سوال کرو ایسے ۔۔۔کہ جواب نکل آئے

(Farooq Tahir, Hyderabad)

سوال پوچھنا ایک فن ہے ۔ فن تدریس علوم کے فروغ کی خاطر اساتذہ سے ایک ماہر کی طرح سوال کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔موثر تدریس اور معیاری اکتساب کے لئے اساتذہ کو معیاری سوال بنانے اور طلبہ کو مناسب سوال پوچھنے کی تربیت فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مشہو ر مقولہ ہے کہ ’’جو ، سوال نہیں کرتا وہ کچھ علم حاصل نہیں کرتا ۔‘‘اس ضمن میں تھیو ڈور اسٹرک (Theodore Struck)نے نہا یت خوبصورتی سے اپنے ایک جملے سے فن تدریس میں سوال کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ’’اگر سوال مناسب وقت اور صحیح طریقے سے کیا جائے تب یہ نہ صرف تفہیم کے نئے افق روشن کرتے ہیں بلکہ علم کی تنظیم و تعلیمی تجربات کو درست کرتے ہوئے بہتر نتائج پیش کرتے ہیں۔‘‘(If used in right way, at the proper time, questions leads to new realms of understanding, and they will serve as means of organizing knowledge or correcting the results of educative experiences)اچھے سوال سامع کی توجہ و دلچسپی کو مبذول کرنے کے ساتھ غورو فکر کی صلاحیت کو مہمیز کرنے ، سوچنے ،پیمائش و جانچ اور استدلال کی صلاحیت کو فروغ دینے کے علاوہ معلومات کی با زیافت اورعلمی وسعت پیدا کرنے میں نہایت معاون ہوتے ہیں۔عموما اساتذہ طلبہ سے ان کی معلومات کی جانچ یا معلومات کے فروغ کے لئے سوال پوچھتے ہیں۔’’کیا،کیوں،کب،کیسے،کہاں،کون ،جیسے بنیادی سوالات کو’’ اکتساب۔تدریس اور جانچ ‘‘کے درران بڑی مہارت اورمناسب طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔استفہام کی کامیابی کا دارو مدار مختلف تعلیمی سرگرمیوں کی انجام دہی کے دوران،مختلف حالات کے پس منظر میں تیار کردہ سوالات کے معیار اور ان کی پیش کش پر منحصر ہوتا ہے۔اساتذہ کی جانب سے کیا جانے والاہر سوال طلبہ کے ذہنوں کو متحرک کرنے ،غور و فکر کی دعوت دینے ،اکتساب کے فروغ کے علاوہ دانشوری کی سطح میں اضافے کا باعث ہونا چاہیئے۔سوالات کے عامیانہ طریقے جس سے صرف اکتساب شدہ معلومات کا اعادہ یا معلومات کی بازیافت کا کام ہوتا ہے کے برخلاف اساتذہ اپنے سوالات کے ذریعہ طلبہ کو مروجہ و روایتی سوچ سے ہٹ کر سوچنے ،تجسس پیدا کرنے والے اور ان کو مزید سیکھنے کی طرف مائل کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو للکار نے والے سوالات سے کام لیں۔اگر سوالات کرنے کا طریقہ کار یا تکنیک مناسب نہ ہو اور اغلاط و تشکیک سے پر ہو ں تب اس کی اصلاح کے بغیر تدریسی کاز میں پیشرفت مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجاتی ہے۔سوالات کے معیار اور انداز میں تبدیلی کے بغیر تعلیمی و تدریسی مقاصد کا حصول بہت ہی دشوار ہوجاتا ہے۔ طرزاستفہام و استفسار (سوالات بنانے اور پوچھنے) پر عبور حاصل کرتے ہوئے نہ صرف تدریس کو آسان بلکہ موثر ،دلچسپ اور پرکیف بنایا جاسکتا ہے۔

