عطیات سوچ سمجھ کر دیں۔حق دار کو اُس کا حق

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

انڈویجوئل لینڈ کے زیر اہتمام سیمینار

پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ(PFCC) کے رکن مزمل احمد فیروزی نے مجھے ایک سیمینار میں شرکت کی دعوت دی۔ یہ سیمینار کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں 8 اپریل 2017کو منعقد ہوا۔ مَیں وقت مقررہ پر تقریب گاہ پہنچ گیا۔ حال تو جگ مگ کررہا تھا لیکن چند لوگ ہی وہاں نظر آئے۔ یہ کوئی خاص بات نہیں تھی، تقریبات کا وقت مقررہ سے کم از کم ایک گھنٹے بعد شروع ہونا معمول ہوچکا ہے اس میں کچھ تو منتظمین کی اور کچھ شرکائے تقریب کی تساہلی کا دخل ہوتا ہے۔ کچھ دیر بعد سیمینار کا آغاز ہوا، عام طور پر اسٹیج اور اس پر راسٹم، صدر محفل ، مہمانِ خصوصی ،مقررین ہوا کرتے ہیں لیکن یہاں صرف ایک ہی خاتون استادانہ طُمطُرَاق اور شان و تجمل کے ساتھ جلوہ افروز ہوئیں۔ جیسے جیسے گفتگو آگے بڑھی کم عمر ی میں بولنے کا ھنر نکھر کر سامنے آتا چلا گیا۔ اسکرین پر تحریر تھا انڈویجوئل لینڈ (Individulaland)، اف خدایا یہ کیا؟ بلایا تو گیا تھا کہ کسی علمی اور سماجی موضوع پر سیمینارمیں یہاں تو کسی زمین کا کاروبار کرنے یا پھر کسی شخصِ واحد کی زمینوں پر قبضے پر گفتگو کے آثار نظر آرہے تھے۔ جلد ہی سیمینار کی ریسورس پرسن سند س سند س سی ’سندس سید‘ نے وضاحت کی کہ انڈویجوئل لینڈ ایک فلاحی تنظیم ہے جو مختلف سماجی، فلاحی ،صحت، تعلیم و ادبی موضوعات پر عوام الناس کی توجہ مبزول کراتا ہے اور انہیں آگاہی فراہم کرتا ہے ۔اس وضاحت کے بعد جو تشویش دلِ ناتواں پر ہوئی تھی اس میں افاقہ ہوا۔ اس کے بعد سیمینار کا موضوع اسکرین پر پیش کیا گیا جو کچھ اس طرح سے تھا(Media interaction on Safe Charity giving Practices)، گویا’ سیف چیریٹی Safe Charity ‘ اصل موضوع تھا، عطیات دینے والوں سے یہ کہنا مقصود تھا کہ عوام جن لوگوں یا فلاحی اداروں کو عطیات دیں ، سوچ سمجھ کر، دیکھ بھال کر بلکہ ٹھوک بجا کر دیں۔ بات بہت اہم تھی ۔ ہمارے معاشرے میں عطیات جمع کرنے والوں کا مینا بازار لگا ہوا ہے، جس طرف دیکھیں، جہاں چلے جائیں کسی اور سے واسطہ پڑے یا نہ پڑے عطیہ لینے والے مرد و خواتین کے علاوہ معصوم بچوں کے پھیلے ہوئے ہاتھ ہمارے سامنے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی تو انہیں دیکھ کر دل مَلُول، طبیعت بوجھل ہو کر رہ جاتی ہے لیکن کیا کیا جائے پیشہ ور گدا گروں کا ایک طاقت ورمافیہ ہر شہر میں پایا جاتا ہے۔ چوراہے ، سنگنل بکتے ہیں، ٹھیکے پر دئے جاتے ہیں ، طاقت ور ان پر قابض ہوتے ہیں۔ بعض بعض چوراہے اور سنگنل ایسے ملتے ہیں کہ جہاں پر برسوں سے مخصوص گداگر ہی ہاتھ پھیلائے ، آپ کی گاڑی کے شیسے پر دستک دیتے نظرآتے ہیں۔کوئی نیا گدا گر وہاں پھٹک نہیں سکتا۔ بعض شہر پیشہ ور گَد اگروں کے لیے چاندی اور سونا ہیں جیسے کراچی شہر ، ابھی رمضان کی آمد سے قبل اندرون ملک سے ٹرینوں کی ٹرینیں گدا گر و ں سے بھری کراچی آئیں گی پھر کراچی ہوگا اور یہ پیشہ ور گدا گرہوں گے۔ رمضان میں سال بھر کی کمائی کریں گے اور عید پر عیدی بٹوریں گے اور واپس چلتے بنے گے۔ یہ تو حال ہے انفرادی یا خاندانی بھکاریوں کا ۔ عطیات کے حصول میں بڑے بڑے ادارے سرگرم نظر آتے ہیں۔ ان اداروں کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی، میڈیا کا ان اداروں کی ساکھ کو آسمان تک پہنچانے اور بعض کی ساکھ کو زمین بوس کرنے میں کردار پر گفتگو ہوئی۔ فلاحی ادارے جو صدقہ، زکوٰۃ، خیرات اور قربانی کی کھالیں جمع کرتے ہیں اور بے شمار لوگ انہیں یہ سب کچھ دے بھی رہے ہیں ، کبھی ہم نے سوچا کہ ہمارے یہ عطیات درست جگہ جارہے ہیں، ان کا مصرف درست ہورہا ہے، مسلمان کی حیثیت سے جو احکامات ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی جانب سے دئے گئے ، ہم اپنے عطیات اس کے مطابق دے رہے ہیں اور ان احکامات کے مطابق ان لوگوں تک پہنچ رہے ہیں جس کا حکم ہمیں بہت واضح طور پر قرآن اور احادیثِ مبارکہ میں ملتا ہے۔ اگر نہیں۔۔۔ تو اب اس جانب توجہ کیجئے ، پہلے تحقیق کیجئے، معلومات حاصل کیجئے اور یہ کوئی مشکل اور نہ ہونے والی بات نہیں ، یہ دور میڈیا کا ہے، کمپیوٹر اورانٹر نیٹ کا دور ہے۔ اب دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی واقعہ رونما ہوجائے تو ہمیں سیکنڈ وں میں اس کی تفصیل معلوم ہوجاتی ہے۔ کسی بات کے بارے میں، کسی ادارے کے بارے میں ہم انٹر نیٹ کے توسط سے ایک کلک کے ذریعہ آگہی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سیمینار کا مقصد بھی یہی تھا ، انڈویجوئل لینڈ اپنے اس ایونٹ کے توسط سے لوگوں کو یہی پیغام پہنچانا چاہتا تھا کہ عطیات تو ہم آپ دیتے ہی ہیں ، یہ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے، اخلاقیاتی قدریں بھی ہمیں یہی تعلیم دیتی ہیں،جنہیں اللہ نے دیا ان پر اس کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عطیات ضرور دیں لیکن دیکھ بھال کر، آپ کی دی ہوئی رقم کسی غلط جگہ یا اس کا غیر ضروری مصرف تو نہیں ہورہا، جس ادارے کو ، جس شخص کو ہم اپنے عطیات دے رہے ہیں وہ اس کا استعمال اسلام کے بتائے ہوئے اور قانون کے مطابق کررہا ہے۔ کہیں رقم کسی ذریعے سے ملک سے باہر تو نہیں لے جائی جارہی، وہ ادارہ اس رقم کو سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال نہیں کر رہا ۔ آج کل مذہب کے نام پر عطیات جمع کرنے کا رواج عام ہے، دینی تعلیم کے بیشتر ادارے عطیات کی بنیاد پر ہی چل رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی تعلیم کے ادارے صدقہ، خیرات، زکوٰۃ کا بہترین مصرف ہیں لیکن فی زمانہ ان کے بارے میں بھی چھان بین ضروری ہے۔ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ دیکھ بھال کر لینا ، اطمینان کر لینے میں کوئی مزائقہ نہیں۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ زبردستی عطیات یا چندہ لینے والے اشخاص یا اداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں ۔ اس لیے کہ ایسے عناصر عطیات کا استعمال دہشت گردی کے کاموں میں بھی کرسکتے ہیں۔

