حاجی الحرمین سے

(Sami Ullah Malik, )

عشق پراعمال کی بنیادرکھ
اللہ اکبر ....وہ کون سا گھر ہے آپ کی نگاہیں جس کی دیواروں کی بلا ئیں لیکر پلٹی ہیں........ جہاں آپ کا جسم بھی طواف میں تھا اور آپ کا دل بھی ......دنیا کے بت کدوں میں کل بھی وہ پہلا گھرتھاخداکااورآج بھی۔ دوچارصدیوں کی بات نہیں بلکہ دنیا کا سب سے پہلا عبادت خانہ! بنی آدم میں کسی کے حافظے میں اس وقت کی یادیں محفوظ ہیں!!!
اس طویل عرصے میں بے حساب مندرتعمیر ہوئے لا تعداد گرجے آباد ہوئے، کیسے کیسے انقلابات سے یہ زمین آشنا ہوئی کیسی کیسی بلندیاں پستیاں ہوئیں،کون کون سی تہذیبیں ابھریں اورمٹیں....چاہے مصروبابل ہوں یاروم وایران لیکن عرب کے ریگستانوں میں چٹانوں اور پہاڑوں کے وسط میں سیاہ غلاف میں لپٹی یہ عمارت جس کورب نے“اپنا گھر“کہااس کو زمانے کاکو ئی طوفان،کوئی انقلاب،کوئی زلزلہ اپنی جگہ سے نہ ہلاسکا....جو ابرہہ اس کومٹانے اٹھاوہ خودمٹ گیا!!
اللہ نے کرم کیاکہ جلدہی دوبارہ اپنے گھرکی زیارت کی توفیق مرحمت فرمائی ۔ اس سفرحجازمیں باربارطواف کیاہے آپ کی نظروں نے اس گھرکا....!ہر تکلف وتصنع سے مبرایہ سیاہ چوکورگھر....آپ کی نگاہ جب پڑی ہوگی توجم کررہ گئی ہوگی!!اوراس موقع پرآپ کوموسیٰ کلیم اللہ یادآتے چلے گئے جب اس کے گھر کی تجلی پرہوش وحواس قائم رکھنامشکل ہے تواس گھرکے رب کی تجلی نے کیا کیاہلچل بپاکی ہوگی!جب گھرکی برق پاشیوں کا یہ عالم ہے کہ جودیکھتاہے وہ کچھ اوردیکھنابھول جاتاہے اورہمیشہ کیلئےیہی نظروں میں سماجاتاہے توگھر والے کے دیدارکی تاب انسانی بصارت بھلاکہاں لاسکتی ہے!
خسرو،غزل وکتاب تا کے
درمصحف روئے اونظرکن
"اس کے چہرے کی زیبائی کودیکھواے خسرو،شعروکتاب میں کب تک مشغول رہوگے"
وہ گھرآپ کی نظروں کے سامنے تجلیاں بکھیررہاتھا جسے کسی انجینئر، کسی ماہرتعمیرات نے نہیں بنایاتھا،نہ لاکھوں روپے کاسامان ِتعمیراس پرلگاتھا،نہ جد ید مشینری استعمال ہوئی تھی !!! اللہ کے گھرکامعمار.......؟؟ ہاں وہ معمار بھی لمحہ لمحہ آپ کے تصورمیں رہاہوگاجواپنے سرپربھاری بھاری پتھراٹھا کرلارہاتھا،جس کے ہاتھ چونے،مٹی اورگارے سے بھرے ہوئے تھے۔عرب کی چلچلا تی ہوئی دوپہروں میں ریگستان کی آگ برساتی ہوئی دھوپ کی پروا کیے بغیرروپے پیسے کی مزدوری سے بے نیازوہ مزدور.....جو گویا اپنے پورے وجود کواس گھرکی تعمیرمیں لگارہے تھے اورگھر کامالک بڑے چاؤسے بڑے پیارسے ذکر کرتاہے ان "مزدوروں" کاجب ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علہ السلام اس گھر کی بنیادیں اٹھارہے تھے:
