مشکل راستے قسط نمبر46

(Farah Ejaz, Karachi)

فاطمہ بی بی نے جب سے عائیشہ سے ملاقات کی تھی اس کے سامنے اپنا آپ ظاہر کیا تھا ۔۔۔ تب سے ایک عجیب سی خلش اور بے چینی دل میں پرورش پانے لگی تھی ۔۔۔۔ انہیں اس بات کا بھی اندیشہ تھا کہ عائیشہ کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جس کا سامنا وہ اور ان کی والدہ حوریہ بی بی کر چکی تھیں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ کتنا ڈھونڈا تھا اس حادثے کے بعد انہوں نے اپنی والدہ کو ۔۔۔ مگر وہ نہ ملیں ۔۔۔ ان کی قسمت اس معاملے میں اپنی والدہ سے اچھی تھی کے جب ان کے والد جمال شاہ نے انہیں غلط فہمی کی بناہ پر خود سے الگ کیا تھا ۔۔۔ تو ان کے قبیلے نے بڑھ کر انہیں تھام لیا تھا ۔۔۔ وہ حوریہ بی بی کی طرح زندہ درگور ہونے سے بچ گئی تھیں ۔۔۔ جب تک والد کے پاس رہیں تب تک ڈر کر اور ان کے احترام میں کبھی والدہ کا ذکر تک نہیں کیا تھا مگر جب خود کے ساتھ بھی وہی کہانی دہرائی گئی تب انہیں اپنی والدہ بہت شدت سے یاد آئی تھیں ۔۔۔ اور اپنے نانا عمر اور سردار یوسف سے ان کے بارے میں پوچھا تھا ۔۔۔
بیٹی ہم نے پوری دنیا چھان ماری مگر افسوس حوریہ کا کہیں پتہ نہیں چلا ۔۔۔۔ اب بھی کچھ مخبر اس کام پر لگائے ہوئے ہیں ۔۔۔۔

سردار یوسف نے کپکپاتے لہجے میں انہیں بتا یا تھا ۔۔۔ عمر خاموش تھے بس چپ چاپ اپنی نواسی کو دیکھے جارہے تھے ۔۔۔۔

جو بھی ہو سردار نانا میں چاہتی ہوں کے ان کی تلاش بھرپور طریقے سے دوبارہ شروع کی جائے ۔۔۔ نانا ابو آپ کے خیال میں کیا ہوا ہوگا ان کے ساتھ ۔۔۔۔ اگر ابو جی کے گھر سے نکلی تھیں تو انہیں آپ لوگوں کے پاس ہی آجانا تھا ۔۔۔ ہوسکتا ہے انہیں کوئی حادثہ پیش آیا ہو یا اللہ کے دشمنوں نے انہیں قید کر لیا ہو ۔۔۔ آپ لوگوں نے اسنکتے پر کیوں نہیں سوچا ۔۔۔

سوچا تھا بیٹا ۔۔۔ مگر دشمن ہم سے تعداد میں اور طاقت میں کہیں زیادہ ہے ۔۔۔۔ ان کے پیچھے کسی معصوم مسلم جن کو بھیجنا اس کی جان کو خطرے میں ڈالنے والی بات ہوتی ۔۔۔ اور اپنی اولاد کے لئے میں کسی بھی جان کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا ۔۔۔۔

عمر نے آخر زبان کھولی تھی ۔۔۔ مگر فاطمہ بی بی کو تسلی نہیں ہوئی ۔۔۔وہ اپنے سردار نانا اور نانا ابو سے مختلف سوچ رکھتی تھیں ۔۔۔ اسی لئے اپنے ہم خیال جنات کے ساتھ مل کر اپنی والدہ کو ڈھونڈنے کے لئے دشمن جنات تک بھی جا پہنچیں مگر حوریہ بی بی کا کچھ پتا نہ چلا ۔۔۔ آخر کار وہ بھی تھک ہار کر بیٹھ گئیں ۔۔۔۔ مگر ہر نماز کے بعد اپنی والدہ کے لئے گڑ گڑا کر اللہ سے دعائیں مانگتی رہیں ۔۔۔۔

