علامہ اقبالؒ اور موٹیویشن

(Robina Shaheen, Lahore)
مثل مشہور ہے کہ قومیں شاعروں کے دلوں میں تخلیق پاتی ہیں۔یہ بات اور کسی قوم پہ اترتی ہے کہ نہیں پاکستانی قوم پر سو فیصد پوری اترتی ہے۔علامہ اقبالؒ جنہوں نے پاکستان کا آئیڈیا تخلیق کیا۔اور صرف آئیڈیا ہی نہیں دیا اس کو پورا کرنے کے لیئے ایک قوم تیار کی۔جنہوں نےچند سال کے عرصے میں پاکستان بنا کر دم لیا۔ سوال یہ ہے کہ اقبالؒ کیا ہے اور ان کے کلام کا سورس کیا ہے؟

مثل مشہور ہے کہ قومیں شاعروں کے دلوں میں تخلیق پاتی ہیں۔یہ بات اور کسی قوم پہ اترتی ہے کہ نہیں پاکستانی قوم پر سو فیصد پوری اترتی ہے۔علامہ اقبالؒ جنہوں نے پاکستان کا آئیڈیا تخلیق کیا۔اور صرف آئیڈیا ہی نہیں دیا اس کو پورا کرنے کے لیئے ایک قوم تیار کی۔جنہوں نےچند سال کے عرصے میں پاکستان بنا کر دم لیا۔ سوال یہ ہے کہ اقبالؒ کیا ہے اور ان کے کلام کا سورس کیا ہے؟
اقبال وژنری شاعر ہے۔وژن پہ یقین رکھنے والا،تصور کی آنکھ سے زمانوں کا حال جان لینے والا۔ان کی شاعری امید اور ولولے سے بھر پور ہے۔ایک اصطلاح ہے جو آج کل بہت استعمال ہوتی ہے وہ ہے موٹیویشن۔۔میری ناچیز رائے کے مطابق اقبال ؒ موٹیویشن کا ایک بہت بڑا زریعہ ہے۔اس کی وجہ یہ کہ اقبال کی شاعری قرآن سے ماخوذ ہے۔قرآن کا اعجاز ہے کہ وہ دل اور عقل کو اپیل کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب مشرکین مکہ نے سنا تو دنگ رہ گئے،کہ یہ کیسا کلام ہے جو دل کی دنیا بدل کر رکھ دیتا ہے۔اقبالؒ چونکہ قرآن کا شاعر ہے۔اس لیئے ان کے کلام میں بھی یہ تاثیر پائی جاتی ہے کہ وہ سیدھی دل پہ اثر کرتی ہے۔کلام اقبال کی اثرفرینی کا ایک زمانہ گواہ ہے۔قومی سطح پر تو اپنا آپ منوایا ہی بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے اثرات چھوڑے۔این میری شمل جو جرمنی سے تعلق رکھتی ہیں علامہ اقبالؒ پر اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ تصنیف کیا۔۔ غرض اقبال وہ ہیں جن کے بارے میں خود علامہ اقبالؒ کہتے ہیں کہ اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں۔ان کی سوچ ان کی فکر اتنی اجلی اور منفرد ہے کہ اس سے دلوں اور قوموں کے درمیان پائی جانے والی منافرت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ عطاء اللہ بخاری فرماتے ہیں کہ
علام اقبال کو نہ مسلمانوں نے سمجھا اور نہ انگریزوں نے۔اگر مسلمان سمجھتے تو وہ آج یہاں نہ ہوتے اور اگر انگریز سمجھتے تو بستر مرگ پہ نہ مرتے بلکہ ان کو پھانسی پہ لٹکایا جاتا۔
نوجوانوں سے مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں پر
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
کلام اقبالؒ میں شاہین کا استعارہ جا بجا ملتا ہے۔آخر کیا وجہ کہ علامہ اقبالؒ نے شاہین کو بطور استعارہ استعمال کیا۔شاہین وہ پرندہ ہے جو عام پرندوں کی نسبت زیادہ خوبیوں کا حامل ہے۔
وہ کبھی تھک کے نہیں گرتا،اونچی پرواز اڑتا ہے۔مردار نہیں کھاتا۔آشیانہ نہیں بناتا،خلوت نشیں ہے،بلند نگاہ رکھتا ہے۔۔غرض شاہیں میں اسلامی فقر کی تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں۔
شاہین سے موٹیویشن لے کر نوجوان نسل اپنے کردار کی از سر نو تخلیق کر سکتی ہے۔ایک اور موٹیویشنل اصول امید و یقین ہیں جو کلام اقبال میں ملتے ہیں۔
خدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہے یقین پیدا کر مغلوب گماں ہے تو
نا ہو نوامید نو امیدی زوال علم و عرفاں ہے امید مرد مومن ہےخدا کے راز دانوں میں
اقبال جانتے ہیں کہ یقین وہ بنیادی چیز ہے جس کے بل بوتے پر دریاوں کا رخ موڑا جا سکتا ہے۔یہ یقین تھا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی دلائی۔
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم جہادزندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

