رزق حلال کی برکات

(پروفیسرڈاکٹرمجیب ظفرانوارحمیدی, Karachi)

ایک مرتبہ، حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ، عرض کی گئی :" یا رسول اللہ !(ﷺ)کونسا ذریعہ معاش پاکیزہ ہے ؟ آپؐ نے فرما یا کہ آدمی کا اپنے ہاتھ سے کمانا اور ہر جائز تجارت "۔(مسند احمد)
پیشے اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہیں ۔کسی میں ہاتھ کی محنت زیادہ درکار ہے اور کسی میں جسم کے دوسرے اعضاء یعنی دماغ آنکھ پاؤں وغیرہ کی قوت صرف ہوتی ہے ۔تو ایسے سارے پیشے جس میں محنت اور مشقت صرف ہو وہ ہاتھ کی کمائی میں شمار کیے جاتے ہیں اور ایسی کمائی اس کمائی سے افضل ہے جو بیٹھے بیٹھا ئے بغیر محنت کے حاصل ہو کیونکہ جو مال انسان کو محنت کے بغیر مل جاتا ہے انسان اس کی قدر نہیں پاتا اور خرچ کرتے وقت اسے ایسے کاموں پر خرچ کرڈالتا ہے جن کا شمار اسراف میں ہوتا ہے اس کے بر عکس اپنے ہاتھوں سے محنت کی کمائی کو خرچ کرتے وقت انسان کو بڑا احساس اور درد ہوتا ہے کہ اسے از حد ضرورت کے کاموں پر خرچ کیا جائے چونکہ مال بڑی تکلیف اور مشقت اٹھا کر حاصل ہوتا ہے ۔اس احساس کے پیش نظر اللہ نے اسے افضل قرار دیا ہے ۔ہاتھ کی کمائی کے بعض کام ایسے ہیں جنہیں دوسرے لوگ حقیر اور ذلیل تصور کرتے ہیں اور ایسا پیشہ اختیار کرنے سے نفرت کی جاتی ہے مثلاً ہاتھ سے جوتیاں بنانا کپڑوں کی سلائی کرنا تنورمیں روٹیاں لگانا عمارتی کام میں اینٹیں اٹھانا سر پرریت سیمنٹ اٹھانا راجگیری کرنا لکڑی کا کام کرنا سر پر اشیاء اٹھا کر گلی کو چوں میں فروخت کرنا اپنے ہاتھوں سے لوگوں کے کپڑے دھونا کھیتوں میں زراعت کا کام کرنا لوہار کا کام نائی کا کام وغیر ہ حتیٰ کہ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے کام ایسے ہیں جنہیں مال دار لوگ اختیار کرنا پسند نہیں کرتے لیکن ہر وہ کام جس میں محنت درکار ہو اس سے نفرت کرنے سے منع کرتا ہے کیونکہ کسی پیشے کو حقیر جاننا کم عقلی اور بیو قوفی ہے ۔لہٰذا اللہ کے رسولﷺ کے اس فرمان سے صرف یہ خیال نہ کریں کہ ہاتھ کے علاوہ کسی اور طرح سے جو کمائی حاصل ہو وہ حلال نہیں ۔بلکہ جو مال بھی اپنے جسم کی قوت صرف کر کے کمایا جائے گا ۔وہی حلال ہاتھ کی کمائی کی طرح ہے ۔اس لئے سکولوں کالجوں میں پڑھانے والے اساتذہ کی تنخواہیں دفتری اہل کاروں کی تنخواہیں طبیبوں اور ڈاکٹری کی کمائی ہاتھ کی کمائی جیسا ہی درجہ رکھتی ہیں ۔ ایسے ہی تجارت سے جائز نفع کمانا حلال کے زمرے میں شامل ہے ۔

ایک حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے کتابت کی کمائی کو رزقِ حلال قرار دیا ہے ۔’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کتابت قرآن مجید کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا :کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ وہ الفاظ کی صورتیں بناتے ہیں اور بے شک وہ اپنے ہاتھوں کی کمائی کھاتے ہیں ۔

