ترقی کیسے ممکن ہے

(Muneer Ahmad Khan, Rahimyarkhan)

ترقی آگے بڑھنے کو کہتے ہیں ترقی تبدیلی کو کہتے ہیں. ترقی خوشحالی کو کہتے ہیں اور ترقی انسانوں کی ضروریات کو پورا کرنا کو کہتے ہیں ترقی پارٹیوں کے منشور سے ہوتی ہے ترقی لیدر کے ویڑن سے ہوتی ہے ترقی لیدر کی ایمانداری سے ہوتی ہے ترقی لیدر کی سوچ کی عکاس ہوتی ہے ترقی پارٹی لیدروں. کے احساس سے ہوتی ہے ترقی. لیدر کے شوق سے ہوتی ہے ترقی وہ ریاستیں کرتی ہیں جس ریاست میں بر سر اقتدار پارٹی کے سر براہ اور وزراء کی محنت سے ہوتی ہے ترقی وعدہ پورا کرنے سے ہوتی ہے ترقی. وہ ریاستیں کرتی ہیں جہاں سیاستدان عوام کو جوابدہ ہوں. مغربی ریاستیں کیوں ترقی کر گیں اسکی وجہ وہاں کی لیدر شپ کی دن رات محنت یے اور وہاں عوام کو عوام سمجھا جاتا ہے ایک پارٹی جاتی ہے جب اور پارٹی آتی ہے تو وہ اس سے زیادہ ترقیاتی کام کرتی ہے کیونکہ وہ عوام. کے لیے جیتے اور عوام کیلیے مرتے ہیں جب وہ اقتدار چھوڑتے ہیں تو کراے کے مکان سے آتے ہیں اور کراے کے مکان مین چلے جاتے ہیں اور ترقی پزیر ملکوں میں سیاستدان پیلے اپنا سوچتے ہیں پھر اپنے رشتہ داروں کا دوستوں. کا اور پھر اپنی پارٹی کا عوام پانچ سال کے بعد وہین ہوتے جہاں وہ تھے. اسلامی ریاستوں کو تو حکمرانوں نے اپنی جاگیر بنا رکھا ہے وہ صرف اپنے اقتدار کا سوچتے ہیں وہ صرف اپنی جایداد کا سوچتے ہیں اور کچھ ریاستوں. میں سیاسی پارٹیوں پر چند خاندانوں کی اجارہ داری ہے اور اقتدار اس خاندان کے گرد گھومتا رہتا ہے اور اسی وجہ سے اسلامی ریاستیں ترقی نہیں کرسکی ہیں اور اسی وجہ سے ترقی پزیر ممالک میں صرف وعدے کیے جاتے ہیں عمل نہیں کیا جاتا وزراء بنا دیے جاتے ہیں ان سے پوچھ گچھ. نہیں کی جاتی ہے اور جو قرضے حاصل کیے جاتے ہیں اس حساب سے ترقی نہیں ہوتی ہے دراصل حاکموں کو موت بھول چکی ہے اور یہ انکی بھول ہے کہ وہ اس دنیا میں بھی کامیاب ہیں اور اگلے جہان بھی وہ کامیاب ہونگے اگر ایسا ہوتا تو ہمارے پاک نبی تین تین بھوکے نہ رہتے انکی بیٹی کو ہاتھ سے کام نہ کرنا پڑتا اور اگر حکمرانی آسان ہوتی تو. خلفاے راشدین سادگی سے زندگی نہ گزارتے مگر ہم حیران ہیں کہ ہم جیسے کیسے زندگی گزار جایں گے مگر ہمارے حکمران کیسے حساب دیں گے اور ایک ایک سیکند کے بارے بارے پوچھ گچھ ہوگی یہ کیا حساب دیں گے دراصل ہم عوام کا قصور ہے اور ہم مجبور ہیں ہم پارٹی نہیں ہم اپنے مقامی زمیندار کو دیکھتے ہیں اور عوام سے ایک سوال ہے کہ کیا دوہزار تیرہ میں پچھلی حکومت ملک کو جس حالت میں چھوڑ گی کیا اس میں کوی تبدیلی آی. ہاں تبدیلی آی حکمرانوں کے بنک بیلنس میں حکمرانوں کی زندگی میں. نہیں بدلی تو عوام کی حالت نہیں بدلی اللہ پاک ہمارے حکمرانوں کو. احساس انسانیت دے. آمیں اور ہمارے وطن. کو حقیقی ترقی دے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muneer Ahmad Khan

Read More Articles by Muneer Ahmad Khan: 303 Articles with 164514 views »
I am Muneer Ahmad Khan . I belong to disst Rahim Yar Khan. I proud that my beloved country name is Pakistan I love my country very much i hope ur a.. View More
10 Mar, 2017 Views: 448

Comments

آپ کی رائے