صدقہ ، خیرات، زکوٰۃ ، فطرہ، قربانی کی کھالیں عطیات کے زمرے میں آتے ہیں۔عطیات دینا مسلم معاشرے کا ایک اہم دینی ، اخلاقی اور معاشرتی فریضوں میں سے ایک ہے۔ اسلام میں عطیات یعنی زکوۃ، خیرات، صدقہ، فطرانہ اور غریب و مستحق لوگوں کی مدد کرنے کی نہ صرف تاکید ہے بلکہ واضح طور پر بتا دیا گیا کہ زکوٰۃ کن پراور کس نصاب سے فرض ہے، خیرات کس کو دینی ہے، کون مستحق ہیں، کون مستحق نہیں، صدقہ کیا ہے ؟ اس کی اہمیت کیا ہے،یہ کب اور کس طرح دیا جائے، فطرہ رمضان المبارک میں عید کی نماز سے قبل ادا کرنے کا حکم ہے۔

سورۃ البقرہ کی آیت 215میں بہت واضح الفاظ میں بتا یا گیا کہ خیرات کس کو دی جائے۔ ترجمہ ’اے محمد ﷺ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں ) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن ) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ(درجہ بدرجہ اہلِ استحقاق یعنی، ماں، باپ کو اور قریب کے رشتہ داروں کو، یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو) اور جو بھلائی تم کروگے اللہ اُ س کو جانتا ہے‘۔اسی سورۃ کی آیات 219میں پروردگار اپنے محبوب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتا ہے کہ ’اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں ) کونسا مال خرچ کریں کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو‘۔ اللہ نے سورۃ اللیل میں فرمایا ’اور اس آتش و دوزخ سے نہایت متقی بندہ دور رکھا جائے گا جو اپنا مال راہ خدا میں اس لیے دیتا ہو کہ اس کی روح اور اس کے دل کو پاکیزگی حاصل ہو‘۔ مولانا محمد منظور نعمانی نے ’معارف الحدیث‘ میں لکھا ہے کہ ’ زکوٰۃ کانام غالباً اسی پہلو سے زکوٰۃ رکھا گیا ہے ، کیونکہ زکوٰۃ کے اصل معنی ہی پاکیزگی کے ہیں‘۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے 70 سے زیادہ مقامات پر اقامت صلوٰۃ اور زکوٰۃ ادا کرنے کا زکر کیا ہے۔ نماز اور زکوٰۃ کا زکر کلام مجید میں اس طرح ساتھ ساتھ تاکید اور وضاحت کے ساتھ اس طرح آیا ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ دونوں کا درجہ قریب قریب ایک ہی ہے۔ زکوٰۃ کی اہمیت اس سے اورزیادہ واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مختلف پیغمبروں کی شریعتوں میں بھی نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا زکر کیا سورۃ انبیاء میں حضرت ابراہیم ان کے بیٹے حضرت اسحٰق اور پھر ان کے بیٹے حضرت یعقوب علیہم السلام کا ذکر کرتے ہوئے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا کہا گیا، حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ مجھے اللہ نے نماز اور زکوٰۃ کی وصیت کی ہے۔ ہمارا پر وردگار ہمیں عطیات یعنی صدقہ، خیرات ، زکوٰۃ دینے کی تاکید کر رہا ہے ،اس نے یہ بھی بتا یا کہ صرف وہی ایسا کرے جو دینے کی استطاعت رکھتا ہو ، جو صاحب استطاعت نہ ہو اس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ اس نے یہ بھی بتا یا کہ کس قسم کا مال یا اشیاء سے مدد کی جائے یعنی جو خود کھاؤں وہ دوسروں کو کھلاؤ ، یہ نہیں کہ خود تو روسٹ، بریانی اور قورمہ اڑاؤ اور صبح اپنی ماسیوں اور نوکروں کو بچا کچا، رات کا باسی، کھانا کھلا ؤ۔ عطیات یعنی زکوٰۃ ، خیرات ، صدقہ کس کو دیا جائے؟ان عطیات کے کون حق دار ہیں؟ اس کی وضاحت بہت صاف الفاظ میں کردی گئی ہے۔ گویا حق دار کو اس کا حق ادا کرنے کی تاکید آئی ہے۔ عربی قول ہے کہ ’زکوٰۃ بہترین خیرات ہے‘۔اسے اسلام کا خزانہ بھی کہا گیا ہے۔

