اگلی واردات

(مقصود حسنی, قصور)

انسان تو انسان بعض جانور بھی بڑے ڈھیٹ اور ضدی قسم کے ہوتے ہیں۔ کسی چیز سے لاکھ منع کرو‘ روکو‘ راکھی کرو لیکن وہ اپنی ہٹ پر رہتے ہیں۔ جب ہر حربہ ناکام ہو جاتا ہے تو ہی ایسوں کو ٹیرھے ہاتھوں لینا پڑتا ہے۔

بڑا ڈھیٹ اور ضدی قسم کا بلا تھا۔ ہر قسم کی کڑی روک کے باوجود داؤ لگا ہی لیتا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ بلے کی جان لے۔ اس جانور کو کچھ نہ کہنے کی مذہبی روک بھی موجود تھی۔ زیادہ سے زیادہ روئی کا بڑا مارا جا سکتا تھا۔ اب بھلا روئی کے بڑے سے اس پر کیا اثر ہوتا۔ گوشت جو کبھی کبھار آتا تھا‘ کسی ناکسی طرح منہ مار ہی جاتا۔ یہ ہی صورت دودھ کے ساتھ پیش تھی۔ ڈرایا بھی لیکن اس پر کوئی اثر نہ پڑا۔ بھاگ جانے کی بجائے تھوری دور جا کر لال لال آنکھیں نکالتا اور غفلت کے لمحے ڈھونڈتا۔

اس روز اس نے بلے سے نپٹنے کا پکا پکا ارادہ کر لیا۔ اس نے رضائی کی پوری روئی نکالی اور اس میں پانچ کلو کا بانٹ چھپا کر خوب باندھ کر اسے بڑے کی شکل دے دی۔ دودھ سرہانے رکھ دیا۔ دیر تک جاگتا رہا اور بلے کی تاڑ کرتا رہا لیکن بلے کی شاید ایک دن اور لکھی ہوئی تھی‘ انتظار کے باوجود وہ نہ آیا۔ اس نے من ہی من میں کہا‘ کوئی بات نہیں بچو‘ اگلی رات سہی‘ اب تم روئی کے بڑے سے نہ بچ پاؤ گے۔

بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ اگلی رات بلا بڑا ہی محتاط اور ادھر ادھر دیکھتا ہوا اس کے سرہانے پڑے دودھ کے کجے کی جانب بڑھا۔ وہ جاگ رہا تھا اور اس کی آنیاں کانی آنکھ سے دیکھ رہا تھا۔ جوں ہی بلا دودھ پینے میں مصروف ہوا اس نے تیار کیا ہوا وہ روئی کا بڑا اس کے سر پر مارا۔ بلا پاؤں پر ٹکی ہو گیا۔ پھر اس نے راتوں رات اسے روڑی پر پھینک دیا۔

صبح لوگوں نے مرے بلے کو روڑی پر دیکھ لیا۔ پھر کیا تھا پورے گاؤں میں خبر پھیل گئی۔ بات چھپی نہیں رہتی۔ بلے کے بےدردی سے قتل ہونے کی خبر امام مسجد صاحب کے پاس پہنچ گئی۔ جیدے مشٹںڈ کا نام سامنے آ گیا۔ دیگ پڑ جانی تھی۔ اس نے عقل مندی سے کام لیا اور حلوے کے ساتھ آوارہ ککڑ کا پکوان تیار کر لیا۔ دیگ اور روز کے نقصان سے یہ کہیں کم حاضری تھی۔

مولوی صاحب آ گئے۔ وہ سخت غصہ میں تھے۔ جیدے مشٹںڈ نے ان کا بڑے والہانہ انداز سے استقبال کیا۔ اس کے بعد نبو پانی کیا۔ وہ کچھ ٹھنڈے ہوئے۔ ابھی پوری طرح سے بیٹھے نہ تھے کہ تری سے بھرپور ہر دو پکوان ان کے سامنے چن دیے۔ پکون سے جب پیٹ کو کچھ آسرا ہوا۔ انہوں نے موقعہءواردات ملاحظہ فرمایا۔ روئی کا وہ بڑا بھی دیکھا۔۔ اس کے بعد انہوں نے کہا: بلا اپنی آئی سے مرا ہے‘ اسے مارا نہیں گیا۔ حکم کے مطابق محض روئی کا بڑا ہی مارا گیا تھا۔ بےشک بلے کو بڑا مارنا جرم نہ تھا۔ تاہم بڑے کا سائز اور وزن اگلی واردات کی حآضری تک التوا میں رکھ لیا گیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مقصود حسنی

Read More Articles by مقصود حسنی: 184 Articles with 116824 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Mar, 2017 Views: 484

Comments

آپ کی رائے