اسلامی ریاست میں عوام کے حقوق و فرائض

(Muhammad Waseem Yaseen, Multan)
ریاست اس اجتماعی منظم ادارے کا نام ہے جس کے ذریعےسے کسی ملک کی عوام ایک باقاعدہ حکومت قائم کرتی ہے اور اس کے ہاتھ میں اقتدار اور قانون نافذ کرنے کی طاقت دیتی ہے۔

ریاست کی تعریف:
ریاست اس اجتماعی منظم ادارے کا نام ہے جس کے ذریعےسے کسی ملک کی عوام ایک باقاعدہ حکومت قائم کرتی ہے اور اس کے ہاتھ میں اقتدار اور قانون نافذ کرنے کی طاقت دیتی ہے۔
ریاست کی تعریف جاننے کے بعد ضروری ہے کہ ریاست کی ضرورت کو جانا جائے
ریاست کی ضرورت:
انسانوں کے باہمی معاملات اور تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے قوانین کا ہونا ضروری ہے اور قانون کو نافذ کرنے والی قوت اگر موجود نہ ہو تو وہ بے کار ہوں گے تو انسانوں کے معاملات،معاشرتی تعلقات ، لین دین، خرید و فروخت اور ثقافتی تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے ریاست کا اجتماعی ادارہ ہونا ضروری ہے ۔ تاکہ باہمی امن وامان قائم رہے ،مظلوم کی ظالم سے داد رسی ہو سکے ، ملک کا دفاع ہو سکے اور اور ملک میں نظم وقانون برقرار رہے اسی وجہ سے معاشرے کو ریاست کی ضرورت ہوتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلامی ریاست کی تعریف کیا ہے ؟ تو
اسلامی ریاست کی تعریف :
اسلامی ریاست وہ ریاست ہے جس میں تمام معاملات کو طے کرنے کا طریقہ اور قانون اسلام سے ماخوذ ہو اور اس کے تمام شعبے دین کی عطا کردہ ہدایت کے مطابق منظم کئے جائیں۔
اسلامی ریاست کا مقصد:
اسلامی ریاست کا مقصد کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں میں خدا کی ہدایت اور اس کی نازل کردہ میزان عدل کے مطابق اجتماعی عدل قائم کیا جائے اس مقصد کو اللہ تعالی نے یوں بیان فرمایا ہے
"لقد ارسلنا رسلنا بالبینت وانزلنا معھم الکتب والمیزان لیقوم الناس بالقسط"
یقینا ہم نے رسولوں کو واضح ہدایت کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان اتار دی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں
اس آیت مبارکہ میں اسلامی ریاست کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی کی ہدایت اور میزان حق کے مطابق لوگوں کو عدل وانصاف پر قائم کیا جائے
اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے
" الذین ان مکنھم فی الارض اقامواالصلوۃ واتووالزکوۃ وامرو ا بالمعروف ونھواعن المنکر"
مومن وہ لوگ ہیں اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں تو نماز قائم کریں گے زکوۃ ادا کریں گے نیکی کا حکم دیں گےاور برائی سے روکیں گے
اس آیت کی رو سے اسلامی ریاست کے چار مقاصد ہیں نماز قائم کرنا ،زکوۃ دینا ، نیکی کا حکم دینا ، برائی سے روکنا۔
اسلامی ریاست کے مقاصد جاننے کے بعد یہ جاننابھی ضروری ہے کہ اسلامی ریاست میں عوام کے حقوق کیا ہیں

اسلامی ریاست میں عوام کے حقوق:
اسلامی ریاست کی رو سے ریاست کے شہریوں کو کچھ بنیادی حقوق دیئے گئے ہیں ان حقوق کی ادائیگی اسلامی ریاست کا فریضہ ہے اسلامی رو سے شہریوں کے حقوق درج ذیل ہیں ۔

1: جان و مال اور عزت کی حفاظت:
اسلامی ریاست کے شہری کا یہ پہلا اور مقدس حق ہےوہ اس طرح کہ اس کی ضمانت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی گئی ہے ریاست کسی شہری کی جان و مال اور ناموس پر نہ خود ہاتھ اٹھا سکتی ہے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع مین اس حق کا یوں اعلان فرمایا" فان دماءکم واموالکم واعراضکم حرام کحرمۃ یومکم ھذا" تمہارے خون ، مال اور آبروئیں آج کے دن کی طرح محترم ہیں

