یہ بے حیائی سی بے حیائی ہے!

(Ata Ur Rehman Chohan, Rawalpindi)

ہم جس سماج میں پلے بڑھے ہیں وہاں شرم ، حیا اور سائستگی سے عبارت تھا۔ آج ہمارا معاشرہ کس ڈگر پر چل نکلا ہے، اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ہم ہیں کہ اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور دیکھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ مذہب تو کچھ لوگوں کے لیے قابل اطاعت نہ سہی لیکن اپنے آباو اجداد کا رہن سہن تو گئے گزرے انسانوں کے لیے بھی قابل تقلید ہی رہا ہے۔ کبھی لوگ اپنی تہذیب پر مرمٹنے پر تیار تھے اور آج اپنی اولاد کے ہاتھوں نسل در نسل رائج تہذیبی اقدار کو پامال ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ بلکہ دیکھتے ہی جا رہے ہیں۔ اگر یوں کہا جائے تو ہمارے دور کا انسان تماش بین بن گیا ہے۔ اس کی تہذیب، اس کا تمدن، اس کے عقائد، اس کی خاندانی روایات، اس کا مذہب، اس کا مسلک ،اس کا نصب العین سب ہی کچھ چھن رہا ہے اور وہ خاموش تماشائی بنا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔

ہماری بچیاں اور بچے کس طرح کا لباس پہن رہے ہیں، جو لباس کی تعریف میں بھی نہیں سما سکتا۔اگر یوں کہہ لیجیے کہ ہماری نسلیں ہماری سرپرستی میں بے لباس ہورہی ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔انسان کی ذاتی زندگی کیسی ہے، یہ تو پس پردہ ہے لیکن جو کچھ نظر آرہا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ اگر پردہ اٹھ جائے تو پھر ہمارا بیانیہ کیا ہوگا۔ پاکستان تو عظیم الشان تاریخی ورثے کا حامل ملک تھا، جس کے دامن میں مضبوط خاندانی نظام، صدیوں سے رائج اور قائم خاندانی روایات اور اسلام جیسا تاابد قائم رہنے والااور زندہ و جاوید مذہب کی دولت کے باوجود معاشرہ اپنی اقدار کھو رہا ہے۔

کسی کالج میں چلے جائیں، پبلک پارک کو دیکھ لیں، بازار اور سڑکوں میں بکھری ہوئی بے حیائی چیخ، چیخ کر ہمیں اپنے عقائد یاد دلا رہی ہے۔ ہماری شادیاں اور تقریبات کیا مناظر پیش کررہے ہوتے ہیں۔ کبھی سینما ہالوں تک جو برائی محدود تھی وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے آپ کی انگلیوں پر لاکھڑی کردی ہے۔ میڈیا جس دلیری سے فحاشی کو فروغ دے رہا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں برائی کے خلاف کھڑا ہونے والا کوئی نہیں رہ گیا۔ سب مر چکے ہیں۔ لیکن مجھے تو بڑی بڑی ڈاڑھیوں والے لاشے سڑکوں پر جا بجا نظر آتے ہیں۔ کسی بھی شہر کو دیکھ لیں فلک شگاف میناروں پر سجے ہوئے بھاری بھرکم ساونڈ سسٹم والی مساجد، اندر چلے جائیں تو شیش محل کی طرح سنگ مرمر اور گریفائٹ اور جدید ترین فانوسوں سے مزین عالیشان مسجدیں، بھاری بھرکم جسامت پر مشتمل علمائے کرام، ان کے پیچھے مرحبا، مرحبا کرنے والے مصاحبین کی کئی صفیں لگی رہتی ہیں۔ کندھوں پر رکھے بستروں اور بغل میں لوٹے لٹکائے ہزاروں انسان روزانہ پاکستان کی بستیوں اور شہروں میں مسواکیں لہراتے نظر آتے ہیں۔

گلی، گلی پھیلے مدارس، بمشکل تین جماعتیں پڑھے نیم خواندہ وائس چانسلرز کی سربراہی میں چلنے والی ‘‘جامعات’’ اور سرمنڈے طالب کیا کچھ نہیں ہے۔ سانڈ کی طرح پھیلتے ہوئے جسموں پر مشتمل اسلام کے ٹھیکیداروں کی تعداد تو کسی بھی طور کم نہیں ہے۔ اس کے باوجود برائی سرچڑھ کر بول رہی ہے اور اسلام کے ٹھیکیدار سب کچھ ہونے کے باوجود ڈرے، سہمیلاشوں کی طرح بے حس و حرکت مسجدوں، مدرسوں، خانقاہوں اور امام بارگاہوں اور ان کے اردگرد ڈھیر کیے ہوئے ہیں۔ برقعوں میں مقید مومنات کی ہمارے ہاں کیا کمی ہے۔

