فن تدریس میں سوال کی اہمیت

(Farooq Tahir, Hyderabad)

 (پہلے شائع شدہ مضمون سوال کرو ایسے ۔۔۔ کہ جواب نکل آئے سے پیوستہ )
اساتذہ ،طلبہ کے جوابات کا کیسے سامنا کریں؛۔
طلبہ کے فہم کی گہرائی و گیرائی ان کے دیئے جانے والے جوابات سے مترشح ہوتی ہے۔اساتذہ کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کا جب بھی طلبہ جواب دیتے ہیں استاد کو اس کا بروقت جواب دینا ضروری ہوتا ہے۔اگر جواب درست ہو تب استاد طالب علم کی ستائش و تعریف کے ذریعے حوصلہ افزائی کا کام انجام دے۔چند صحیح جوابات جو بہت اچھے ہوتے ہیں ان کو باربار دہرا تے ہوئے جماعت کے دیگر طلبہ کے لئے موضوع و مفہوم کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کیا جاسکتا ہے۔غلط جواب کو استاد دیگر طلبہ سے وہی سوال دہراکر درست جواب حاصل کرنے کی کوشش کریں یا پھر صحیح جواب بتاکر طلبہ کی رہبری و رہنمائی کے فرائض انجام دیں لیکن غلط و غیر درست جواب پر طلبہ کی ہرگز سرزنش نہ کر یں۔اگر طلبہ کا جواب جزوی درست ہوتو استاد ماباقی غلط جواب کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کو درست کرتے ہوئے طلبہ کی مدد کریں۔اساتذہ کو طلبہ کی جانب سے جب کبھی ادھورا جوابات موصول ہوں وہ اسے مکمل کرتے ہوئے دلچسپ اور بامعنی بنادیں۔بعض موقعوں پر طلبہ تفنن طبع اور شرارت کی وجہ سے ذومعنی اور شرارت سے پر جوابات دیتے ہیں ایسے حالات میں استاد کو نہایت چوکسی سے کام لیتے ہوئے ماحول کو قابو میں رکھنیکی ضرورت ہوتی ہے،طلبہ کو خبردار کرنا ضروری ہوتا ہے ورنہ جماعت کا نظم وضبط درہم برہم ہوجاتا ہے۔اساتذہ ،طلبہ کے جوابات کے تناظر میں ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کی کوشش کریں۔دانشوری سے کام لیتے ہوئے اپنے تدریسی فرائض انجام دیں تاکہ بامعنی فعال اور کارآمد تدریسی فرائض کو انجام دیتے ہوئے اکتساب کے نئے افق کو دریافت کرسکیں۔

کمرۂ جماعت میں طلبہ کے جوابات پر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اساتذہ اکتسابی عمل کو بہتر بناسکتے ہیں۔اساتذہ کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ اجتماعی جواب دینے (گروپ آنسرنگ) سے طلبہ کو باز رکھیں۔اجتماعی جوابات سے کمرۂ جماعت کا نظم وضبط خراب ہونے کے علاوہ درس و تدریس (درس و اکتساب)کے عمل میں بھی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔طلبہ میں جواب دینے کے طور طریقوں اور انداز و سلیقہ کو اساتذہ پروان چڑھانے کی کوشش کریں۔طلبہ کی جانب سے دیا جانے والا جواب واضح ،اچھی طرح سے سوچا سمجھا ،منظم و مربوط ہونے کے ساتھ تمام جماعت کے لئے قابل سماعت ہو۔استاد کی جانب سے دیا جانے والا ردعمل طلبہ کو جوابات کی طرف مائل کرتا ہے استاد کا ردعمل ان میں اشتیاق پیدا کرتا ہے کہ وہ استاد کے ہر سوال کا جواب دے سکیں۔بعض مرتبہ طلبہ استاد کے سوالات کے جوابات دینے سے چوک جاتے ہیں اس کی اصل وجہ سوالات کی ناقص تشکیل و تنظیم ہوتی ہے۔جب استاد کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتے تب وہ فی الفور اپنے سوالات کی ازسر نو ترتیب دیتے ہوئے بچوں کو جواب دینے کی طرف مائل کرے۔بعض بچے اپنی شرم ،تذبذب اور اکتسابی مسائل کی وجہ سے جواب دینے سے احتراز کرتے ہیں ۔ان بچوں میں اعتماد کی فضاء بحال کرنے میں استاد ایک کلیدی کردار انجام دیتا ہے۔تذبذب ،شرم اور اکتسابی مسائل سے دوچار طلبہ کے لئے استاد سوالات میں سے دیگر سوالات کی تشکیل وترتیب کے ذریعہ ان کو تعلیمی میدان کے اہم دھارے میں شامل کرنے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔استاد کا برتاؤ و طرز عمل بچوں سے تذبذب ،شرم اور دیگر اکتسابی مسائل کے خاتمے میں اہم کردار کا حامل ہوتا ہے۔

