اعتزاز کی آئی ایس آئی کے خلاف ہرزہ سرائی

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

بھارت امریکہ روس اسرائیل جس سے دہلتے ہیں جس سے پاکستانی قوم اپنی جان سے زیادہ پیار کرتی ہے اُس کی بابت جناب اعتزا اھسن نے اپنی سیاسی دکانداری چمکانے کے لیے یہ بیان داغ دیا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی نواز شرے کے رشتے دار ہیں۔ اِس ملک مین تو اشرافیہ جو ھخمرانی کے مزئے لے رہی ہے وہ آپس مین رشتے دار ہے ہی لیکن خدارا پاک فوج کے مورال کو کمزور نہ کیا جائے۔ سیاسی دکانداری چمکانے کے اور بھی طریقے ہین لیکن اِس مین آئی ایس آئی کا نام لینا کسی طور پ بھی پاکستان کی خدمت نہین ہے۔

نواز شریف کے سابق وکیل اور پی پی رہنماء جناب اعتزاز احسن جنہوں نے اپنی الیکشن کمپین جب آخری مرتبہ کی تھی تو اُن کے بینرز پر بڑئے دھڑلے کے ساتھ لکھا تھا کہ نوزا شریف کا وکیل اور بے نظیر کا بھائی۔ اب جناب اعتزاز احسن نے نواز شریف کے خلاف اپنا یہ بیان داغ دیا ہے کہ آئی ایس آئی تو نواز شریف کی رشتہ دار ہے۔ اِس لیے کچھ بھی نہ ہوگا۔ساری باتیں درست۔ نواز شریف کی سیاست کے حوالے سے جتنے مرضی بیانات دیں۔ سیاسی حکمت عملی کے طور سیاستدان پینترے بدلتے رہتے ہیں۔ مریم نواز کے سمدھی آئی ایس آئی کے سربراہ کی بیگم کے ماموں ہیں۔جناب اعتزاز احسن کی جانب سے اِس طرح کا بیان سیاسی سکور کے لیے ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں اعتزاز احسن کے بیان پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ مسلح افواج کے حوالے سے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں، یہ بیانات گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ کچھ لوگوں کا پریمئر انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ سے متعلق بیانات بے بنیاد ہیں۔ مسلح افواج کی دیانت اور ساکھ شکوک و شبہات سے بالاتر ہے۔ مسلح افواج پر شک و شبہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ پی پی رہنما اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ شریف خاندان کیلئے سپریم کورٹ کی روایت ہمیشہ نرم رہی، لندن جائیدادوں کی مرکزی کردار مریم نواز کو چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی اور مریم نواز کی رشتے داری ہے، پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی بے اثر ہوگی۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم پر تنقید ہو سکتی ہے تو اداروں کے سربراہوں پر بھی تنقید کی جا سکتی ہے۔ مریم نواز اور ڈی جی آئی ایس آئی کی انتہائی قریبی رشتہ داری ہے اور میں نے اپنے انٹرویو میں صرف حقیقت بیان کی لیکن اس بیان پر جس طرح آئی ایس پی آر نے رد عمل کا اظہار کیا ہے اس سے ان لوگوں کو بھی اس رشتہ داری کا پتہ چل گیا جنہیں میرے بیان کے بعد پتا نہیں لگا تھا۔نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے پروگرام ’’جی فار غریدہ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے چوہدری اعتزارز احسن کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی مریم نواز شریف سے بہت قریبی رشتہ داری ہے، مریم نواز کے سمدھی ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کی اہلیہ کے ماموں ہیں۔ یا تو آئی ایس پی آر تردید کردے کہ ان کی رشتہ داری نہیں ہے، اگر رشتہ داری ہے تو اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ آئی ایس پی آر نے جس طرح اس سٹوری کو بنایا ہے اس سے میری اتنی شہرت ہوگئی ہے جتنی نہیں ہونی تھی، یہ میرے ذاتی خیالات تھے ان سے پارٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے، میرے بیان کے بعد جس کو اس بات کا پتہ نہیں تھا آئی ایس پی آر نے ان لوگوں کو بھی بتادیا۔اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے سوال کیا کہ وزیر اعظم کے خلاف بننے والی جے آئی ٹی میں ڈی جی آئی ایس آئی کسی طرح کا کردار ادا کر سکتے ہیں اور کیا وہ وزیر اعظم کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں؟۔ اس سوال کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی بھی ہماری طرح کا انسان ہے اس میں بھی ہماری طرح کی کمزوریاں ہوں گی۔ فوج نے بطور ادارہ بہت کام کیا ہے اور جنرل راحیل شریف کی قیادت میں بہت نام کمایا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فوج میں موجود ہر شخص مقدس گائے ہے۔ یہ تنقید کی بات نہیں ہے بلکہ میں نے ایک حقیقت بیان کی ہے، وزیر اعظم پر تنقید ہو سکتی ہے تو اداروں کے سربراہوں پر کیوں نہیں کی جا سکتی؟۔انہوں نے کہا کہ ملٹری اور جوڈیشل اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ ن لیگ کے حق میں اور پیپلز پارٹی کے خلاف ہوتی ہے، جب 1993 میں نواز شریف کی حکومت کو بحال کیا گیا تو اس میں فوج کی مرضی تھی جبکہ بینظیر کی حکومت کو فارغ کرنے میں بھی آرمی چیف کی مرضی شامل تھی۔ اصغر خان کیس میں ن لیگ کے خلاف فیصلہ آیا ہے لیکن کوئی بینچ اس پر عملدر آمد کیلئے قائم نہیں ہو رہا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 226041 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
24 Apr, 2017 Views: 490

Comments

آپ کی رائے