خواجہ غریب نوازاور دعوت وتبلیغ

(Mohsin Raza Ziyai, )
دینی و ملی خدمات

عطائے رسول سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین حسن چشتی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ محسنِ ہند اور اور ہندوستان میں اسلام اور سنت کی تبلیغ و اشاعت کے عظیم داعی اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کے ہندوستان میں بانی ہیں۔ آپ ہندوستان کے اندر صوفیا و مشائخ کرام کے درمیان سرگروہ اولیاء اور سر خیل اصفیاء کی حیثیت رکھتے تھے۔سر زمین ہند پر آپ کی علمی ، دینی اور روحانی سر گرمیوں اور بے لوث خدمات کے نتیجے ہیں مذہبی و سماجی انقلاب کی جو باد بہار چلی آج اس سے ہندوستان کا چپہ چپہ اور گوشہ گوشہ سرسبز و شاداب ہے۔بر صغیر ہند و پاک کے اولیاء کرام میں سلطان الہند کی غیر معمولی مقبولیت و محبوبیت کا سورج حسب سابق آج بھی نصف النہار پر ہے اور انشاء اﷲ صبح قیامت تک یونہی جگمگاتا رہے گا ۔

سلطان الہند رحمۃ اﷲ علیہ کی حیات مبارکہ کا ہر گوشہ مسلمانان ہند کے لئے روشنی کا مینارہ اور فانوس ہدایت ہے ان کی شخصیت جہاں تصوف و طریقت کی حامل تھی وہیں کتاب و سنت کی شارح اور ترجمان بھی تھی ۔لباس تصوف میں آپ علم دین و عمل صالح کی سراپا تصویر اور جامع شریعت و طریقت تھے۔ عبادت و ریاضت ،اخلاق و کردار ،جہاد و مجاہدہ ،صدقِ مقال ،صفائے نفس،تطہر قلب ،تزکیہ باطن ،اخلاص وللّٰہیت ،اکل حلال ،انسانی مروت و ہمدردی ،خدمت خلق اور دعوت و تبلیغ اور بنی نوع انسانی کی اصلاح و تربیت میں سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اﷲ علیہ نے بالکل وہی طریقہ اپنایا جو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے اختیار فرمایا تھا۔آپ نے یہاں کے لوگوں کو خیر کی دعوت دی ۔چھوت چھات کے بھیانک ماحول میں اسلام کے نظریہ توحید کو عملی حیثیت سے پیش کیا۔

ہندوستان کے کنارہ مشرق تک کفر اور بت پرستی کا دور تھا اور خدا کی ذات و صفات میں دوسرروں کو شریک کر رہے تھے اور ظلمت و کفر سے ان کے دل تاریک اور مقفل ہوگئے تھے سب دین و شریعت کے حکم سے غافل تھے ،خدا اور پیغمبر خدا سے بے خبر تھے نہ کوئی سمت قبلہ سے واقف تھا اور نہ ہی کسی نے اﷲ اکبر کی صدا سنی تھی ۔حضرت سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اﷲ علیہ کے مبارک مبارک قدم اس ملک میں پہنچنا تھا کہ ملک کی ظلمت و تاریکی ختم ہو کر نور اسلام سے یہ سر زمین روشن و منور ہوگئی ۔جہاں صلیب و کلیسا تھے ان کی کو ششوں سے مسجد و محراب نظر آنے لگے ،جہاں مشرکانہ صدائیں بلند ہوتی تھیں وہ نعرۂ اﷲ اکبر سے گونجنے لگیں۔ سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اﷲ علیہ صبر و تحمل اور خدمت و بصیرت سے اپنا دعوتی و تبلیغی مشن جاری رکھے رہے ۔رفتہ رفتہ انھیں خاطر خواہ کامیابی مل گئی تو پھر آپ نے دعوت و تبلیغ اور تربیت و اصلاح کے کام کو آگے بڑھاتے ہوئے پرتھوی راج (جو اس وقت کا راجا تھا)کو اسلام کی دعوت پیش کی اور کہا پرتھوی راج! جن جن لوگوں پر تیرا اعتماد تھا وہ خدا کے حکم سے مسلمان ہو چکے ہیں اگر بھلائی چاہتا ہے تو تو بھی مسلمان ہو جا ورنہ ذلیل و خوار ہوگا مگر پرتھوی راج نے اس دعوت توحید کو قبول نہ کیا ۔ سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اﷲ علیہ نے مراقبہ کیا کچھ دیر کے بعد سر اٹھا کر فرمایا اگر یہ بد بخت ایمان نہ لایا تو میں اس کو اسلامی لشکر کے حوالے زندہ گرفتار کروادوں گا چنانچہ یہی ہوا فاتح ہند سلطان محمد غوری کی تاریخی فتح خواجۂ ہند کے اسی کرامت آچار جملے کی برکت کے طفیل ہوئی ۔پرتھوی راج اور اس کے ہوا خواہوں کے ذریعے خواجۂ ہند کے دعوتی و اصلاحی مشن کی خوب مخالفت ہوئی لیکن خواجۂ ہند کے پائے استقامت میں ذرہ برابر لغزش نہیں آئی اور آپ نے مخالفتوں کی سخت آندھیوں میں تبلیغ و اشاعت اسلام کی کوششوں کو کسیی طرح مدھم نہ ہونے دیا۔

