مسلمہ اوّل،محسنہ اسلام ام المومنین سیدۃ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

(Mehboob Hassan, Faisalabad)
نبی شوہر،علی داماد،دختر فاطمہ زہراؓ خدیجہ تم کہو،ہم تو اسے اسلام کہتے ہیں
حضرت خدیجہؓ کائنات کی وہ عظیم خاتون ہیں کہ جن کے شوہر سید عالمین تاجدار انبیاء محبوب خدا حضرت محمد مصطفیﷺ ہیں آپؓکی بیٹی حضرت فاطمۃ زہرا سلام اللہ علیہا خاتونِ جنت، آپؓ کے داماد اسد اللہ حضرت علیؓ اور آپؓ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اور حسنین کریمینؓ کی نانی جان ہیں۔آپؓ مکہ کی مالدار خاتون تھیں لیکن آپؓ نے اپنی ساری دولت اسلام کی تبلیغ واشاعت اور سربلندی کیلئے صرف کر دی اسلام کی ترقی کیلئے جنابِ خدیجہؓ کی دولت بہت کام آئی اسی واسطے سید عالمینﷺ نے ارشاد فرمایا:جتنا فائدہ مالِ خدیجہؓ نے مجھے پہنچایا،اتنا فائدہ مجھے کسی اور مال نے نہیں ہر گز نہیں پہنچایا۔

نبی شوہر،علی داماد،دختر فاطمہ زہراؓ خدیجہ تم کہو،ہم تو اسے اسلام کہتے ہیں
حضرت خدیجہؓ کائنات کی وہ عظیم خاتون ہیں کہ جن کے شوہر سید عالمین تاجدار انبیاء محبوب خدا حضرت محمد مصطفیﷺ ہیں آپؓکی بیٹی حضرت فاطمۃ زہرا سلام اللہ علیہا خاتونِ جنت، آپؓ کے داماد اسد اللہ حضرت علیؓ اور آپؓ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اور حسنین کریمینؓ کی نانی جان ہیں۔آپؓ مکہ کی مالدار خاتون تھیں لیکن آپؓ نے اپنی ساری دولت اسلام کی تبلیغ واشاعت اور سربلندی کیلئے صرف کر دی اسلام کی ترقی کیلئے جنابِ خدیجہؓ کی دولت بہت کام آئی اسی واسطے سید عالمینﷺ نے ارشاد فرمایا:جتنا فائدہ مالِ خدیجہؓ نے مجھے پہنچایا،اتنا فائدہ مجھے کسی اور مال نے نہیں ہر گز نہیں پہنچایا۔
آپؓ کائنات کی وہ عظیم خاتون ہیں جن کی زندگی کے جس گوشہ میں بھی جھانکیں ،وہ کامل واکمل نظر آتی ہیں اور انسانیت کی اقدار کی پاسبان دکھائی دیتی ہیں۔آپؓ کی سیرت طیبہ سے بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہِ ہدایت مل سکتی ہے۔آپؓ نے زندگی کے ہر پہلو میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ربِ کریم نے آپ کو اپنے خصوصی الطاف سے نوازا ہے اور خالقِ کائنات کا آپ پر خصوصی کرم ہے۔آپؓ کی عظمت و رفعت اور کمالات و جمالات کو حیط�ۂتحریر میں لانے سے قلم عاجز وناتواں ہیں کہ جن کی سیرت اور پاکیزگی کی گواہی خود عملِ رسول مقبولﷺ ہے۔ آپؓ جب تک زندہ رہیں ،سیدعالمینﷺ کو آپؓ سے اتنا سکون نصیب ہوا کہ آپؓ کے ہوتے ہوئے آپﷺ نے دوسری شادی نہیں کی۔
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہاکا نام ’ خدیجہ‘کنیت ’ام ہند‘ اور لقب ’طاہرہ‘تھا۔آپؓ سیدعالمینﷺ کی سب سے پہلی زوجہ مطہرہ ہیں۔ آپؓ کا تعلق قریش کے ایک ممتاز خاندان بنو اسد بن عبدالعزیٰ بن قصیٰ سے تھا۔اس طرح نسب اور شرف کے لحاظ سے آپؓ نہایت ہی بلند پایہ خاتون تھیں۔آپؓ کو اہلِ مکہ نے آپؓ کے شرف اور اعلیٰ مقام کی بدولت ’سیدۃ نساء قریش‘کا لقب دیا ہواتھا۔قصی پر جا کر اللہ کے رسولﷺ اور سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا نسب آپس میں مل جاتا ہے۔
ٓآپؓ کی والدہ ماجدہ کا نام فاطمہ بنت زاہدہ تھا جو خاندان عامر بن لوی سے تعلق رکھتی تھیں۔آپ کے والدِ گرامی کا نام خویلد بن اسد تھا جن کا شمار مکہ کے معروف اور دیانتدار تاجروں میں ہوتا تھا۔چونکہ آپ اپنے قبیلے میں دیانتداری اور خوش معاملگی کے باعث معزز اور محترم تھے