ہاں محترم بھائی! اس گھر کی زیارت کرتے ہوئے جب نظریں اس پرٹھہرگئی ہوں گی آپ کولگاہوگا کہ جوہاتھ اب تعمیربیت اللہ میں مشغول ہیں،پتھرپرپتھر رکھ رہے ہیں ہا تھوں میں چونااورگاراہے اورچشم ِاشکباراشکوں سے لبریز..... کہ دل کا سوزوگد اززبان پرآجا تاہے کہ".........ربناتقبل مناانک انت السمیع العلیم ۔اے ہمارے رب ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے بے شک تو سب کچھ سننے اورجاننے والا ہے“البقرہ۱۲۷
تویہ ہے دوستوں کی شان......عشق کی منزلوں سے آگے کی منزلیں......فدائیت کی منزلیں ......کہ سب کچھ لگاکربھی دھڑکایہی لگا ہواہے کہ مٹناقبول بھی ہوگا کہ نہیں.....؟؟؟
اگرایساگھرنہیں دنیامیں تواس گھرکے سے مزدورکب دیکھے ہیں دنیانے!دنیا کے کسی مزدور نے وہ مزدوری مانگی جو بیت اللہ کے مزدوروں نے مانگی تھی اور مزدوری کی طلب تودیکھئے، تنہا اپنی ذات کے لیے نہیں ہم بھی شریک تھے اس اجرت کی طلب میں کہ “ربنا واجعلنا مسلِمینِ لک ومِن ذرِیتِنآ امة مسلِمة لک و ارِنامناسکِنا وتب علینآ ۖ اِنک ا نت التواب لرحِیم اے ہمارے رب ! ہم دونوں کو اپنا فرمانبرداربنا اورہماری اولاد سے ایک امت اپنی فرمانبردار بنا اورہمیں ہمارے حج کے اعمال بتااورہم پررحمت سے توجہ فرمااورتوبے شک رحمت سے توجہ کرنے والا ہے“ البقرہ ۱۲۸
گھر بنانے والے کوجومزدوری ملی وہ مزدورجانے یامالک.....لیکن اس اجرت میں آپ کوجو حصہ ملااوراس گھرکی زیارت کرنے والوں کو، طواف کرنے والوں کو،سفر کرنے والوں کو،اس گھ سے محبت کرنے والوں کو،اس کی تعظیم کرنے والوں کو.....کیا کچھ نہیں ملا،کیا کچھ نہیں مل جا تا،برکتوں اور عزتوں کے اس گھرسے۔ ہرایک یہی خزانے لے کرپلٹتاہے اور......ساتھ آپ کادل بھی تو انہی خزانوں سے مالامال ہے۔ ایک شکرسپاس ہے آپ کے پاس بھی اس وقت کہ آپ کانفس پاک ہوکراپنی خودی(انا ) کومٹا کراپنے رب کی معرفت کی منزلوں میں سرگرداں ہے۔ رب کاگھر ہے یہ!!!مقام تفریح تونہیں؟ یہ آگرہ کے تاج محل یا فرانس کے ایفل ٹاورکا نظارہ تونہیں تھا....... یہ گھروندے جوسیرتماشے اوردل کے بہلاوے کیلئےصدیوں سے موجودہیں لیکن وہاں آنے والے لا کھوں لوگ نہ عقیدت مند ہوتے ہیں نہ انہیں چومتے ہیں نہ آنکھوں سے لگاتے ہیں نہ والہانہ طواف کرتے ہیں نہ سجدے کرتے ہیں نہ روتے اور گڑگڑاتے ہیں نہ جھکتے اور گرتے ہیں نہ عشق وفدائیت سے سرشارپکارتے رہتے ہیں کہ"لبیک اللھم لبیک" آگیاہوں مولا،میں آگیامیرے رب میں حاضر ہو گیا،تونے بلایاتھا میں کیوں نہ آتا ؟ میں آگیاسب کچھ چھوڑکرآگیا،درویشوں اوردرماندہ فقیرکے روپ میں تیرے درپہ آیاہوں،دنیا کی لذتوں کوٹھوکرمار کرآیا ہوں۔لاکھوں لوگ....ایک ہی وقت میں ایک ہی لے ہے ایک ہی دھن جس کاسودا سرمیں سمایاہے،دیوانہ وارطواف کرتے ہیں اورمیرے خوش نصیب بھائی!آپ بھی احرام کایو نیفارم پہنے اس سلطانِ عالم کی فوج کاحصہ تھے اورجب نما زوں کے اوقات میں بھی اورصبح کے تڑکے میں بھی جب ہربلندی اورہر پستی پرلبیک کی آوازیں گونجتی تھیں توآپ بھی ایک نشے میں سرشارہوجا تے ہوں گے،ایک کیفیت میں جذب ہوجا تے ہوں گے اور آپ کواس خاک پرکبھی اس محبوب علیہ اسلام کے قدموں کے نشان نظر آتے ہوں گے جوکبھی آگ میں کوداتوکبھی عزیزازجان نورنظر کے حلقوم پرچھری پھیر دی کہ آسمانوں پر ملائکہ بھی ششدررہ گئے اوریک زبان ہوکرپکاراٹھے کہ واقعی اس نے خلیل اللہ ہونے کاحق اداکردیااورپسراطاعت کی معراج کوجاپہنچا اور.....اور.....چودہ سوبرس پیچھے لے گیایکدم آپ کاشعورآپ کوکہ اسی خاک پراس عظیم ہستی ۖ پرقربان،اوریوں طواف کرتے کرتے آپ کی وا رفتگی میں یکبارگی اضافہ ہوتا چلاگیاہوگاکہ یکا یک یہ شعرحجاب بن کرآپ کی نظروں کےسامنے ضرورآگیا ہوگا کہ:
تو بردن درچہ کردی کہ درون خانہ آئی
چو بطرف کعبہ رفتم بحرم اہم ندا اند
جب میں کعبہ کے طواف کیلئےگیاتومجھے حرم میں داخل نہ ہونے دیاگیا،کہا گیا کہ تو نے حرم سے باہرتونا فرمانی کی اب بیت اللہ کس منہ سے آیاہے؟ تب آپ کی سانسیں تھم تھم گئی ہوں گی،گردشِ ایام کے جائزے پراورتوبتہ النصوح کامفہوم آپ پرآشکارہواہوگا۔ میرے عزیزبھائی!دوران سعی آپ کو اس خاک ِ پاک پرسیدہ ہاجرہ صدیقہ کے قدموں کے نشان بھی نظرآئے ہوں گے جو نبی کی ماں اورنبی کی بیوی ہونے کے شرف سے مشرف تھیں اوربرسہا برس سے قافلے اس عظیم خاتون کے قدموں کے نشانوں پردوڑرہے ہیں کیساشرف ایک عورت کو دیا ہے اس دین نے کہ اپنے محبوب ۖکوبھی بی بی ہاجرہ کی سنت
کی پیروی کرنے کاحکم دیا،کیامنظرہوگاجب رسول خدابھی اس مخصوص مقامات پراماّں ہاجرہ پرتفاخرکرتے ہوئےتیزتیزبھاگ رہے ہوں گے!یقیناًحضرت ام
المومنین حضرت عائشہ بھی بی بی حاجرہ کی سنت کی ادائیگی کے مناظراورعظیم عورت کے عظیم کردار پراپنے رب سےمناجات میں رازونیازکرتی ہوں گی۔ یقیناً یہ سب کارہائے عظیم کتابوں میں پڑھے ہوں گے لیکن آج اپنی چشم تر سے ان کا جی بھر کرنظارہ کرتے ہوئے اپنے مقد ر پررشک کرتے ہوئے اپنے خالق کے سامنے کئی مرتبہ جبیں سرنگوں ہوئی ہوگی۔