2: قانونی مساوات کا حق اور اس کا تحفظ
اسلامی ریاست نے اپنے تمام شہریوں کو عقیدہ و مسلک اور رنگ و خون کا لحاظ کئے بغیر قانونی مساوات کا واضح حق دیتی ہے قانون کی نگاہ مین سب برابر ہیں حکومت کے سربراہوں اور ذمہ دار افسروں سے کوئی امتیازی سلوک نہیں برتا جاسکتا۔ اس بارے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے " والذی نفس محمد بیدہ لو سرقت فاطمۃ بنت محمد لقطعت یدھا " خدا کی قسم اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔ اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اسلام کی نظر میں سب کو قانونی مساوات کا حق ہے۔

3:معاشرتی مساوات کا حق
اسلامی ریاست میں سب شہری معاشرتی حقوق کے اعتبار سے برابر ہیں کسی کو مال و دولت ، رنگ و نسل اور نام و نسب کی وجہ سے کوئی برتری نہیں کتاب وسنت کے احکام اس سلسلے میں بالکل واضح ہیں حدیث مبارکہ میں آتا ہے کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں فضیلت کا معیار صرف تقوی پر ہے۔

4: ضرورت مند کی کفالت
اسلامی ریاست اپنی حدود میں اس بات کی ذمہ دار ہے کہ کوئی شہری بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہ پائے اسی وجہ سے زکوۃ کو فرض کیا گیا۔ اور ایک حدیث مبارکہ میں ہے "السلطان ولی من لا ولی لہ" جس کا کوئی ذمہ دار نہ ہو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہے

5:بنیادی تعلیم کا حق
اسلامی ریاست ہر شہری کی ابتدائی اور ضروری تعلیم کی ذمہ دار ہے اس سلسلے میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل موجود ہے کہ آپ نے کس طرح سے آپ نے اسلامی ریاست میں تعلیم کو عام فرمایا ۔ غزوہ بدر مین آپ نے کافر قیدیوں کے لئے یہ شرط لگائی کہ مسلمانوں کے بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھائیں اور تعلیم کی خاطر جو سب سے پہلے ادارہ قائم ہوا وہ صفہ کے نام سے بنایا گیا تھا۔اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں فرمایا تھا اے اللہ میں تجھے گواہ ٹھہراتا ہوں کہ تمام علاقوں کے گورنروں کو اس لئے بھیجا کہ وہ لوگوں میں اسلامی کی تعلیم عام کر سکیں ۔

اسلامی ریاست میں عوام کے فرائض:
اسلامی ریاست جب عوام کو اتنے حقوق دیتی ہے تو اسلامی تعلیمات کی رو سے شہریوں پر بھی کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں جن کو ادا کرنا ان پر فرض ہے ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں

1: اطاعت
شہریوں کا پہلا فرض یہ ہے کہ شریعت نے جن باتوں کا حکم دیا ہے ان کی اطاعت کرنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے اس سلسلے میں قرآن پاک ارشاد ہے "اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول" کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔

2: وفا داری اور خیر خواہی
عوام کا فرض ہے اسلامی ریاست سے دلی خیر خواہی رکھیں ، اس کے وفادار رہیں اس کی کامیابی میں ہر وقت کوشش کرتے رہیں اور اس کے نقصان کو بالکل گوارا نہ کریں حدیث مبارکہ میں ہے " الدین النصیحۃ للہ ولرسولہ ولائمۃ المسلمین وعامتھم " دین خیر خواہی کا نام ہے یعنی اللہ اور اس کے رسول مسلمانوں کا حکام اور عوام سے قلبی لگاؤ رکھنا دین ہے

3: تعاون
عوام کایہ فرض ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں قرآن پاک مین ہے " وتعاونوا علی البر والتقوی " کہ نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو

4:جانی و مالی قربانی
شہریوں کا فرض ہے کہ جب کوئی مشکل وقت آئے تو ایک دوسرے کی خاطر جان و مال قربان کرنے میں تاخیر نہ کریں یہ ایثار ہی تھا کہ جس کی وجہ سے مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی کہ انصار صحابہ نے مہاجر صحابہ کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا جس کی وجہ سے سب مسلمانوں حالات ٹھیک ہو گئے تھے ۔

اگر آج ہم بھی اپنے حقوق وفرائض کو جان لیں اور ان پر عمل کرنا شروع کر دیں تو نہ صرف ہمارے ملک کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں بلکہ ہم دنیا میں بھی کامیاب ہونگے اور آخرت مین بھی کامیاب ہونگے اللہ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Waseem Yaseen
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Apr, 2017 Views: 4550

Comments

آپ کی رائے