سوالات کرنے یا پوچھنے کے مقاصد؛۔ پیشہ درس و تدریس میں سوالات کرنے یا پوچھنے کے درج ذیل مقاصد پر ہوتے ہیں۔
(1)درس و تدریس کے اثرات کا جائزہ لینا اور طلبہ میں موضوع کی تفہیم کے حدود کا اندازہ قائم کرنا۔(2) طلبہ کو اکتساب پر اکسانے ،راغب کرنے کے علاو ہ تجسس ،تخیل ،دلچسپی پیدا کرنا۔(3)معیاری سوچ کی اعلیٰ سطح کا فروغ۔(4) طلبا کی اکتسابی عمل میں فعال شرکت کی حوصلہ افزائی اور کمرۂ جماعت میں طلبا مرکوز تدریس کو یقینی بنانا۔(5)تدریس اسباق کے دوران اور اختتام پر معلومات کا اعادہ اور اکتساب کو پائیدار بنانا۔(6)طلبا کی تفہیم و معلومات کی جانچ کے لئے ان کی سابقہ جماعتوں کی معلومات کا اعادہ و بازیافت ۔(7)طلبہ کی مخفی صلاحیتوں کوعیا ں کرنا ، ان میں پوشیدہ تخلیقی و دیگر صلاحیتوں کی بازیافت۔(8)طلبا کے اکتساب میں مانع مخصوص مشکلات کی تشخیص انجام دینا۔(9)طلبا ء کی رجحان و رویہ سازی کرنا، کھوج و دریافت کی صلاحیت کو فروغ دینااور قدردانی و استحسان کا جذبہ پیدا کرنا۔

سوالات کے پوشیدہ عیوب؛۔
نا قص طریقہ استفہامیہ سوالات کے پس پردہ مقاصد کی غلط تعبیر و تفہیم کا باعث بنتا ہے۔مناسب استفہام کی تکینک کے عدم استعمال کی وجہ سے معلنہ تدریسی مقاصد تک رسائی مشکل ہوجاتی ہے۔عام طور پر طلبہ سے اساتذہ جو سوالات کرتے ہیں ان میں درج ذیل معائب و نقائص پائے جاتے ہیں۔
(1)ناقص سوالات کی تشکیل جو طلبہ میں تشکیک اور الجھن پیدا کرتے ہوئے انہیں جواب دینے سے باز رکھے۔(2)طلبہ سے متواتر کئی سوالات کرنا۔(3)طلبہ سے سوالات تو کرنا لیکن انھیں سوچنے اور جواب دینے کے لئے مناسب وقت فراہم نہ کرنا۔(4)سوالات تو کرنا لیکن غلط جواب کی اصلاح نہ کرنا،یا جواب کے غلط حصہ کی اصلاح نہ کرنا یا پھر اصلاح کے ذریعہ صحیح جواب کی تشکیل میں رہبری نہ کرنا۔(5)دھمکانے والے انداز میں سوال کرنا جس کی وجہ سے طلبا خود اعتمادی کھودیتے ہیں اور جواب دینے سے خود کو عاجز پاتے ہیں۔
(6) ایک جیسے کئی سوالات جن کے جوابات ہا ں یا نہیں میں دیئے جاسکتے ہیں سے اساتذہ کا احتراز ضروری ہے جو رفتہ رفتہ طلبا کو اندازے پر ابھار تے ہیں اور حقیقی اکتساب سے محروم کردیتے ہیں۔(7)تخلیقیت ،تنقیدی سوچ اور فکر کو مہمیز کرنے والے سوالات نہ کرنا۔(8)جماعت کے ذہین طلبا سے ہی سوال کرنا اور جماعت کے دیگر طلبا سے سوال نہ کرنا،یا جماعت کے تمام طلباء کو جواب دینے کا یکساں موقع فراہم نہ کرنا۔(9)سوالات میں تنوع و تبدیلی کو شامل نہ کرنا۔(10)سوال کو سزا کے طور پر یا طلبا کو خاموش کردینے کے لئے مشکل سوالات کرنا۔(11)طویل لمبے لمبے سوال کرنا غیر ضروری اور مشکل الفاظ سے پر سوالات کرنا۔ (12)کسی خاص مقصد کے بغیر سوال کرنے سے طلبا میں اکتساب کا عمل مجروح ہونے کے علاوہ قیمتی وقت بھی ضائع ہوجاتا ہے۔