مناسب سوالات پوچھنے کے فوائد؛۔
(1)مناسب طریقے سے ترتیب و تشکیل کردہ سوالات کو بروقت و مناسب موقعوں پر استعمال کرنے سے طلبہ میں استدلال کی صلاحیت کو پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔اساتذہ بہتر انداز استفہام کے ذریعہ طلبہ کی قوت متخیلہ کو مہمیز کرنے کے علاوہ تخلیقی صلاحیتوں کو اور تنقیدی و تفتیشی صلاحیتوں کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔
(2)مناسب و بہتر استفسارات کی بدولت طلبہ کی گزشتہ اسباق یا جماعت کی معلومات کی بازیافت ، یاد آوری ممکن ہوتی ہے۔بہتر سوال کی مدد سے نئی معلومات کو سیکھنے میں آسانی ہوتی ہے اور گزشتہ معلومات اورنئی معلومات (معلومات جدیدہ) کے درمیان رشتہ استوار کرنے میں کافی مدد حاصل ہوتی ہے۔
(3)سوالات کی وجہ سے اساتذہ طلبہ کی تعلیمی ترقی کی پیمائش اور جانچ کا کام احسن طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔سوالات ہی کے ذریعہ اساتذہ بچوں کو تعلیمی مقاصد کے حصول کی جانب گامزن کرتے ہیں اور بچوں میں پائے جانے والی تعلیمی مسائل و مشکلات کا ادراک حاصل کرتے ہیں۔
(4)سوالات مختلف اوقات میں طلبہ کی تعلیمی صلاحیتوں کے معیار کی جانچ و پیمائش کا کام انجام دیتے ہیں ۔جانچ و پیمائش کے دوران پیش کردہ تجاویز و آرا طلبہ کی تعلیمی ترقی میں نہایت کلیدی کردار کے حامل ہوتے ہیں۔
(5)سوالات تعلیم و فہم کو گہرائی و گیرائی عطا کرتے ہیں۔سوالات کی وجہ سے معلومات و علم میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔
(6)سوالات کی وجہ سے طلبہ آزادانہ طور پر غور و فکر کرنے ،سوچنے کے متحمل ہوجاتے ہیں۔دوران تدریس ہونے والے اندرون جماعت مکالمات طلبہ میں اعتماد و یقین کی کفیت پیدا کر تے ہیں۔
(7)استاد کی جانب سے بہتر سوالات کی ترتیب و تنظیم اور پیش کش طلبہ میں تجسس کے فروغ میں معاون ہوتی ہے۔ استاد کی جانب سے کیئے جانے والے سوالات طلبہ کو مزید سوالات کرنے اور پوچھنے کا متحمل بنا دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں تعلیمی دلچسپی مزید فروغ پانے لگتی ہے۔
(8)سوالات کی وجہ سے طلبہ میں توجہ (Concentration)کو فروغ حاصل ہوتا ہے طلبہ کی توجہ میں خلل پیدا نہ ہونے کی وجہ سے ان میں افہام و تفہیم کی صلاحیتں فروغ پانے لگتی ہیں۔
(9)سوالات کی وجہ سے طلبہ استاد سے گفتگو کرنے لگتے ہیں اور طلبہ جس قدر استاد سے گفتگو کریں گے ان میں تعلیم سے دلچسپی اسی قدر بڑھتی جائے گی۔

