’’مدر آف آل بمز‘‘ کا استعمال

(Rehman Mehmood Khan, Islamabad)
امریکا میں افغانستان پر سب سے بڑا حملہ
تیسری عالمی جنگ کی بنیاد رکھ دی گئی!!
شام میں ایئر بیس پر امریکی حملے کے بعد افغانستان پربم داغا جانا محض اتفاق نہیں ہو سکتا

ماضی کے ادوار کی بجائے عصر حاضر میں ناصرف میزائل ٹیکنالوجی نے وقت کی رفتار سے بھی کہیں تیز ترقی کی ہے بلکہ ڈرون اور دیگر ایٹمی ٹیکنالوجی میں بھی برق رفتاری سے جدت آئی ہے۔اب دشمن علاقے یا خطے کوصفحہ ہستی سے مٹانا اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانا چند سیکنڈوں کی بات ہے۔ جنگی ہتھیار فوج کی دنیا کا ایک اہم ترین حصہ ہوتے ہیں اور یہ جتنے زیادہ جدید اور طاقتور ہوتے ہیں دشمن بھی اتنا ہی زیادہ دباؤ شکار ہوجاتا ہے۔ایسے خطرناک ترین ہتھیاروں کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ان ہتھیاروں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے بم،رییپر ڈرون،ٹوماہاک میزائل،آر ایس 28سرمیٹ میزائل،بلاسٹک اور اینٹی بلاسٹک میزائل شامل ہیں۔ لمحوں میں انسان اور بستیاں صفحہ ہستی سے مٹا نے کی طاقت سے سرشارعصر حاضر کی سپر پاورامریکہ نے افغانستان میں نان نیو کلیئر بم’’مدر آف آل بم‘‘داغا۔دوروز قبل امریکہ نے دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف’’نکلیئر بم کے بعدسب سے بڑے بم‘‘جی بی یو ۔43 کو افغٖانستان کی سرزمین پراستعمال کیا۔پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع ایچن کی پہاڑیوں پر 11 ٹن بارودی مواد سے لیس جی بی یو 43 نامی بم سے داعش کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا،داغے گئے بم کو عرف عام میں ’’مدر آف آل بمز‘‘کہتے ہے جب کہ فضائیہ میں اسے ’’میسو آرڈیننس ایئر بلاسٹ بم‘‘ کہا جاتا ہے۔ امریکا نے جی بی یو 43 بم کا عراق جنگ سے قبل2003ء میں پہلی مرتبہ کامیاب تجربہ کیا تھا ،تجربے کے دوران 32 کلومیٹر دور تک آسمان پر گہرے بادل چھا گئے تھے ۔دوسری جانب افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن کا کہنا ہے کہ نان نیوکلیئر بم پہاڑیوں پر داعش کے ٹھکانوں پر گرایا گیا اور داعش کے خلاف جارحانہ اقدامات اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے یہ مناسب قدم ہے۔

بم کیسے اور کیوں داغا گیا؟
13اپریل کی شب امریکی فوج نے افغانستان میں16سالہ جنگ کے دوران نان نیوکلئیر بم کا پہلی مرتبہ استعمال کیا جسے بقول امریکی اداروں کے‘داعش کے ٹھکانے کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا گیا۔کہا جارہا ہے کہ افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع ایچن کی پہاڑیوں پر 11 ٹن بارودی مواد سے لیس جی بی یو 43 نامی بم سے داعش کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا،جی بی یو 43 بم 9 ہزار 797 کلو گرام وزنی ہے جسے کار گو طیارے سی 130 کے ذریعے ضلع ایچن کی پہاڑیوں پر گرایا گیا۔