میرے محترم بھائی!گنبدِخضراپرجب پہلی نظرپڑی ہوگی تویقیناً دل کوتھامنابہت ہی مشکل ہوگاکہ محسن انسانیت ۖکے درپر حاضری،اپنی قسمت پررشک تو آتاہوگاکہ ایسی عظیم الشان شخصیت جس پرخود اللہ اوراس کے ملائکہ کثرت سے درود پڑھتے ہیں اوراہل ایمان کوبھی حکم دیا گیاکہ وہ بھی کثرت سے درودپڑھتے رہاکریں۔ایسی فخر کائنات ہستی جس کے بارے میں غیر مسلم بھی کچھ اس طرح رطب اللسان ہیں:
٭مغربی مصنف مائیکل ہارٹ نے اپنی مشہورِزمانہ کتاب میں دنیاکے ان سو عظیم ترین آدمیوں کاذکرکیاہے جنہوں نے دنیاکی تشکیل میں بڑاکرداراداکیا۔اس نے حضورۖ کوسب سے پہلے شمارپررکھاہے۔ مصنف ایک عیسائی ہوکر بھی اپنے دلائل سے یہ ثابت کرتاہے کہ حضرت محمدۖ پورے نسل انسانی میں سید البشرکہنے کے لائق ہیں۔
٭تھامس کارلائیل نے۱۸۴۰ء کے مشہوردروس میں کہاکہ میں محمد(ۖ) سے محبت کرتاہوں اوریقین رکھتاہوں کہ ان کی طبیعت میں نام ونموداورریاکا شائبہ تک نہ تھا۔ ہم انہی صفات کے بدلے میں آپ کی خدمت میں ہدیہ اخلاص پیش کرتے ہیں ۔
٭ فرانس کا شہنشاہ نپولین بوناپارٹ کہتاہے محمد دراصل سروراعظم تھے،۱۵سال کے قلیل عرصے میں لوگوں کی کثیرتعدادنے جھوٹے دیوتاؤں کی پرستش سے توبہ کرڈالی۔ مٹی کی بنی دیویاں مٹی میں ملا دی گئیں،یہ حیرت انگیز کارنامہ تھا آنحضرت کی تعلیم کا ۔
٭جارج برناڈشالکھتاہے: موجودہ انسانی مصائب سے نجات ملنے کی واحدصورت یہی ہے کہ محمد (ۖ)اس دنیا کے رہنما بنیں ۔
٭گاندھی لکھتاہے کہ بانی اسلام نے اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی جس نے انسان کو
سچائی کاراستہ دکھایااوربرابری کی تعلیم دی،میں اسلام کاجتنامطالعہ کرتاہوں اتنا مجھے یقین راسخ ہوجاتاہے کہ یہ مذہب تلوار سے نہیں پھیلا ۔
٭ جرمنی کامشہورادیب شاعراورڈرامہ نگارگوئٹے حضور(ۖ)کا مداح اورعاشق تھا ،اپنی تخلیق دیوانِ مغربی میں گوئٹے نے حضور اقدس کی بارگاہ میں جگہ جگہ عشق محمد (ۖ)کااظہارکیاہے اوران کے قدموں میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے ہیں ۔
٭ فرانس کے محقق ڈی لمرٹائن نے اپنی کتاب تاریخِ ترکی میں انسانی عظمت کے لئے جومعیار قائم کیااس ضمن میں فاضل تاریخ دان لکھتاہے:اگرانسانی عظمت کو ناپنے کے لئے تین شرائط اہم ہیں جن میں (۱)مقصد کی بلندی ، (۲) وسائل کی کمی(۳)حیرت انگیرنتائج ،تواس معیارپرجدیدتاریخ کی کو ن سی شخصیت محمدۖ سے ہمسری کا دعوی کرسکتی ہے ۔