سوالات کی درجہ بندی؛۔ بہتر سوال کی ایک خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ فکر کو مہمیز کر تا ہے اور مختلف و متغیر حالات میں بھی مقا صد کی تکمیل کو اولین ترجیح دیتا ہے ۔مختلف حالات میں مقصد کے پیش نظر مختلف سوالات کا انتخاب عمل لانا ایک عمدہ تدریس کا اٹوٹ حصہ ہوتا ہے۔سوالات بنانے اور کرنے کے فن میں دسترس حاصل کرنے کے لئے اساتذہ کو سوالات بنانے اور کرنے کے مختلف طریقوں سے آگہی ضروری ہوتی ہے۔سوالات کرنے کے مختلف طریقے اور سوالات کے مختلف اقسام پائے جاتے ہیں۔سوالات کے مختلف و وسیع اقسام جو اساتذہ کو سوال کرنے کے فن سے آراستہ کرنے میں مددگار ہوتے ہیں ان کو ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔
(1)مربوط ومتصل سوالات (Convergent Questions)
(2)مختلف ،منتشر و غیر مربوط سوالات(Divergent Questions)
مربوط و متصل سوالات بنیادی طور پر حقائق کے اعادہ یا بازیافت اور براہ راست جوابات پر توجہ مرکوز کیئے ہوتے ہیں۔عموما یہ سوالات کسی ایک جواب پر مشتمل ہوتے ہیں اور ان سوالات میں اعلیٰ سطح کی فکر شامل نہیں ہوتی ہے۔کمرۂ جماعت میں تدریس کے دوران مربوط و متصل سوالات (convergent questions)کو تدریسی منصوبے میں کم وقت کے صرفے کی وجہ سے شامل کیا جاتا ہے ۔جب کہ متنوع ،مختلف و غیر مربوط سوالات میں ذہنی توانائی و صلاحیت کو بروئے کار لا یا جاتا ہے اور یہ سوالات فکرکی اعلیٰ سطح کی غمازی کرتے ہیں۔یہ سوالات طلبہ میں وسیع فکر کو جگہ دینے کے ساتھ تخلیقی و تخیلاتی اظہار کو استوار کرتے ہیں۔اعلیٰ سطح کے سوالات کی وجہ سے معلومات کے حصول مسائل کے تدارک اور حل میں مصروف رہتے ہیں۔طلبہ میں تخلیقی و تنقیدی فکر کو پروان چڑھانے کے لئے اساتذہ کو (Divergent Questions)متنوع و مختلف سوالات سے کام لینا ضروری ہوتا ہے۔سوالات کی مزید دو درجہ ذیل اقسام کی نشاندہی کی گئی ہے۔
(1)سطحی یا کم درجے کی سوچ پر مبنی سوالات(Questions involving lower level of thinking)
(2)اعلیٰ درجے کی سوچ پر مبنی سوالا ت (Questions involviing higher level of thinking)