اب وہ اپنے والد کے پاس واپس چلے گئی تھیں ۔۔۔ اور جب انہیں پچھتاوے کی آگ میں جلتے دیکھا تو ان پر غصہ آنے کی بجائے رحم آیا تھا ۔۔۔۔ وہ واقعی بہت بدقسمت تھے جو اپنی پاک باز بیوی پر شک کر بیٹھے تھے ۔۔۔ انہوں نے
صرف حوریہ کو ہی زندہ درگور نہیں کیا تھا ۔۔۔ خود کو بھی دکھ اور اذیت میں مبتلا کر لیا تھا ۔۔۔
۔
***********************************
سنئیہ کو ابروڈ گئے دو ہفتے سے زیادہ ہوگیا تھا ۔۔۔۔ ایک ایک کر کے میرے سارے رشتہ دار بھی واپس دیارِ غیر لوٹ گئے ۔۔۔ اب گھر میں ککو اور میں ہی رہ گئے تھے ۔۔۔ مجھے نا جانے کیوں ایسا لگتا تھا کہ سنئیہ کو اب میں کبھی اپنی زندگی میں دیکھ نہیں پاؤنگی ۔۔۔ لیکن دل کو اطمینان بھی تھا کہ وہ اب محفوظ ہے ۔۔۔ اگر میرے ساتھ رہتی تب اس کی جان کو خطرہ تھا اور دشمن اس کو نقصان پہنچا سکتا تھا ۔۔۔۔ اس کا مجھ سے دور رہنا ہی اس کے لئے بہتر تھا ۔۔ ککو بھی سنئیہ کو یاد کر کے چھپ چھپ کے مجھ سے روتی تھیں ۔۔۔ وہ سنئیہ اور مجھے بہت چاہتی تھیں ۔۔۔ اماں بی بتاتی تھیں کہ ککو شادی کے دوسال بعد ہی بیوہ ہوگئی تھیں ۔۔۔۔ اولاد بھی نہ تھی ۔۔۔ رشتہ داروں نے جو تھوڑا بہت ان کے شوہر نے ان کے لئے رکھ چھوڑا تھا وہ بھی دھوکے سے ہڑپ کر لیا تب بابا جانی اور اماں بی انہیں اپنے گھر لے آئے ۔۔۔ بس اس کے بعد وہ ہمارے گھر کی ہو رہیں ۔۔۔ ہم دونوں بہنوں کو اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھتیں تھیں ۔۔۔ بابا جانی کے انتقال کے بعد اماں بی کو جب بابا جانی کا بزنس سنبھالنا پڑا تب انہوں نے گھر اور ہماری دیکھ بھال کا ذمہ خود ہی لے لیا ۔۔۔۔ اماں بی بھی ان پر پورا بھروسہ کرتی تھیں ۔۔۔ مجال ہے کوئی چیز اماں بی کی غیر موجودگی میں اِدھر سے اُدھر ہوئی ہو ۔۔۔۔ بلکہ اماں بی جو تنخواہ انہیں دیتی تھیں وہ بھی ہم پر لُٹا دیتی تھیں ۔۔۔۔
کچھ تو رکھو ککو اپنے لئے بھی ۔۔۔۔ آئندہ کوئی نہیں جانتا کہ کیا ہونے والا ہے ۔۔۔ یہ پیسے تمہارے کام آئینگے ۔۔۔۔

زاکرہ بی بی آپ رہنے دیں میں اس گھر سے دوری کا تصور بھی نہیں کر سکتی ۔۔۔ اور میرا جو کچھ بھی ہے ان بچیوں کے لئے ہی تو ہے ۔۔۔۔ میرا جینا مرنا آپ لوگوں کے ساتھ ہے ۔۔۔۔۔

اور اماں بی ان کی بات پر خاموش ہو جاتیں تھیں ۔۔۔۔۔ مگر چپکے سے ان کے نام کا ایک اکاؤنٹ مقامی بینک میں کھلوا لیا تھا ۔۔۔ جس کی صرف مجھے خبر تھی ۔۔۔ میں بھی اماں بی کے بعد باقائدگی سے ان کے نام کے اکاؤنٹ میں پیسے جمع کرتی رہتی تھی ۔۔بہرحال اب جب کہ سنئیہ کی شادی کے بعد ہم دو نفوس ہی گھر میں رہ گئے تھے تب سے وہ میرے بغیر رات کا کھانا نہیں کھاتی تھیں ۔۔۔ میری بھی پوری کوشش ہوتی تھی کہ میں صبح کا ناشتہ اور رات میں گھر ہی پر کھانا کھاؤں ۔۔۔۔۔ ایک شام جب میں واپس لوٹی تو ان کی ابتر حالت دیکھ کر چونک گئی ۔۔۔۔ ان کا نچلا ہونٹ دائیں طرف سے کٹا ہوا تھا جیسے کسی نے تیز دھار چھر سے کاٹا ہو ۔۔۔ چہرے پر انگلیوں کے نیلے نشان ۔۔۔ ایسا لگتا تھا کہ ناصرف کسی نے انہیں پیٹا ہو بلکہ نوچا کھسوٹا بھی ہو ۔۔۔۔ پورا جسم ہی نیلو نیل تھا ۔۔۔

