گستاخ بلاگرز کیخلاف اعلان جنگ

(Ghulam Abbas Siddiqui, Lahore)

سوشل میڈیا پر بے لگام ،اسلام دشمن چندعناصر نے منظم سازش کے تحت اسلام،پیغمبر اسلامﷺ،صحابہ کرامؓ،ایل بیت عظامؓ،مشاہیر اسلام کے خلاف گستاخانہ مہم جاری کی تو پاکستان کے دینی حلقوں میں شدید اضطراب غم وغصے کی لہر دیکھی گئی ۔احتجاجی مظاہرے ریلیاں،مذمتی بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔عاشقان رسول ﷺ ،صحابہ وا ہل بیت ؓ کے پروانوں جانثاروں کی طرف سے ان گستاخوں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ زور پکڑتا گیا مگر حکومت کے کانوں میں جوں تک نہ رینگی ۔سب سیاستدان اپنی مستی میں مست تھے ۔اپنی اپنی ہر ایک کی ترجیحات تھیں جس میں مگن تھے ۔پاکستان کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کیلئے یہ کوئی اہم مسٔلہ ہر گز نہیں تھا بلکہ وہ اسے روٹین کا ایشو سمجھ کر نظر انداز کر چکے تھے ۔اس بے حسی کے عالم میں شر سے اﷲ نے خیر پیدا کردی ۔اسلام آباد ہائی کورٹ سے ایک عاشقانہ آواز بلند ہوئی جس نے ملک کے حکمرانوں اور سب سیاستدانوں اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ایک ایسا تاریخ ساز جملہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے بلند ہوا جو سنہری حروف میں ہمیشہ تاریخ اسلام میں لکھا جائے گاوہ جملہ یہ تھا کہ "میرے ماں باپ،اولاد،جان،نوکری سب نبی ٔ اکرم ﷺ کی ناموس پر قربان ،گستاخوں کو نہیں چھوڑوں گا " انسانوں سے بھری عدالت میں یہ دیکھا گیا کہ جسٹس صاحب مشاہیر اسلام کی گستاخی پر اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ فیصلہ لکھواتے وقت اس قدر روئے کہ فیصلہ بھی مکمل نہ لکھوا سکے ۔ یہ عاشق رسول ﷺ کون تھا جس کا نام ساری دنیا میں یک دم ابھر عام لوگ اس قلندرانہ صفت کے حامل عاشق کو بالکل نہیں جانتے تھے یہ عاشق رسول ﷺ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عزت مآب جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی تھے جنھوں نے شر کے اس دور میں عظیم مقصد کو اجاگر کیا۔یہاں تک کہ وزیراعظم ہاؤس کو بھی ناموس رسالتﷺ پر بیان جاری کرنے کی زحمت گوارہ کرنے پڑی وزیرداخلہ کو پریس کانفرنس اور بیانات سے بڑھ کر فیس بک انتظامیہ سے رابطہ کرنا پڑا ،فوکل پرسن کی تقرری کی بازگشت بھی سنی گئی اس کے ساتھ ہی وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ حرکتوں کا ہمیشہ کیلئے سدباب کرنے کیلئے مسلم ممالک کی اے پی سی بھی ہنگامی طور پر بلا لی۔ ان کا کہنا ہے کہ توہین رسالتﷺ کسی قیمت پر برداشت نہیں ،سب حکومتی اقدام کا کریڈٹ جسٹس شوکت عزیز کو جاتا ہے جن کے بروقت اقدام نے حکومت بیدار کیا ۔عدالت عالیہ کے معزز جج صاحب نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ اگر گستاخانہ مواد فیس بک انتظامیہ ختم نہیں کرتی تو اسے پاکستان میں بند کردیا جائے ۔ان کا کہنا تھا کہ جب سے یہ پٹیشن دائر ہوئی ہے مجھے نیند نہیں آئی ۔گستاخوں کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گا ۔انٹرپول کے ذریعے گستاخوں کی گرفتاری کے کئے اقدام کئے جارہے ہیں ۔اسلام ،پیغمبر اسلام،مشاہیر اسلام،قرآن مجید کے خلاف سوشل میڈیا پرگھٹیا ترین اس مہم کا سد باب کرنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے یہ اقدام تاریخ ساز ہیں جو کہ سنہری حروف میں ہمیشہ لکھے جاتے رہیں گے ۔مگر اس کے ساتھ ہی موم بتی مارکہ کو جسٹس شوکت عزیزصدیقی کا اس طرح پختہ ایمانی جذبے کے ساتھ ایکشن لینا ہضم نہیں ہورہا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف پرویگینڈہ کی خبریں بھی سننے کو مل رہی ہیں ۔ایسا ہونا ممکن ہے کیونکہ پاکستان کا سیکولر نظام،سیکولر،لبرل ازم کے نشے میں مست حکمران اور سیاست دان کچھ بھی کر سکتے ہیں ،ایسے وقت میں پاکستان کی دینی قوتوں کو جسٹس شوکت عزیز کے ایکشن کی بھر پور عملی حمایت کرنا ہوگی تاکہ فیس بک سے گستاخانہ مواد ختم ہو اور گستاخ بلاگرز کو انٹرپول کے ذریعے جلد سے جلد گرفتار کرکے پاکستان لایا جائے اور ان کو سرعام سزا دی جا سکے۔اگر دینی جماعتوں اور مسلمانان پاکستان نے ماضی کی طرح سست روی کا مظاہرہ کیا تو نتیجہ بھی ماضی جیسا ہی ملے گا ۔دینی قوتوں اور مسلمانان پاکستان کو اب اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔کیونکہ سیکولر قوتیں پوری طاقت اور وسائل کے ساتھ کلمہ طیبہ کے نام پر معرض وجود میں آنے والی مملکت خداد اد پاکستان کو لادین ریاست بنانے کا گھناؤنا کھیل عرصہ دراز سے کھیل رہے ہیں اور بد قسمتی سے ہم پرحکمران بھی ایسے مسلط ہو گئے ہیں جو ہولی،کرکٹ کی شکل میں جوئے ،عریانی فحاشی کو فروغ دینا ضروری سمجھتے مگر اسلامی اقدار وروایات کی انھیں کوئی پروا نہیں ۔مشاہیر اسلام کے ایام پر ہونے والی چھٹیوں کو لپیٹنا اور غیر ضروری رس، ورواج کو فروغ دینا اپنے لئے فرض عین سمجھتے ہیں ۔

ہم یہ سمجھتے ہیں یہ حالات تب تک ایسے ہی رہیں گے جب تک پاکستان میں اسلامی نظام کو عملا قائم نہیں کیا جاتاتاریخ شاہد ہے جب اسلامی نظام زمین پر قائم تھا توجس نے بھی گستاخی کی اسے فی الفور کیفرکرادار تک پہنچا دیا گیا آج ان گستاخوں اور ان کے حمایتیوں کا نام ونشان تک موجود نہیں اس کے برعکس آج گستاخ اور اور ان حمایتی سرعام ،پوری آزادی اور پروٹوکول کے ساتھ ملک سے فرار ہو گئے ہیں ۔ایک سلسلے میں نظام حیات میں متعدد بار یہ دہرایا گیا کہ مسلمانان پاکستان کو ایسے اذیت ناک ،ایمان مجروح کردینے والی حرکات سے بچنے کا واحد طریقہ اسلامی نظام خلافت کا قیام ہے ۔قوم کواس یک نکاتی ایجنڈے پر جدوجہد کرنا ہوگی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Abbas Siddiqui

Read More Articles by Ghulam Abbas Siddiqui: 264 Articles with 159999 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Mar, 2017 Views: 363

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