ہلاکت خیز مذاق

(Ghulam Ullah Kiyani, )

اپریل فول دیگر واہیات اور جاہلانہ روایات کی طرح ایک رسم بن رہی ہے۔ جس کا ہماری ثقافت، تہذیب و تمدن، رسوم و روایات، معاشرت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک فیشن ہے، جس نے کئی گھر اجاڑ دیئے۔ کئی لوگ سادگی میں اپنی دولت ہی نہیں بلکہ زندگی سے بھی محروم ہوئے۔سوشل میڈیا کے اس دور میں کم لوگ ہوں گے جو اس سے بے خبر ہوں۔ اس کے پس منظر سے زیادہ لوگ با خبر ہیں۔ یہ لاعلمی اس شخص کی طرح ہے جو دیار غیر میں چلا جائے اور وہ وہاں کی زبان نہ سمجھتا ہو اور اس سے مخاطب لوگ واہیات الفاظ کے استعمال سے اس کا مذاق اڑائیں۔ جس پر وہ محظوظ ہوتا رہے۔مذاق جو کسی کی تضحیک، دل آزاری، ہلاکت، نقصان، شرمندگی یا پشیمانی کا باعث بنے، اس کو شر سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ تہذیب کے دائرہ میں رہ کر مذاق کی ممانعت نہیں جس سے کسی کو زرا بھر نقصان نہ پہنچے۔

اسپین میں کبھی اسلام کا غلبہ تھا۔ آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ آج تقریباً پونے پانچ کروڑ آبادی والے اس ملک میں مسلمانوں کی آبادی صرف دس لاکھ ہے۔ یہ بھی تارکین وطن ہیں۔ جو مراکش، شام، لبنان، عراق سے یہاں آ کر بسے ہیں۔ چند ہزار بنگلہ دیشی، بھارتی اور پاکستانی مسلمان بھی یہاں آباد ہو گئے ہیں۔ مسلمانوں کی زیادہ تر آبادی جنوبی اندلس میں ہے۔ انہوں نے یہاں مسلم سنٹرز قائم کئے ہیں جہاں یورپ، کنیڈا اور امریکہ سے بھی مسلمان آ کر اسلام کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اسپین اور اندلس کبھی اسلام کے مرکز اور گہوارے تھے۔ عظیم مسلم جرنیل طارق بن زیاد نے یہاں آ کر اسلام کا پرچم لہرایا تھا۔ لیکن جب اسپین پر عیسائیوں نے دوبارہ قبضہ کیاتو عیسائی بادشاہ فرڈیننڈ دوم نے یہاں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ بالآخر مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک قائم کرنے اور وہاں مسلمانوں کو بسانے کا اعلان کیا۔ مسلمانوں کو بحری جہازوں پر سوار کیا گیا۔ اور بیچ سمندر انہیں ڈبو دیا گیا۔ یہ 1808سے18013تک کے واقعات ہیں۔ کہتے ہیں جس دن مسلمانوں کو سمندر میں غرق کیا گیا، اس دن یکم اپریل تھا۔ اس دن مسلمانوں کو بے وقوف بنایا گیا، انہیں دھوکہ دیا گیا۔ان کا قتل عام کیا گیا۔ اسپین کے مسلمانوں کے ساتھ جو دھوکہ ہوا، اسی طرز کا دھوکہ نصف صدی قبل کشمیر کے مسلمانوں سے کیا۔ جموں و کشمیر کے ان مسلمانوں کو جو پاکستان میں رہنا چاہتے تھے، گاڑیوں میں بھرا گیا۔ انہیں پاکستان پہنچانے کا وعدہ کیا۔ اور جموں سے سیالکوٹ لاتے ہوئے راستے میں انہیں زبح کیا گیا، ان کو گولیاں مار دی گئیں۔ لڑکیوں کو اغوا کیا گیا بچوں کو ترشول (ہندؤں کا پرچھی نما ہتھیار)اور نیزوں ، تلواروں پر اچھالا گیا۔ انگریز صحافی تصدیق کرتے ہیں کہ جموں اور اس کے گرد ونواح میں اڑھائی لاکھ مسلمان نومبر1947کے پہلے ہفتہ میں شہید کئے گئے۔ایسا ہی اسپین میں ہوا۔