اسلئے قریش آپ کو عزیز رکھتے تھے۔آپؓ کی ولادت عام الفیل سے پندرہ برس پہلے مکہ مکرمہ میں ہوئی۔آپؓ جس ماحول میں پیدا ہوئیں ، ہوش سنبھالا،پلی بڑھیں اور جوان ہوئیں ،وہ معاشرہ کفر وشرک سے بھرا پڑا تھا،بچیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا اسکے علاوہ بہت سی برائیاں تھیں۔مگر آپؓ بچپن سے ہی نہایت نیک اور شریف الطبع تھیں ہر قسم کی برائیوں سے دور تھیں اور آپؓ قبل از اسلام بھی نیک فطرت تھیں اور مشرکین اور ان کے خداؤں سے کوئی ہمدردی نہ رکھتی تھیں۔آپؓ ہر لحاظ سے کامل اور اکمل خاتون تھیں،یعنی نسب کے اعتبار سے،شرافت کے اعتبار سے،اخلاق کے لحاظ سے ،کردار کے اعتبار سے ،مال ودولت، نجابت وسیادت اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی میں وہ اپنے دور کی یکتا شخصیت تھیں آپؓ کو قبل ازاسلام سے ہی ’طاہرہ ‘کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔
سیدہ خدیجہ سلام اللہ علیہا کے چچا کے بیٹے ورقہ بن نوفل جو ایک بہت بڑے مسیحی عالم اور دانشمند تھے اور آسمانی کتابوں اور ان میں درج نبی آخرالزمانﷺ کے ظہور کی بشارتوں سے آگاہ تھے اسکے علاوہ سیدہ خدیجہؓ ظہور اسلام پرمکمل ایمان رکھتی تھیں اور اس پر بھی ان کا ایمان تھا کہ وہ نبی مکہ مکرمہ میں ظہور کریں گے اور پوری دنیا میں آفتاب بن کر چمکیں گے۔عام الفیل سے تقریباً بیس سال بعد حرب الفجار میں سیدہ خدیجہؓ کے والد گرامی کی وفات کے بعد آپؓ کے چچا ہی آپؓ کے سرپرست اور ولی تھے،آپؓ نے اپنے والد کا تمام کاروبار بحسن وخوبی سنبھال لیا جو شام سے یمن تک پھیلا ہواتھا۔آپؓ اپنے اعزہ کو معاوضہ دے کر مالِ تجارت بھیجا کرتی تھیں آپؓ کو اپنے ترقی کرتے ہوئے کاروبار کیلئے ایسے ذہین اور دیانتدار شخص کی ضرورت تھی جو کاروبار کی نگرانی کر سکے۔اسی دوران سید عالمینﷺ کے حسن معاملت،بلند اخلاق،پاکیزہ صفات وکردار کاچرچا آپ تک پہنچا ۔حضورﷺ صادق اور امین کے القاب سے یاد کئے جاتے تھے چنانچہ سیدہ خدیجہ سلام اللہ علیہا نے حضورﷺ کو اپنا سامانِ تجارت شام لیجانے کی پیشکش کی جسے سرور کائناتﷺ نے قبول کر لیا اور مالِ تجارت لے کر بصرہ گئے۔ حضرت خدیجہؓ نے اپنا ایک خاص غلام میسرہ بھی ساتھ کر دیا تھا ۔جب اللہ کے رسولﷺ بصرہ پہنچے تو ایک درخت کے سائے میں فروکش ہوئے ،وہاں قریب ہی نسطورا نامی ایک راہب رہتا تھا اس نے آپﷺ کی طرف دیکھا تو کہا کہ اس درخت کے نیچے آج تک نبی کے سوا کوئی شخص نہیں ٹھہرا ،پھر اس نے میسرہ سے پوچھا کہ کیا ان کی آنکھوں میں سرخ ڈورے ہیں؟میسرہ نے کہا کہ جی ہاں!یہ تو ہر وقت آپﷺ کی آنکھوں میں رہتے ہی ہیں۔وہ کہنے لگا کہ یاد رکھو!یہ نبی ہیں ،آخری نبی۔میسرہ دیکھتا تھا کہ سخت دھوپ میں ملائکہ آپﷺ کے سر پر سایہ کئے رہتے ہیں۔ایک روایت میں ہے کہ جب آپﷺعین دوپہر کے وقت واپس مکہ پہنچے تو سیدہ خدیجہؓ نے یہ منظر خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔حضورﷺ کی دیانتداری کے سبب تجارت میں ہر سال کی نسبت دگنا اضافہ ہوا۔جب قافلہ واپس آیا تو حضرت خدیجہؓ کے غلام میسرہ نے سفر کی ساری تفصیل بتائی اور حضورﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کی بے حد تعریف کی۔