داعش کے مذکورہ ٹھکانے سے امریکی افواج اور مشیروں پر حملے کیے جاتے رہے ہیں،یہ بم امریکی فضائیہ کے ’’سی 130 طیارے‘‘سے پیراشوٹ کے ذریعے گرایا گیا، ہدف کیلئے جی پی ایس کو استعمال کیا گیا،اس خطے میں کئی ہفتوں سے امریکی افواج موجود تھیں،گزشتہ ہفتے داعش سے لڑائی میں ایک امریکی فوجی بھی مارا گیا تھا،سی این این کے مطابق جس علاقے میں یہ بم گرایا جائے وہاں لگتا یہی ہے کہ کوئی ایٹم بم گرایا گیا ہے،یہ 30فٹ لمبا اور 40 انچ چوڑا،وزن 9500 کلوگرام ہے ، وزن میں یہ ہیروشیما ایٹم بم سے دوگنا بڑا ہے،یہ زمین سے 6 فٹ اوپر پھٹتا اور 300 میٹر تک ہر چیز کو اڑانے کی صلاحیت کا حامل ہے۔تادم تحریر کسی عینی شاہد کا کوئی بیان تو منظر عام پر نہیں آیا مگرقیاس ہے کہ اس غیر جوہری بم سے بہت بڑا دھماکہ ہوا ہوگا،اس سے قبل اسے کسی لڑائی میں استعمال نہیں کیا گیا،یہ بم عراق کی جنگ سے پہلے تیار کیا گیا تھا اور اس کا تجربہ2003ء میں کیا گیا،امریکہ نے ہیروشیما پر جو بم گرایا تھا اس میں ٹی این ٹی کی مقدار 15 کلو ٹن تھی۔افغان فوج کے ایک علاقائی ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس بم حملے میں 12 غیر ملکی مارے گئے،ان کی شہریت سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں،امریکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل نکلسن نے اس بم حملے کی منظوری جنرل جوزف ووٹل سے لی تھی۔امریکی صدر ٹرمپ نے اس حملے پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ ایک اور کامیاب مشن تھا،افغانستان میں داعش کو نشانہ بنایاگیاہے،جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا یہ حملہ شمالی کوریا کیلئے پیغام ہے؟تو انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،شمالی کوریا مسئلہ ہے اور اس سے نبٹنا ہوگا۔ گزشتہ 8 ہفتے پچھلے 8 برسوں سے بہت مختلف ہیں، فوج کو بااختیار بنا دیا۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ آدھے افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ہے جس سے امریکہ کا اپنی طویل ترین جنگ سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے،امریکہ کی فوج کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو پاکستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران فرار ہو کر داعش کی صفوں میں شامل ہوگئے ہیں،حملے کے بعد امریکی سٹاک ایکسچینج میں 500 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔

ہلاکتیں
افغان فوج کے ایک علاقائی ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس بم حملے میں 12 غیر ملکی مارے گئے،افغانستان میں فوجی آپریشن کے د وران ضلع اچن میں داعش کے 3 کمانڈروں سمیت 56سے زائد جنگجو مارے گئے۔

مدر آف آل بومبز(MOAB)کی شاک ویوز؟؟
ایک رپورٹ کے مطابق داغے گئے بم کا اصل نام Massive Ordinance Air Blast ہے اور جس کا مخفف MOAB لکھا جاتا ہے، جبکہ اِس کا تلفظ ’’موآب یا موایب‘‘ ادا کیا جاتا ہے۔اس بم کو عرف عام میں مدر آف آل بومبزیعنی بموں کی ماں کہنے کا مقصد دنیا پر امریکی فوجی برتری جتائی جانا ہے۔یہ بم دنیا کا سب سے بڑا بم ہرگز نہیں بلکہ اِس سے بھی بڑی جسامت اور وزن والا ایک اور بم امریکی فوج کے پاس ہے جو صحیح معنوں میں دنیا کا سب سے وزنی روایتی بم قرار دیا جاسکتا ہے۔ اِسےMassive Ordnance Penetrator یا مختصراً ’’ایم او پی‘‘ (MOP) کہا جاتا ہے اور اِس کا وزن 30 ہزار پاؤنڈ (13608 کلوگرام) ہے جبکہ MOAB کا وزن 21 ہزار پاؤنڈ (9525 کلوگرام) کے لگ بھگ ہے۔