موثر استفہام؛۔
اساتذہ موثرسوالات کے ذریعے بامقصد و موثر تدریس کو انجام دے سکتے ہیں۔درس و تدریس ہر قدم پر توجہ اور احتیاط کی متقاضی ہوتی ہے۔اساتذہ درج ذیل تجاویز پر عمل کرتے ہوئے استفہام و استفسار کو کارآمد اور موثر تدریسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔
(1)سوالات آسان عام فہم زبان میں تشکیل دیئے جانے چاہیئے۔اگر سوال پیچیدہ اور مشکل ہوں تب اس کو عا م فہم اور آسان بنانے سے تدریس کارآمد اور موثر ہوجاتی ہے۔اسباق کی تدریس سے قبل سوالات کی تشکیل بہت ہی اہم ہوتی ہے۔ اساتذ ہ کو اس ضمن میں لاپرواہی سے کام نہیں لینا چاہیئے۔(2)ہاں یا نہیں پر مشتمل زیادہ سوالات نہیں پوچھنے چاہیئےِ۔طلبا کی فعال تدریس میں شرکت اور محرکہ پیدا کرنے کی خاطر ہر طالب علم کو جواب دینے کا یکساں موقع اور ترغیب دینا چاہیئے۔(3)طلبا کی ذہنی و تعلیمی استعداد کو ملحوظ رکھتے ہوئے سوال کریں۔ذہین طلبہ سے اعلیٰ فکر پر مشتمل سوالات کریں اور تعلیمی اکتسابی مشکلات سے دوچار طلبہ سے آسان سوالات کریں۔یہ طریقہ کار طلبہ میں ترغیب و تحریک کی مختلف سطحوں کوبرقرار رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔(4)سوال پوچھنے کے بعد جواب دینے یا جواب کی تشکیل کے لئے وقت فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے خاص طور پر مشکل اور گنجلک سوالات کے جوابات کے لئے تو یہ بہت ہی ضروری ہے۔(5)سوالات صرف معلومات کا اعادہ کرنے یا یاداشت کی پیمائش پر مشتمل نہ ہوں بلکہ سوالات تخلیقی سوچ اور تنقید ی فکر ابھارنے اور مہمیز کرنے پر مشتمل ہونے چاہئیے۔(6)سوالات استفہامیہ انداز میں ہونے چاہیئے اور مناسب سوالات کا آغاز سوالیہ الفاظ جیسے کون،کیا،کب، کہاں،کیسے سے شروع ہوناچاہیئے۔’’مجھے کون بتائیے گا؟‘‘جیسے فقروں کا سوالات میں ہرگز استعمال نہ کریں۔(7)تمام جماعت سے ایک ہی سوال پوچھنے کے بعد بلاترتیب طلبہ سے جواب طلب کریں۔(8)چند سوالات پوچھنے کے بعد بعض مرتبہ استاد بچوں کو خاموشی سے اپنے ذہن میں جواب سوچ لینے یا پھر تحریری جواب دینے کی تلقین کر سکتے ہیں۔(9)طلبہ کے جواب دینے سے پیشتر سوال کو دہرانے سے بھی بہت فائدہ ہوتا ہے اور طلبہ بہتر طور پر جواب دینے کے لائق بن جاتے ہیں۔ اساتذہ اس طریقہ کار پر عمل پیرا ہوکر موثر تدریسی فرائض انجام دے سکتے ہیں۔(10)اساتذہ،طلبہ کو سوال بنانے اور سوال پوچھنے پر ابھاریں۔طلبہ کو جب استاد کے ترتیب کردہ سوالات کے مطابق چند سوال تیار کرنے کی سرگرمی دی جاتی ہے یہ سرگرمی طلبہ میں اکتسابی اشتیاق پیدا کرنے میں نہایت معاون ہوتی ہے۔