سیدہ خدیجہؓ نے اپنے چچازاد ورقہ بن نوفل سے نسطورا راہب کا انکشاف بیان کیا جو میسرہ نے اس سے سنا تھا کہ اس درخت کے نیچے نبی کے علاوہ کبھی کوئی شخص نہیں ٹھہرا اور ان سے فرشتوں کے سایہ کرنے کا بھی ذکر کیا تو ورقہ بن نوفل کہنے لگے کہ خدیجہ !اگر یہ باتیں سچی ہیں تو محمد ﷺاس امت کے نبی ہوں گے۔مجھے یہ بھی علم ہے کہ اس امت میں ایک نبی آنے والا ہے جس کا انتظار ہو رہا ہے اب اس نبی کا زمانہ آچکا ہے۔
میسرہ سے یہ باتیں سن کر اور ورقہ کی تصدیق وتائید سے سیدہ خدیجہؓ کے دل میں آپﷺ کے حسنِ اخلاق اور عظمت وجلالت کا یقین پختہ ہو گیا انہوں نے آپﷺ سے شادی کا قطعی فیصلہ کر لیا ،چنانچہ سفرِ شام سے واپسی کے تین ماہ بعد انہوں نے اپنی سہیلی نفیسہ کو اس پیشکش کا پیام دے کر آپﷺ کے ہاں بھیجا رسول اللہﷺ بھی راضی ہو گئے،پھر آپﷺ اپنے چچا اور خاندان کے دیگر بڑوں کے ساتھ حضرت خدیجہؓ کے مکان (پر) پہنچے جہاں حضرت خدیجہؓ کے خاندان کے بزرگ اور چچا عمروبن اسد موجود تھے۔حضرت ابوطالب نے خطبہ نکاح پڑھا اور عمر بن اسد کے مشورے سے بیس اونٹ اور بعض روایات کے مطابق پانچ سو درہم حق مہر قرار پایا اور یوں۱۰ ربیع الاول بعثت نبوی ﷺسے پندرہ سال قبل حضرت خدیجہؓ اور حضرت محمد مصطفیﷺ کی مبارک شادی انجام پائی اور یوں حضرت خدیجہؓ ام المومنین بن گئیں۔ نکاح کے وقت سیدہ خدیجہؓ کی عمر چالیس سال اور حضورﷺ کی پچیس سال تھی۔خوشی کے اس موقع پر عبداللہ بن غنم نے،جو اہلِ قریش سے تھا،درج ذیل اشعار پڑھے:
’اے خدیجہؓ!تمہیں مبارک ہوکہ تمہاری قسمت کا پرندہ عظیم سعادت اور خوش بختی کی طرف محوِ پرواز ہے۔
کیونکہ تم نے خیر البریہ یعنی سب انسانوں سے اچھے انسان سے شادی کی ہے اور پوری انسانیت میں کون حضرت محمد مصطفیﷺ کے مثل ہے ؟
اللہ کے دونبیوں نے یعنی عیسیٰ(علیہ السلام)اور موسیٰ(علیہ السلام)نے حضرت محمدﷺ کے آنے کی خوشخبری دی ہے اور وقتِ وعدہ اب قریب ہے۔
گزرے ہوئے زمانے میں بزرگوں نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ سرزمین بطحا پر ایک پیغمبر ظہور کرے گا جو مکمل رہنما اور ہدایت شدہ ہو گا۔‘
حضرت خدیجہؓ کو آپﷺ سے نکاح کی اتنی خوشی ہوئی کہ تمام غلام آزاد کر دئیے تاکہ یہ شادی ان کیلئے یادگار بن جائے اور وہ ساری زندگی خوش ہوتے اوردعائیں دیتے رہیں،اپنی کنیزوں کو حکم دیا کہ دف بجابجا کر خوب اظہار مسرت کریں۔آپؓ نے سرکارﷺ کے قرب کی دولت سرمدی پاکر اپنی ساری دولت آپﷺ کے قدموں میں ڈھیر کر دی اور عرض کی:’میرے آقاﷺ!آپ اسکے مالک ہیں جس طرح چاہیں تصرف فرمائیں میرا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہو گا‘،چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ یہی مال بعثت کے بعد نصرت اسلام کا سبب بنا اور حضورﷺمعاشی فکر سے آزاد ہو کر دعوت دین کا فریضہ کماحقہ نبھاتے رہے۔نکاح کے بعد سیدعالمین ﷺ نے دعوتِ ولیمہ کا اہتمام فرمایا جس میں ایک روایت کے مطابق ایک اونٹنی اور بعض دیگر روایات کی رو سے دو اونٹنیوں کے ذبیح سے احباب و اقرباء کی ضیافت کا سامان کیا گیا۔