جب MOAB کو اپنے ہدف پر گرایا جاتا ہے تو یہ اِس سے ذرا اوپر(زمین سے6فٹ اوپر) ہوا میں پھٹ پڑتا ہے اور زبردست دھماکہ ہوتا ہے جس سے پیدا ہونے والی صدماتی موجیں (شاک ویوز) ایک بڑے علاقے میں پھیل جاتی ہیں۔اپنی زبردست طاقت کے ساتھ جب یہ شاک ویوز ہدف سے ٹکراتی ہیں تو اُس کے اندر گہرائی تک اترتی چلی جاتی ہیں اور آن کی آن میں اِس کے در و دیوار کو، چٹانوں اور پتھروں کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ MOAB کا دھماکہ اگرچہ ہوا میں ہوتا ہے لیکن وہ زمین کے اندر، بڑی گہرائی تک خوفناک تباہی پھیلا سکتا ہے۔یہ ایک ایسی خاصیت ہے جو دوسرے روایتی بموں میں موجود نہیں کیونکہ وہ دشمن کے ایسے ٹھکانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جو پہاڑوں کی گہرائیوں میں غاروں کے اندر ہوں۔ اگرچہ’ ’بنکر بسٹر‘‘ کہلانے والے بموں سے قدرے گہرائی تک تباہی ضرور پھیلتی ہے لیکن وہ بھی انسانوں کی بنائی ہوئی چند میٹر موٹی مضبوط دیواروں ہی کو تباہ کرسکتے ہیں جبکہ قدرتی چٹانوں اور پہاڑوں کے سامنے وہ بھی بے بس ہوجاتے ہیں۔ MOAB، ایم او پی اور ایف او اے بی وغیرہ جیسے بم خاص طور پر اِسی نقطہ نگاہ سے بنائے گئے ہیں جو نہ صرف مضبوط سے مضبوط بنکر کو سیکنڈوں میں راکھ کا ڈھیر بناسکتے ہیں بلکہ پہاڑوں اور چٹانوں کے اندر، کئی میٹر کی گہرائی تک بھی تباہی پھیلا سکتے ہیں۔MOABکو 2003ء سے امریکی فضائیہ کے پاس ہے جسے روایتی بم ہونے کی وجہ سے میدانِ جنگ میں استعمال کرنے کے لیے امریکی صدر سے اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ کسی علاقے میں تعینات امریکی کمانڈر بھی اِسے دشمن کے خلاف استعمال کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔
مذکورہ دونوں بموں کے مقابلے میں دنیا کا سب سے طاقتور روایتی بم روس کے پاس ہے جس کا اصل نام تو ’’ایوی ایشن تھرموبیرک بومب آف انکریزڈ پاور‘‘ (ATBIP) ہے لیکن وہ دنیا بھر میں ’’ بموں کا باپ‘‘(فادر آف آل بومبز: ایف او اے بی) کے نام سے شہرت رکھتا ہے۔ اگرچہ اِس کا وزن صرف 15650 پاؤنڈ (7100 کلوگرام) ہے لیکن اِس کی دھماکہ خیز صلاحیت موآب/ موایب کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ (یعنی 44 ٹن ٹی این ٹی جتنی) ہے۔

ایچ 6 یعنیMOABجی بی یو 43\ بی کی تکنیکی صلاحیت
MOABکا تکنیکی نام جی بی یو 43\ بی ایک روایتییعنی غیر جوہری بم ہے۔جس کا وزن 22,600 پاؤنڈ (10,300 کلوگرامیعنی 10.3 میٹرک ٹن) اور لمبائی 30 فٹ 1.75 انچ یعنی9.1885 میٹر ہے جب کہ چوڑائی 40.5 انچ یعنی103 سینٹی میٹرہے۔’’ایچ 6 یعنیMOABجی بی یو 43\ بی‘‘ کہلانے والے دھماکہ خیز مادّے میں 44 فیصد آر ڈی ایکس، 29.5 فیصد ٹی این ٹی، 21 فیصد ایلومینم سفوف، 5 فیصد پیرافین موم اور 0.5 فیصد کیلشیم کلورائیڈ شامل ہوتے ہیں۔MOAB گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) سے گائیڈ کیا جاتا ہے۔اس کے دھماکے کی شدت 11 ٹن ٹی این ٹی (46 گیگا جول) اور دھماکے کااثر2 کلومیٹر سے کچھ زائد تک محسوس کیا جاتا ہے۔MOABکے دھماکہ خیز مواد کا وزن 18,700 پاؤنڈ یعنی8,500 کلوگرام ہوتا ہے۔
16سالہ جنگ ابھی بھی جاری ہے۔۔

