حکمت آمیز باتیں-حصہ ہفتم

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)
یہ تحریر فیس بک کے آفیشل پیج www.facebook.com/ZulfiqarAliBokhari
پر میری کہی گئی باتوں کا مجموعہ ہے، میری سوچ سے سب کو اختلاف کا حق حاصل ہے،میری بات کو گستاخی سمجھنے والے میرے لئے ہدایت کی دعا کر سکتے ہیں۔

جب ہم معاملات اللہ تعالی پر چھوڑ دیتے ہیں تو ہم ذہنی طور پر پرسکون ہو جاتےہیں۔

جب ہماری سوچ اوراحساسات وجذبات کے مطابق کچھ نہیں ہوتا ہے یا ہم ویسی زندگی نہیں گذار سکتے ہیں تو ذہنی و جسمانی اذیت کا شکار ہو جاتے ہیں،مجھے بہت سے افراد سے واسطہ پڑچکا ہے جوکہ اس اذیت سے جان بوجھ کر چھٹکارہ حاصل نہیں کرنا چاہتے ہیں کہ یوں وہ تسکین محسوس کرتے ہیں،وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اسکے برعکس کیا تو پھر زندگی سے سب کچھ نکل جائے گا۔یہ بھی ایک ذہنی عارضہ ہے جو کہ ایک ماہر نفیسات دور کر سکتا ہے۔

کئی سالوں سے جیلوں میں قید افراد کو حال ہی میں بے گناہی ثابت ہونے پر رہا کیا گیا ہے، ایک مقدمہ میں تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ بری کئے جانے والا شخص ہی دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔کیا حقائق کو جانے بنا سزا دینا ضروری ہے، قوانین میں نرمی کر کے کچھ مقمدمات میں تحقیقات مکمل ہونے تک انکو آزادی کیوں نہیں دی جاتی ہے، آخر کیوں بے گناہ افراد کو زندگی بھر کے لئے قید رکھا جاتا ہے۔یہی معاملہ ہر جگہ دکھائی دینتا ہے کہ ہم سزا پہلے دیتے ہیں شرمندہ بعد میں ہوتے ہیں۔۔۔۔۔

بطور استاد اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہوتا کہ آپ شاگردوں کو اچھائی کی تلقین اور برائی کی تمیز کے ساتھ جھوٹ و سچ میں فرق کا اندازہ لگانا بھی سکھائیں تاکہ کل کو وہ کسی کے بہکاوئے میں آکر گمراہ نہ ہو سکیں۔بصورت دیگر اس کے گمراہ ہو جانے کا کسی قدرکردار استاد کا بھی ہوگا اگر اس نے فرائض سے غفلت برتی ہوگی۔

تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں دونوں رخ دیکھ کر ہی فیصلہ کرنے کی عادت ڈالیں

جب آپ اپنی ذات کا احتساب کر لیں تو پھر دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کیجئے

۔ہم میں سے بہت سے لوگ دوسروں کی سوچ کے تابع ہو کر عمل کرنا شروع کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو وہ کہتے ہیں وہی درست ہوگا اور یہی بات ہمیں لے ڈوبتی ہے۔

اگر گناہگار کو سزا نہ دی جائے تو پھر معاشرے میں قانون کو ہاتھ میں لینے کا رحجان بڑھ جاتا ہے اور اسکے بعد معاشرہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے تب ہی ایسی قوموں پر عذاب کسی نہ کسی شکل میں جاری ہوتا ہے۔

سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اگر وہ فیصلہ آپ کو اندر سے دکھی رکھے تو پھر ایسے فیصلے سے گریز کرنا چاہیے۔

سوچ بدل لیں،آپ کی زندگی کے بے شمار مسائل حل ہو جائیں گے؟

ہم خود سدھرنہیں سکتے مگردوسروں کو سدھارنا چاہتے ہیں؟

اگر آپ نے تعلق دوسروں کی وجہ سے توڑنا ہوتا ہے تو پھر آپ کو دوسروں سے پوچھ کر ہی تعلقات رکھنے چاہیں۔

خوف صرف آپ کو کچھ کرنے سے ڈراتا ہے مگر اگر آپ اس کا سامنا کر لیں تو پھر وہ آپ کو اتنا خطرناک محسوس نہیں ہوتا ہے جتنا آپ سوچ سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ آج ہم نیک عمل کرنے کے لئے بھی اپنی من مرضی ہو تو کرتے ہیں وگرنہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ نے چاہا ہو کر لیں گے یعنی ہم اپنے آپ کو بھی اس معاملے میں ذمہ دار ٹھہرانے سے بچاتے ہیں جب اس ذات نے عقل و شعور دیا ہے، آزادی کے ساتھ فیصلہ کرنے کا شعور عطا کیا ہے تو پھر ہم نیک اعمال کے لئے اسکی توفیق کی طرف کیوں دیکھتے ہیں اپنی نیت کیوں بناتے ہیں؟

