گنجوں کی مانگ میں اضافہ

(Ajmal Malik, faisalabad)
اے سی۔تب صرف امرا کے ہاں ہوتے تھے۔غرباکے ہاں تو ٹنڈ ہی ہوتی تھی۔یہ سلسلہ جوانی تک جاری رہا۔ جوانی ہمیشہ آتشِ محبت ساتھ لاتی ہے۔’’جرِم جوانی‘‘ میں مزید کئی بار ٹنڈ ہوئی۔ ظالموں نے سر کا ہر ہر بال بیکا کیا۔ محبت کی تپش ہڈوں سے نکال کر چھوڑی۔ابھی ٹھنڈپوری نہ پڑی تھی کہ شادی ہو گئی ۔یوں زندگی میں پہلی بار ۔بال خود گرناشروع ہوئے۔ پھر جرم ِضعیفی لا حق ہوگیا۔سر پہ جو تھوڑی بہت جھالر باقی تھی۔ جاتی رہی۔اب تو دعا ہے کہ ’’خدا۔مجھے ۔ناخن نہ دے‘‘۔

گنجوں کی انٹرنیٹ سے لی گئی تصویر

ماں کا لاڈ ۔پیار۔ موسمی اثرات کے زیر اثر ہوتا ہے۔اماں ۔موسم سرما میں ہمیں۔۔ مٹھو،راجہ اور سوہنا کہتی تھی ۔اور جونہی گرمیاں آتیں تو ۔ ہم سارے بھائی ٹنڈیں کروا لیتے تولاڈ بھی بدل جاتا۔ گرمیوں میں ہم اماں کے۔ ٹینڈے ، مینڈے اور کدو ۔ہوتے ۔ موسم گرما کی ابتدا ہوتے ہی ہم گرم پہناوں کی طرح بال بھی اتار دیتے۔ کیونکہ ٹنڈ کی تاثیر ستُو جتنی ٹھنڈی ہوتی ہے۔ ٹنڈ اور ختنے ہمارے ایسے تہوار ہیں ۔جس کا مزہ صرف دیکھنے والےلیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے۔ گرمیوں میں ۔ ہمارے ہاں ٹنڈیں کروانے کی اجتماعی تقریب ہوتی۔تقریب کے دوران ہم رو۔رو کر اور۔ بڑے ہنس ہنس کر ہلکان ہوجاتے۔ہم چونکہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے تھے ۔اس لئے ہم کزنز کی ٹنڈ بھی جوائنٹلی ہوتی۔بڑوں کو ٹھولے مارنے کا شوق ہوتا تھا۔اور ہمیں بچنے کی فکر۔یوں سارا دن ٹنڈ پر ہاتھ رکھ کر میراتھن جاری رہتی۔