اس وقت افغانستان میں موجودامریکہ کے لیے صورتحال ملی جلی ہے جو القاعدہ کے ٹھکانوں کا خاتمہ، طالبان کو اقتدار سے باہر کرنے، خواتین پر پابندیوں میں نرمی اور افغان فوج تشکیل دینے میں تو کسی حَد تک کامیاب رہا جس سے عسکریت پسندوں کے لیے دوبارہ بالادست کردار حاصل کرنا بھی مشکل ہوگیا۔مگر القاعدہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد بھی دیگر خطوں عراق اور شام میں پھیل رہی ہے جبکہ خواتین کی ترقی کی صورتحال زیادہ بہتر نہیں۔

راقم الحروف کی رائے میں طالبان کے اقتدار سے باہر ہوجانے کے باوجوداب بھی وہ شکست سے دور ہیں کیونکہ اکثر اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ امریکی تربیت یافتہ موجودہ افغان فوج کے خلاف طالبان مؤثر مزاحمت کرتے ہیں۔امریکی حکام کی توقع کے برعکس افغان سیکیورٹی فورسز پر کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری کارآمد ثابت نہیں ہو پائی ہے جس کی بنا پر عسکریت پسند افغان اہلکاروں سے جنوبی افغانستان کے ان علاقوں کا کنٹرول واپس لینے میں کامیاب ہوگئے جہاں سے امریکی فوجیوں کا انخلاء ہوا۔نئی تشکیل شدہ افغان فورس تاحال نسلی تقسیم کا شکار ہے جس سے اس کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان پیدا ہوجاتا ہے۔افغان فورس اکثرطالبان کے خلاف زمینی جھڑپوں میں ناکام ہوتی ہے تو یہ اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ جنگ ابھی بھی جاری ہے۔

٭٭٭
Box-1
بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے بم’’ایم او پی‘‘
(Massive Ordnance Penetrator)
یہ امریکہ کا سب سے بڑا بم ہے جس کی لمبائی 20 فٹ ہے جبکہ یہ 30 ہزار پاؤنڈ وزنی ہے۔ یہ بم 200 فٹ زیرِ زمین موجود بنکرز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ نے اس کا پہلا کامیاب تجربہ 2007ء میں کیاتھا اور چند برس قبل بوئنگ کمپنی نے زیرزمین خفیہ ٹھکانوں کوتباہ کرنے کے لئے 13.6 ٹن وزنی بم کی پہلی کھیپ امریکی فضائیہ کے حوالے کردی ہے۔لاس اینجلس ٹائمز کیمطابق یہ بم جو عظیم اسلحوں کی ذرہ( Massive Ordnance Penetrator bombs) کے نام سے مشہور ہوگیا ہے، اسلحہ ڈپو میں موجود دوسرے بموں سے تقریبا پانچ ٹن زیادہ وزنی ہے۔

امریکی فوج نے جی پی ایس سسٹم سے گائیڈ کئے جانے والے اس بم کو بنانے کے لئے تین سو چودہ ملین ڈالر خرچ کئے ہیں۔لمبی دوری تک پرواز کرنے والے بوئنگ کمپنی کیاسٹراٹوفورٹس بی باون اور نورٹروپ گرامن کمپنی کے بمبار بی ٹو اس بم کے ذریعے اپنے ہدف کو نشانہ بناسکتے ہیں۔رپورٹوں سے پتہ چلتاہے کہ واشنگٹن نے مشرق وسطی کے ممالک کو مسلح کرنیکی کوششیں تیز کر دی ہیں اور دنیا کے اس اہم حصے میں اسلحے کی دوڑ شروع ہوگئی ہے۔امریکہ نیابھی حال ہی میں متحدہ عرب امارات کو براہ راست مشترکہ یلغار کے لئے 4900 جنگی ساز و سامان اور دوسرے اسلحے بیچنے کی پیشکش کی ہے۔سابق امریکی صدر باراک اوباما کی حکومت نے اسی طرح حالیہ برسوں کے دوران سعودی عرب بحرین عمان قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیج فارس کے عرب ملکوں کے ساتھ دسیوں ارب ڈالر کے فوجی معاہدے کیے ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ استبدادی اور ڈکٹیٹر حکومتوں کی حمایت اور انہیں فوجی ہتھیاروں کی فروخت علاقے میں جمہوریت کی حمایت میں امریکی دعووں سے تضاد رکھتی ہے۔