ککو کس نے کیا ہے آپ کے ساتھ یہ سب ۔۔۔۔

کک کچھ نہیں بیٹا گِر گئی تھی روڈ پر ۔۔۔۔

مجھے ان کی حالت دیکھ کر ناصرف تکلیف ہوئی تھی بلکہ غصہ بھی آیا تھا کہ اتنی شفیق سی ککو پر کسی نے ہاتھ اُٹھانے کی ہمت کیسے کی ۔۔۔۔۔ مجھے غم و غصے میں دیکھ کر ککو گھبرا گئیں تھیں ۔۔۔۔

نہیں ککو اول تو ایسے نشانات گرنے سے نہیں ہوتے ۔۔۔۔ آپ سچ سچ بتائیں ۔۔۔۔ کیسے ہوا یہ سب اور وہ کون بدبخت تھا ۔۔۔

میری بات سن کر وہ رونے لگیں تو میں نے تڑپ کر انہیں آگے بڑھ کر گلے سے لگا لیا ۔۔۔۔

ککو پلیز مجھے بتائیں یہ سب کیسے ہوا دیکھیں چھپانے سے کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔ بلکہ جس نے یہ حرکت کی ہے ۔۔ اس کی ہمت کل اور بڑھ جائے گی ۔۔۔۔

بیٹا جس نے بھی میرے ساتھ ایسا کیا ہے وہ انسان نہیں ہے ۔۔۔۔ تم اور میں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔۔۔۔

میں ان کی بات سن کر چونکی تھی اور نرمی سے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔

مجھے تفصیل سے بتائیے ککو کیا ہوا تھا آپ کے ساتھ ۔۔۔۔

میرے پوچھنے پر انہوں نے خوف زدہ نظروں سے مجھے دیکھا تھا ۔۔۔۔ پھر گویا ہوئیں ۔۔۔

عائیشہ بی بی آپ کے آفس چلے جانے کے بعد مجھے یاد آیا کے شادی کے ہنگاموں میں گھر میں سودا سلف لانا ہی بھول گئی ہوں ۔۔۔ جب تک مہمان رہے باہر سے کھانا کیٹرز سے آپ نے پکوانے کا کہا تھا ۔۔ اس لئے بے فکری تھی ۔۔۔ اور یہ دو ہفتے بھی بچے کھانے فریزر سے نکال کر ہی چلا رہی تھی ۔۔۔ اور آج جب پکانے کا سوچا تب گھر میں راشن نہ ہونے کے برابر تھا ۔۔۔۔ اسلئے سوچا کہ جاکر سبزی منڈی سے سبزی لے آؤں ۔۔۔۔۔ آپ اور عبدل نکل چکے تھے اس لئے میں خود ہی سبزی منڈی اکیلے جانے کا سوچا ۔۔۔۔ ظہر کی نماز کے بعد جب باہر نکلی تو گلی کی نکڑ پر ہی ایک رکشہ کھڑا پا یا ۔۔۔۔ میں جب رکشے والے سے سبزی منڈی چلنے کا پوچھا تو اس نے سر کے اشارے سے مجھے رکشے میں بیٹھنے کا کہا ۔۔۔ جیسے ہی میں بیٹھی اس نے رکشہ چلا دیا ۔۔۔ ابھی پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے تھے کہ مجھے نیند کے جھونکے سے آنے لگے ۔۔۔ اور پھر اس کے بعد کب میری آنکھ لگی مجھے کچھ خبر نہیں ۔۔۔بس اتنا یاد ہے کہ جب آنکھ کھلی تب رکشے کو ایک عجیب سے پرانے قبرستان میں کھڑے پایا ۔۔اور رکشہ والا غائب تھا ۔۔۔۔ میرے چاروں طرف اونچی اونچی قبریں تھیں ۔۔۔ مجھے عجیب سی گھبراہٹ ہونے لگی ۔۔اب مجھے ڈر بھی لگنے لگا تھا ۔۔۔ پتہ نہیں رکشے والا وہ پرسرار آدمی مجھے یہاں کیوں لے آیا تھا ۔۔ خود کو کوس رہی تھی کہ کیوں بیٹھی اِس منحوص رکشے میں ۔۔۔۔ مگر اب کیا ہوسکتا تھا ۔۔۔ میں تقریباً آدھا گھنٹا رکشے میں ہی بیٹھی رہی ہمت ہی نہیں پڑ رہی تھی کہ باہر نکلوں ۔۔۔۔ آخر کار اللہ کا نام لے کر ہمت کر کے باہر نکل آئی تو چاروں طرف ہُو کا عالم تھا ۔۔۔ نہ کوئی انسان دکھائی دیا اور نہ ہی کوئی جانور ۔۔۔ یہاں تک کے قبروں کے درمیان بڑے بڑے درختوں پر سے بھی کسی پرندے کی آواز تک نہ سنائی دے رہی تھی ۔۔۔ اچانک ہی قریب کی قبروں کے درمیان مجھے ایک عورت سفید لباس میں سر جھکائے بیٹھی نظر آئی ۔۔۔ حیرت کی بعد تھی کہ اس سے پہلے میں نے اپنے چاروں طرف کا جائزہ لے لیا تھا تب تو وہاں کوئی نظر نہیں آیا تھا مگر اب ایک عورت کو یوں سر جھکائے بیٹھے دیکھ کر مجھے حیرت کے ساتھ ساتھ ڈر بھی لگا تھا ۔۔۔ پھر کچھ دیر تو میں یوں ہی دور سے اسکا جائزہ لیتی رہی ۔۔۔۔ پھر ہمت کرکے اس کی طرف قدم بڑھا دئے ۔۔۔۔ وہ یونہی سر جھکائے بیٹھی رہی ۔۔۔ جب قریب پہنچی تو ابھی میں اس سے کچھ پوچھنے کے لئے لب وا ہی کئے تھے کہ اس نے اپنا جھکا سر اُٹھا کر مجھے دیکھا تھا ۔۔۔۔ اور اس کی شکل دیکھ کر میری چیخ ہی نکل گئی ۔۔۔ میں مُڑ کر بھاگنا چاہتی تھی مگر ایسا لگتا تھا کہ کسی نادیدہ قوت نے میرے قدم جکڑ لئے ہوں ۔۔۔ میں اپنی جگہ سے ہل بھی نہ پائی ۔۔۔۔ اس کا چہرہ جسامت کے لحاظ سے بڑا چھوٹا سا تھا مگر آنکھیں چہرے مہرے سے کافی بڑی بڑی تھیں ۔۔۔ جن کی پتلیاں پوری سفید تھیں ۔۔۔۔ وہ طنزیہ انداز میں مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ پھر اچانک وہ اچھلی اور کسی چھلاوے کی طرح مجھ پر حملہ آور ہوئی ۔۔۔ اور مجھے نوچنا کھسوٹنا اور مارنا شروع کردیا ۔۔۔ اس کے ہاتھ ہتھوڑے کی طرح مجھ پر برس رہے تھے ۔۔۔اور وہ اپنے غلیظ ناخنوں سے مجھے نوچ کھسوٹ بھی رہی تھی ۔۔۔ مجھے اپنی موت یقینی نظر آرہی تھی ۔۔۔ آپ کا چہرہ اور سنئیہ کا اس وقت آنکھوں میں گھوم گیا تھا ۔۔۔ اچانک ہی وہ کھر کھراتی آواز میں بولی تھی ۔۔۔۔