سیدہ خدیجہؓ سے نکاح کے بعد حضورﷺ اپنی رفیقہ حیات کو اپنے چچا حضرت ابوطالب کے گھر جہاں آپ اب تک مقیم تھے،لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مبارک وفرخندہ شادی کی پہلی رات اسی گھر میں بسر کی لیکن بعد میں آپﷺ نے سیدہ خدیجہؓ کے مشورے سے ایک علیحدہ گھر میں سکونت اختیار کر لی(کیونکہ آپﷺ کو اپنے چچا کا آرام عزیز تھا)۔یہاں ایک انتہائی توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ ہرچند آپﷺ کے اپنے چچا کے ساتھ تعلقات حددرجہ شفقت ومحبت کے آئینہ دار تھے ،آپﷺنے اپنی محبوب رفیقہ حیات کےازدواجی حقوق کو مقدم رکھا اور شادی کے بعد ایک علیحدہ زندگی کا آغاز کیا،حضورﷺ کی حیاتِ طیبہ کے اس پہلو میں ان والدین کیلئے سبق ہے جو اپنے بیٹے کی شادی کے بعد اس سے خواہی نخواہی یہ توقع وابستہ کر لیتے ہیں کہ وہ اپنی ازدواجی زندگی ان کے ہاں گزار دے گا خواہ انکی بہو کی مرضی اس میں شامل ہو یا نہ ہو۔اس سلسلے میں ان کی بے جا ضد کے اثرات بالکل خوشگوار نہیں ہوتے اور پرسکون ازدواجی زندگی میں تلخیوں کو باعث بنتے ہیں۔چنانچہ حضورﷺ کے اسوۂ مبارکہ کا یہ تعلیماتی پہلو ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے کہ اگر عورت شادی کے بعد علیحدہ زندگی کا آغاز کرنے کی خواہشمند ہو تو والدین کو اپنی اولاد کی خوشیوں کی خاطر اسے انا اور جھوٹی عزت ووقار کا مسئلہ نہیں بنا چاہیے اور انہیں اپنی بعدازشادی زندگی کو خوش آئند بنانے کیلئے علیحدہ سکونت اختیار کرنے کی اجازت بطیب خاطر دے دینی چاہئے تاکہ کشیدہ تعلقات سے بچا جائے جن کا اکثر نتیجہ قطع رحمی ہوتا ہے۔آنحضرتﷺ کی پیروی کی ایک ممکنہ قابلِ عمل صورت یہ بھی نکل سکتی ہے کہ اگر ایک مکان کی وسعت اس امر کی اجازت دے تو والدین اور شادی شدہ جوڑے علیحدہ علیحدہ رہائشی یونٹ قائم کر کے ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں۔
جنابِ رسولِ اکرمﷺ بعثت سے پہلے آپﷺ اپنے ساتھ ستو،کھجوریں اور کھانے پینے کا دوسرا سامان لے جاکرآپﷺکئی کئی دن تک مکہ سے تقریباً تین میل دور ابوقبیس پہاڑ پر واقع غار حرا میں معتکف ہو کر ذکر وفکر اور مراقبے میں مشغول رہتے اور وہ اللہ کی عظمت وبزرگی ، خلقتِ انسان اور کائنات پر غوروفکر کرتے ہوئے اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہتے ۔بعض اوقات سیدہ خدیجہؓ بھی آپﷺ کے ساتھ ہوتیں اور قریب ہی کسی جگہ پر بیٹھ جاتیں ۔آپﷺ وہاں پر عبادت کرتے ۔کائنات کے مشاہد اور اسکے پیچھے کار فرما قدرت نادرہ پر غور فرماتے ،آنے جانے والے مسکینوں کو کھانا کھلاتے اور جب زاد ختم ہو جاتا تو آپﷺ واپس گھر تشریف لے جاتے۔دور بعثت سے قرب کا زمانہ وہ تھا جب حضورﷺ کو ہنگاموں سے نفرت ہونے لگی اورآپﷺ کے دل میں ویرانوں اور خلوت کدوں کی محبت و رغبت بڑھنے لگی شرک اور کفروالحاد سے بیزاری ابتداء ہی سے تھی اور اہلِ نظر پہلے ہی تاڑ چکے تھے کہ بڑا ہو کر یہ جوانِ رعنا کسی ایسے نظام کی بنیاد رکھے گا جو صدیوں سے قائم کفروشرک پر مبنی نظام کو زمین بوس کر دے گا ۔انجام کار وہ ساعتِ سعید آگئی جب غار حرا میں خالقِ حقیقی کی طرف سے اپنے محبوب کے نام پہلا پیغام آیا اور حضرت روح الامین(حضرت جبریل ؑ )بارگاہِ حق سے سورۃ علق کی پہلی پانچ آیات لے کر آئے جن کا آغاز اس طرح ہوا:(اے محمدﷺ!)آپ پڑھئے اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔بارگاہ ایزدی سے اس کا پیغام آنا تھا کہ حضورﷺ پر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی ۔