یہ ٹائٹس میں پھنسی ہوئی بچیاں یہودیوں کے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آگ بکھیر رہی ہوتی ہیں؟ یا انہیں مومنین کی بیٹیاں، بھتیجاں، بھانجیاں، بہوویں اور بیویاں ہوتی ہیں۔کچھ پتہ تو چلے، یہ کون ہیں، کہاں سے آن ٹپکی ہیں، کس کے گھر آئی ہیں، انہیں کہاں جانا ہے؟ کیا یہ کسی مادر پدر آزاد اور جنگل کے ماحول سے آئی ہیں ، کہ انہیں جسم ڈھانپنے اور ننگا رکھنے کی تمیز تک نہیں۔

وہ خاندانی غیرت، وہ دینی حمیت اور وہ قومی اقدار کے علمبردار کہاں ہیں۔ امریکہ ، اسرائیل اور ہندوستان کو صبح، دوپہر اور شام للکارنے والے گھبرو اپنی گلی اور محلوں میں کیوں گیدڑ بنے بیٹھیے ہیں۔کیا وہ اندھے ہو چکے ہیں، کیا انہیں اپنی بنیائی پر یقین نہیں آرہا یا وہ غیرت کی دولت سے محروم ہو کر اپنے ہی ہاتھوں سسک سسک کر مر رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ احساس زیاں سے ہی محروم ہو گئے ہوں۔

کمرشل اشتہارات کو دیکھ لیں، وہ جو کچھ پیش کررہا ہے وہ دراصل ہمارے معاشرے کی ڈیمانڈ ہے ورنہ کوئی ساہوکار گاہک کی پسند کے خلاف کسی بھی پراڈکٹ پر ایک روپیہ خرچنے پر تیار نہیں ہوتا۔ فریج سے واشنگ پاوڈر تک ہر پراڈکٹ پر نیم برہنہ خاتون کی تصویر ہماری مرضی اور منشا سے ہی تو چھاپی جا رہی ہے۔ اگر ساہوکار کو یہ پتہ ہو کہ ایسی تصاویر سے اس کی پراڈکٹ فروخت نہیں ہو گی تو وہ اس کا تصور بھی نہ کرپائے۔

مجھے تو سمجھ ہی نہیں آرہا کہ سماج میں تبدیلی کس رفتار سے آرہی ہے، کچھ مجاہد نما لوگ کل تک تصویر کو کفر سے تعبیر کرتے تھے، آج صبح اٹھ کر نماز سے پہلیاخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں اپنی فوٹو کوریج کا چارٹ مرتب کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اب تو مساجد اور مدارس میں میڈیا ورکشاپوں کے نام پر تصویر کشی اور ویڈیو ایڈیٹننگ کے ورکشاپیں معمول بن چکا ہے۔ یہ بلندی سے پستی کا سفر ہے کہ پستی سے بلندی کا، وہی بتلا سکتے ہیں، جو تصویر کشی کو ہی کفر نہیں بلکہ اس کو کفر نہ سمجھنے والوں کو بھی کفر سے تعبیر کرتے تھے۔

میں کئی دنوں سے قومی، ایمانی، خاندانی ‘‘غیرت’’ کا مفہوم گوگل سمیت تمام دستیاب لغات میں تلاش کرچکا ہوں لیکن سٹرکوں پر بکھرا ہوا ترجمہ ، تفہیم اور تعبیر کہیں نہیں مل سکی۔ اس ملک میں اگر کوئی صاحب علم مجھے ‘‘غیرت’’ کا جاریہ مفہوم سمجھا سکے تو ممنوں ہونگا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Atta ur Rahman Chohan

Read More Articles by Atta ur Rahman Chohan: 127 Articles with 66979 views »
عام شہری ہوں، لکھنے پڑھنے کا شوق ہے۔ روزنامہ جموں کشمیر مظفرآباد۔۔ اسلام آباد میں مستقل کالم لکھتا ہوں۔ مقصد صرف یہی ہے کہ ایک پاکیزہ معاشرے کی تشکیل .. View More
05 May, 2017 Views: 565

Comments

آپ کی رائے