پی - 23 کا ضمنی الیکشن کون جیتے گا؟

(Javed Iqbal Anjum, Chakwal)

اگر میں صحیح معنوں میں اہلیان تلہ گنگ کے جذبات کی ترجمانی کروں تو پھر یہ ضمنی الیکشن تو لازماً حکومت مخالف اتحاد کو جیتنا چاہئے۔ چونکہ جس طرح اُن کے ساتھ وعدے کئے گئے اور پھر وہ وعدے وفاء بھی نہ ہوئے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں موجودہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے تلہ گنگ کے جلسہ عام میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آکر تلہ گنگ کو ضلع کا مرتبہ دیں گے مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفاء ہو گیا۔ الیکشن ہو گئے۔ میاں محمد نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم بھی بن گئے مگر اہلیان تلہ گنگ ابھی تک ضلع کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ میں نے موجودہ ضمنی الیکشن کے حوالے سے پی پی 23 کا دورہ کیا تو مجھے احساس ہوا کہ وہاں بچے بچے کی زبان پر ضلع بناؤ کا نعرہ ہے مگر حکومت بڑی طاقتور ہوتی ہے۔ عموماً ضمنی الیکشن حکومتی پارٹی کا اُمیدوار ہی جیتتا ہے۔ 18 اپریل کو بھی امکان یہی ہے کہ حلقہ پی پی 23 پر شیر ہی کامیاب ہو گا۔ یہ سیٹ حلقہ پی پی 23 کے ایم پی اے ملک ظہور انور کی وفات کے بعد خالی ہو گئی تھی۔ اب اس سیٹ پر پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف سے ملک شہریار اعوان اُمیدوار ہیں جو کہ مرحوم ملک ظہور انور کے بھتیجے اور مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب ملک سلیم اقبال کے نواسے ہیں۔ جبکہ ان کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف کے کرنل (ر) سلطان سرخرو اعوان ہیں۔ جبکہ ان کو پاکستان مسلم لیگ (ق) کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ مذہبی ووٹ بھی حافظ عمار یاسر کی وجہ سے ان کو ہی پڑھے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان حلقہ پی پی 23 میں کامیاب جلسہ کر چکے ہیں۔ اُن کے جلسے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی بھرپور شرکت کی۔ مگر اُنہوں نے اپنے عوامی خطاب میں سابق صدر آصف علی زرداری پر کھل کر تنقید کی جس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان تحریک انصاف کی حمایت سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ یاد رہے کہ چکوال میں پاکستان تحریک انصاف کے سرگرم رہنما راجہ یاسر سرفراز ہیں جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سرگرم رہنما شاہ جہان سرفراز راجہ کے کزن ہیں۔ دونوں نے بڑی سیاسی جماعتیں پکڑی ہوئی ہیں۔ حلقہ پی پی 23 کے ضمنی الیکشن میں ان دو اُمیدواروں کے علاوہ بھی چھ اُمیدوار میدان میں ہیں جو کہ اپنی بھرپور انتخابی مہم چلائے ہوئے ہیں۔ اگر اہلیان تلہ گنگ نے اپنے اپنے غصے کا اظہار پاکستان مسلم لیگ (ن) کو ووٹ نہ دے کر کر دیا تو پھر یقینا حکمران جماعت کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ مگر سیاسی مبصرین کے مطابق ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ بدقسمتی سے ہمارے لوگ چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں۔ حمزہ شہباز شریف نے تلہ گنگ کا دورہ کیا۔ اگرچہ وہ عوامی جلسہ تو نہ کر سکے چونکہ اُن کو احساس تھا کہ شاید عوامی ردعمل سامنے آجائے۔ مگر اُنہوں نے مختلف وفود سے ملاقاتیں ضرور کیں۔ مگر جس طرح خیال کیا جا رہا تھا کہ خزانے کے منہ کھول دئیے جائیں گے اور تلہ گنگ میں ترقیاتی کام شروع ہو جائیں گے ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ تلہ گنگ کے لوگ ضلع بناؤ مہم میں بہت سرگرم ہیں اور وہ شاید اس سے کم پر راضی بھی نہ ہوں۔ مگر فی الحال حکومت کے لئے یہ ضمنی معرکہ کسی بڑے چیلنج سے کم ثابت نہیں ہو رہا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ضلعی رہنماؤں کے آپس کے اختلافات بھی ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے۔ اگرچہ اس کے لئے باضابطہ طور پر لاہور بلا کر معاملات کی گتھی سلجھانے کی کوشش بھی کی گئی مگر ابھی تاحال اندرونی ملاوٹ ختم نہیں ہو پا رہی اور شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ ارکان پارلیمنٹ اس ضمنی الیکشن میں اپنا بھرپور کردار ادا نہیں کر رہے۔ اس الیکشن میں سابق صوبائی وزیر اور سابق ضلعی ناظم سردار غلام عباس کا کردار بہت اہم ہو گا اور وہ یقینی طور پر اپنی بھرپور کوشش بھی کر رہے ہیں۔ تلہ گنگ میں عام تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہ الیکشن پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کا نہیں ہے بلکہ یہ الیکشن حافظ عمار یاسر اور سردار غلام عباس کا ہے۔ چونکہ دونوں کسی دور میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کا حصہ تھے مگر اب دونوں کی راہیں جدا جدا ہیں اور دونوں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ اس لئے دیکھنا یہ ہے کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ اگر ملک شہریار اعوان جیت جاتے ہیں تو پھر یہ شاندار فتح سردار غلام عباس کی فتح تصور ہو گی اور یقینا اُن کو پاکستان مسلم لیگ (ن) میں جگہ بنانے کا موقع مل ہی جائے گا اور اُن کی اہمیت بھی بڑھ جائے گی اور ہار کی صورت میں حافظ عمار یاسر اور مقبولیت حاصل کر لیں گے۔ اس الیکشن کے نتائج کا تعلق پانامہ کیس کے ساتھ بھی جوڑا جا رہا ہے۔ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ 18 اپریل سے قبل آجاتا ہے اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے خلاف آتا ہے پھر حکمران جماعت کے لئے یہ سیٹ نکالنا انتہائی مشکل ہو جائے گا اور اگر فیصلہ خلاف نہیں آتا تو پھر یقینا حکمران جماعت باآسانی الیکشن جیت جائے گی۔ اﷲ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Javed Iqbal Anjum

Read More Articles by Javed Iqbal Anjum: 79 Articles with 34562 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Apr, 2017 Views: 243

Comments

آپ کی رائے