تب گھروں میں بجلی نہیں ہوتی تھی۔ رات کو کمرے غار بنے رہتے ۔ جونہی لالٹین چالو ہوتی تو سب سے پہلے ٹنڈ چمکتی ۔ساری ٹنڈیں لائن میں سوتی تھیں ۔جیسے ۔ ریڑھی پر تربوز پڑے ہوں۔ تب اے سی صرف امرا کے ہاں ہوتے تھے ۔غرباکے ہاں تو ٹنڈ ہی ہوتی تھی۔یہ سلسلہ جوانی تک جاری رہا۔ جوانی ہمیشہ آتشِ محبت ساتھ لاتی ہے۔۔’’جرِم جوانی‘‘ میں مزید کئی بار ٹنڈ ہوئی۔ ظالموں نے سر کا ہر ہر بال بیکا کیا۔ محبت کی تپش ہڈوں سے نکال کر چھوڑی۔ابھی ٹھنڈپوری نہ پڑی تھی کہ شادی ہو گئی ۔یوں زندگی میں پہلی بار ۔بال خود گرناشروع ہوئے۔پھر جرم ِضعیفی لا حق ہوگیا۔سر پہ جو تھوڑی بہت جھالر باقی تھی۔ جاتی رہی۔ پالنے سے آلنے تک سر کو بال دیکھنا نصیب نہ ہوئے۔اب تو دعا ہے کہ ’’خدا۔مجھے ۔ناخن نہ دے‘‘۔کہتے ہیں کہ شادی زندگی میں ٹھہراؤ لاتی ہے۔ یہ ٹھہراؤ صرف سر پر ہی آیا ۔وگرنہ دل تو کم بخت اب بھی’’دھڑکتا‘‘ ہے۔وہ دوست جو بچپن میں روڈا کہتے تھے ۔ اب۔وہ گنجا کہتے ہیں۔ میرا دوست مریدکہتا ہے کہ ٹنڈ کروانی ہو تو حجام کی دکان پر نہیں محبوبہ کی گلی میں جا ناچاہیے۔ لیکن شیخ صاحب ہسپتال پہنچ گئے ۔
ہسپتال کا عملہ شیخ کے پیچھے بھاگ رہا تھا ۔لوگوں نے پوچھا کیا ہوا۔ ؟
ڈاکٹر:تین بار ایسا ہو چکاہے کہ ۔یہ بھگوڑا دماغ کا آپریشن کرانے آتا ہے اور ٹنڈ کرا کے بھاگ جاتا ہے ۔
ٹنڈکرنے اور کرانے میں بظاہر تو الف۔کا ہی فرق ہے لیکن اس کے اثرات۔ رضا مندی اور زبردستی کی شادی جتنے بھیانک ہو تے ہیں ۔ اسی لئے کبھی ٹنڈ کرنےوالے بھاگ جاتے ہیں اور کبھی کرانے والے۔لیکن ٹینڈے اور گنجے میں خاصا فرق ہوتا ہے۔ٹینڈاکبھی ۔ بھی ہوا جا سکتا ہے ۔ گنجا ہونے کے لئے شوہر ہونا ضروری ہے۔انسان کی عزت بالوں میں ہوتی ہے۔ ٹنڈ ۔بے شرمی کی علامت ہے ۔اسی لئے شرمیلے وِگ پہنتے ہیں ۔ زبردستی کی شادی ۔ زبردستی کی ٹنڈ جیسی ہوتی ہے۔تبھی’’ متاثرین‘‘ شرمندہ شرمندہ رہتے ہیں۔ ٹنڈ ۔ایسا پہناوا ہے جسے زبردستی پہنایا جائے تو عزت خاک میں مل جاتی ہے۔شہر۔ ہوں یا دیہات ۔لوگ انا کے فیصلے ٹنڈ سے کرتے ہیں۔ خطا کاروں کے سر مونڈ۔ کربے عزتی کی جاتی ہے۔ شادیوں پر دولہے بے وجہ رومال سے ناک چھپا تے ہیں۔عزت اگر ناک میں ہوتی تو خطاکاروں کے بال کے بجائے ناک کاٹی جاتی۔ مرید تو کہتا ہے کہ دولہے ناک اس لئے چھپاتے ہیں کیونکہ شادی بھی ایک خطا ہے۔ جس میں گدھے کو گھوڑے پر بٹھایا جاتا ہے ۔

چوہدری شجاعت حسین جب وزیر اعظم تھے۔بہاولپور میں ایک خاتون سے زیادتی ہوگئی ۔تو وزیر اعظم ۔محمد بن قاسم بن کروہاں پہنچے۔ اور پولیس کوحکم دیا کہ ’’زیادتی کے ملزم پکڑ یں۔انہیں لِتر ماریں۔ ٹنڈیں کرکے کھوتے پربھٹائیں اور ۔ پنڈ کا چکر لگوائیں‘‘ ۔ پنجاب خواہ جتنی مرضی میٹرو بسیں چلا لے ۔ دیہاتیوں کی سواری ۔آج بھی خطا کار۔ والی ہے۔ کھوتوں پر بیٹھنے والےخطا کارنہ بھی ہوں پھر بھی اوسان خطا ہی رہتے ہیں۔مرید کہتا ہے کہ ٹنڈایشیا کے مردوں کا پہناوا ہے۔جو یورپی خواتین میں بھی مقبول ہو رہاہے ‘‘۔ ٹنڈ دیکھ کر ہمیں تین طرح کے خیالات آتے ہیں۔پہلا کہ آدمی عمرہ کر کے آیا ہے۔دوسرا۔ کہیں پکڑا گیا ہے۔اور تیسرا کہ اسے گرمی زیادہ لگتی ہے۔

مرحوم مستانہ(کامیڈین) کہتے ہیں کہ فلم سٹار ۔نرگس نے ایک آدمی سے کہا مجھے گرمی لگتی ہے۔توآدمی نے اے سی لگوا دیا۔ تو میں (مستانہ) نے بھی انہیں کہہ دیا ۔حاجی صاحب ۔گرمی تومجھے بھی بہت لگتی ہے۔ تو انہوں نے مجھے بیس روپے دےکر کہا ۔’’ جاؤ ٹنڈ کروا لو‘‘۔