پسینے سے تر بہ تر ہو گئے ،کپکپی سے جسمِ اطہر بخار کی سی کیفیت میں مبتلا ہو گیا اور آپﷺ اس کیفیت میں حضرت خدیجہؓ کے پاس تشریف لائے اور لرزتی ہوئی آواز سے فرمایا کہ’مجھے کمبل اوڑھا دو مجھے کمبل اوڑھا دو‘،تھوڑی دیر بعد جب ہیجانی اثرات زائل ہو گئے تو حضورﷺ نے اہلیہ محترمہ کو ان کیفیات سے آگاہ فرمایا جو آپﷺ پر غار حرا کے واقعہ کے بعد طاری ہوئیں ۔یہاں یہ بات ملحوظِ خاطر رہے کہ پہلا پیغام حق موصول ہونے پر کپکپی کا طاری ہو جانا اور پسینے چھوٹ جانا کسی گھبراہٹ کی وجہ سے نہ تھا اور یہ بات بھی نہیں تھی کہ آپﷺ اس امر سے بے خبرتھے کہ مستقبل میں آپﷺ کے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ پورے چالیس سال تک آپﷺ کے جسمانی احوال وعوارض بشری زندگی کے خوگر ہو چکے تھے اور آپﷺ پر اس کیفیت کا طاری ہو جانا عین تقاضائے فطرت تھا۔اسکی ایک توجہیہ یوں کی جاسکتی ہے کہ لاہوتی و نوری عالم سے تعلق منقطع ہوئے چالیس برس بیتچکے تھے ۔ بطنِ آمنہؓ رضی اللہ عنہا سے عالمِ بشریت میں ہویدا ہونے کے بعد اس طویل عرصے میں آپﷺ طبعی طور پر دنیاوی احوال و معاملات کے عادی و خوگر تھے ۔بارگاہ الوہیت سے جبرایل ؑ کے یکایک پیغام لے کر آنے سے اس خلافِ معمول کیفیت کا پیدا ہونا فطری امر تھا۔
حضرت خدیجہؓ نے جب حضورﷺ کی زبانِ اقدس سے غارِ حرا میں پیش آنے والے احوال سنے توروایات میں ہے کہ وہ بے اختیار آپﷺ سے لپٹ گئیں ۔اللہ اللہ!وہ کیا کیف آفریں منظر ہو گا!جب حضرت خدیجہؓ حضورﷺ کو اپنے ہاتھوں کے ہالے میں لئے ہوں گی۔انہوں نے آپﷺ کو تسلی دی اور ڈھارس بندھائی اور حضورﷺ سے کہاکہ یقین رکھئے ! آپ کا رب کبھی آپ ﷺ کو بے یارو مددگار(تنہا)نہیں چھوڑے گا اسلئے کہ میں نے جب سے آپ کو دیکھا ہے آپ یتیموں ،مسکینوں،بے نواؤں اور دکھی انسانوں کی خدمت کر رہے ہیں اور آپ بے سہاروں کو سہارا اور غمخوار وبہی خواہ ہیں۔اسلئے مجھے پختہ یقین ہے کہ (اللہ کی قسم!)اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔آپؓ آپﷺ کو اپنے چچا زاد ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو عبرانی زبان کے عالم تھے۔رسولﷺ نے جب ان سے غار حرا میں پیش آنے والا واقع بیان کیا تو ورقہ پکار اٹھے کہ یہ تو وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ کے پاس آیا کرتا تھا کاش میں قوی ہوتا اور اس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی اسلئے کہ جو بھی آپﷺ جیسا پیغام لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی اور اسے تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔اگر مجھے آپ کی نبوت کے اعلان کا دن دیکھنا نصیب ہوا تو میں آپ کی بھرپور مدد کروں گا اور ساتھ دوں گا۔
اعلانِ نبوت اور اسلام کا سورج طلوع ہونے سے پہلے حضرت خدیجہؓ کا عقیدہ اور ایمان وہی تھا جو اعلانِ نبوت کے بعد تھا اور وہ شروع سے ہی آپﷺ کی مددونصرت کرتی چلی آرہی تھیں۔جنابِ خدیجہؓ آپﷺ کے مقام ومنزلت کی معرفت رکھتی تھیں۔سیدہ خدیجہؓ نے آپﷺ کو نبوت ملنے کی پیش گوئی کر دی تھی ایسے کہ جب آپﷺ نے آپؓ کو بتایا کہ میرا سینہ مبارک چیرا گیا ہے اور صفائی سے دھو کر پھر بند کر دیا گیا ہے تو آپ رضی اللہ عنہا (فرط مسرت سے)کہنے لگیں کہ خوش ہوجائیے ،واللہ!یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ آپ کو نبوت ملنے والی ہے۔آپﷺ کی نبوت کے بارے میں سب سے پہلے انہی کو علم ہوا اور آپؓ نے ہی سب سے پہلے آپﷺ کی رسالت کی تصدیق کی اور آپؓ ہی سب سے پہلے اسلام لانے والی شخصیت ہیں جیسے ہی آپؓ نے اسلام قبول کیا آپؓ کی چاروں بیٹیوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔
اعلانِ نبوت کے بعد آپﷺ نے اپنے آپ کو ہر وقت دعوت وتبلیغِ دین کیلئے وقف کر دیا اور آپ ﷺ کیلئے تجارتی مشاغل جاری رکھنا ممکن نہ رہا۔آپﷺ کی زندگی کا لمحہ لمحہ پیغام توحید کو دوردراز علاقوں تک پھیلانے میں صرف ہونے لگا۔اس بت پرست معاشرہ میں آپﷺ کا کلمہ حق بلند کرنے کی دیر تھی کہ ہر طرف سے مخالفتوں اور مزاحمتوں کاطوفان سر اٹھانے لگا اور آپﷺ پر مصائب وآلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑے لیکن آپﷺ نے سخت نامساعد حالات کے باوجود اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو شدومد سے جاری رکھااور کوئی بڑی سے بڑی مخالفت اور عداوت بھی آپﷺ کو راہِ حق پر آگے بڑھنے سے بازنہ رکھ سکی۔مخالفت ومزاحمت کی ان آندھیوں میں صرف دوہستیوں نے کھل کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ دیا وہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا اور حضورﷺ کے چچا حضرت ابو طالب تھے جو معاندینِ اسلام اور
حضورﷺ کے درمیان چٹان کی طرح کھڑے ہو گئے اور خون کے پیاسے دشمنوں سے آپ کو کوئی گزند نہ پہنچنے دیا۔ان دونوں ہستیوں کی موجودگی میں کسی کی مجال نہ تھی کہ حضورﷺ کا بال بیکا بھی کر سکتا۔
حضرت خدیجہؓ نے حضورﷺ کی رفاقت اور جاں نثاری کا حق ادا کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ،تبلیغ حق کی خاطر تمام عمر مسائل کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ جب سارے مکہ والے آپﷺ کی تکذیب کر رہے تھے تب اکیلی سیدہ خدیجہؓ آپﷺ کی تصدیق کر رہی تھیں۔ جب آقاﷺ زخم کھا کر اس حال میں گھر تشریف لاتے کہ جسم پتھروں سے لہولہان ہو چکا ہوتا اور پاؤں زخمی ہو چکے ہوتے تو سیدہ خدیجہؓ آپﷺ کے زخموں پر مرحم رکھتیں اور آپﷺ کو تسلی دیتیں۔وہ آپﷺ کے قدموں میں بیٹھ جاتیں اور اپنے آقا کے چہرے سے گردوغبار صاف کرتیں آپﷺ کا کرتہ اٹھاتیں اور زخموں پر اپنا دوپٹہ پھاڑ کر رکھتیں۔مبارک زخمی قدموں کو پانی سے دھوتیں اور کہتیں: ’ میرے آقا!میرے سرتاج!میرا رب آپ کے ساتھ ہے جس کے ساتھ اللہ ہوتا ہے دنیا کی کوئی طاقت اسے پسپا نہیں کر سکتی‘۔جب گھر میں اہلیہ اتنا ساتھ دیتی اتنے اچھے انداز میں دلاسہ دیتی تو پھر آپﷺ اٹھتے اور اس آیتِ کریمہ پر عمل شروع کر دیتے:’آپ کو جو حکم ملا ہے اس کو کھول کر بیان کر دیجئے اور مشرکین سے رخ پھیر لیجئے‘۔
ابولہب بھی کسی سے کم نہ تھا وہ دروازے پر گندگی ڈال دیتا ۔سیدہ خدیجہؓ ،ان کی بیٹیاں اور گھر کے خادم اس گندگی کو اٹھاتے اور نبی پاکﷺ صرف اتنا کہتے :اے بنو عبد المطلب!یہ کیسی ہمسائیگی ہے؟(ابولہب کا گھر سیدہ خدیجہؓکے گھر کے ساتھ ہی تھا)۔شعیب ابی طالب کا محاصرہ بھی تاریخ کا ایک عجیب واقع ہے۔جب دشمنانِ اسلام نے دیکھا کہ ظلم اور مخالفت کی آندھیاں حق پرستوں کے قدم نہیں ڈگمگا سکیں اور حضورﷺکا مشن ان کی تمام سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے باوجود پھیلتا ہی جارہا ہے تو انہوں نے حضورﷺ اور آپﷺ کے خاندان کا معاشی بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ۔