معاشرتی اسیری کے خلاف بغاوت کا علم

(Malik Muhammad Shahbaz, )

معاشرے میں ایسی بے شمار برائیاں موجود ہیں جن کو برائی کی بجائے شان و شوکت سمجھا جاتا ہے۔غرور و تکبر کا سلسلہ عام ہوچکا ہے اورپیشے کے اعتبار سے اعلیٰ و ادنیٰ کی تقسیم کرکے انسانیت کی سر عام تذلیل کی جارہی ہے ۔اﷲ تعالیٰ کے نزدیک اعلیٰ و ارفع اور بلند مقام و مرتبہ کا معیار پیشے ،ذات پات ، کام کاج اور رنگ و نسل نہیں بلکہ تقویٰ و پرہیز گاری ہے۔ جس انسان کے دل میں اﷲ تعالیٰ کا خوف جس قدر زیادہ ہوگا وہ اتنا ہی اعلیٰ و برتر ہوگامگر ہمارے معاشرے میں اس حقیقت کی سراسر دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔مالکوں کا مفلسوں پر ظلم و ستم اوردھمکی آمیز لہجے میں کسے جانے والے الفاظ پر مبنی ’’ تو اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے ‘‘ طعنے بازی اکثر دیکھنے سننے میں آتی رہتی ہے۔ شاگردوں کی جانب سے اساتذہ کی تذلیل کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا،اولاد اپنے والدین کے عزت و احترام سے قاصر نظر آتی ہے، سرکاری عدالت ہو یاکسی وڈیرے کے ڈیرے پر ہونے والی پنچائیت انصاف کا بول بالا یوں عنقا ہو چکا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ، اسلام سے دوری اور لبرل ازم سے قربت اختیار کرنا فرض عین سمجھ کرخود پر لاگو کیا جارہا ہے، ہر شخص اپنے لیے بہترین وکیل اور دوسروں کے لیے جج بنا ہوا دکھائی دیتا ہے الغرض لوگ حق سچ کی بجائے جھوٹ پر مبنی عزت و شہرت کی خاطر معاشرتی اسیر ہوکر رہ گئے ہیں اور جھوٹی شان و شوکت ، مقام و مرتبے اور دادوتحسین کی خاطر ہر حد سے تجاوز کر چکے ہیں۔

معاشرہ کی اصلاح برائیوں کے سدباب سے ممکن ہے اور اس ضمن میں بھر پورتگ و دو کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ گزشتہ دنوں بچوں اور بڑوں کے معروف ادیب صداقت حسین ساجد’’جن کی کتاب پنسل باکس نے بہت زیادہ شہرت پائی ہیــ‘‘ کی وساطت سے کاشف جانباز کی کتاب ’’ اسیر رواں ‘‘ موصول ہوئی ۔ یہ کتاب صرف کتاب ہی نہیں بلکہ معاشرتی اسیری کے خلاف بغاوت کا علم ہے اور کاشف جانباز کی تین سالہ محنت و کاوش کا ثبوت ہے۔ ’’ اسیر رواں ‘‘ معاشرے میں موجود برائیوں اور ان کے سدباب کے لیے تجاویز پر مبنی ایک عظیم شاہکار ہے جس کے مطالعے سے ان برائیوں سے باز رہنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ’’ اسیر رواں ‘‘ میں کاشف جانباز نے اپنے قلم کی کاٹ ، کمال لفاظی ، انتہائی زبردست اسلوب زبان و بیان کے ذریعے 67 حقائق کوعنوان بنا کرمعاشرے کی کربناکیوں کو بطریق احسن بیان کیا ہے اور ان کے سدباب کے لیے تجاویز پیش کی ہیں۔’’اسیر رواں ‘‘میں روزمرہ زندگی میں رونما ہونے والے حالات و واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے جو مصنف کے ذاتی تجربات ، احسات اور مشاہدات پر مبنی ہے ۔جازب نظر ٹائٹل ، بہترین کاغذ اور مضبوط و نفیس جلد بندی سے تیارشدہ کتاب ’’اسیر رواں ‘‘میں کسی بھی عنوان پر تمہید و تفصیل اور تجاویز کے بعد خالی جگہ پرچھوٹے چھوٹے پیراگرافوں کی صورت میں بیان کردہ اقوال زریں اور معاشرتی حقائق نے اس کتاب کی اہمیت کو مزید چار چاند لگادیئے ہیں۔