سابقہ معلومات کو دہرانے (آموختہ)،پڑھنے،نام ،وضاحت ،بتانا(دکھلانا) ،یا مفہوم پوچھنا جیسے سوالات طلبہ میں اعلی فکر کو پروان چڑھا نے میں مددگار نہیں ہوتے ہیں۔برخلاف اس کے بچوں کو مسئلہ کے حل پیش کرنے یا کسی سوال کو حل کرنے، سمجھنے،تخلیقی اظہار،تجزیہ ،توجیہ و تعلیل ،موازنہ کرنے،نتائج اخذ کرنے،یا نتائج کی پیش قیاسی کرنے جیسے سوالات بچوں میں اعلیٰ معیاری فکر کو پروان چڑھانے میں بے حد مددگار ہوتے ہیں۔ایسے سوالات بچوں میں غور و فکر کرنے کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے علاوہ کمرۂ جماعت میں ان کو فعال ومتحرک رکھتیہیں۔اساتذہ کو سوالات کی تشکیل اور انتخاب میں بہت ہی عقلمندی و ہوشیاری سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ استاد کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کی وجہ سے طلبہ میں اظہارکی صلاحیت، ردعمل یا جواب دینے کی صلاحیت ،فکر کو پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ معلومات و فہم پیدا کرنے میں معاون ہوں۔استاد کی جانب سے کمرۂ جماعت میں انجام دیئے جانے والے سوالات کو مزید تین درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔
(1)تمہیدی یا تعارفی سوالات(2)سبق سے متعلق سوالات(3)معلومات کے اعادے سے متعلق سوالات
تعارفی یا تمہیدی سوالات سبق کے آغاز پر پوچھے جاتے ہیں اور ان سوالات کے ذریعے پڑھائے جانے والے مضمون سے وابستہ طلبہ کی سابقہ معلومات اور موضوع سے متعلق ان کے فہم کا اندازہ قائم کرنا مقصود ہوتا ہے۔طلبہ کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے کے لئے اساتذہ کو سبق کے آغاز پر اچھے سوالات پوچھنے کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ طلبہ کو اکتسا ب کی جانب آسانی سے مائل و متوجہ کیا جاسکے۔سبق سے متعلق سوالات کو سبق کی تدریس و تفہیم کے دوران وقفے وقفے سے پوچھنے سے طلبہ کو مضمون ذہن نشین اور ازبر ہوجاتاہے۔مضمون کی تدریس کے دوران اساتذہ خو د سوالات پوچھنے کے علاوہ طلبہ کو بھی سوال کرنے کا موقع فراہم کریں تاکہ ان کے شکوک و شبہات کا بہتر طور پر ازالہ ہوسکے اور مضمون کے استحضار و تفہیم میں ان کو کوئی دشوار ی نہ ہوسکے۔سبق کے اختتام پر پڑھائے گئے موضوع سے متعلق معلومات اور موضوع کے فہم کی جانچ کے لئے سوالات کرنے سے طلبہ کے فہم کی گہرائی اور گیرائی کا بخوبی انداز ہ قائم کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ اعادے کے سوالات کی وجہ سے نفس مضمون بھی طلبہ کے ذہنوں میں محفوظ ہوجاتا ہے۔

