’ ’ پھٹیچر ، ریلو کٹے‘‘

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

پاکستان سپر لیگ2017 کے تناظر میں آج کل معتبر شخصیت کی زبان سے نکلنے والے کچھ کلمات ہر طرح کے ذرائع ابلاغ کا موضوع بحث ہیں۔کچھ مصروف دفاع ہیں جبکہ باقی لوگ انہیں غیر شائستہ سمجھ کرہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ ہم نے بھی مناسب سمجھا کہ سیاسی راہ داریوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ، اس کے کچھ اصلاحی پہلووں کو زیر بحث لایا جائے۔ہمارے نزدیک اس کا بڑا سبب بے محل گفتگو اور زبان کے استعمال میں بے احتیاطی ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جملہ مخلوقات میں سے انسان کا یہ خاصہ اور اعزاز ہے کہ یہ ’’حیوان ناطق‘‘ یعنی (زندوں میں سے بولنے والا) ہے۔زبان انسان کی شخصیت کی آئینہ دار اور ترجمان ہوتی ہے۔ انسان کی شخصیت کے خدو خال زبان ہی کے ذریعے ظاہر ہوتے ہیں اور ہم سمجھ پاتے ہیں کہ کون کیا ہے؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہماری بول چال سے ہی دوسرے لوگ ہماری وقعت اور حیثیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ہمارا اچھا طرز تکلم عمدہ تشخص کا عکاس ہوتا ہے جبکہ بے احتیاطی شخصیت کو داغدار کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ انداز گفتگو، الفاظ کا چناؤ اور موقع محل کے مطابق بولنے سے سننے والوں پر اچھا اثر پڑتا ہے جبکہ اسکا الٹ طرز عمل اپنوں کو آزمائش میں ڈال دیتا ہے جبکہ مخالفین کو مخالفت میں کھل کر بولنے کے مواقع مہیا کرتا ہے۔بعض اوقات کثرت کلام کی عادت بھی دوران گفتگو کئی ایک تکنیکی خامیوں کو جنم دیتی ہے۔جو آدمی بہت زیادہ بولتا ہے ، اس سے دوران گفتگو اتنی ہی زیادہ غلطیاں بھی سر زد ہوتی ہیں۔ زبان سے نکلی ہوئی بات کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح واپس نہیں آ سکتی۔ عربی کا ایک مشہور مقولہ ہے کہ ’’زبان کا زخم تلوار کے گھاؤ سے زیادہ مہلک اور گہرا ہوتا ہے‘‘۔ اسی لئے عقلمندوں کا مقولہ ہے کہ ’’پہلے تولو، پھر بولو‘‘ شیخ سعدی ؒ نے فارسی کلام میں ایک حکمت کی بات کہی کہ ’’تا مرد سخن نہ گفتہ باشد۔۔۔۔ عیب و ہنرش نہفتہ باشد‘‘ کہ جس وقت تک کوئی شخص محو کلام نہیں ہوتا اس وقت تک اس کے عیب اور اچھائیاں چھپی رہتی ہیں۔دین اسلام میں زبان کے استعمال میں محتاط طرز عمل اپنانے کی تعلیم دی گئی ہے۔ مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا’’ جو شخص اﷲ اﷲ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی اور بھلی بات کرے ورنہ خاموش رہے‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے نمائندہ کے طور پر ہمیں محتاط طریقے سے بات چیت کرنی چاہیے۔ لیکن ہمارے ہاں ان تہذیبی روایات کی پرواہ نہیں کی جاتی۔ جو منہ میں آتا ہے نکال دیا جاتا ہے خواہ بعد میں افسوس اور شرمندگی ہی کیوں نہ ہو۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ زبان اﷲ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی قدر ان سے پوچھو جو قوت گویائی سے محروم ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ انسان بولنا توتین چار سال کی عمر سے ہی سیکھ لیتاہے لیکن بعض لوگ عمر بھر بھی نہیں سیکھ پاتے کہ بولنا کب ہے؟ زبان کا صحیح استعمال اعمال خیر میں اضافے کا سبب ہوتا ہے جبکہ اس کا غلط استعمال نامہ اعمال کو غیبت، جھوٹ، چغلی اور گالی گلوچ کی صورت میں گناہوں سے بھر دیتا ہے۔ اسلام ہمیں ایسا طرز عمل سکھاتا ہے کہ جس سے زبان کا صحیح استعمال کر کے ہم جنت کی راہ کو اپنے لئے آسان بنادیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارے بیشمار سماجی اور گھریلو مسائل کا سبب زبان کابے جا استعمال ہے۔ اسی زبان کے غلط استعمال سے بیوی، باپ بیٹے، بھائی بہن اور خاندانوں میں ایسے اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں جو معاشرتی فتنوں اور سماجی خلفشار کا سبب بنتے ہیں۔ بچے ماں باپ کی فوٹو کاپی ہوتے ہیں۔ اگر ماں باپ گھر میں زبان کا غلط استعمال کرتے ہوئے گالی گلوچ دیں گے تو بچے بھی یہی سیکھیں گے۔پچھلے کچھ دنوں سے سابق لیجنڈ کرکٹر اور پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان کی مہمان کھلاڑیوں کیلئے استعمال کی جانے والی زبان ہر قسم کے ذرائع ابلاغ میں موضوع بحث ہے۔ جس طرح عنوان سے ظاہر ہے کہ ہمارا مقصد کسی طرح کی سیاسی رسی کشی کو طول دینا ہے اور نہ ہی بے جا تنقید کرنا۔لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس سارے تنازعے کا سبب غیر محتاط گفتگو ہے۔چاہیے تو یہ کہ بجائے ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کے تیر برسانے کے، اس سے سبق سیکھ کر ہم سب اصلاح احوال کی طرف متوجہ ہوں ۔ محترم عمران خان کی شخصیت بیشمار خوبیوں کی حامل ہے ۔ وہ کروڑوں پاکستانیوں کی امنگوں کے ترجمان ہیں ۔لیکن بعض اوقات دوران گفتگو محتاط رویہ نہیں اپناتے۔ کبھی بے وقت راز افشا کردیتے ہیں تو کبھی بے محل کوئی بات کہ کر اپنے چاہنے والوں کو بھی مصیبت میں ڈال دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان فطری طور پر کمزور ہے۔جتنا بھی دانشمند ہو پھر بھی کبھی کبھار کوتاہی ہو ہی جاتی ہے کیونکہ یہ انسانوں کا معاشرہ ہے نہ کہ فرشتوں کا ۔ لیکن عقلمند وہ ہوتا ہے جو اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرے اور آئندہ محتاط ہو جائے۔مہمان کھلاڑیوں کے بارے میں عمران خان کا ’’پھٹیچر اور ریلو کٹے‘‘ جیسے الفاظ کا استعمال قطعا مناسب نہ تھا۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن مہمان کھلاڑی تو بالکل بھی عمران خان کے خلاف نہ تھے۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ دل سے عمران خان کی ایک مشہور زمانہ کھلاڑی کے طور پر عزت کرتے ہوں گے۔ لیکن جب انہوں نے کسی سے معنی پوچھا ہوگا یا ’’پھٹیچر اور ریلو کٹے‘‘ کے معانی کیلئے کوئی ڈکشنری دیکھی ہوگی، تو افسوس تو انہیں بھی بہت ہوا ہوگا۔ علاوہ ازیں بھارت مقدور بھر کوشش کر رہا تھا کہ کوئی بین الاقوامی کھلاڑی پاکستان نہ آئے۔ اس کے باوجود وہ کھلاڑی پاکستان آئے۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں اور ان کی عزت و آبرو کی حفاظت ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔ کوئی بھی صورت ہو، البتہ مہمان، مہمان ہوتا ہے۔عمران خان کا مذہبی و اخلاقی فریضہ تھا کہ باضابطہ دعوت پر گھر آئے مہمانوں کی عزت کرتے۔اس حوالے سے ایک سابق معروف بین الاقومی کرکٹر کے طور پر ان کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔البتہ اس کا ایک خوش آئیند پہلو یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی قائدین شاہ محمود قریشی اور عارف علوی نے پارٹی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس پر اظہار افسوس و تعجب کیا ہے۔ عمران خان نے ’’پھٹیچر اور ریلو کٹے‘‘ کے الفاظ ایک یا دو بار استعمال کیے ہوں گے لیکن ممتاز صحافیوں، دانشوروں اور ارباب حکومت نے دنیا بھر میں بچے بچے کو یہ الفاظ یاد کروا دیے ہیں۔ لگتا ہے کہ ’’گلو بٹ‘‘ کی طرح ان الفاظ کو بھی عنقریب آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں شامل کرلیا جائیگا۔ہم میں سے ہر ایک کو ہی اور خصوصا سیاسی و مذہبی قائدین کو دوران گفتگو ضابطہ اخلاق کا خیال رکھنا از حد ضروری ہوتا ہے تاکہ بعد میں پچھتاوا نہ ہو۔ میں راز دل لگا کہنے ضمیر اندر سے چلایا خدا کے واسطے محتاط رہنا ہم نشینوں سے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 197 Articles with 126701 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
14 Mar, 2017 Views: 380

Comments

آپ کی رائے