تنویر کاظمی ۔شخصیت و کالم نگاری

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

تنویر کاظمی

انجمن ترقی اردو پاکستان ادب کے فروغ و ترویج کے حوالے سے اہل علم و دانش کو دعوت فکر و کلام دیتی رہتی ہے۔ خاص طور پر بیرون ملک سے آئے ہوئے کسی بھی ادیب و دانشور کو مدعو کیا جاتا ہے ، مقصد ادب اور شخصیت کے حوالے سے گفت و شنید ہوتا ہے۔ شریک محفل احباب مہمان ادیب کے خیالات و نظریات سے آگہی حاصل کرتے ہیں۔ کچھ ان کی سنتے ہیں اور کچھ اپنی سناتے ہیں۔ ہفتہ 15اپریل 2017جرمنی کے شہر فریکفرٹ سے تشریف لائے ہوئے شاعر ،ادیب ،کالم نگار، مرثیہ نگار، جرمنی میں سماجی و ادبی محافل کے انعقاد کے روح رواں سید اقبال حیدر کو دعوتِ تکلم دی گئی۔ سید اقبال حیدر کی خواہش تھی کہ وہ اس موقع پر معروف صحافی، کالم نگار اور ممتازطنز نگار تنویر کاظمی کی شخصیت اور کالم پر گفتگو کرنا پسند کریں گے۔ اس کی وجہ سید اقبال حیدر کا تنویر کاظمی سے وہ رشتہ اور تعلق ہے۔ تنویر کاظمی مرحوم سید اقبال حیدر کے سسر ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ ادبی محفل تنویر کاظمی کی شخصیت اور ان کی کالم نگاری اور سید اقبال حیدر کی شاعری اور دیگر موضوعات پر گفت و شنید پر مشتمل رہی۔ اقبال حیدر مستند و معروف شاعر اور کئی شعری مجموعوں کے خالق ہیں۔ بقول تنویر کاظمی’ وہ کتابِ زندگی جو انہوں نے نوک قلم سے رقم کی‘۔انجمن کی معتمدِ عمومی ڈاکٹر فاطمہ حسن نے شہر کراچی کی معروف علمی و ادبی شخصیت ، کتاب دوست معراج جامی کو میزبانی کی دعوت دی۔ معراج جامی کو بغیر تیاری کے بھی ادبی تقریب کو خوبصورتی سے پائے تکمیل پر پہنچانے میں کمال مہارت حاصل ہے۔جیسے اچھا لکھتے ہیں ایسا ہی اچھا بولتے بھی ہیں۔ گفتگو کرنے والے کے چہرے پر اگر مسکراہٹ نہ ہو تو سامعینِ محفل کچھ اچھا محسوس نہیں کرتے۔ دوران گفتگو معراج جامی کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ سامعین پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے، ویسے بھی لگتا ہے کہ قدرت نے انہیں ہنستی ، مسکراتی ، پھولوں کی پتیوں کی مٹی سے بنایا ہے۔جامی صاحب نے مہمان مقررین کا تعارف کراتے ہوئے انجمن کی معتمد ڈاکٹر فاطمہ حسن کو دعوت دی کہ دیار غیر سے آئے ہوئے مہمان شاعر و ادیب سید اقبال حیدر کا تعارف کرائیں اور معروف صحافی ، کالم نگار تنویر کاظمی کی شخصیت پر مختصر روشنی ڈالیں۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن کی تحریر ہی نہیں تقریر بھی اعلیٰ بلکہ وہ ان دونوں فنون میں ماہر القادری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم انجمن میں دیار غیر سے آئے ہوئے شعراء اور ادیبوں کو دعوت اس لیے بھی دیتے ہیں کہ معلوم کریں کہ وہ دیار غیر میں رہتے ہوئے پتھروں پر پھول کیسے اگا رہے ہیں۔اس لیے کہ دیار غیر میں رہتے ہوئے معاشی زندگی کو خوب سے خوب تربنانے کے ساتھ ساتھ ادب کے فروغ کے لیے جہد مسلسل کرنا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ انہوں نے سید اقبال حیدر کا تعارف کرایا، ان کی شاعری اور شعری مجموعوں کے بارے میں حاضرین کو آگاہ کیا اور معروف کالم نگار تنویر کاظمی سے سید اقبال حیدر کے تعلق کی تفصیل بھی بتائی، ساتھ ہی ان مہمانوں کے بارے میں اظہار خیال کیا جنہوں نے آج تنویر کاظمی کی شخصیت ، کالم نگاری اور طنزیہ نگاری پر اظہار خیال کرنا تھا۔