لڑکے کچھ بھی کہہ لیں گھر والے سہہ سکتے ہیں مگر لڑکی بولے تو بدزبانی کے طعنے دیئے جاتے ہیں اور گھر سے نکل جانے تک کی دھمکیاں دی جاتی ہیں،مگر انکو آزادی سے جینے کا حق نہیں دیا جاتا ہے جو کہ اسلام کی تعلیمات بھی درس دتی ہیں۔

عورت کی غلطی ناقابل معافی ہوتی ہے،مگر مردوں کو معاف کر دیا جاتا ہے ۔ہم انسانوں کے بھی دوہرے معیار بن گئے ہیں۔

انکار کرنا چاہیے اور واضح کرنا چاہیے،اس میں جھوٹ کی آمیزیش شامل نہ ہو تو ہر بندہ انکار کو سہنے کی طاقت رکھتا ہے۔

چراغ تلے اندھیر ہی ہوتا ہے اور اکثر لوگوں کو اپنی غلطیوں کا احساس کم ہی ہوتا ہے جن کو ہوتا ہے وہ اپنی اصلاح کرلیتے ہیں۔مگر کچھ لوگوں کواپنی ذات ہمیشہ صاف دکھائی دیتی ہے تو وہ لوگ ہمیشہ گمراہی میں زندگی گذار دیتے ہیں۔

اللہ سے بڑھ کر ہمارا کوئی اور بھلا نہیں سوچ سکتا ہے۔

کبھی کبھی ہمارے ساتھ غلط اس لئے بھی ہو جاتا ہے کہ قدرت ہمیں بہت کچھ سمجھانا چاہتی ہے،جب تک ہم سمجھتے نہیں ہیں ہماری آزمائش برقرار رہتی ہے۔

جب تک آپ معافی اور جھکاو کی جانب قدم نہیں بڑھتے ہیں تب تک آپ کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ جب آپ ضد پر کھڑے ہوتے ہیں تو آپ اپنے ساتھ ہی ذیادتی کرتے ہیں۔

سچ کو جھوٹ کے پردوں میں چھپانے سے !
یاد رکھیں کہ سچ پھر بدترین طریقے سے سامنے آتا ہے۔

شرافت دکھانے کا آج کے دور میں ایک صاف مطلب ہے کہ آپ کی بدترین ذلیل کردی جائے۔

گناہ کے تعلقات بنانے میں تو ہم سب سے آگے آگے ہوتے ہیں مگر جب بات نیک تعلق کی ہوتی ہے تو پھر ہمارے پاس بہانوں کی کمی نہیں ہوتی ہے۔

جب انسان بے حس ہو جائیں تو پھر آپ جتنا مرضی سنا لیں کوئی بھی نہ تو غلط کام کرنا ختم کرے گا اور نہ ہی جھکنے پر مجبور ہوگا تاکہ وقت وہ خود ہی اس مقام پر آجائے کہ اپنی ہی نظروں میں گر جائے اور پھر اُٹھ نہ سکے۔

نیت صاف ہو تو منزل مل جاتی ہے،بہرحال کوشش تو آپ کو کرنی ہی پڑتی ہے۔

غلطی ہو تو اس کو تسلیم کرنا چاہیے اور پھر اس کی تلافی بھی کرنی چاہیے وہ بھی معذرت کرکے یا اللہ سے توبہ کر کے مگر انسان جھکتا نہیں ہے کہ وہ شیطان کی راہ پر چلنا ذیادہ پسند کرتا ہے۔

عزت و احترام سب کا کرنا چاہے مگر جو لوگ آپ کی غلطی پر آپ کو بدترین ذلیل سے گذار دیں تو پھر آپ پر ہے کہ آپ حسن اخلاق کا مظاہرہ کریں یا پھر جوابی کاروائی کریں،مگر قرآن کے مطابق معاف کرنا بہتر ہے اگرچہ آپ بدلہ بھی لے سکتے ہیں مگر یہ آپ پر منحصر اور حالات کو دیکھ کر کیا جا سکتا ہے۔

خود آپ جتنا مرضی ستم ڈھا لیا، غلط بیان کرلیں آپ کو کوئی کچھ نہ کہا جائے،مگر ہم اگر سچ پر کھڑے ہو جائیں تو آپ کو تکلیف کیوں ہوتی ہے؟
ایک کڑوی سچائی یہ بھی سننے کو ملتی ہے۔

