ایک اور دریا کا سامنا تھا

(Mumtaz Amir Ranjha, )
کئی شاعر ایسے شعر کہہ دیتے ہیں کہ جنکے شعر دہرانے سے پوری زندگی کا نچوڑ سامنے آجاتا ہے ۔کچھ ایسے ہی شاعروں میں منیر نیازی بھی شامل ہیں۔ یوں تو ان کی یہ پوری غزل ہی نہایت خوبصورت ہے مگر اس شعرمیں تمام انسانیت کی جہد مسلسل کی مکمل عکاسی ہے:۔
٭ ایک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

بلاشبہ ہم سارے لوگ ساری عمر محنت کرتے کرتے، عزت بناتے بناتے اور رزق کماتے کماتے اپنی فنا کا سفر کرتے ہیں۔کچھ لوگ رزق اور عزت دونوں سے فیضیاب ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگوں کو دونوں مذکورہ اشیامیں سے کچھ بھی ٹھیک سے میسر نہیں آتا۔کئی لوگ بے انتہا دولت مند ہوتے ہیں لیکن ان کو ساری عمر ایسی پریشانیوں یا مسائل کا سامنا ہوتا ہے کہ وہ اس دولت کو بھی اپنے لئے زحمت ہی سمجھتے ہیں،انہیں رات کو نیند کی گولیوں کے بغیر نیند ہی نہیں آتی اور بعض سفید پوش محنت کر کے زندگی بسر کر لیتے ہیں،مگر سکھ چین کی نیندسے آراستہ رہتے ہیں۔

ایک اور ضروری بات کہ ہم سارے ہی کئی بار خوشیاں سمیٹتے ہیں لیکن پھر ہم سارے انسان کبھی نہ کبھی کسی صدمے یا دکھ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ہم زندگی میں کئی بار مشکلات کا سمندر عبور کرتے ہیں ،ابھی چند لمحے سستا بھی نہیں پاتے کہ ہمارے سامنے کوئی اورلامتناعی سفر آ کھڑا ہوتا ہے۔

زندگی کی اصل کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ہم لوگ اپنی اپنی جگہ خلوصِ نیت سے کام کریں،دنیا اور دین کو ساتھ ساتھ لیکر چلیں مگر کدھر حقیقت میں ہم سارے احقر سمیت دنیاوی لالچ میں اس قدر پھنس جاتے ہیں کہ ہماری آنکھیں دنیاوی حرص میں چکا چوند رہتی ہیں۔ہم سارے غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط ثابت کرنے کے لئے بے ایمانی کے سمندر تک پار کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔حالانکہ سچ گوئی اور ایمانداری ایک ایسا راستہ ہے جس میں کو ئی کٹھن راستہ آ بھی جائے تو اﷲ تعالیٰ کی مدد سے نہایت آسانی سے عبور کیا جا سکتا ہے۔

اس دور میں دولت اوراسٹیٹس سب کو چاہیئے ،اس دور میں لوگ اپنی عزت ،بے عزتی سے لاپرواہ ہو کر مذکورہ دو چیزوں کے لئے ہمہ تن گوش رہتے ہیں۔مقابلہ ایک ایسا لفظ ہے جو اگر ایمانداری سے استعمال کیا جائے او ر کسی کا ٹھیک سے مقابلہ کیا جائے تو بڑے بڑے نام زمین بوس ہو جاتے ہیں لیکن لوگ اس سے بالاتر ہو کر شارٹ اور چور بازاری کا رستہ استعمال کرتے ہیں۔

ہماری سیاسی پارٹیوں کو لے لیں۔سب کو حکومت میں اپنی باری کی اشد طلب ہے۔کوئی یہ نہیں سوچتا کہ الیکشن کے لئے قوم کا کتنا وقت اور پیسہ لگتا ہے۔حکومت او ر اپوزیشن، جتنا ٹائم اور پیسہ سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن کیسز پر لگاتی ہے،اتنا وقت اور پیسہ اگرعوامی خدمت پر لگا دیا جائے تو کتنا فائدہ ہو۔پاکستانی قوم کے لئے سستی اشیاء، روزگار، بجلی،پانی،گیس ،انصاف او ر سستہ پٹرول بہت ضروری ہے مگر دوسری طرف تمام اپوزیشن پارٹیوں کو کرسی اور پاور کی ضرورت ہے۔

میں نے سارے سرکاری دفتروں کو تقریباً اٹھارہ سالوں سے ایکسرے کیا ہے۔ہمارے دفتروں میں زیادہ تر اجارہ دار، جعلساز،منہ پھٹ اور دو نمبر قسم کے لوگوں اچھی پوسٹوں پر بیٹھے ہیں اور ان میں سے جو بہتر ہیں انہیں کسی عام ملازم کے لئے انصاف دینے یادلانے کا وقت ہی نہیں۔کئی پڑھے لکھے ،قابل اور بہترین ملازم اپنی ساری عمر بہترین پوسٹ یا پوزیشن کے حصول میں ہی گنوا بیٹھتے ہیں۔میں دوسروں کی مثال کیوں دوں ۔خود دو ماسٹر ڈگری ہولڈر ہونے کے باوجود گزیٹڈ آفیسر نہیں بن سکا اور نہ ہی کسی ٹی وی چینل کا اینکر پرسن بن سکا،اٹھارہ سال سے ہاتھ میں قلم اٹھا کر لکھنے والا میری طرح کا آدمی خود کو انصاف نہیں دلا سکا تو میرے ملک کے عام لوگوں کے ساتھ کتنی بھیانک سیاست اور ظلم کی داستانیں کس کو نظر آتی ہونگی۔کئی اچھے ملازمین دیکھے ہیں جن کو ہسپتال لیجانے کے لئے ایمبولینس تک دستیاب نہیں ہوتی اور وہ دفتر میں ہی اپنی جان سے گزر جاتے ہیں اور کئی ایسے آفیسر دیکھے ہیں جن پالتو کتے آرام دہ گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں۔ہم سب انسان،چاہے کوئی ڈاکٹر ہے،تاجر ہے،انجینئیر ہے،مستری ہے،دکاندار ہے،تاجر ہے،امام مسجد ہے،استاد ہے،طالبعلم ہے،ڈرائیور ہے یا سیاستدان سارے اپنے حقوق و فرائض سے بے خبر اور لاپرواہ ہیں۔

ایک دن ہم سارے اس مٹی میں مٹی بن کر ختم ہو جائیں گے۔اسی مٹی میں ہمارے نام نہاد سیاستدان،حکومت ،اپوزیشن،نام نہاد کرپٹ اور بے ایمان آفیسر اور ہماری طرح کے عام آدمی اس خاک میں اپنے اپنے اعمال لئے حساب کتاب دینے میں مصردف ہونگے ۔پھر پتہ چلے گا کہ کس نے دنیا میں کونسا دریا عبور کیا ہے اور کس کو آخرت کا سمندر عبور کرنا ہے۔ابھی بھی وقت ہے کہ ہم سارے ایمانداری اور دیانتداری سے ملک و قوم کی خدمت کریں۔دین اور دنیا کو ساتھ لیکر چلنا ہی کامیابی ہے۔ورنہ تو دین ہو یا دنیا ،یہ جہان ہو یا اگلا جہان ۔۔۔۔۔۔۔ہر کسی کو محنت کی ضرورت ہے۔
٭ ایک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mumtaz Amir Ranjha

Read More Articles by Mumtaz Amir Ranjha: 90 Articles with 39233 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Mar, 2017 Views: 392

Comments

آپ کی رائے