پاکستان میں اسلامی انقلاب کیسے لایا جا سکتا ہے حصہ پنجم

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)

اس پر بادشاہ ہاروت کبیر نے جشن منانے کا اعلان کیا اور بہت خوش ہوا عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اور بڑے ہوئے لیکن لوگوں نے ان کو اور ان کی والدہ مریم کو ہمیشہ دکھ ہی دئیے کیوں کہ جو بھی بنی اسرائیل کے پیغمبروں کے دین کا پرچار کرتا تھا اس کو بادشاہ کے ظلم و ستم کا سامنہ کرنا پڑتا تھا وہ لوگ جو بادشاہ کی اور اس کے باطل دین کی جھوٹی سچی تعریفیں کرتا اس کو امان ملتی عوام بھی اس کو اپنا آقا سمجھتے تھے کہ فلاں کے تعلقات بادشاہ کے دربار تک ہیں لہٰذا اس کی عزّت کرنا سب لازم ہے ورنہ سخت سزائیں جھیلنی پڑتی ہیں اس طرح کے طریقوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی پرورش ہوئی اور پھر انھوں نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کا پرچار شروع کیا لوگ ان کی بہت عزّت کرنے لگے وہ کوڑھیوں کو بھلا چنگا کر دیتے اور مردوں کو زندہ کر دیتے تھے اندھوں کو آنکھیں مل جاتی تھیں ان کے ان معجزات کی دور دور تک شہرت ہوگئی آپ علیہ السلام کو اللہ کا پیغمبر ماننے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا جس کا وقت کےبادشاہ کو بڑا حسد تھا

اعوذباللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پاکستان میں انقلاب لانے کے لیے ضروری ہےکہ اسلامی حکومت کا قیام جو کہ اس وقت سعودیہ میں رائج ہے لیکن مرزائی اور یہودی ایسا نہیں چاہتے کہ سعودیہ والا نظام حکومت پاکستان میں رائج کیا جائے اس لیے کہ وہ سعودیہ میں رائج نظام حکومت کو عالم اسلام کی نظر میں غلط اور غیر منصفانہ اور ظالمانہ نظام حکومت ثابت کرنا چاہتے ہیں اس سلسلے میں مرزائیوں نے لمبے منصوبے بنا رکھے ہیں جسے میں 36 سالہ منصوبے کہتا ہوں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مرزائی بھی یہودیوں اور ہندووں کی طرح دہشت گردی اور غنڈہ گردی کو دنیا میں رائج کرنا چاہتے ہیں اور اس کا وبال مسلمان لیڈروں پر ڈالنا چاہتے ہیں جو یہ کہا جاتا ہے کہ سعودیہ میں جو نظام حکومت رائج ہے وہ آمرانہ طالمانہ ہے اس کی مثال یہ دی جاسکتی ہے کوئی بھولا بھالا انسان بکرا خرید کر لایا راستے میں کچھ شر پسند لوگوں نے اسے تنگ کرنے اور اس کے اوپر قبضہ کرنے کا پروگرام بنایا

چنانچہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک آدمی اس بھولے بھالے نیک انسان کے پاس سے گزرا اس نے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ آپ یہ کتا کہاں سے لے کر آئے ہیں اس نیک آدمی نے کہا کہ بھائی غور سے دیکھو یہ کتّا نہیں بکرا ہے لیکن پوچھنے والے نے اس نیک آدمی سے بحث مباحثہ کیا کہ جناب آپ کو ہو کیا گیا ہے کتّے کو آپ بکرا کہہ رہے ہیں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دوسرا آدمی اس بھولے بھالے نیک آدمی کے پاس سے گزرا اور بولا واہ کیا خوبصورت کتّا ہے بھائی صاحب آپ نے یہ کتّا کتنے کا خریدا ہے اس نے غور سے بکرے کی طرف دیکھا کہ اس آدمی کو بھی میرا بکرا کتّا نظر آرہا ہے چنانچہ جب وہ آگے بڑھا تو تھوڑی دیر بعد ایک اور آدمی اس کے پاس سے گزرا اس نے کہا بھائی صاحب آپ کو کتّے پالنے کا شوق ہے یہ کتّا آپ کہاں سے لے کر آئے ہو تو اس بھلے آدمی نے غور سے دیکھا کہ میں تو بکرا لے کر آیا ہوں منڈی سے مگر لوگوں کو یہ کتّا کیوں نظر آرہا ہے جو بھی میرے پاس سے گزرا اس نے ہی اس کو کتّا کہا اور میرے ساتھ بحث مباحثہ بھی کیا تو اس نے سوچا کہ یہ مذاق کر رہے ہیں وہ آگے چلا ایک اور آدمی اس کے پاس سے گزرا اس نے بھی بڑی سنجیدگی سے کہا بھائی اتنا بڑا کتّا آپ کوکہاں سے مل گیا اور وہ بھی اس سے بحث و مباحثہ کرتا رہا کہ یہ جو آپ نے پکڑ رکھا ہے یہ بکرا نہیں بلکہ یہ کتّا ہے اس نے اس سے بھی جان چھڑائی اور آگے بڑھ گیا حتّیٰ کہ اس بے چارے کے پاس سے گزرنے والے ہر شخص نے اس سے یہی بحث وتکرار کی کہ یہ جو آپ نے پکڑ رکھا ہے بکرا نہیں کتّا ہے تو اس بھولے بھالے آدمی نے یہ سمجھ کر بکرے کو چھوڑ دیا کہ مجھے کسی نے بکرے کی بجائے کتّا دے دیا ہے اور میرے اوپر نظر بندی کا جادو کر دیا ہے اور میری نظر پر جادو کی وجہ سے کتّا مجھے بکرا دکھائی دے رہا ہے-

یہ مرزائی بھی سعودیہ کے معاملہ میں یہ سلوک کررہے ہیں کہ عالم اسلام جس ملک کو اسلامی ملک سمجھتا ہے وہ درحقیقت یہودی ملک ہے نعوذباللہ اور اس ملک میں جو نظام حکومت ہے وہ ظالمانہ اور جاہلانہ ہے یہلی بات تو یہ کہ پاکستان میں جو لوگ کہتے ہیں کہ سعودیہ میں اسلامی نظام رائج اور قائم ہے ان کی آواز کو ابھرنے ہی نہیں دیا جاتا اور کہا جاتا ہے کہ عرب کلچر ہمارے دیسی اور پنجابی کلچر سے بہت زیادہ مختلف ہے زمین آسمان کا فرق ہے ہمارا اور ان کا ہمارے ملک میں مذہبی کتاب بھی ہماری زبان میں ہونی چاہیے یا کم از اردو میں ہونی چاہیے اور یہ بات منوانے کے بعد کہیں گے کہ اور کوئی کتاب لکھنے کی کیا ضرورت ہے ہماری اپنی کتابیں گیتا اور رامائن اور ہنومان چالیسا جو موجود ہے ان کے مطابق ہمیں زندگی گزارنی چاہیے اور اپنی زندگی کے فیصلے ان کتابوں کے مطابق کرنے چاہئیں اللہ کی پناہ اس قسم کی واہیات سوچ سے اسی لیے آج تک ملک پاکستان میں اسلام کا نفاذ ہی ممکن نہیں ہو سکا ہے کیونکہ ہونے ہی نہیں دیا گیا ہے اور میڈیا پر تو پہلے ہی اسلام کے متعلق غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں اب تو مسجدوں میں بھی جو اسلام کے نفاذ کی بات کرتا ہے اس کو شدید تنقید اور پریشانی والی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے-

