دریا میں چھلانگ لگا کر بیٹے تک پہنچنا چاہتی تھی

(Ghulam Ullah Kiyani, )

اے ایف پی کی یہ دیو مالائی کہانی یا الف لیلیٰ کی داستان نہیں بلکہ سو فیصد سچائی پر مبنی ہے۔یہ بچھڑے کشمیریوں کی ہر گھر کی کہانی ہے۔کلبھوشن سنگھ ایک جاسوس تھا جس نے اس کا اقرار بھی کیا۔ اسے پھانسی دینے کا فیصلہ درست ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت ہی نہیں بلکہ وہ خود دہشتگردی کرنے کے لئے ملک میں نام بدل بدل کر جعلی پاسپورٹ پر آتا رہا۔ بھارتی دھمکیوں کے درمیان ان منقسم خاندانوں کی یہ کہانی سنی تو خدشہ بڑھ رہا ہے کہ بھارتی ہٹ دھرمی سے کشمیریوں کو منزل تک پہنچنے کے لئے نہ جانے مزید کتناانتظار کرنا ہو گا۔ محمد اشرف خان26 برس بعد اپنے اہل خانہ سے مل پائے۔آزادکشمیر میں محمد اشرف جب اپنے بچھڑے ہوئے خاندان سے ملے تو ان کی آنکھوں میں خوشی اور غم کے آنسو تھے۔انھوں نے بتایا کہ جب ہم جدا ہوئے اس وقت میرا بیٹا 12 سال کا تھا۔ اب میرا پوتا 16 سال کا ہے۔سنہ 1990 میں مقبوضہکشمیر میں جببھارت کے خلاف تحریک آزادی زور پکڑ رہی تھی تو اس وقت محمد اشرف آزاد کشمیر کے قریب واقع اپنے گاؤں سے دور انڈین فوج کے لیے خدمات سرانجام دے رہے تھے۔اسی سال اکتوبر میں جب انڈین حکام کی جانب سیمجاہدین کے خلاف پڑے پیمانے پر کارروائیوں کی خبریں گردش کر رہی تھیں تو محمد اشرف کا خاندان وہاں سے خوف کی وجہ سے جان بچا کر نکل گیا۔انہوں نے دیگر کشمیریوں کے ہمراہ کیرن کے نزدیک بور گاؤں(وادی نیلم) سے جنگ بندی لائن پار کی اور آزاد کشمیر میں پناہ حاصل کر لی۔محمد اشرف پیچھے رہ گئے۔ اس وقت اس خاندان کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ انھیں دوبارہ ملنے میں تین دہائیاں انتظار کرنا پڑے گا۔محمد اشرف نے بتایا کہ ’میری زندگی کا وہ سنہری وقت گزر چکا ہے جو مجھے اپنے خاندان کے ساتھ گزارنا چاہیے تھا۔‘بطور ایک حاضر سروس انڈین فوجی انھیں پاکستان کے زیرانتظام علاقے میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔محمد اشرف کی زندگی کی کہانی دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کے بعد سے پیدا ہونے والے تنازعات کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔محمد اشرف نے خود کو ایک فوجی ملازمت میں پھنسا ہوا پایا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے سوچا اگر میں نے اپنا عہدہ چھوڑا تو مجھے غدار سمجھا جائے گا۔‘انھیں اپنی ایک بیٹی کی بھی فکر تھی جو ان کے ساتھ انڈیا کے زیرقبضہکشمیر میں رہ گئی تھی۔انڈین فوج میں بطور ایک حاضر سروس فوجی انھیں آزاد کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن سنہ 2006 میں ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے اپنے خاندان سے ملاقات کی کوششیں تیز کر دیں۔انھوں نیسرینگر مظفر آباد بس سروس کے ذریعے سفر کی درخواست دی جومنظور نہ ہوئی۔انھوں نے پاسپورٹ کے لیے درخواست دی تاکہ وہ پنجاب سے واہگہ کے راستہ بین الاقوامی سرحد پار کر کے پاکستان آسکیں لیکن اس کام میں تقریباً دس سال لگے۔