تمام اہلِ قریش اور کفارومشرکین متحد ہو کر اس بات پر تل گئے کہ محمد(ﷺ)کو تبلیغ و دعوت اسلام سے باز رکھنے کیلئے بنو ہاشم سے ہر قسم کے معاشی اور معاشرتی تعلقات منقطع کر دئیے جائیں اور ان سے کوئی لین دین نہ رکھا جائے۔چنانچہ نازک ترین حالات اور سنگین ترین خطرات میں جب سرزمین مکہ کا ذرہ ذرہ آپﷺ کے خون کا پیاسا تھا تب بھی سیدہ خدیجہؓ آپﷺ کے ہمراہ تھیںآپ کی عمرِ مبارک اس وقت ساٹھ سال سے زائد تھی۔ذرا تصور کیجئے ایک ایسی خاتون جس نے اپنا بچپن اور جوانی نہایت ٹھاٹھ باٹھ سے گزارا ہو اور جن کا شمار مکہ کے مالدار افراد میں ہویعنی جن کا مالِ تجارت پورے مکہ کے تاجروں پر بھاری ہوتا تھا اور وہ متعدد لوگوں کو شراکت اور مضاربت پر اپنا مال دیا کرتی تھیں،جن کو سیدہ نساء قریش کا لقب ملا تھاوہ حضورﷺ،حضرت ابوطالب،حضرت علیؓ اور خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ اس گھاٹی میں حفاظت کیلئے محصور ہو گئے جسے شعب ابی طالب سے موسوم کیا جاتا ہے۔اس دوران جنابِ خدیجہؓ کی تمام دولت اور حضرت ابوطالب کا تمام سرمایہ خرچ ہوتا رہا۔اس گھاٹی میں جو ایک طرح کا قید خانہ تھا آپ اور آپ کے خاندان نے تین سال ناقابلِ بیان مصائب ،صعوبتوں اور تکلیفوں کے جلو میں بسر کئے۔جب تین سال بعد یہ مقاطعہ ختم ہوا اور قید وبند کی صعوبتوں سے رہائی نصیب ہوئی تو بیماری،ضعف وکمزوری کے عالم میں حضرت خدیجۃالکبری سلام اللہ علیہا کا انتقال ہو گیا اور اسی سال حضرت ابوطالب بھی اللہ کو پیارے ہو گئے اس دوہرے صدمے کی بنا پر جو سید عالمینﷺ کو ایک ہی سال میں اٹھانا پڑے اس سال کو ’عام الحزن‘یعنی غم کاسال کہا جاتا ہے۔شعب ابی طالب کے بعد کچھ عرصہ تک آپؓ حیات رہیں آخرکار۱۱رمضان ۱۰ نبوی کو انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا اور مکہ مکرمہ کے بالائی حصہ میں دامن کوہ حجون میں واقع قبرستان(جنت المعلیٰ)میں آپ ؓ کو سپردخاک کیا گیااس وقت آپؓ کی عمرمبارک پینسٹھ برس تھی۔حضورﷺنے اپنی رفیقہ حیات کو خوداپنے مبارک ہاتھوں سے قبر میں اتارا اور دعائے مغفرت بھی فرمائی۔ان کے بھتیجے حکیم بن حزام بھی تدفین میں شریک تھے۔
حضورﷺ اپنی عظیم زوجہ کی وفات کے بعد بھی انہیں بہت یاد کرتے تھے اوران کی بے حد تعریف کرتے تھے آپﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم!مجھے خدیجہؓ سے اچھی بیوی نہیں ملی وہ اس وقت ایمان لائیں جب سب لوگ کافر تھے انہوں نے اس وقت میری نبوت کی تصدیق کی جب سب نے مجھے جھٹلایا،انہوں نے اپنا مال وزر اس زمانے میں مجھ پر قربان کر دیا جب دوسروں نے مجھے محروم رکھا اور اللہ نے ان کے بطن سے مجھے اولاد دی۔حضورﷺ کے تمام صاحبزادے اور صاحبزادیاں سوائے ابراہیمؓ کے حضرت خدیجہؓ سے تھے ان سب کے نام درج ذیل ہیں:قاسمؓ،زینبؓ،عبداللہؓ،رقیہؓ،ام کلثومؓاور خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ۔