کلاس روم(کمرۂ جماعت) میں سوالات کرنے کا طریقہ کار؛۔
استاد طلبہ کے آگے پرمعز ،اچھی طرح سے سوچے سمجھے سوالات بالکل آسان اور عام فہم زبان میں رکھیں۔اساتذہ سوال کرنے کے بعد سوچنے ،غور و فکر کرنے اورطلبہ کو اپنیذہن میں جواب تشکیل دینے کا وقت اور موقع فراہم کریں۔ سوال کا جواب کسی ایک طالب علم کا انتخاب کرتے ہوئیحاصل کریں۔ مجموعی یا گروہی جوابدہی سے بالکل اجتناب ضروری ہوتا ہے۔گروہی جواب دہی کی ہرگز حوصلہ افزائی نہ کریں۔ کیونکہ گروہی جواب دہی سے کمرۂ جماعت کا نظم و ضبط درہم برہم ہونے کے علاوہ طلبہ جواب بھی ٹھیک طور پر سننے اور سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اساتذہ صحیح اور اچھا جواب دینے والے طالب علم کی ستائش اورتعریف و توصیف کریں۔ اچھے اور صحیح جوابات کو دہرائیں تاکہ ان کو تمام طلبہ سن کر اپنے ذہنوں میں محفوظ کر سکیں۔غلط تفہیم کے ازالے کے لئے فی الفور غلط جواب کی اصلاح کریں تاکہ طلبہ کو درست اور بہتر معلومات حاصل ہوسکے ۔تشکیک اور الجھن سے طلبہ کے ذہنوں کو پاک رکھا جاسکے۔طلبہ کو جواب کے لئے ابھارنے اور ترغیب دینے کے لئے موقع کی مناسبت سے اشارے و کنایے فراہم کریں۔استاد کا مشفقانہ رویہ الجھن کا شکار اور متذبذب طلبہ کو جواب دینے کا حوصلہ فراہم کرتا ہے۔استاد بچوں کے جوابات پر چپ نہ سادھ لیں بلکہ صحیح اور غلط جواب کی نشاندہی ضرور کریں۔طلبہ کو اپنے دیئے گئے جواب کی درستگی کا ادراک ا ور سوال کا فہم بہت ہی ضروری ہوتا ہے۔ تنوع ،تخلیقی سوچ اور تنقیدی فکر کو اجاگر کرنے والے سوالات کی تشکیل کے ذریعہ اساتذہ موثر تدریس انجام دے سکتے ہیں۔سوالات میں تنوع کے ذریعہ طلبہ میں تحریک و رغبت کو پیدا کیا جاسکتا ہے۔تعلیمی طور پر شاندار صلاحیت کے حامل غیر معمولی ذہین طلبہ کے معیار کے مطابق مشکل اور کم تعلیمی لیاقت کے حامل طلبہ سے ان کے معیار اور استعداد کے مطابق آسان سوالات کریں۔جماعت کے تمام طلبہ سے سوالات پوچھیں اور سب طلبہ کو جواب دینے کا یکساں موقع فراہم کریں تاکہ فعال تدریس کی انجام دہی کو ممکن بنایا جاسکے اور تمام طلبہاکتسابی عمل میں یکساں طور پر شریک ہو سکیں۔طلبہ اگر غلط جواب دیں تو ہرگز کی ان کی تنبیہ ،تحقیرو تضحیک نہ کریں بلکہ نہایت شفقت سے صحیح جواب دینے پر مائل کریں۔ غلط جواب دینے پر یا سوال کا جواب نہ دینے پر ہر گز سزا سے کام نہ لیں۔طلبہ کو ان کے شکوک و شبہات کے ازالہ کے لئے سوال کرنے اور اپنی رائے پیش کرنے کی مکمل آزادی دی جانی چاہیئے۔بعض مرتبہ اساتذہ طلبہ کو سوالات کے جوابات تحریر کر نے کے علاوہ اپنی تجاویز و رائے کے اثبات کے لئے جماعت کے دیگر ساتھیوں سے بحث و مباحثہ کا موقع بھی فراہم کرے۔