Box-2
دنیا کے ایٹمی ممالک تباہ کن ہتھیاروں سے لیس ہیں!!
آج پوری دنیا میں کوئی ملک ایسانہیں ہے‘جو امریکا کی وار ٹیکنالوجی کی برابری کا دعویٰ کرسکے۔ آپ جانتے ہیں آج کے دور میں دفاع کا سب سے بڑا ہتھیار ایٹم بم ہے۔ دنیا میں اس وقت 30 ہزار 16 نیوکلیئر وارہیڈز موجود ہیں۔ روس کے پاس 8000 ہزار اور امریکا کے پاس 7300 نیوکلیئر وارڈہیڈز ہیں۔ دیگر ممالک میں برطانیہ کے پاس 225، فرانس کے پاس 300، چین کے پاس 250، اسرائیل کے پاس 80، بھارت کے پاس 90 سے 110 اور پاکستان کے پاس 100 سے 120 نیوکلیئر وارہیڈز ہیں۔ روس سے امریکا کا پلہ اس لیے بھاری ہے، کیونکہ امریکن ایٹم بم روس سے کہیں زیادہ جدید ہیں۔ امریکا نے 1945ء میں اس وقت پہلا ایٹمی تجربہ کرلیا تھا جب پاکستان کا وجود ہی نہیں تھا۔ امریکا کے 1920 ایٹمی ہتھیار ہمہ وقت فوجی اڈوں پر نصب ہیں، جبکہ امریکا نے 2013ء میں فوج پر 619 ارب ڈالر کے قریب رقم خرچ کی جو مجموعی عالمی فوجی اخراجات کا 37 فیصد ہے۔رُوس کے 1600 ہتھیار فوجی اڈّوں پرنصب ہیں اور اس روس نے 2013ء میں فوجی اخراجات پرقریباً 85 ارب ڈالر خرچ کر ڈالے۔ برطانیہ کے 160 ہتھیار اڈوں پر نصب ہیں اور2013 میں برطانیہ کے فوجی اخراجات کا حجم قریباً 58 ارب ڈالر رہا۔ فرانس کے 290 ایٹمی ہتھیار نصب ہیں۔ اس نے 2013ء میں فوج پر 62 ارب 30 کروڑ ڈالر خرچ کیے۔ چین نے 2013ء میں فوجی اخراجات پر 171 ارب 40 کروڑ ڈالر خرچ کیے۔ 2013ء میں بھارت نے فوجی اخراجات پر 47 ارب 40 کروڑ ڈالر خرچ کیے۔ اسرائیل کے فوجی اخراجات کا حجم 15 ارب 30 کروڑ ڈالر رہا۔ 2013ء میں پاکستان نے دفاعی اخراجات پرقریباً 5 ارب 70 کروڑ ڈالر خرچ کیے۔ سیکورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود پاکستان کے اخراجات خطے کے دیگر ممالک کی نسبت سب سے کم تھے، لہٰذا آپ ان اعدادو شمار کو دیکھیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے آج اگر امریکا پوری دنیا پر دندناتا پھر رہا ہے تو اس کے پیچھے 7300 جدید ترین ایٹمی ہتھیار ہیں۔ آج اگر امریکا کو کوئی ملک آنکھیں دکھانے کی کوشش کر رہا ہے تو وہ ہے زخم خوردہ روس۔ اور روس کی ان آنکھوں کے پیچھے اس کے 8000 ایٹم بم کا زعم کارفرما ہے۔ آج اگر چین سپرپاور بننے کے خواب دیکھ رہا ہے تو اس کے پس پردہ بھی جدید ترین 250 ایٹم بموں کا ذخیرہ ہے۔ پس جس ملک کی دفاعی پوزیشن مستحکم ہے، جس کے پاس دفاعی طاقت زیادہ ہے وہ اس دنیا کا اکیلا بادشاہ ہے جب کہ امت مسلمہ کی حالت زار یہ ہے کہ 58 اسلامی ملک اور ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی ہونے کے باوجود صرف ایک پاکستان ہی ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے۔ جو بین الاقوامی سطح پر ایٹمی ملک ڈکلیئر ہے۔
٭٭٭

