نجی تعلیمی ادارے اور ریاست کی ذمہ داری..!

(Wahid Ali Naqshband, )

 کسی بھی ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کا دارومدار تعلیم پرہی ہوتا ہے،جس ملک و قوم میں تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے وہ ہمیشہ زندگی میں لوگوں پر اور ان کے دلوں پہ راج کیا ہے۔اسلام میں بھی علم کو بہت اہمیت دی گئی ہے،کیونکہ علم کے کمالات میں سے ایک کمال یہ ہے کہ انسان کو جہالت اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر علم و آگاہی کی روشنی میں لاتا ہے اور بنی آدم کو شعور و فہم بخشتا ہے، اور انسان کو جب یہ تمیز ہو جاتی ہے تو دیوانہ وار کامیابیوں کی طرف لپکتا ہے۔

نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے تھے، رسول خدا ا کی سیرت طیبہ میں آیا ہے کہ آپ جنگ بدر کے اس اسیرکو جو مدینہ کے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھاتا تھا آزاد کر دیتے تھے ۔اس عمل سے اسلام اور پیغمبر اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں تعلیم کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔آپ ا تمام علوم کو اہمیت دیتے تھے ، چنانچہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعض صحابیوں کو سریانی زبان سیکھنے کا حکم دیا ۔

معروف حدیث سے بھی جس میں آپ ا نے فرمایا ہے کہ علم حاصل کرو اگرچہ تمہیں چین جانا پڑے ۔اسلام میں تعلیم کی اہمیت کا پتہ چلتاہے ، حصول علم کے بارے میں آپ ا کی ترغیب اور تاکید سبب بنی کہ مسلمانوں نے بڑی سرعت وہمت کے ساتھ علم حاصل کیا ۔ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے:”(اےنبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجیے کیا علم رکھنے والے(عالم) اور علم نہ رکھنے والے (جاہل) برابر ہوسکتے ہیں۔نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والےہیں ’’۔

انتہائی افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ آج ترقی کے اس دور میں ہماری پیچیدگی کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے سماج و معاشرہ میں تعلیم سے غفلت برتی جا رہی ہے۔چاہے وہ قومی سطح پر ہو یا سرکاری سطح پر،اس جدید دور میں اپنے سماج کے پیچیدہ نظامِ تعلیم کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ پرائمری تعلیم لازمی بنیادی تعلیم کا پہلا قدم ہے۔

ہمارے ملک میں پرا ئمری جماعتوں میں ملی جلی عام تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ تعلیم چار سال سے دس سال کے بچوں کو دی جاتی ہے مگر مختلف علاقوں اور ملکوں میں یہ دورانیہ ایک دو سال کے فرق سے مختلف بھی ہو سکتا ہے مثلاً کچھ ممالک یہ تعلیم تین سے نو سال اور کچھ ممالک میں 5سے 11 سال تک کے بچوں کو دی جا تی ہے۔پرائمری تعلیم کا آغاز 1800ءمیں ہوا اور اِس پر عمل زیادہ تر برطانیہ اور دولت مشترکہ کے ممالک میں کیا گیا ہے جبکہ امریکہ میں اِس تعلیم کا آغاز کنڈر گارڈن سے ہوتا ہے اور گریڈ پانچ تک جاتا ہے کنڈر گارڈن سے گریڈ پانچ تک کی تعلیم کو امریکہ میں ایلیمنٹری ایجوکیشن بھی کہا جاتا ہے ۔ بچہ کھیل ہی کھیل میں اپنا تجسس اور کھوج نکالنے کا مشتاق بن جاتا ہے ،کہ وہ اپنی فکر اور صلاحیت کو نقطہ چیں بن کر ابھاریں اور مختلف طریقوں سے مسائل کو حل کرنا سیکھیں ۔اگلی جماعتوں میں مضامین کو زیادہ گہرائی میں سکھایا جاتا ہے اور اس کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے۔ شاگردوں کو از خود توجہ اور تعاون کے لیے متحرک کیا جاتا ہے ۔