رزق حلال کمانے اور کھانے میں بہت برکت ہے اس کے بارے میں فرمان رسول اللہﷺ حسب ذیل ہے:رزق حلال سے انسان مستجاب الدعوات بن جاتا ہے اس کے متعلق حضرت سعد بن ابی وقاص نے کھڑے ہو کر عرض کیا ۔یا رسول اللہ ﷺ آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا فرمادیجئے ۔کہ وہ مجھے مستجاب الدعوات بنا دے ،یعنی دعا قبول فرما لیا کرے آپ ﷺنے فرمایا:اے سعد ! حلال کی کمائی کھاؤ !تم مستجاب الدعوات ہو جاؤ گے ،یعنی تمہاری دعا قبول ہو گی ۔خدا کی قسم جب بندہ حرام کا لقمہ پیٹ میں ڈالتا ہے ،تو چالیس روز تک اس کا عمل قبو ل نہیں کیا جاتا اور جس بندہ کا گوشت حرام سے پلاہوا ہو تو جہنم کی آگ اس کے بہت لائق ہے ۔‘‘(ترغیب)

حلال کی کمائی کھانا رسول اللہ ﷺ کی سنت پر چلنا اور لوگوں کو ایذا رسانی سے بچانا جنت میں لے جانے والے اعمال سے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے پاکیزہ کمائی کھائی اور سنت کے مطابق کام کیا اور لوگوں کو اپنی ایذارسانی سے امن میں رکھا وہ جنت میں داخل ہو گا۔(ترمذی، ترغیب)
پاکیزہ روزی کھانے والے کو دنیا سے جانے کا کوئی فکر نہیں ہوتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جب تم میں یہ چار باتیں موجود ہوں گی تو دنیا کے چھوٹ جانے سے کوئی حرج نہیں ہے ،امانت کی حفاظت بات کی سچائی اور سچ گوئی اچھی عادت اور کھانے پینے میں پاکیزگی یعنی پاکیزہ روزی۔‘‘(مسندِاحمد)

رزق حلال کا استعمال انسان میں اخلاق حسنہ پیدا کرتا ہے ۔حلال روزی لڑکے لڑکیوں کو شرم و حیاء کے انمول موتی بنا دیتی ہے ۔ان کی آنکھوں میں شرم ،چال میں شرافت اور سوچ میں تدبر ہوتا ہے نیک اور شریف انسان ہمیشہ انسانوں کا ہمدرد مہمان نواز بڑوں کا مؤدب اور بچوں اور چھوٹوں پر شفقت کا ہاتھ رکھنے والا ہو گا۔ گویا رزق حلال انسان کو دوسروں سے ممتاز کر دیتا ہے اور معاشرے میں حقیقی عزت کا باعث بنتا ہے ۔

رزق حلال کا سب سے بڑا ثمر آخرت میں کامیابی ہے ۔قیامت میں وہ انبیاء صدیقین شہداء صوفیاء اولیاء اور فقرائے حق کے گروہ میں اٹھایا جائے گا ۔کیونکہ رزقِ حلال صرف وہی شخص کھاتا ہے جو انبیاء اور بزرگانِ دین کے نقشِ قدم پر چلتا ہے۔قیامت کے دن ان کے چہرے روشن ہوں گے۔ وہ خالقِ حقیقی سے اس روز حلال روزی کے کمانے کے سلسلہ کی وجہ سے دنیا میں مصائب برداشت کرنے کا انعام پائیں گے جنت میں داخل کئے جائیں گے اور یہ سب کچھ انہیں دنیا میں حلال و حرام کی تمیز کرنے اور حلال روزی کماکر کھانے کی بدولت ہی حاصل ہو گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حلال روزی کمانے اور کھانے کی توفیق دے ۔آمین!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: پروفیسرڈاکٹرمجیب ظفرانوارحمیدی

Read More Articles by پروفیسرڈاکٹرمجیب ظفرانوارحمیدی: 14 Articles with 11050 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Apr, 2017 Views: 478

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