی ہے۔ برائی چھوٹی یا بڑی نہیں ہو سکتی۔ ریاست کیسے کرپشن کے ساتھ گٹھ جوڑ کر سکتی ہے۔ یا لین دین میں الجھ سکتی ہے۔ اس سے متعلقہ ادارے اپنی پسند کے قانون کیسے بنا سکتے ہیں۔ انہیں کون اس طرح کی اجازت دیتا ہے۔ اس تباہی کا سرچشمہ کون ہیں۔ کیا وہ بچ جائیں گے۔ اس لئے سپریم کورٹ کو یہ سب زیر غور لانا ہے۔ 25ہزار دستاویزات کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ سب کو انصاف ملے گا۔ سب کوامید نہیں بلکہ یقین ہے کہ کسی کے ضمیر کی تسکین کے لئے فیصلہ نہیں ہو گا بلکہ مجرم کو پکڑا جائے گا۔ بہتان تراش بھی پکڑے جائیں گے۔ کردار کشی کرنے والے بھی نہیں بچ سکیں گے۔ کرپشن کرنے والے سزا پائیں گے۔ عدل و انصاف کا یہی تقاضا ہے۔ کوئی غیر جانبدار نہیں ہو سکتا۔ یا سچ ہے یا جھوٹ۔ یا ہم سچ کے ساتھ ہیں یا جھوٹ کے۔ اس میں کوئی درمیانہ راستہ نہیں۔ کوئی میانہ روی نہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 574 Articles with 219194 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
08 Mar, 2017 Views: 380

Comments

آپ کی رائے