جبکہ ہم بغور جائزہ لیں تو ہمیں پرائمری سطح تعلیم کئی مسائل کا شکار نظر آتی ہے۔بنیادی طور پر ہمارے ہاں دو طرح کے معیارِ تعلیم جو کہ سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں ،اِس کے ساتھ ساتھ ایک وہ بھی نظامِ تعلیم ہے جو مدرسوں میں رائج ہے ۔سرکاری سکولوں کے معیار کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مزدورطبقہ مجبوراً اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل کرواتے ہیں۔قومی ترجیحات میں تعلیم کو اہمیت نہ دینے کی وجہ سے سرکاری تعلیمی ادارے وسائل کی کمی اور تعلیمی پالیسیوں میں عدم تسلسل کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر جاپہنچے۔ میرٹ کے کھلے قتل عام کی وجہ سے نظام تعلیم میں وہ لوگ آئے جنہوں نے تعلیم کو تجارت بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

تعلیم کے ساتھ مسلسل سرکاری عدم توجہی اور سوتیلی ماں جیسے سلوک سے نجی شعبے کو تعلیم کے میدان میں قدم جمانے اور اپنی دکان چمکانے کا بھرپور موقع ملا۔ سرکار نے بھی بغیر کسی ٹھوس منصوبہ بندی اور چیک اینڈ بیلنس سسٹم کے نجی شعبے کی تعلیم میں سرمایہ کاری کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور دیکھتے ہی دیکھتے میعارِ تعلیم کی بلندی اور شرح خواندگی میں اضافے کے خوش نما نعروں سے ہر سطح پر نجی تعلیمی اداروں کا جال بچھ گیا۔ آج ہر گلی، محلے اور بستی میں تعلیم کی خدمت، میعاری نظام تعلیم جیسے خوش نما نعروں کے ساتھ اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک لوگ اپنی دکانیں سجائے بیٹھے ہیں۔ نجی شعبہ تعلیم میں بھاری رقوم لے کر انگریزی، اردو، آکسفورڈ، امریکن، جرمن، فرنچ اور پاکستانی نصاب کے محلول کے ذریعے اب تک ایسی نسل کی تیاری کا عمل جاری ہے جو نمائشی، غیر میعاری اور غیر اسلامی مخلوط تعلیمی ماحول میں پڑھ کر ”نہ خدا ملا نہ وصالِ صنم“ کی عملی تفسیر بنی ہوئی ہے۔

ملک میں مختلف نظام ہائے تعلیم رائج ہونے کی وجہ سے معاشرے میں یکسانیت کا فقدان ہے۔ ہر طبقہ زندگی کے لیے الگ نصاب، الگ زبان اور الگ نظام تعلیم نے معاشرے کو کئی طبقات میں تقسیم کردیا اور افتراق و انتشار کی وہ آگ بھڑکی ہوئی ہے جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ امیر اور غریب کی تحقیر اور تفریق، لسانیت کا پرچار، قوم پرستی کی بنیاد پر قتل عام، حب الوطنی کے جذبے کا فقدان اور بے مقصدیت وہ خوفناک مسائل ہیں جو ایک زبان، ایک نصاب اور ایک نظام تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے جنم لے رہے ہیں۔

تعلیم کے نام پر کھلی ان مہنگی دکانوں کے ساتھ ساتھ سرکار نے بھی غریب اور متوسط طبقے کے زخموں پر نمک پاشی کا خوب انتظام کیا۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں محدود کوٹہ سسٹم، سیلف فنانس اسکیم، فیسوں میں بے تحاشا اضافے نے غریب اور متوسط طلبہ کے لیے تعلیم کے دروازے بند کردئیے ہیں۔ نجی اداروں کے ساتھ ساتھ سرکار کے اداروں میں سیلف فنانس اسکیم کے تحت تحصیلِ علم کے لیے جو فیس وصول کی جاتی ہی، ایک متوسط طبقے کا مزدور یا ملازم ساری زندگی اتنی بھاری رقوم ادا نہیں کرسکتا۔ ایک غریب طالب علم کے لیے تعلیم کے دروازے بند کردینے کے لیے اس کا ایک یہی جرم کافی ہے کہ وہ غریب ہے اور لوٹ مار کرکے امیر نہیں ہوا۔ بدقسمتی سے تعلیم جیسے حساس شعبے کو بھی مقامی ضروریات اور تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے بجائے ایسی پالیسیاں مرتب کی جارہی ہیں جو آئندہ نسل کو غیروں کا غلام بنادیں گی۔ ختم شد

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Wahid Ali Naqshband

Read More Articles by Wahid Ali Naqshband: 2 Articles with 1427 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Apr, 2017 Views: 1145

Comments

آپ کی رائے