افضل البشر بعد الانبیاء۔۔۔۔۔سیدنا ابوبکر صدیق

(Tanveer Ahmed Awan, Islamabad)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تاریخ انسانی میں کچھ لوگ ایسے موجود ہیں کہ ان کا کردار ،اپنے مقصد ومشن میں فنائیت اور بے لوث پن ضرب مثل ہے ،اگر ان کی فہرست مرتب کی جائے تو انبیاء و رسل کے بعد حضرت ابوبکر عبداللہ بن ابوقحافہ عثمان بن عامر کا نام سب سے اوپر اور نمایاں ہوگا، آپ کی پیدائش 574 ؁ء عام الفیل سے تین سال بعد ہوئی۔آپ سلیم الفطرت اور پاکیزہ عادات کے مالک تھے،قبول اسلام سے پہلے قریش کے اشراف اور معززین میں آپ کا شمار ہوتا تھا،علم الانساب میں سب سے زیادہ ماہر تھے، فطرت سلیمہ کی وجہ سے لایعنی اور فضولیات سے ہمیشہ کنارہ کش رہتے تھے۔حضرت اماں عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ یقیناً ابوبکرؓ قریش میں ان کے انساب کا سب سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔(صحیح مسلم ۔کتاب فضائل صحابہؓ )

حضرت ابوبکرصدیقؓ کا امتیازی وصف مردوں میں سب سے پہلے قبول اسلام ہے،امام المغازی موسیٰ بن عقبہ ؒ فرماتے ہیں"سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے علاوہ تمام صحابہ میں کوئی ایسا نہیں جس کی مسلسل چار نسلیں شرف صحابیت سے بہرہ مند ہوئیں ،یہ شرف صرف اور صرف آل ابوبکر کو ہی حاصل ہے،وہ اس طرح کہ نواسے عبداللہ بن زبیرؓ اور ان کی والدہ اسماءؓ بنت ابوبکرؓ بن ابو قحافہؓ ،جب کہ پوتے محمدؓ بن عبدالرحمنؓ بن ابوبکرؓ بن ابوقحافہؓ تمام کے تمام شرف صحابیت حاصل کئے ہوئے تھے۔(طبرانی کبیر 54/1.مستدرک حاکم 475/3)آپ کے والد محترم فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائے۔(مسند احمد)

قبول اسلام کے بعد آپ نے چالیس ہزار درھم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کئے اور عرض کیا میں اور میرا سارا مال گویا آپ کی ملِک ہے جس طرح چاہیں استعمال فرما لیں۔اس رقم سے آپ نے ان سات مسلمانوں سیدنا بلالؓ ،سید نا عامر بن فہیرہؓ ،سیدہ زنیرہؓ ،سیدہ نہدیہؓ اور ان کی بیٹی ،سیدہ ام عبیسؓ ،اور بنومؤکل کی بچیوں میں سے ایک بچی کو آزاد کرایا ،جنہیں اسلام قبول کرنے کی وجہ سے اذیتیں دی جاتی تھیں،قرآن پاک میں آپ کے اخلاص کو احسن انداز میں بیان فرمایا،"اور عنقریب اس سے وہ بڑا پرہیز گار دور رکھا جائے گا ،جو اپنا مال دیتا ہے کہ پاک ہو جائے ۔۔۔۔مقصد صرف اللہ کی رضا مندی حاصل کرنا ہے۔(سورۃ اللیل ۔20)حضرت عمر فاروقؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ ابوبکر ہمارے سردار ہیں،اور ہم میں سب سے زیادہ بہتر ہیں،اور ہم سب میں رسو ل اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔(ترمذی۔ابواب المناقب3656.)

قبول اسلام کے بعد کفار کی شرانگیزیوں سے تنگ آکر ہجرت کا ادارہ کیا ،مکہ سے نکلے تھے کہ قبیلہ قارہ کے سردار ابن الدغنہ سے ملاقات ہوئی ،احوال معلوم ہونے پر اس نے آپ کی تعریف اور مقام و مرتبہ کو ان الفاظ میں بیان کیا کہ آپ جیسے لوگوں کو نکالا نہیں جاتا بلکہ آپ خود ان لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں،تم لوگوں کو وہ چیز مہیا کرتے ہو جو ان کے پاس نہیں ہوتی،تم صلہ رحمی کرتے ہو،لوگوں کے بوجھ اٹھاتے ہو،مہمان نوازی کرتے ہو اور جھگڑوں میں حق کی مدد کرتے ہو۔(الصحیح البخاری)