صیح بخاری کی حدیث ہے کہ ایک دفعہ جبریل ؑ رسولﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یارسول اللہﷺ!یہ خدیجہؓ آپ کے پاس سالن یا کھانے کا ایک برتن لا رہی ہیں جب وہ لے کر آئیں تو انہیں ان کے رب اور میری طرف سے سلام کہہ دیں اور انہیں جنت میں موتی کے ایک محل کی بشارت دیں جس میں نہ شور ہو گا اور نہ کوئی تکلیف ہو گی۔حضرت خدیجہؓسید عالمینﷺ کے ساتھ پچیس برس رہیں آپﷺ ان کے وصال کے بعد بھی انہیں بہت یاد کیا کرتے تھے اور ان کی تعریف فرمایا کرتے جیسا کہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ آپﷺ سب سے زیادہ سیدہ خدیجہؓ کو یاد کیا کرتے تھے۔سیدہ عائشہؓ ہی فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ سیدہ خدیجہؓ کی بہن سیدہ ہالہ بنت خویلدؓ نے اندر آنے کی اجازت مانگی،ہالہ آپﷺ کی سالی ہی نہیں سمدھن بھی تھیں کیونکہ سیدہ زینبؓ کی ساس تھیں۔جب انہوں نے اجازت مانگی تو انداز اپنی بہن سیدہ خدیجہؓ والا تھاآپﷺ کو سیدہ خدیجہؓ کا اجازت مانگنا یاد آگیا ۔آپﷺ نے نہایت محبت سے فرمایا :میرے اللہ!یہ تو ہالہ ہے ۔اور پھر ان کو اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔اسی طرح جب رسولﷺ بکری ذبح کرتے تو سیدہ خدیجہؓ کی سہیلیوں کے گھر گوشت روانہ کرتے اور فرماتے کہ یہ خدیجہؓ کی سہلیاں تھیں۔
رسولﷺ کا ارشاد گرامی ہے:اسلام قائم نہیں ہوا مگر علیؓ کی تلواراور جناب خدیجہؓ کی دولت وثروت کی وجہ سے۔آپﷺ کو سیدہ خدیجہؓ سے اس قدر محبت تھی کہ جب سید عالمین ﷺنے اپنی نواسی ،کربلا کی شیر دل خاتون سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے بارے میں اظہارِ محبت کیا تو فرمایا کہ میری اس بیٹی کا احترام کرنا کیونکہ یہ بالکل خدیجہؓ کی طرح ہے۔رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:’فضیلت وکمال کے اعتبار سے دو جہانوں میں بس یہی چار عورتیں ہیں:مریم بنت عمران علیہ السلام،خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا،فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہابنت محمد(ﷺ) اور آسیہ بنت مزاحم(فرعون کی بیوی)۔حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک روز ہمارے گھر ایک معمر سالخوردہ خاتون آئیں حضورﷺ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دیرتک کمال التفات اور محبت وشفقت سے محو گفتگو رہے آپ ﷺ نے ان کی اور گھر والوں کی خیریت دریافت کی اور پوچھا کہ جب ہم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے تو آپ لوگ کن کن حالات سے گزرے اور کیا کیا واقعات پیش آئے سیدہعائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضور اکرمﷺ اتنی اپنائت اور چاہت سے کرید کرید کر اس سے احوال پوچھتے رہے کہ مجھے اس بڑھیا پر رشک آنے لگا جب وہ چلی گئی تو میں نے پوچھا :آقا وہ بڑھیا کون تھی؟تو آپﷺ نے فرمایا کہ وہ خدیجہؓ کی ایک سہیلی تھی جب ہم مکہ میں رہتے تھے تو وہ اکثر ہمارے گھر آیا کرتی تھی خدیجہؓ اس سے بہت محبت کرتی تھیں۔
الغرض سیدہ خدیجہؓ کی سیرت پاک ہماری روشن خیال خواتین کیلئے مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہے ۔کاش!ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں اس سے روشنی اخذ کر کے اپنی زندگی کے خدوخال کو سنوار سکیں۔
اللہ پاک ہم سب کی سیدہ خدیجہؓ کے وسیلہ سے بخشش فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے( آمین)

فیضان نظر برابر سب پر تیرے گھر کا ممنون ہے خود دین پیغمبر(ﷺ)تیرے گھر کا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehboob Hassan

Read More Articles by Mehboob Hassan: 36 Articles with 29460 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Mar, 2017 Views: 607

Comments

آپ کی رائے