اس تاخیر کی وجہ واضح نہیں تھی، ممکنہ طور پر انڈین حکام ایک سابق انڈین فوجی کے پاکستان سفر کرنے کے حق میں نہیں تھے۔بالآخر سنہ 2016 میں پاسپورٹ بن گیا لیکن اس وقت تک اتنی دیر ہوچکی تھی کہ ان کے والد اور والدہ آزاد کشمیر میں انتقال کر چکے تھے۔ان کے بچوں کی شادیاں اور پوتے پوتیوں یا نواسے نواسیوں کی پیدائش ہوچکی تھی۔ان کی 62 سالہ اہلیہ بدر النسا نے بتایا کہ ’میں تمام بچوں کی شادیوں پر روتی رہی کیونکہ میں اپنے شوہر کی کمی محسوس کرتی تھی۔محمد اشرف کے بیٹے محمد اصغر کا کہنا تھا کہ ’میری ماں نے سخت محنت کی۔ ایک خاتون کے لیے اپنے شوہر کے بغیر بچوں کی پرورش ایک بہت مشکل کام ہے۔‘جب سنہ 2003 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تو دونوں ممالک کے حکام کی جانب سے کشمیر کو تقسیم کرنے والے دریائے نیلم کے دونوں اطراف دو ایسے مقامات مختص کیے جہاں سے دونوں اطراف سے رشتے دار دریا کے پار سے ایک دوسرے کو ہاتھ ہلا سکتے ہیں۔محمد اشرف کے خاندان نے بھی بچھڑنے کے 16 سال بعد سنہ 2006 میں ایک بار عید پر ان کی ایک جھلک دیکھی تھی۔یہ دریا تقریباً 80 فٹ چوڑا ہے اور دونوں جانب مسلح افواج لوگوں پر نظر رکھتی ہے۔60 سالہ اشرف جان کا تعلق بھی محمد اشرف کی طرح انڈیا کے زیرقبضہ کشمیر کے گاؤں کیرن سے ہے۔ ان کا خاندان بھی 1990 میں جدا ہوگیا تھا۔اشرف جان بھی دریائے نیلم کے پار اپنے بیٹے عتیق حسین کی ایک جھلک دیکھنے کی دردناک کہانی بیان کرتی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ’میں دریا میں چھلانگ لگانا چاہتی تاکہ اس تک پہنچ سکوں۔‘’میں دریا کے اس جانب رو رہی تھی جبکہ میرا بیٹا دوسری طرف رو رہا تھا۔ ہم بے یار و مددگار تھے۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’انھیں اس سال فروری میں دوبارہ دیکھنا ایسا تھا جیسے دوبارہ جنم لینا۔‘لیکن اشرف جان اور محمد اشرف کا اپنے خاندانوں سے ملاپ عارضی ہے۔ ان کا ویزا صرف ایک ماہ کا ہے۔ انھوں نے ویزے میں اضافی وقت کی درخواست دائر کی ہے اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں رہتے ہوئے انھیں وزارت دارخلہ کی جانب سے جواب کا انتظار ہے لیکن بالآخر انھیں واپس جانا ہی ہوگا۔وہ اپنا انڈین پاسپورٹ چھوڑ کرمظفر آبادمیں مہاجر کیمپ میں رہنے کے لیے مہاجرین کا درجہ حاصل کر سکتے ہیں لیکن محمد اشرف کے نزدیک اس کا مطلب اپنی دوسری بیٹی، گھر اور پینشن کو چھوڑنا ہوگا۔اگر وہ انڈین پاسپورٹ رکھتے ہیں تو وہ دوبارہ واپس آسکتے ہیں۔ لیکن انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اس مسئلے کا مستقل حل دکھائی نہیں دیتا۔محمد اشرف کی بیوی بدرالنسا اسی بات پر پریشان بھی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہجب سے میرا شوہر ہمارے پاس آیا ہے ہم بہت خوش ہیں، لیکن خوشی کے لمحات مختصر ہیں۔ انھیں واپس جانا ہوگا۔ایسے لاتعداد خاندان ہیں جو برسوں سے ایک دوسرے سے ملاقات کے لئے تڑپ رہے ہیں۔لیکن ان کی تڑپ کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 574 Articles with 219597 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
14 Apr, 2017 Views: 492

Comments

آپ کی رائے