خدمت انسانیت: سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنی تربیت و صحبت سے بلا تفریق مذہب و ملت و امتیاز یگانہ و بیگانہ لوگوں کے اندر خدمت انسانیت کا بلند پایا جزبہ پیدا کیا ہر ایک کو دوسرے سے ہمدردی اور خدمت کا ذوق اور جذبۂ فراواں پیدا کیا ان کے نزدیک یہ تقاضہ سماج اور سیاست کا نہ تھا بلکہ اخلاق و انسانیت کا تھا۔سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اﷲ علیہ بچپن کے خوشگوار ایام سے ہی نیک طبع ،خوش خلق ،پیکر صبر و رضا اور شان غریب نوازی کے حامل تھے ۔معین الاولیاء کے حوالے سے عہد طفولیت میں ان کی شان غریب نوازی کا ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں ۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اﷲ علیہ اپنے عہد طفلی میں ایک مرتبہ عید کے موقع پر نہایت ہی عمدہ لباس زیب تن کئے ہوئے نماز دوگانہ ادا کرنے لئے عید گاہ کی جانب تشریف لے جا رہے تھے راستے میں آپ کی نگاہ ایک لڑکے پر پڑی لڑکا اندھا تھا پھٹے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھا آپ اس لڑکے کو دیکھ کر رنجیدہ ہوئے اور فوری طور پرشانِ غریب نوازی کو جوش آیا آپ نے اپنے کپڑے اتار کر اس غریب اور اندھے لڑکے کو دے دیا اور خود پرانے کپڑے پہن کر اس لڑکے کو اپنے ہمراہ لے گئے ۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اﷲ علیہ کو وراثت میں جو کچھ ملا تھا آپ نے سب کو فروخت کرکے درویشوں میں تقسیم کر دیا ۔سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اﷲ علیہ لوگوں کے ظاہری و باطنی اصلاح کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے اور انھیں اتباع سنت نبوی کی تلقین کرتے اس ضمن میں آپ کے کچھ ملفوظات بھی ہیں جس میں آپ فرماتے ہیں جو بندہ رات کو با طہارت سوتا ہے تو فرشتے گواہ رہتے ہیں اورصبح اﷲ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں اے اﷲ اسے بخش دے یہ با طہارت سویا تھا آپ فرماتے ہیں جو شخص جھوٹی قسم کھاتا ہے وہ اپنے گھر کو ویران کرتا ہے اور اس کے گھر سے خیر و برکت اٹھ جاتی ہے آپ فرماتے ہیں خدا کا دوست وہ ہے جن میں یہ تین خوبیاں ہو ۔سخاوت دریا جیسی ،شفقت آفتاب کی طرح ،اور توضع زمین کی مانند ،آپ فرماتے ہیں مصیبت زدہ لوگوں کی فریاد سننا اور ان کا ساتھ دینا حاجتمندوں کی حاجت روائی کرنا بھوکوں کو کھانا کھلانا اسیروں کو قید سے چھڑانا یہ باتیں اﷲ کے نزدیک بڑا مرتبہ رکھتی ہیں ۔حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اﷲ علیہ کی زندگی کے ان روشن و تابناک پہلؤوں سے یہ بات اچھی طرح ظاہر ہوگئی کہ آپ نے کس قدر دینی و ملی دعوتی خدمات سر انجام دی ۔یقینا آپ کی خدمات جلیلہ ہمارے لئے بیش قمیتی سرمایہ ہے لہٰذا ہمارے لئے ضروری ہیکہ ہم حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اﷲ علیہ کی سیرت و سوانح کا مطالعہ اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کی حتی الوسع کوشش کرے ۔اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولا تبارک و تعالیٰ ہمیں حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اﷲ علیہ کی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohsin Raza Ziyai

Read More Articles by Mohsin Raza Ziyai: 16 Articles with 12565 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Apr, 2017 Views: 361

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