بدلہ لینا اور بات ہے،مگر جھوٹ اور سچ کی جنگ لڑنا ہم سب کا فرض ہے،اگر ایسا نہ کیا گیا تو معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہو جائے گا۔

سچائی بدترین جھوٹ کو بھی سامنے لے آتی ہے مگر ہم ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹے کہلوانا ہی پسند کرتے ہیں کہ سچ سے ہم بے نقا ب ہو جاتے ہیں کہ ہمارے اندر کیسا گھٹیا انسان چھپا ہوا ہے۔

کبھی کبھی ہم کسی کے خلاف کچھ بھی نہیں کرنا چاہتے ہیں مگرحالات ایسے بنتے جاتے ہیں کہ ہمیں نا چاہتے ہوئے بھی جوابی کاروائی کرنا پڑجاتی ہے جسے ہم مکافات عمل بھی کہہ سکتے ہیں۔

جب ہمیں جھوٹ بولتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہوتی ہے تو سچ سامنے آنے پر ہم کیوں خود کو شرمسار سمجھتے ہیں؟

سچ بولنا اورچھپی ہوئی باتوں کو ظاہر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ کوئی آپ کو ذلیل کر رہا ہے یہ جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے بھی ہو سکتا ہے اور آپ کو سمجھانے کے لئے بھی ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔

فلاں کے بیٹے یا بیٹی نے اپنی پسند سے شادی کرلی؟ کیا زمانہ آگیا ہے؟
ہم لوگوں کے طعنوں سے ڈر جاتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ نکاح اللہ کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل ہے،یہ کوئی گناہ تو نہیں ہے جو ہم نکاح کرنے والوں کے لئے ایسی باتیں کرتے ہیں، کاش ہماری یہ سوچ بدل سکے۔

سچ کہنے والوں کی بس اتنی ہی عزت کی جاتی ہے کہ آپ سچے ہیں مگر ہم تمہارا ساتھ نہیں دے سکتے ہیں۔

ظلم و ذیادتی سہنے کے بعد لہجے میں مٹھاس کم ہی رہ پاتی ہے۔

دشمن کے بچوں کو تو ہم پڑھا لیں مگر اپنے بچوں کو غلط اور درست کے فرق بتانے کے لئے خود کب ٹھیک عمل کرنا شروع کریں گے؟

جب اللہ کے سامنے روز محشر میں جھوٹ سچ سامنے آجائے گا تو پھر ہم آج سچائی کو تسلیم کرنے سے کیوں گھبراتے ہیں،تب کیا اللہ کے سامنے بھی ہم غلط بیانی کرنے کی کوشش کریں گے؟؟؟

جھوٹ پکڑا جائے اور سچ کی جیت ہو جائے تو پھر لوگ سچ تسلیم کرنے کی بجائے ڈھٹائی اورضد و انا سے کام لے کر خود کو تسکین دیتے ہیں مگر سچ کے مطابق جھکنے پر مجبور نہیں ہوتے ہیں۔

کچھ لوگ اپنی من مرضی کے ساتھ جینا چاہتے ہیں وہ یہ نہیں دیکھتے ہیں کہ انکے طرز عمل سے دوسرے کتنے متاثر ہوتے ہیں۔

ہم چھوٹے ہو کر اگر بڑوں کو کچھ سمجھاتے ہیں تو گستاخ کہلاتے ہیں اور اگر اپنے برابر کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی جائے تو بھی ہمیں طعنے سننے کو ملتے ہیں

سوچ اور نظریات سے اختلاف کا حق سب کو حاصل ہے مگر ایسے افراد کو مار دینے سے نظریہ و منطق مر نہیں جاتی ہے،اگر ایسا ہوا کرتا تو ایک باغی کے مر جانے سے اور بغاوت کرنے والے جنم نہ لیتے، اس لئے برداشت کے ساتھ اپنی منطق بیان کریں یا پھر انکے لئے ہدایت کی دعا کریں کہ وہ سھر جائیں ایسا کرلیا گیا تو معاشرے سے بہت سی معاشرتی برائیاں ختم ہو جائیں گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 320 Articles with 269876 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
26 Apr, 2017 Views: 578

Comments

آپ کی رائے
awesome,,,,,,,,,,,,,,,
By: umama khan, kohat on Apr, 29 2017
Reply Reply
0 Like
Umama khan, kohat
sister!
Thank you so much for appreciation.
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on May, 01 2017
0 Like