یکم اپریل کو مسلمانوں کو بے وقوف بنانے، ان کا قتل عام کرنے کا جشن آج مسلمان بھی منا رہے ہیں۔ اور اس جشن کو ایک تہوار اور مقدس دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن نوجوان جھوٹ بولتے ہیں۔ مذاق اڑاتے ہیں۔ دھوکہ دیتے ہیں۔ ایسے جھوٹ بھی بولے جاتے ہیں کہ جن سے لوگوں کا جانی و مالی نقصان بھی ہوتا ہے۔ یہ سب مغرب پرستی ہے۔ فیشن کے پیچھے آنکھیں بند کر کے دوڑنا ہے۔ بالکل اس ننگے بادشاہ کی طرح جس کو اسکے مشیروں نے ایک ایسا لباس پہنا کر سر عام گھمایا جس کا کوئی وجود نہ تھا۔ اسے بے لباس کیا گیا۔ ایک خیالی لباس کی حقیقت ایک بچے نے بیان کی وہ ہجوم میں بادشاہ کے ننگے ہونا کا اعلان کر رہا تھا۔ مغربی روایات ہمارے لئے نقصان ہی نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ ہم اپنے سنہری اقوال کو ترک کر کے ایسے کاموں پر توجہ دیتے ہیں جو ہماری تذلیل کا باعث بنتے ہیں۔ کوئی اسے فیشن کا نام دیتا ہے اور کوئی روشن خیالی کا۔ یہ سب بیہودگی ہے۔ سچائی، ایک دوسرے کی عزت و تکریم، امانت و دیانت بہت اہم ہے۔ ان کا بھی کوئی ایک دن نہیں بلکہ یہ ہر لمحہ مد نظر رہیں تو ہمارا معاشرہ ترقی کر سکتا ہے۔ یہ سب لعنتیں، یہ وبائیں، یہ مصنوعیت کا دور دورہ سب خطرناک ہے۔ اپریل فول پر پابندی کا مطالبہ ہی کافی نہیں۔ یہ کام حکومتوں کے کرنے کا نہیں۔ اس کے لئے ہر فرد کی زمہ داری ہے۔ اگر زمہ دار شہری کا ثبوت دیا جائے تو ہر مثبت کام کیا جا سکتا ہے۔ کسی لڑائی جھگڑے کے بغیر یہ کام ہو سکتا ہے۔ اساتذہ ہی نہیں بلکہ والدین بھی بچوں میں آگاہی پیدا کر سکتے ہیں۔ احسن طریقے سے زہن سازی ہو سکتی ہے۔ اس کی ضرورت بھی ہے۔طاقت کا استعمال زہن کو بدل نہیں سکتا۔ اس کے لئے ہر باشعور شخص ہوم ورک کر سکتا ہے۔ دباؤکے بجائے دلیل کار آمد ثابت ہوتی ہے۔

اپریل فول ہمارے لئے ایسا موضوع نہیں رہا جس پر اظہار خیال کیا جائے۔ کیوں کہ اس سے ہم ہنسی مذاق سے محروم ہو جاتے ہیں۔ دھوکہ دہی کرتے ہیں۔لیکن اس سے بچنا ضروری ہے۔ جھوٹ دھوکہ ، مکر و فریب ، کسی کی دل آزاری ، کسی کا مذاق اڑانا۔ یہ سب انتہائی نا پسندیدہ افعال ہیں۔ ان سے بچنا ہی زیادہ بہتر ہے۔ جھوٹ بدترین بات ہے۔ اس لئے قرآن پاک میں بھی اس کی ممانعت کی گئی ہے۔جھوٹوں پر اﷲ کی لعنت ہو۔ لعنت اﷲ علی الکٰذبین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 574 Articles with 219620 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
31 Mar, 2017 Views: 455

Comments

آپ کی رائے