’’اسیر رواں ‘‘ میں بیان کردہ معاشرتی برائیوں اور بے راہ روی کا سدباب کرنے اور قارئین کی رہنمائی کے لیے انبیاء کرام کی زندگی سے مثالیں بیان کی گئی ہیں جن سے سبق لے کر انسانی زندگی کامیابی و کامرانی کے ان تمام مراحل کو بخیر و عافیت طے کر سکتی ہے جن کو طے کرنے تک پل پل کی آزمائشوں اور رکاوٹوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔ ’’اسیر رواں ‘‘میں کاشف جانبازاپنی ایک تحریر میں اپنے دوست انیس سالہ محب الرحمن کو نصیحت کرتے دکھائی دیتے ہیں جو لوگوں کے عدم برتاؤ اور حوصلہ شکنی کے باعث اپنی زندگی سے مایوس ہوچکا ہوتا ہے۔ ’’اسیر رواں ‘‘کے صفحہ نمبر 100 پر محب الرحمن کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں کہ ’’ہمارے معاشرے کی یہ تلخ ترین حقیقت ہے کہ عزت نفس اچھالنے کوتو تماشائیوں کا ہر قدم ہجوم موجود ہوتا ہے لیکن سہارا دینے والاتاحدِ نگاہ کوئی نظر نہیں آتامگر ایک بات پلوسے باندھنے والی ہے کہ اگر کامیابی اور اطمینان چاہتے ہو تو فقط اپنے لیے کام کرواور دنیا والوں سے داد وصول کرنے کی بھوک کو پس پشت ڈال کر اﷲ کریم سے لو لگالو تو آخر کار تم آگے اور لوگ تمہارے پیچھے ہوں گے‘‘۔درسگاہ کے عنوان سے اپنی تحریر میں علم و ہنر سکھانے والے اداروں کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ زندگی میں آنکھ کھولنے سے لے کر آنکھیں موندھ لینے تک کا عرصہ مدرسے کی جانب آتے جاتے گزرتا ہے ۔ جس کی جیسی درسگاہ ہوگی ویسی ہی تربیت ہوگی اور جو تربیت بچہ ماں کی کوکھ میں پروردگار عالم کے احسان سے حاصل کرتا ہے ویسی تربیت انسان مدارس کے مزین و مکیف کمروں کے خشت و سنگ کے انباروں میں ہرگز حاصل نہیں کر سکتا۔ یوں تو زندگی بذات خود ایک درسگاہ ہے مگردرحقیقت ہر وہ جگہ مدرسہ ہے جہاں انسان کو زندگی کے اسلوب اور اسے بسر کرنے کے شعار سے آگاہ کر کے عمل کرنے کا ڈھنگ سکھایا جائے ۔ اگر ان مقاصد کا حصول مفلس ماں کی گود سے ہوتو مدرسہ ، بیابان میں ہو تو مدرسہ ، شہر کے زناٹوں میں ہو تو مدرسہ ، کچے چبوترے پر ہو تو مدرسہ کہلائے گا لیکن اگر پُر تصنع عمارتوں کے درمیاں یہ مقاصد ناپید رہیں تو وہ مدرسہ نہیں نمائش ہے جس میں فقط تکذیب و ریاکاری کجھلکتی ہے۔

یوں تو ’’اسیر رواں ‘‘کاشف جانباز کی پہلی کتاب ہے مگر اس کتاب میں جس انداز سے سبق آموز مضامین و واقعات اور احساسات کو قلمبند کیا گیا ہے مصنف کے قلم و قرطاس کے میدان میں انتہائی ماہر ہونے کے واضح اثبات نظر آتے ہیں۔ ’’اسیر رواں ‘‘ کے مطالعے سے کسی صورت بوریت کا احساس نہیں ہوتا بلکہ کسی بھی صفحے کو ملاحظہ کیا جائے تو مکمل مضمون پڑھے بنا رہا نہیں جاتا۔کاشف جانباز نثر کے علاوہ شاعری میں بھی ذوق رکھتے ہیں اور اسیر رواں کے عنوان سے ان کی ایک نظم اس کتاب ’’اسیر رواں ‘‘کے شروع میں شامل کی گئی ہے جو کہ کتاب ’’اسیر رواں ‘‘میں موجود تمام مضامین کا احاطہ کرتی ہے۔ ’’اسیر رواں ‘‘کے خالق کاشف جانباز کی دیگر دوکتابیں دیوانہ سرائیاں اور مجموعہ شاعری کلام بھی منظر عام پر آنے کو تیارہیں اور بہت جلد قارئین کے ہاتھوں میں ہوں گی۔میں نے ذاتی طور پر اس کتاب ’’اسیر رواں ‘‘سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان شاء اﷲ کاشف جانباز کی یہ کتاب ’’اسیر رواں ‘‘علم و آگہی کے باب میں گراں قدر اضافہ ثابت ہوگی۔اﷲ کریم’’اسیر رواں ‘‘کے خالق کاشف جانبازکو دین و دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Muhammad Shahbaz

Read More Articles by Malik Muhammad Shahbaz: 54 Articles with 24543 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Apr, 2017 Views: 294

Comments

آپ کی رائے