اس کا ساتھ چھوڑ دے ورنہ اس سے بھی برا حال کر دونگی ۔۔۔۔ اسے اکیلا کر اور نکل جا اُس گھر سے ۔۔۔۔ ورنہ ۔۔۔

ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا اور میں بے ہوش ہوکر گر پڑی ۔۔۔ اور جب آنکھ کھلی تو خود کو گھر کے دروازے پر پڑے پایا ۔۔۔۔
ککو بول رہی تھیں اور میں ان کی بات سن کر غصے کے ساتھ ساتھ ککو کی زندگی کو لاحق خطرے کو بھی محسوس کر رہی تھی ۔۔۔ میں جان گئی تھی اب دشمن کھل کر سامنے آنا چاہتا ہے ۔۔۔ مگر کیا میں اس کے لئے تیار تھی ۔۔۔ اب مجھے ککو کی حفاظت کا انتظام بھی کرنا تھا ۔۔۔ اور خود کو اُس اندیکھے دشمن سے مقابلے کے لئے بھی تیار کرنا تھا ۔۔ میری زندگی میں بدلاؤ آرہا تھا ۔۔۔۔ اور ایک کے بعد ایک عجیب سے حادثوں نے میرے گھر راہ دیکھ لی تھی ۔۔۔۔

×××××××××××××××××××××××××

باقی آئندہ ۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: farah ejaz

Read More Articles by farah ejaz: 146 Articles with 151471 views »
My name is Farah Ejaz. I love to read and write novels and articles. Basically, I am from Karachi, but I live in the United States. .. View More
17 Apr, 2017 Views: 613

Comments

آپ کی رائے
مشکل راستے کے تمام کرداروں کا حقیقی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔ ہم نے اپنے تخیل کو لفظی پیراہن سے سجا کر آپ کے سامنے پیش کیا ہے ۔۔۔امید ہے کہانی آپ سب کو پسند آئے گی ۔۔۔اور اگر کہانی میں کوئی جھول دیکھیں تو ضرور آگاہ کریں ۔۔ شکریہ
By: farah ejaz, Karachi on Apr, 22 2017
Reply Reply
0 Like