مردوں کے لئے ایسی گھڑی یا چین کا استعمال جس پر سونے کا پانی چڑھا ہو؟

(Maqubool Ahmad, Suadi Arab)

سونے سے بنی کوئی چیز مردوں کا پہننا جائز نہیں ہے ، یہ بات متعدد احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ۔ نبی ﷺکا فرمان ہے :
إن اللهَ عز وجل أحلَّ لإناثِ أمتي الحريرَ والذهبَ، وحرَّمَه على ذكورِها.(صحيح النسائي: 5280)
ترجمہ: بے شک اللہ تعالی نے سونا اور ریشم کو میری امت کی عورتوں کے لیے حلال مگر مردوں کے لیے حرام قرار دیا ہے۔
یہ حدیث بالکل واضح ہے کہ مردوں کے لئے ہر وہ سامان منع ہے جو سونے کا ہو ۔جو لوگ سونے چاندی کے برتن میں کھاتے پینے ہیں ان کے لئے شدت ممانعت اور زجروتوبیخ آئی ہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
الَّذي يشرَبُ في آنيةِ الفضَّةِ إنَّما يُجَرجِرُ في بطنِه نارَ جَهنَّمَ(صحيح البخاري:5634)
ترجمہ: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔
اسی طرح جسم میں کسی طور سونا استعمال کرنا منع ہے ، ایک صحابی سونے کی انگوٹھی پہنے تھے تو آپ ﷺ نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا:
يعمِدُ أحدُكم إلى جمرةٍ من نارٍ فيجعلُها في يدِه(صحيح مسلم:2090)
ترجمہ:تم میں سے ایک شخص آگ کے انگارے کا قصد کرتا ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں ڈال لیتا ہے۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سونا مردوں کے لئے حرام ہے خواہ برتن کی شکل میں ، کپڑے میں بٹن کی شکل میں ، ہاتھ میں انگوٹھی ، گھڑی اور چین کی شکل میں ، یا کسی اور شکل میں ہو ۔ اسی طرح وہ گھڑی ، انگوٹھی اور چین بھی مردوں کے لئے پہننا جائز نہیں ہے جس پر سونے کا پانی چڑھا ہو۔ یہ گھڑی گوکہ خالص سونا نہیں ہے مگر اس پہ چڑھایا ہوا پانی سونے کا ہے اور سونے کا پانی سونے کی ہی سیال قسم ہے جسے صرف پانی یا رنگ نہیں کہا جاسکتا بلکہ اسے سونے کا پانی کہا جاتاہے تو یہ سونا ہی ہوا۔اور اسلام میں جو چیز بڑی مقدار میں منع ہے اس کی کم مقدار بھی منع ہے ۔ اس لئے ایسی گھڑی ، بٹن ، قلم اور چین وغیرہ استعمال کرنا مردوں کے لئے جائز نہیں ہے جس پر سونے کا پانی چڑھایا گیا ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maqubool Ahmad

Read More Articles by Maqubool Ahmad: 302 Articles with 165340 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 May, 2017 Views: 293

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