حملے کے پس پردہ حقائق
گزشتہ ہفتے 7 اپریل 2017ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ملک شام پر حملہ کیاگیا۔یہ حملہ شام کے شہر حمص کے قریب شعیرات ہوائی اڈے پر کیا گیا اور شام کا یہ علاقہ کئی سال سے دہشت گرد داعش، القاعدہ اور جبہۃالنصرہ سمیت احرار الشام جیسے دہشت گرد تنظیموں کے قبضے میں ہے جبکہ شعیرات کا ہوائی اڈہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف استعمال ہو رہا تھا جب کہ گزشتہ روزامریکہ نے پاکستان سے ملحقہ سرحد کے قریب افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع ایچن کی پہاڑیوں پر 11 ٹن بارودی مواد سے لیس نان نیوکلیئر بم داعش کے ٹھکانوں اور پہاڑیوں پر گرایا جس سے متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔مذکورہ دونوں کارروائیاں کسی صورت بھی معمولی نہیں سمجھی جاسکتیں ۔مذکورہ دونوں کارروائیوں سے معلوم ہوتا ہے کہشام اور اب افغانستان پر امریکی حملہ ایک مکمل پلان کا حصہ ہے جو امریکہ نے درپردہ دوسرے ممالک پر اپنی فوجی برتری جتانے کا عندیہ دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی بم کی آنکھیں نہیں ہوتیں کہ وہ داعش، القاعدہ یا امریکی نقطۂ نظر سے مطلوب دہشت گردوں کو چن کر نشانہ بنا سکے۔ ناممکن ہے کہ ایک ارب روپے سے زائد مالیت سرمائے سے تیار ہونے والے اس بم نے صرف چنیدہ داعش جنگجوؤں ہی کو نشانہ بنایا ہو اور کوئی بے گناہ نہتا افغان شہری اس کا ہدف نہ بنا ہو۔ یہ امر پیش نظر رہے کہ افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں امریکیوں نے ماسکو میں شروع ہونے والی کانفرنس سے ایک روز قبل دنیا کے سب سے بڑے غیر ایٹمی بم سے حملہ کیا۔ یہ کانفرنس افغانستان میں پائیدار قیام امن کے لیے گزشتہ روز سے شروع ہو چکی ہے۔ اس میں پاکستان، افغانستان، چین ، ایران، روس اور طالبان نمائندوں کے درمیان مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ کانفرنس میں شرکت کی امریکہ کو بھی دعوت دی گئی تھی مگر اس نے اسے قبول نہیں کیا۔ تاہم اسی دوران امریکی صدر ٹرمپ کے مشیر برائے سلامتی امور مسٹر ماسٹرز اسلام آباد، کابل اور پھر نئی دہلی کے دورے کا آغاز کر چکے ہیں۔ہمارے خیال میں بہتر ہے کہ جن جن طاقتوں اور ممالک کے مفادات افغانستان کے ساتھ وابستہ ہیں، وہ افغان حکومت اور افغان طالبان دونوں کو کسی قابل عمل سمجھوتے پر آمادہ کرنے کے لیے عملی مساعی بروئے کار لائیں۔ ایک ایسا سمجھوتہ جس میں افغان عوام کی تمام آبادیوں ، علاقوں اور نسلوں کے نمائندوں کو شریک کیا جائے اور اس کی کوکھ سے افغان قومی اتحاد کی مظہر حکومت وجود میں آئے‘ورنہ امریکہ 16 برس سے وہاں دنیا کے ہر تباہ کن بم ، میزائل اور کیمیائی ایجنٹ کا استعمال کر چکا ہے۔
٭٭٭
ڈیک:

13اپریل کی شب امریکی فوج نے افغانستان میں16سالہ جنگ کے دوران نان نیوکلئیر بم کا پہلی مرتبہ استعمال کیا جسے امریکی اداروں کے بقول داعش کے ٹھکانے کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا گیا

امت مسلمہ کی حالت زار یہ ہے کہ 58 اسلامی ممالک اور ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی ہونے کے باوجود صرف ایک پاکستان ہی ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے اور بین الاقوامی سطح پر ایٹمی ملک ڈکلیئر ہے

نئی تشکیل شدہ افغان فورس تاحال نسلی تقسیم کا شکار ہے جس سے اس کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔افغان فورس اکثرطالبان کے خلاف زمینی جھڑپوں میں ناکام ہوتی ہے تو یہ اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ جنگ ابھی بھی جاری ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rehman Mehmood Khan

Read More Articles by Rehman Mehmood Khan: 38 Articles with 22722 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Apr, 2017 Views: 723

Comments

آپ کی رائے