پاکستان کے بیشتر امرا۔ بیک وقت ۔نرگس اور نرگیست کا شکار ہیں۔نرگسیت انہیں ٹنڈ سے بچاتی ہے اوروہ۔ نرگس کی ٹنڈ بچا تے ہیں۔ ۔سعادت حسن منٹو کبھی نرگسیت کا شکار نہیں ہوئے۔انہوں نے ٹنڈ کا تذکرہ گنجے فرشتے لکھ کر کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’میرے شہر کے معززین کو ۔ میرے شہر کی طوافاؤں سے بہتر کوئی نہیں جانتا‘‘۔منٹو نے گنجے فرشتے کے۔ ہر کردار کی۔ رُوح کو عریاں کیا ۔ایک بھی فرشتہ نہ نکلا۔فرشتوں کی تلاش ابھی جاری تھی کہ عطاالحق قاسمی نے مزید گنجے فرشتے لکھ ڈالی۔’’امریکہ میں نشے میں دھت ایک عورت متلی کرنے کوڑے کے ڈرم پر جھکی۔اور۔ اندر جا گری۔ ایک سردار جی ادھر سے گزرے۔ انہیں ڈرم سے دو ٹانگیں نظر آئیں۔خاتون کو باہر نکالا۔اور بولے ’’یار یہ امریکی بھی عجیب ہیں۔ یہ عورت ۔ ابھی چار پانچ سال مزید چل سکتی تھی مگر کوڑے میں پھینک گئے‘‘۔مزید گنجے فرشتے سے اقتباس
امریکی سچ میں عجیب لوگ ہیں۔ٹائمز میگزین تو کہتا ہےکہ’’ گنجے مرد۔ بال والوں کی نسبت زیادہ پر اعتماد اور ذمہ دار ہوتے ہیں ۔انہیں نوکری اوربڑے عہدے بھی جلد مل جاتے ہیں ۔وہ زیادہ پھرتیلے ہوتے ہیں۔جبکہ ۔ ’’انڈی 100‘‘نامی امریکی ویب سائٹ ۔تو کہتی ہے کہ ’’ہماری ٹیم نے درجن بھر مردوں کی تصاویر لیں۔ہر تصویر کی تین بار ایڈیٹنگ کی۔اسے گھنے بالوں والے ، نیم گنجے اور مکمل گنجے میں تبدیل کر دیا۔ اور یہ تصاویر جب خواتین کو دکھائی گئیں تو انہوں نے ۔ گنجے مردوں کو خوبصورت، بہادراور پراعتماد قرار دیا‘‘۔شائد گنجے کی ایک رگ زیادہ ہو تی ہے۔شائد اُن کا سر ”اوپر“سے خالی ہوتا ہے۔شائد اسی لئے امریکی خواتین۔ گنجے پسند کرتی ہوں۔؟ ۔لیکن مرید کہتا ہے کہ ’’مردووں کی زندگی میں پریشانیاں سر سے داخل ہوتی ہیں ۔ اسی لئے اکثر شوہر گنجے ہوتے ہیں ‘‘۔

کہتے ہیں کہ سر پر بال لگوانے سے دماغ کی خزاں بہار میں نہیں بدلتی ۔گنجے کے پاس سنوارنے کو ”بال“نہیں ہوتے لیکن ۔ دھونے کوکافی سارامنہ ہوتا ہے۔سرحدوں کی قید سے آزاد منہ۔۔ٹنڈ ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے لیکن گنجے دو جیسے۔ گھریلو گنجے اور سیاسی گنجے ۔ گھریلو گنجے ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور سیاسی گنجے ۔ ایوانوں میں ہوتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی ٹنڈیں قوم کے مستقبل سے بھی زیادہ روشن ہیں۔ گھریلو گنجے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتے ہیں۔ اور سیاسی گنجے۔از خود سزا ہیں۔مجھے تو جوؤں کے علاوہ ٹنڈ کا کبھی فائدہ نہیں ہوا۔لیکن امریکی خواتین گنجوں کی ویسے ہی مداح ہیں۔ ۔ جیسی مائیں ہمارے بچپن میں تھیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ajmal Malik

Read More Articles by Ajmal Malik: 76 Articles with 50301 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 May, 2017 Views: 1047

Comments

آپ کی رائے