استاد کمرۂ جماعت میں کسی طالب علم کی جانب سے پوچھے گئے سوال کا جواب خود دینے کے بجائے جماعت سیکسی طالب علم کو آگیکر تے ہوئے جواب دینے کا موقع فراہم کرے۔جو طالب علم رضاکارانہ طور پر سوال کا جواب دینے کے لئے آگے آئے استاد اس کی حوصلہ افزائی کرے۔اس طرح کا عمل طلبہ کو نہ صرف جماعت میں پوچھے جانے والے کسی بھی سوال کا جواب دینے کے لائق بنا تا ہیبلکہ طلبہ میں خود اعتمادی اور خود اکتسابی کی فضاء کو بھی پروان چڑھاتا ہے۔کب ،کیوں ،کیسے،کہاں، جیسے الفاظ جب بھی سر اٹھاتے ہیں یہ یا تو طلبہ کے تجسس کو بڑھاتے ہیں یا پھر ان کے تجسس کی وجہ تسکین بنتے ہیں۔ استاد یا طلبہ کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالیہ و استفہامیہ جملے طلبہ کے فطری تجسس کی تسکین کے ساتھ شعور و دانشوری کے فروغ میں کلیدی کردار انجام دیتے ہیں۔سوال کو علم کی کلید کہا جاتا ہے۔اساتذہ کو طلبہ کے سوالات سے کبھی متنفر نہیں ہونا چاہیئے۔استادسوال کرنے پر بچوں کو طنز و تشنعہ کا نشانہ نہ بنائیں۔اساتذہ کی طعن و تشنعہ کی وجہ سے طلبہ حصول میں اکتاہٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔اساتذہ کے سخت و سست کہنے کی وجہ سے وہ آئیندہ کبھی کوئی سوال کرنے سے اجتناب کرنے لگتے ہیں۔دوران تدریس سوال پوچھنے کا مقصد طلبہ کی سبق میں دلچسپی کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔اساتذہ کو اس بات پر خاص توجہ دینے کہ ضرورت ہوتی ہے کہ بچوں میں بے کار اور فضول قسم کے سوالات کرنے کی عادت نہ در آئے۔مناسب ومعیاری سوال کرنے کی عادت کے فروغ کے ذریعہ اساتذہ طلبہ میں اکتساب کی شرح و معیار کو روز افزوں ترقی دے سکتے ہیں۔استاد بھی لایعنی سوالات سے مکمل احتراز کریں اور حکمت و شعور سے کام لیتے ہوئے مفید سوالات کریں۔ سوال کرنے اورجواب دینے میں ہچکچاہٹ و تذبذب کے شکار طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں۔سبق کے اختتام پر اساتذہ کو ایسے سوال مرتب کرنے ضروری ہوتے ہیں جس سے نفس مضمون و موضوع کا طلبہ کو شرح صدر ہوجائے یعنی مفہوم و معنی ذہن نشین ہوجائے۔سبق کے اختتام پرسوالات ایسے ہوں جو موضوع کے مختلف زاویوں کا احاطہ کرتے ہوئے طلبہ کو تشکیک و الجھن کی تاریکیوں سے علم کے اجالوں میں لے آئیں۔استاد محتاط و ماہرانہ انداز میں سوالات کی ،تشکیل و ترتیب انجام دیں اور مناسب و برمحل سوال کرتے ہوئے بچوں کی علمی دلچسپی کو برقرار رکھے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: farooq tahir

Read More Articles by farooq tahir: 114 Articles with 101480 views »
I am an educator lives in Hyderabad and a government teacher in Hyderabad Deccan,telangana State of India.. View More
04 Apr, 2017 Views: 1184

Comments

آپ کی رائے