معروف ادیب ڈاکٹر رؤف پاریکھ تقریب کے پہلے مقرر تھے۔ ڈاکٹرپاریکھ ، تنویر کاظمی مرحوم سے واقف ہی نہ تھے بلکہ انہوں نے تنویر کاظمی کی کالموں کی کتاب ’قلم گزیدہ‘کا فلیپ بھی لکھا ۔ اُن کا کہنا تھا کہ تنویر کاظمی ایک کہنہ مشق صحافی تھے، صحافت ان کی رگ و پہ میں بسی ہوئی تھی، وہ اپنے کالموں میں اختصار کا خاص خیال رکھتے تھے۔ بات سے بات نکالنے اور بحث کے باوجود طول کلامی سے صاف دامن بچا کر نکل جاتے تھے، زبان معیاری اور شُستہ تھی، ان کے بعض جملے بہت گہری کاٹ رکھتے تھے اور ایک جامع تبصرے کی حیثیت رکھنے کے ساتھ ساتھ قاری کو تفکر پر اُبھارتے تھے۔ ڈاکٹر پاریکھ نے کہا کہ صحافت نے بعض ذہین عالم فاضل اہل قلم کو چوس لیا اور انہیں جم کر کوئی علمی کام نہیں کرنے دیا۔ یا کم از کم یہ اصحاب وہ علمی کام نہ کر سکے جس کے وہ اہل تھے۔ ان باکمالوں میں ابوالکلام آزاد ، مولانا محمد علی جوہر، عبد المجید سالک اور چراغ حسن حسرت جیسے جید لوگ شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ طنز یہ اور مزاحیہ کالم ھنگامی اور وقتی موضوعات پر لکھے جاتے ہیں لیکن ابوالکلاآزاد ، محمد علی جوہر، ابن انشاء تنویر کاظمی جیسے دیگر کالم نگار اپنے طنزو مزاح کے کالموں کو اپنے اسلوب وزبان صحافت کو اٹھا کر ادب کے درجہ پر پہنچا دیتے ہیں۔تقریب کے دوسرے مقرر معروف ادیب و دانشور ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی صاحب تھے۔ ڈاکٹر معین قریشی کی گفتگو نرمی، میٹھاس کے ساتھ ساتھ موضوع پر مکمل گرفت اور ہر پہلو کا احاطہ لیے ہوئے ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انجمن نے ہمارے عہد کے ایک اچھے انسان کی یاد تارہ کرکے ادب کی خدمت کی ہے۔ انہوں نے تنویر کاظمی کی تحریروں سے طنز و مزاح سے بھر پور جملے پیش کر کے سامعین کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ انہوں نے بتا یا کہ تنویر کاظمی شہرت کے قائل نہ تھے ، انہوں نے 30کے قریب کتابیں تخلیق کیں۔ ہر کتاب اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ انہوں نے تنویر کاظمی کی تصانیف ’پشت کی چٹکی‘، کڑوی باتیں، شمشیر نیم برھنا کا خاص طور پر ذکر کیا۔

تقریب کے مہمان اعزازی فرینکفرٹ، جرمنی سے آئے ہوئے ادیب و شاعر سید اقبال حیدر نے تنویر کاظمی سے اپنے قریبی رشتے اور تعلق اور تنویر کاظمی کی صحافتی زندگی، کالم نگاری، طنز ومزاح کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔انہوں نے بتا یا کہ تنویر کاظمی نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز فوٹو گرافر کی حیثیت سے کیا لیکن ان میں حسِ مزح تھی، طنزیہ باتوں کو سلیقے سے ، اس انداز سے لکھنے کے فن سے آگاہ تھے کہ بات بھی کہہ دی جائے اور بری بھی نہ لگے۔ وہ سیاسی، سماجی، معاشرتی ، تجارتی ناسوروں کے لیے ایک نشتر تھے۔ انہوں نے زندگی کے تمام ہی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی غفلتوں پر نوکِ قلم سے چرکے لگانے کی بھر پور کوشش کی جس میں وہ کامیاب نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشرتی برائیوں کی نشاندھی کرنے والے تنویر کاظمی سے ان کا ساتھ تیرہ چودھا برس رہا ، ان کا کہنا تھا کہ میں نے انہیں انتہائی نفیس، صاف گو، شفیق، محبت کرنے والا پایا۔ انہوں نے جرمنی میں ادبی کاوشوں کے حوالے سے بتا یا کہ وہاں کئی اردو سے محبت کرنے والے ساتھی موجود ہیں ، ان میں پی ٹی وی کی ثریا شہاب بھی ہیں ۔ ہم نے مل کر اردو ادب کے فروغ اور علمی و ادبی سرگرمیوں کو جاری و ساری رکھنے کے لیے ’بزم اردو‘ قائم کی ہے جس کے زیراہتمام ہم ادبی محفلوں اور مشاعروں کا اہتمام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنا منتخب کلام بھی پیش کیا جسے حاضرین محفل نے پسند کیا اور داد دی۔