٭فرانسیسی مصنف دی لمرتین لکھتاہے:فلسفی،مبلغ،پیغمبر،قانون ساز،سپہ سالار، ذہنو ں کافاتح،دانائی کے عقائدبرپاکرنے والا،بت پرستی سے پاک معاشرہ تشکیل دینے والا،بیسیوں ریاستوں کوایک روحانی سلطنت میں متحد کرنے والا....وہ محمد ۖہیں....جہاں تک انسانی عظمت کے معیارکا تعلق ہے ہم پوچھ سکتے ہیں کہ ان معیاروں پرپورا اترنے والامحمدۖ سے بھی کوئی برتر ہوسکتا ہے؟
٭ ڈاکٹر شیلے پیغمبرآخرالزماں کی ابدیت اورلاثانیت کااقرارکرتے ہوئے لکھتے ہیں:محمدۖ گزشتہ اورموجودہ لوگوں میں سب سے اکمل اورافضل تھے اور آئندہ ان کامثال پیداہونامحال اورقطعاًغیرممکن ہے۔
میرے انتہائی عزیزبھائی!مدینہ کے شمال میں واقع پہاڑجبل احد کے پاس اس مقام پرحاضری دینے کی سعادت ضرورملی ہوگی جہاں نبی کریم ۖ کے پیارے چچا حضرت حمزہ دفن ہیں۔ حضرت حمزہ جنگ احد میں۷۰دیگرصحابہ کے ہمراہ شہید ہو گئے تھے،اور کفار نے ان کی لاش کی بے حرمتی کی تھی۔ رسول کریمۖ کو اپنے اس ہم عمرچچا سے بڑی محبت تھی۔یہی وجہ ہے کہ ان کے شہیدلاشے کودیکھ کرفرطِ غم سے آپ پھوٹ پھوٹ کررودیئے اور جب تک اس دنیامیں قیام فرمایاآپ ۖ ہربدھ کوشہدئے احد کے مزارپرجاکرفاتحہ کہتے تھے!
میرے خوش قسمت بھائی!اس سفرحجازنے ایک پیام ضرورآپ کودیاہے وہ اک پیام جومسجد حرام نے بھی آپ کودیاہے اورمسجدنبویۖ نے،وہ ایک صداجو عرفات کے میدا ن میں بھی آرہی تھی اور منیٰ کی قربان گاہ میں بھی،جوزم زم کےقطروں نے بھی آپ سے سرگوشی میں کی ہے اورخاکِ حرم کے ذروں نے بھی آپ کے قدموں سے لپٹ کرکی ہے اور وہ صدا تھی،بس ایک صدا،کیسی صداکہ"کونو انصار اللہ"جب دنیا ظلم سے بھرگئی توکیا تم اپنے حصے کا کام کرنے نہ اٹھو گے!راستہ بھی موجود ہے اوراس کی دی ہوئی ٹانگیں بھی موجود ہیں اور اس راستے پرچلنے کاقرض بھی موجود ہے۔مالک نے جوزمین حوالے کی، مزارع نے اس پر ہل نہ چلا یا اورزمین زہرآلودجھاڑیوں اورکا نٹوں سے بھرگئی ۔ سفرحجاز نے یہی توکہاہے آپ سے کہ جیسے یہاں کے ہر چپے پراللہ کی بڑائی اوراس کاذکر ہے اللہ کی ساری کائنات یونہی اس کی بڑائی چاہتی ہے۔معرکہ بدر اورواقعہ کربلاآج بھی بپاہے۔ ہمارے اندرکتناعزم ہے اس دین کے نفاذکی سختیاں جھیلنے کی.......سفر حجاز کی یادیں آپ سے سوال کرتی ہیں کہ آج ربّ کعبہ کے بندوں کوبندوں کی غلامی سے نکال کرخالقِ کائنات کی غلامی میں واپس لانے کیلئے اپناکردارکب اداکروگے؟
کچھ بھی تو نہیں رہے گا،کچھ بھی تونہیں بس نام رہے گااللہ کا!

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 226835 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Apr, 2017 Views: 330

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