سوالات کی چند اہم اقسام؛۔طلبہ سے بہترجواب کی توقع کرنے کے لئے اساتذہ کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ مناسب طریقے سے سوالات کی تشکیل انجام دیں تاکہ جواب دیتے وقت طلبہ کسی الجھن پریشانی اور تشکیک کے بہتر طریقے سے سوال کا جواب دے سکیں۔غیر موزوں ،غیر منظم اور سبق کی تدریس سے پیشترسوالات کو ترتیب نہ دینے سے مضمون کے بارے میں طلبہ تشکیک اور الجھن کا شکار ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ نفس مضمون کی تفہیم بھی نہیں کر پاتے ہیں جس کی وجہ سے استاد کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے وہ غلط جوابات دینے لگتے ہیں۔موثر تدریس کی انجام دہی کے لئے اساتذہ کو مختلف قسم کے سوالات تیار کرنے اور ترتیب دینے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ذیل میں بیان کردہ سوالات کے اقسام اساتذہ کے لئے تدریسی عمل میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
(1)فضائی آلودگی پھیلانے والے مختلف ذرائع کیا ہیں؟(سابقہ معلومات کی جانچ و اعادہ)
(2)زلزلے کی شدت کی پیمائش کرنے کا آلہ کس نے ایجاد کیا؟(سابقہ معلومات کی جانچ و اعادہ)
(3)فرانسیسیوں نے ہندوستان میں کب حکومت قائم کی ؟(سابقہ معلومات کی جانچ و اعادہ)
(4)وزیر اعظم کیوں ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہیں؟(سابقہ معلومات کی جانچ و اعادہ)
UNESCO(5)مخفف کی توسیعی شکل کیا ہے؟(سابقہ معلومات کی جانچ و اعادہ)
(6)ربر کی کاشت اور پیداوار کرنے والی ہندوستانی ریاستوں کے نام بتلائیے؟(سابقہ معلومات کی جانچ و اعادہ)
(7)انسان کے جسم میں دل کہا پایا جاتاہے؟(سابقہ معلومات کی جانچ و اعادہ)
(8)ٹھوس شکل میں پائی جانے والی دو غیر دھاتوں کی مثال دیجئیے؟(سابقہ معلومات کی جانچ و اعادہ)
(9)مرکزہ کے افعال بیان کیجئے؟(سابقہ معلومات کی جانچ و اعادہ)
(10)سولار ہیٹر(solar Heater)کے کام کرنے کے طریقے کار کو بیان کرو؟(فہم کی جانچ)
(11)نظم پرندے کی فریاد کا خلاصہ لکھیئے؟(فہم کی جانچ)
(12)جنگلات کی کٹائی کو کیسے روکا جاسکتا ہے؟(اطلاقapplication)
(13)ایک ایک کتا ب کی قیمت بیس (20)روپے ہے۔تب بتلائے کے احمد سو روپوں میں کتنی کتابیں خرید سکتا ہے۔(اطلاق application)
(14)نباتاتی خلیہ(پودے کا خلیہ) اور جانور کے خلیہ کے مابین پائے جانے والے فرق کو بیان کیجئے(تجزیہ)
(15)طول بلد اور عرض بلد کے درمیان فرق کی وضاحت کرو؟(تجزیہ)
(16)سیاروں کو صعودی ترتیب میں لکھیئے؟(تجزیہ)
(17) فطریطور پر گلنے والے (تحلیل پذیر bio degradable) اور غیر فطری طور پر گلنے والے (غیر تحلیل پذیر non bio degradable)ناکار ہ اشیاء کے درمیان فرق بتلائیے؟(تجزیہ)
(18)چھ کاربن کے جوہر والے alkaneکی ساختی ضابطے کا خاکہ بنائیے؟(ترکیب وتشکیل)
(19)شعاعی ترکیب کی تعریف کیجیئے؟(تعین قدرevaluation)
(20)اگر زمین پر کشش ثقل(gravity)نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟(تعین قدر evaluation)
(21)کیا مثلث کا رقبہ معلوم کرنے والے ضابطہ ہمیشہ کام میں لایا جاسکتا ہے؟(تجزیہ)
(22)رشید کو غذا کی چوری والے خاص مقدمہ میں سزا دی جانے چاہیئے؟(تعین قدر evaluation)
(23)کیا تحلیل ہونے والے اجسام (سڑنے گلنے والے اجسام) کے بغیر آپ دنیا کا اندازہ کر سکتے ہیں؟اپنی رائے کا اظہار کیجیئے؟(تجزیہ)

مذکورہ بالا سوالات کے ذریعہ اساتذہ کو متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ سوالات کی تشکیل و ترتیب کے دوران سابقہ معلومات کی جانچ ،سابقہ معلومات کا اعادہ ،پڑھائے جانے والے سبق کی فہم کا احاطہ کرنے والے، معلومات کا روز مرہ کی زندگی میں اطلاق و استعمال کا جذبہ پیدا کرنے والے،تخیل و تجزیہ کو مہمیز کرنے والے ،ترکیب و تشکیل کی صلاحیت پیدا کرنے کے علاوہ بچوں کی صلاحیت کی پیمائش کر نے والے سوالات کو اپنی تدریس میں لازمی طور پر شامل کریں ۔مذکورہ بالا اقسام کے سوالات کے ذریعہ تدریس کو یقینی طور پر موثر بنا یا جاسکتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: farooq tahir

Read More Articles by farooq tahir: 114 Articles with 104862 views »
I am an educator lives in Hyderabad and a government teacher in Hyderabad Deccan,telangana State of India.. View More
04 Apr, 2017 Views: 1219

Comments

آپ کی رائے