ہم اور ہماری جزباتییت

(Sana, Lahore)
انسان یوں نہیں چلتا کہ سوچا اور جی سوچتا چلا گیا ۔ہمیں ایسا لگتا ضرور ہے مگر حقیقت میں انسان کے سوچنے پر اسکی پدائش کے دن سے بہت سی قوتیں کارفرما ہوتی ہیں۔ اسکا رہن سہن ، علاقہ ، ماں باپ، حالات، مزہب، معااشرہ

ہم کہتے ہیں ہمارا سسٹم نہیں بدلتا ہمارے ہاں کام سست رفتاری سے ہوتا ہے۔ اللہ کسی کو عدالت کے یا پولیس کے دھکے نہ کھلوائے۔ اسکی وجہ یہی ہے کہ ہم جب بحیثیت انسان ان تصورات کو ان عادتوں کو نہیں چھوڑتے جو ہمیں تنگ کرتی ہیں

اگر ہم ممرغی، خرگوش ، بلی، ہاتھی، شتر مرغ کبوتر، کوا، کُتا ، گدھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندر کو دیکھیں تو ان میں اور ہم میں بے شک فرق ہے۔ بندر کے بارے میں تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بندر ہی بدلتے وقت کے ساتھ ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے انسان بن گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندر کو یہ بات پتہ لگے تو شاید وہ برا مان جائے۔

انسان کو دوسری مخلوقات سے جو چیز جدا کرتی ہے وہ ہے انسان کا "سوچنا"
انسان یوں نہیں چلتا کہ سوچا اور جی سوچتا چلا گیا ۔ہمیں ایسا لگتا ضرور ہے مگر حقیقت میں انسان کے سوچنے پر اسکی پدائش کے دن سے بہت سی قوتیں کارفرما ہوتی ہیں۔ اسکا رہن سہن ، علاقہ ، ماں باپ، حالات، مزہب، معااشرہ۔
آج کا انسان خود کو بات بے بات میں آزاد ہوں مجھے دوسروں کی پروا نہیں جیسی باتیں صبح و شام سوشل میڈیا پر کہتا اور اشتہارات میں سنتا رہتا ہے۔ حقیقت میں انسان جتنا بھی چاہے نہ وہ آزاد ہے نہ جزباتی نہ جسمانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم جس گھر میں پلتے بڑھتے ہیں وہاں کے لوگوں کی بات چیت اور رہن سہن کے انداز کو بغیر سوچے سمجھے اپنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہم کبھی بھی نہیں سوال کرتے کہ ٹینڈے کے ساتھ مچھلی کیوں نہیں پک سکتی اور آلو کے ساتھ بینگن کیوں پکتے ہیں۔
انسان کو مزہب کے حوالے سے ، سیاست کے بارے میں، خاندان کے بارے میں، معیشت، تعلیم ، سیاحت کے بارے میں جو بھی خیالات ملتے ہیں انسان انکے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ ان خیالات اور تصورات کو بدلتا مشکل اور قرییب قریب نا ممکن ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ انسان ان تصورات کے ساتھ جزباتی طور پر جُڑ جاتا ہے۔ اگر کوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپکاکوئی تصور ذرا سابھی چھیڑ دے تو ہم اسکو کاٹ کھانے کو دوڑنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہم ان تصورات کو کبھی چیلنج ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔
ہمارے ہاں بہت سے تصورات ایسے ہیں جن کے ساتھ لوگ جزباتی طور پر جُڑے ہیں اور جو نقصان دہ بھی ثابت ہو جاتے ہیں مگر لوگ چھوڑنے کوتیار نہیں۔ جیسا کہ مسائل کے حل کے لئے صرف تعویزات پر انحصار، پسند کی شادی پر شدید اعتراضات، ہوائی فائرنگ اسلحہ کی نما ئش خوشی کے موقے پر لہرانا، حیثیت سے بڑھ کر شادی پر اخراجات تاکہ ناک اونچی ہو، لڑکے والوں کا ہمیشہ اکڑاہٹ کا مظاہرہ کرنا، ساس کا بہو اور بہو کا ساس کی دشمنی پر ڈٹے رہنا، غصہ مرد کے لئے جائز سمجھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے بے شمار خیالات ہیں۔
جن کے ساتھ ہم اتنی مضبوطی سے جڑے ہیں جو کہ ہمیں کھوکھلا کئے جا رہے ہیں مگر ہم ان سے جان آج بھی نہیں چھڑوا رہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے اپنے آپ کو ان ہدایتوں میں نہیں باندھا جو ہمیں اللہ کی طرف سے ملی ہیں۔
ہم نے اپنے آپ کو ان بے سروپا باتوں میں باندھ رکھا ہے اور اپنے جزباتی اور رد عمل دینے کا پیمانہ بھی ان باتوں کو ہی بنا رکھا ہے۔ ہم راہ چلتے کسی لڑکے کو لڑکی کو چھیڑتے دیکھیں ہم کبھی نہیں رک کر مظلوم کا ساتھ دیں گے ہم صرف تماشا دیکھنے کھڑے ہوں گے، ہم کسی ساس بہو کی لڑائی دیکھیں ہم تیلی لگانے کے لئے کودیں گے ہم کبھی رکوانے کے لئے نہیں رکیں گے، ہم سڑکوں ہر جھگڑا دیکھنے کے لئے رُک سکتے ہیں مگر کبھی جھگڑا روکنے کے لئے نہیں۔
ہم کہتے ہیں ہمارا سسٹم نہیں بدلتا ہمارے ہاں کام سست رفتاری سے ہوتا ہے۔ اللہ کسی کو عدالت کے یا پولیس کے دھکے نہ کھلوائے۔ اسکی وجہ یہی ہے کہ ہم جب بحیثیت انسان ان تصورات کو ان عادتوں کو نہیں چھوڑتے جو ہمیں تنگ کرتی ہیں
تو
بحیثیت جب کسی پوسٹ پر کام کرتے ہیں تب بھی وہ عادتیں ہمیں چمٹی ہوتی ہیں اور چھوڑتی نہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی سستیاں ہوتی ہیں جو بڑی بڑی رکاوٹوں میں بدل جاتی ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 231 Articles with 182883 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More
17 Apr, 2017 Views: 428

Comments

آپ کی رائے