تقریب کے مہمان خصو صی سینیٹر عبدالحسیب صاحب تھے جو سینیٹر بھی ہیں، بزنس مین بھی، سیاست دان بھی اور علمی و ادبی ذوق کے مالک بھی۔ جاذب نظر اور پر کشش شخصیت کے مالک ہیں، اچھا بولتے ہیں، خاص سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں آپ میں سے ہوں ، ادب کی خدمت کرتا ہوں، ٹوٹا پھوٹا شاعر ہوں ، دل سے بات کرتا ہوں ،دماغ سے نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کو اپنا پیر مانتے ہیں، انہوں نے اردو کو ملک کی قومی زبان اور صوبوں کی صوبائی زبانوں کے حوالے سے بھی گفتگوکی۔انہوں نے اپنے ایک شعر میں تقریب میں آنے کا مقصد بیان کیا ، کہتے ہیں ؂
لو محبت کی بڑھانے کے لیے آیا ہوں
پیار کا دیپ جلانے کے لیے آیا ہوں

انہوں نے دانشوروں کو مخاطب کر تے ہوئے اپنے ایک شعر میں یہ پیغام دیا ؂
کچھ نہ لکھو گے تو دیوار پہ لکھ دیگا تمہیں
دانشورو بُر ا وقت ہے لکھنا ہوگا

پروفیسر سحرؔ انصاری صاحب انجمن کے اہم ذمہ داران میں سے ہیں۔ باوجود اس کے کہ حال ہی میں ان کی آنکھ کا آپریشن ہوا پھر بھی وہ کالا چشمہ لگا کر تقریب میں تشریف لائے اور صدارت کے فرائض انجام دیے۔ میں نے اپنی سابقہ کسی تحریر میں سحرؔ انصاری صاحب کو ’کراچی کی ادبی محفلوں کے دولھا ‘کا خطاب دیاتھا۔حقیقت یہ ہے کہ جس ادبی محفل میں سحرؔ انصاری موجود ہوں وہ محفل میں جان ڈال دیتے ہیں۔ اللہ انہیں صحت و تندرستی کے ساتھ سلامت رکھے۔ ان کے چہرے سے نقاہت اور کمزوری نمایاں تھی۔ بولنے کے ماہر ، معلومات کا انسائیکلو پیڈیا ، کتنے ہی مقررین موضوع پر اظہار خیال کرلیں سحرؔ صاحب اسی موضوع پر نئی نئی چیزیں نکال لاتے ہیں۔ یہ ہی کمال اور خصوصیت ہوتی ہے محفل کے آخری مقرر کی جسے عرف عام میں صدر یا مہمان خصوصی کہتے ہیں۔ پروفیسر سحرؔ انصاری نے تنویر کاظمی سے اپنے تعلق اور ان کی ظرافت نگاری اور خاکہ نویسی پر خوبصورت گفتگو کی۔ انہوں نے تنویر کاظمی کے ساتھ اپنے بیرونی ممالک کے سفر کی کہانی کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہناتھا کہ تنویر کاظمی نے تصویری صحافت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ پھر وہ لکھنے لگے اور ایسا لکھا کہ طنزیہ کالم نگاری میں امر ہوگئے۔ تنویر کاظمی کے موضوعات خیالی یا فرضی نہیں ہوا کرتے تھے وہ گرد و پیش کی زندگی سے ہی اپنے کردار اور اُن کے رویے منتخب کرتے اور اپنے طرز خاص میں ڈھال دیا کرتے تھے۔تنویر کاظمی کوبات کرنے کا ہنر آتا تھا، وہ اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے پلک جھپکتے میں ’کراہٹوں کو مُسکراہٹوں میں بدل دیا کرتے تھے، تنویر کاظمی کے مضامین کی خوبی یہ ہے کہ قاری ان کے مضامین کو پڑھ کر ہنستا ہے اور سوچ کر روتا ہے۔ ان کی تحریر صرف مسکرانے کا سامان ہی مہیا نہیں کرتی بلکہ مسائل کے بارے میں بھی غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ پروفیسر سحرؔ انصاری نے بتا یا کہ اسٹیج پر جو تصویر تنویر کاظمی کی لگی ہے یہ تصویر خود تنویر کاظمی نے اپنی زندگی میں بنائی تھی اور اس کے نیچے میرا درج ذیل شعر بھی لکھ دیا تھا ؂
کوئی تحریر سجائے گا ، تو تصویر کوئی
کیوں نہ ہم نقش بہ دیوار ، ابھی ہوجائیں

پروفیسر سحر ؔ انصاری کے خطاب ، معتمد عمومی کے شکریے کے ساتھ یہ ادبی محفل خوشگوار احساس لیے اختتام پذیر ہوئی۔ مجھے اس تقریب میں شرکت کا موقع ملا جو میرے شاگرد عزیزی زبیر جمیل نے فراہم کیا اگر وہ مجھے موبائل پر پیغام نہ بھیجتے تو میں ایک پر مزح ادبی محفل میں بکھرنے والی ادبی خوشبو سے محروم رہ جاتا۔ اس ادبی محفل میں میری شرکت اس روداد کو قلم بند کرنے کا باعث ہوئی۔تقریب میں مہمان اعزازی سید اقبال حیدر کی جانب سے تنویر کاظمی کی کتاب ’قلم گزیدہ‘ کی اعزازی کاپی تمام شرکاء میں تقسیم کی گئیں۔(18اپریل2017)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 767 Articles with 657044 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
17 Apr, 2017 Views: 350

Comments

آپ کی رائے