آپؓ نے جب ہجرت مدینہ کاارادہ فرمایا ،نبی کریم ﷺ نے حکم فرمایا کہ آپ ٹھہر جائیں ! امید ہے کہ مجھے بھی ہجرت کی اجازت مل جائے گی۔آپ ﷺ ایک دن حضرت ابوبکرصدیقؓ کے گھر آکر فرمایا مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے،اور آپ کو اپنی معیت میں لے کرسفر ہجرت شروع کیا، غار ثور کے تین دن قیام کے دوران آپ کے بیٹے عبداللہؓ اور غلام عامر بن فہیرہؓنے بہت خدمت کی۔ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ ہجرت کے سفر کے دوران راستہ میں کوئی حضرت ابوبکرؓ سے کوئی ملتا اور پوچھتا ، اے ابوبکر !یہ تمھارے ساتھ کون ہے؟ آپ جواب دیتے ،یہ میرے ہادی ہیں جو مجھے راستہ بتاتے ہیں۔ اس جواب سے پوچھنے والا یہ سمجھتا کہ راستہ بتلانے والا ہے اور آپ کا مطلب اس کلام سے یہ تھا کہ آپ ﷺ خیر کا راستہ بتلاتے ہیں۔جب مدینہ پہنچے تو تقریباً 500انصار نے آپ کا شاندار استقبا ل کیا،ان کی زبانوں پر یہ جملہ تھا،"آپ دونوں بے خوف و خطر تشریف لائیں ،آپ کی اطاعت کی جائے گی"۔ )مسنداحمد 3473)

غزوات و سرایا میں آپ کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا،آپ نے غزوہ تبوک کے موقع پر ایثار و قربانی کی لازوال تاریخ رقم فرمائی ،لشکر اسلام کے لیے اپنے لباس سمیت گھر کا سارا مال وقف فرما دیا اور عرض کیا ،اے اللہ کے رسول ! گھر والوں کے لیے میں اللہ او ر اس کے رسول کو باقی چھوڑا ہے۔(جامع ترمذی)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو ارشاد فرمایاتم غار میں میرے ساتھی تھے اور آخرت میں حوض کوثر پر بھی میرے ساتھی ہوگے۔(جامع ترمذی)آپ کو یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں حج الوداع سے پہلے سال حج کی امارت کے فرائض سرانجام دئیے اور اسی موقع پر مشرکین پر دائمی پابندی لگا دی گئی کہ وہ برہنہ طواف بیت اللہ اور حج نہیں کرسکیں گے۔نبی کریم ﷺ نے اپنے مصلے پر نماز پڑھانے کا حکم بھی آپ کے لیے دیا ۔(الصحیح البخاری) آپ نے سترہ نمازیں آپ کی موجودگی میں صحابہ کرامؓ کو مصلیٰ رسول پر کھڑے ہوکر پڑھائیں۔حضرت اماں عائشہ صدیقہؓ روایت فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی قوم کے لیے جس میں ابوبکرؓ موجود ہوں ،درست اور مناسب نہیں کہ ابوبکر کے سوا کوئی دوسر اشخص ان کا امام ہو۔(جامع ترمذی)

وصالِ نبوی ﷺ کی مشکل ترین گھڑی میں امت کو سہارا دیا ،صحابہ کرام نے اتفاق رائے سے آپ کو مسلمانوں کا خلیفہ چنا ،خلیفۃ الرسول کی حیثیت سے آپ پر بہت زیادہ ذمہ داریاں آ پڑیں،نبی پاک ﷺ کی تدفین،خلیفہ کا چناو،لشکر اسامہ کی روانگی ،منکرین زکوٰۃ کی سرکوبی، مدعیان نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کا قلع قمع سمیت مختلف فتنوں اور خطرات سے انتہائی جوانمردی سے نبرد آزما ہوئے،امور خلافت کو خوش اسلوبی سے چلایا ، قرآن پاک کے مختلف اجزاء کو یکجا کرنے کی ذمہ داری حضرت سیدنازیدبن ثابتؓ سپرد کی،خلافت کو بہت زیادہ مضبوط کیا ،جس کا اثر دور فاروقی میں عظیم فتوحات کی صورت میں ظاہر ہوا۔سیدنا ابوبکر صدیقؓ 63سا ل کی عمر میں 22جمادی الثانی 13 ؁ھ کو دارالبقاء کی طرف انتقال کرگئے،اور حجرہ اماں عائشہ صدیقہؓ میں نبی پاک ﷺ کے پہلو میں آپ کو جگہ عطا ہوئی ، جہاں آج بھی آپ محو استراحت ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 137443 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
23 Mar, 2017 Views: 420

Comments

آپ کی رائے