آج کل مادیت پرست دور میں ایسے مرد حق کہاں ملیں گے جو صدا دے رہے ہوں "خودی نہ بیچ غریبی میں نا پیدا کر"ایک مومن کی خودی اتنی قیمتی ہے کہ اسے چند ٹکروں کے عوض نہیں بیچا جا سکتا۔انسان کی عظمت پہ لکھتے ہیں
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل نہ بن جائے
کردار سازی وہ ہنر ہے جو انبیاء نے اختیار کیا۔اقبال بنوجوانوں کی کردار سازی کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
حسن کردار سے نور مجسم ہو جا کہ ابلیس بھی تجھے دیکھے تو مسلماں ہو جائے
کیا موٹیویشن ہے کیا خوبصورت تجزیہ ہے کہ ابلیس بھی تجھے دیکھے تو مسلماں ہو جائے۔حضرت اقبال کی شاعری کا ایک بہت بڑا کمال یہ ہے کہ یہ انسان ک وتقدیر کا پابند نہیں بناتی بلکہ اپنے عمل سے آگے کی طرف پرواز کرنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔یہ پتھر ہیں جو پابند ہیں۔مومن نہیں۔ایک مومن کے لیئے زبردست موٹیویشن ہے اس شعر کے اندر
تقدیر کے پابند ہیں نباتات و جمادات مومن فقط احکام الٰہی کے پابندی
ایک طرف موم کو احکام الٰہی کی پابندی کی تلقین اور دوسرا انسانی عظمت کو اس بلندی پر دیکھنا چاہتے ہیں کہ خود خدا انسان سے پوچھے کہ تو کیا چاہتا ہے۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اقبال فرماتے ہیں کہ انسان کا مقام ستاروں ، سیاروں ، چاند اور سورج سے کہیں اعلیٰ و ارفع ہے۔
ستارہ کیا میری تقدیر کی خبر دے گا وہ خود فراخی افلاک میں ہے خواروزبوں

تیرے مقام کو انجم شناس کیا جانے کہ خاک زندہ ہے تو تابع ستارہ نہیں
الغرض کلام اقبالؒ موجودہ دور کا وہ تانک ہے جس میں ہماری بے عملیوں،کوتاہیوں اور روھانی بیماریوں کا مکمل تدارک موجود ہے۔زندگی جب کبھی رک جائے،موٹیویشن کم ہونے لگے۔کلام اقبالؒ پڑھیئے۔۔۔آج قوم ڈگمگا رہی ہے۔مثبت لیڈر شپ کی محرومی سے اپنا مورال کھو رہی ہے۔۔۔ان کی رہنمائی کلام اقبال ؒ موجود ہے
ہر ایک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: robina shaheen

Read More Articles by robina shaheen: 31 Articles with 72665 views »
I am freelancer and alif kitab writter.mostly writes articles and sometime fiction... View More
18 Apr, 2017 Views: 1481

Comments

آپ کی رائے