آرام طلب مسلمان

(Md Faraz Ahmed, Karachi)

کیا بہترین فنڈا ہے... پانچ وقت کی نمازیں ادا کرلیں، کتنا آسان ہے ناں یہ، فجر میں تھوڑی سی نیند کی قربانی چاہیے، دے دینگے، کیا مسئلہ ہے. عشاء میں تھوڑی سے کسلمندی کا احساس ہوگا، کوئی بات نہیں، برداشت کرلیں گے لیکن نماز نہیں چھوڑیں گے. چند بنیادی رسومات ادا کرلیں گے اور فلاخ پانے والوں میں شامل ہوجائے گے. واہ،، کتنا آسان ہے میرا دین، کپڑوں کی استری تک خراب نہیں ہوگی اور جنت بھی نصیب ہوجائے گی. اتنا آسان ہی ہے تو ہمارے نبی صلعم نے اتبی تکلیفیں کیوں برداشت کی؟ طائف میں لہولہان کیوں ہوئے؟ کیا وہ نعوذبااللہ ہم سے زیادہ "ہوشیار" نہی تھے کہ اتنی آسانی پر اکتفا نہیں کیے؟ کیا صحابہ کو بھی تکلیفیں اٹھانا پسند تھا؟؟؟ پتہ نہیں، ہم صحیح ہیں یا وہ؟؟ یقیناً میرا دین اسان ہے لیکن ان لوگوں کے لئے اسکی راہ میں قربانی کا جذبہ اپنھ اندر پیوست رکھتے ہیں.

کبھی ایسے خیالات بھی پیدا ہوتے ہیں، جس تحریک سے ہم جڑے ہیں اس کے طریقہ کار اور میدان کار کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے، کہ بعض افراد صرف پنج وقتہ نماز کی ادائیگی سے جنت کے حصول کو تسلیم کرلےتے ہیں تو ہم کیوں اتنی تگ و دو اتنی محنت و مشقت کرتے ہیں؟ ہر میدان میں ہمارا کام ہے، اسلامی معاشرے سے لیکر تحقیق و تصنیف تک، خدمت خلق سے لیکر دعوت تک... آخر وجہ کیا ہے اتنا سب کرنے کی؟ پھر قرآن جواب دیتا ہیکہ تم وہ بہترن امت ہو جو انسانوں کی بھلائی کے لئے برپا کی گئی ہو، جو بھلائی کا حکم دیتی ہو اور برائی سے روکتی ہو اور ایک اللہ پر ایقان رکھتی ہو، تب کچھ بات سمجھ میں آتی ہیکہ انسانوں کی بھلائی بھی کرنا ہے اور اصلاح معاشرہ کا کام بھی انجام دینا ہے، ظاہر سی بات ہے کہ ان کاموں کے لئے تحقیق کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور دعوت کی بھی. پھر ذہن سونچنے لگتا ہیکہ آخر اتنی قربانیاں کیوں دی جاتی ہے؟ بیٹھے بٹھائے بھی تو یہ کام ہو سکتا ہے ناں... پھر اچانک سے جنگ خندق کے واقعات ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں اور وجود کانپ اٹھتا ہیکہ ہاں ہم تو بڑے آرام میں ہیں، ہمیں نہ تو خندق کھودنی ہے اور نہ ہی تلوار اٹھانا ہےلیکن پھر بھی ہم اتنی نیند میں ہیکہ ہم سے اس سے کمتر کام بھی کرنے میں دشواری ہورہی یے. ہاں یہ حقیقت ہیکہ ہمیں تلوار بازی نہی کرنی لیکن نظریاتی جنگ لڑنی یے، باطل نظام کے سامنے اسلامی نظام کو پیش کرنا ہے، لیکن ہمارا حال یہ ہیکہ ہم نے صرف نماز پر ہی اکتفا کرلیا ہے، قرآن کہتا ہیکہ کیا تم بس اتنا کہنے پر چھوڑ دئیے جاؤگے کہ ہم نے ایمان لایا اور تم آزمائے نہی جاؤگے؟، ضرور بالضرور آزمائے جائنگے، لیکن اس آزمائش کے بعد جو حاصل ہونے والا ہے وہ یقیناً دنیاوی آرام سے لاکھ درجہ بہتر ہے.

لیکن ہم نے اس بات کو سمجھنا ہی نہیں ہے، بس ناکامی کا رونا رونا ہے، اپنی کاہلی کو دین پر تکیہ لگانا ہے، سوائے اس کہ ہمیں کچھ آتا ہی نہیں. صرف شکوہ کرنا ہے. لیکن اٹھنا نہیں ہے، بات کرنا ہے کام نہیں، تنقید کرنا ہے اصلاح نہیں.... ایسی قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی، یاس و قنوطیت کے جنگل سے نکلنا ہوگا، اسلام کی روشنی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا ہوگا پھر اسے عام کرنا ہوگا اسکے لئے آرام طلب زندگی کچھ کام آنے والی نہیں. اگر ہم یہ کام انجام نہیں دینگے تو اللہ کے پاس افراد کی کمی نہیں ہے، وہ بنی اسرائیل کو زیر کرکے امت محمدیہ کو برپا کرسکتا ہے تو اس کے لیے کیا مشکل ہیکہ وہ ہماری جگہ کسی دوسری قوم کو نہ اٹھائے. اگر ہم اس کی اطاعت کرتے ہیں تو اس میں ہماری ہی کامیابی ہے اور اگر ہم روگردانی کرتے ہیں تو ہم ہی خسارے میں ہیں. اللہ ہماری حفاظت فرمائے آمین.
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohammed Faraz Ahmed

Read More Articles by Mohammed Faraz Ahmed: 10 Articles with 5274 views »
Working as Assistant Editor of Rafeeq e manzil, Urdu Monthly, New Delhi, India. Student of Political Science & History, interested in current affairs,.. View More
28 Mar, 2017 Views: 381

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