زکوٰۃ ، خیرات اور صدقہ کے بارے میں اللہ کے فرمان کے بعد یہ جاننا ضروری ہے کہ احادیثِ مبارکہ اس حوالے سے ہماری کیا رہنمائی کرتی ہیں۔ اس لیے کہ اللہ پر ایمان ، اس کے رسول ﷺ کو آخری نبی ماننے اس کی رسالت پر لبیک کہنے کے بعد اقامت صلوٰۃ یعنی نماز کی پابندی کے بعد زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے۔ نماز اور زکوٰۃ کا حکم ساتھ ساتھ اس طرح آیا کہ دونوں کا مقام و مرتبہ ایک سا معلوم ہوتا ہے۔ گویا جس قدر اہمیت نماز کی ہے اتنی ہی زکوٰۃ کی ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث ہے آپﷺ نے فرمایا ’خدا کی قسم نماز اور زکوٰۃ کے درمیان جو لوگ تفریق کریں گے ، میں ضرور ان کے خلاف جہاد کروں گا‘۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے خلاف جو بہ ظاہر اسلام قبول کر چکے تھے اورتوحید و رسالت کا اقرار کرتے اور نمازیں پڑھتے لیکن زکوٰۃ سے انکاری تھے جہاد کا فیصلہ کیا تھا۔ زکوٰۃ کی ادائیگی اسلام میں سب سے بڑا عطیہ تصور کیا جاسکتا ہے۔صدقہ کی صورت کچھ اور ہے یہ کسی بھی وقت دیا جاسکتا ہے اس کے بارے میں یہ بھی پابندی نہیں کہ کس قدر صدقہ کیا جائے،صدقے کے بارے میں فارسی مقولہ ہے کہ’ صدقہ آفت کو دور اور عمر میں اضافہ کرتا ہے‘۔

خیرات کی بھی یہی صورت ہے جو بھی استطاعت ہو خیرات کردیا جائے۔خیرات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’خیرات دے تاکہ تیری اولاد خیرات نہ مانگے‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’اگر دُنیا میں ایک حصہ راہ خدا میں دو گے تو آخرت میں ستر گنا زیادہ پاؤ گے‘۔ یہ تو بات طے ہے کہ ’خدا کی راہ میں دینا جان و مال کی حفاظت کرتا ہے‘۔ البتہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں مرضی کا دخل نہیں ، اس کا نصاب مقرر، اس کے احکامات اور ضوابط موجود ہیں، کم سے کم کتنے مال پر زکوٰۃ فرض ہے، تجارت پر زکوٰۃ، زیور پر زکوٰۃ، نقد رقم پر زکوٰۃ،جائیداد پر زکوٰۃ تمام چیزوں کی وضاحت و مقدار مقرر ہے۔ یہی نہیں بلکہ سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ زکوٰۃ ایک ساتھ بھی دی جاسکتی ہے ، اسے پیشگی بھی ادا کیا جاسکتا ہے اور یہ تھوڑی تھوڑی کر کے بھی دی جاسکتی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے نیویارک کے مضافاتی علاقے بلس ول میں ایک تقریب میں کہا کہ خیراتی اداروں کو عطیات کے حوالے سے پاکستان میں مثالی ماحول ہے۔ پاکستان کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا جہاں سب سے زیادہ صدقہ خیرات کیا جاتا ہے۔اس موقع پر انہوں نے بلاسود قرض دینے والے ادارے ’اخوت‘ ، سٹیزن فاؤنڈیشن اور ڈی آئی ایل جیسے اداروں کا زکر کیا جو پاکستانی شہریوں کو مادر وطن کی خدمت کا موقع فراہم کررہے ہیں۔ (روزنامہ جنگ 25اپریل2017)۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ پاکستان میں خدمتِ خلق ، انسانیت کا درد درکھنے والے، فلاح و بہبود کے بے شمار ادارے کام کر رہے ہیں۔ ان اداروں میں وہ ادارے بھی ہیں جو کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے زیر سرپرستی کام کررہے ہیں۔ بعض اداروں نے اپنی ساکھ اس حد تک قائم کر لی ہے کہ عطیات دینے والے ان پر آنکھ بند کر کے اعتبار کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ادارے دن دونی ترقی کے منازل طے کرتے جارہے ہیں۔ عطیات کی ادائیگی بہت ہی اہم اور نازک مسئلہ ہے۔ عطیات دینے میں ہر ایک کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے، آپ کی عطیہ کی ہوئی رقم کا استعمال صحیح جگہ ، صحیح لوگوں پر ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر عطیہ خواہ کسی کو بھی کریں ، ادا کر کے ہم بری الزمہ نہیں ہوسکتے۔ ہمیں مکمل آگہی رکھنا ہوگی کہ ہماری عطیہ شدہ رقم درست ہاتھوں میں گئی اور اس کا استعمال بھی درست ہوا۔ (26اپریل2017)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 767 Articles with 658401 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
26 Apr, 2017 Views: 351

Comments

آپ کی رائے