اور جو پروگرام میڈیا پر آن لائن کیے جاتے ہیں ان میں بھی ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ لوگ اسلام کے اور مسلمانوں کے متعلق مایوس ہو جائیں کہ اب فرقہ پرستی پر قابو پانا اور اسلام نافذ کرنا ناممکن ہو چکا ہے کیونکہ اینکر اور تجریہ نگار سوال ہی ایسے کرتے ہیں جن سے اسلام کی طرف داری کرنے والے لوگوں کو لاجواب ہونا پڑتا ہے آپ یو ٹیوب گوگل فیس بک اور ٹویٹر واٹس اپ پر اسلام کے متعلق جتنا بھی ذخیرہ ہے موویز ٹیبل ٹاکس اور مناطرے اور تقاریرکے متعلق سرچ کرکے دیکھ لیجیے آپ کو کوئی ایسا پروگرام نہیں ملے گا جس میں اسلام کے بارے میں مثبت پازیٹو باتیں ملیں گی الغرض میڈیا پرثابت ہی یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام میں ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں ہے جس سے اہل اسلام کی طر ف داری ہو رہی ہو اور اسلام کے نفاذ اور جہاد کے اجرا کے بارے میں مدد حاصل ہوسکے میڈیا میں صرف وہ لوگ ہی پاپولر ہوتے ہیں جو 90 پرسینٹ کرپٹ ہیں اخلاق میں کردار میں لین دین کاروبار میں اور کلچر میں شادی غمی کے معاملات میں اور فرض کرو میں اگر یہ بات کر رہا ہوں تو مجھے ناکام کرنے کے لیے 90 پرسیٹ سے بھی زیادہ کرپٹ ثابت کر دیا جائے گا اور دکھا بھی دیا جائے گا کہ یہ صاحب جو اسلام اسلام کر رہے ہیں بذات خود کتنے بڑے کرپٹ اور بداخلاق انسان ہیں لہٰذا ان کو ہاتھ پاوں کاٹ کر بھکاری بنا دیا جانا چاہیے اور ان کے اثاثے منجمد کر دینے چاہئیں اور اس طرح کے ظالمانہ فیصلے عوام سے پاس کرانا ان کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے -

اس وقت دنیا بھر کے مرزائیوں اور یہودیوں کو ڈبل ہیٹلر کی ضرورت ہے جو وسیع پیمانے پر ان کا صفایا کرے جو عالم اسلام میں کینسر کی طرح پھیل چکے ہیں اور عالم اسلام کی زندگی خطرے میں پڑ چکی ہے اور کوئی ماہر سرجن ہی اس زہریلے کینسر کو عالم اسلام سے نکال سکتا ہے -اس وقت حالات کچھ اس طرح کے ہوگیے ہیں جیسے حضرت زکریا علیہ السلام کے دور کے حالات تھے کہ اللہ والوں کو انبیاء کو مختلف بہانوں سے قتل کر دیا جاتا تھا اور جو زندہ بھی تھے ان کو ظلموں کی چکّی میں پیس کر رکھا جاتا تھا اور اس وقت بھی اہل ایمان کو مسیحا کی ضرورت تھی اور بادشاہ ہاروت کبیر کی کوشش تھی کہ مسیحا پیدا نا ہونے پائے اور اگر پیدا ہوجائے تو پیدا ہوتے ہی اسے قتل کر دیا جائے چنانچہ جب حضرت مریم علیہ السلام پیدا ہوئِیں تو مشہور ہوگیا کہ عمران کے گھرمسیحا پیدا ہو گیا ہے جو بڑا ہو کر عوام کو ظلموں کی چکّی سے نجات دلائے گا اور بادشاہ ہاروت کبیر نے جلاد کو حکم دیا کہ خفیہ طور پر جاو اور اس مسیحا کو قتل کر دو تمھیں منہ مانگا انعام دیا جائے گا چنانچہ وہ قاتل اس بچے کو قتل کرنے کے لیے روانہ ہوگیا جب وہ عمران کے گھر پہنچا تو اسے پتا چلا کہ عمران کے گھر بچہ نہیں بلکہ بچّی پیدا ہوئی ہے تو اس نے واپس جاکر بادشاہ کو خبر دی کہ زکریا علیہ السلام کی پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوگئی ہے عمران کے گھر بچّہ نہیں بلکہ بچّی پیدا ہوئی ہے تو اس ظالم بادشاہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا کہ ایک عورت کیسے مسیحا بن سکتی ہے اور سب سے بڑھ کر زکریا علیہ السلام کی پیشیں گوئی غلط ثابت ہو گئی ہے اور معاذ اللہ وہ جھوٹے پیغمبر ہیں -


اس پر بادشاہ ہاروت کبیر نے جشن منانے کا اعلان کیا اور بہت خوش ہوا عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اور بڑے ہوئے لیکن لوگوں نے ان کو اور ان کی والدہ مریم کو ہمیشہ دکھ ہی دئیے کیوں کہ جو بھی بنی اسرائیل کے پیغمبروں کے دین کا پرچار کرتا تھا اس کو بادشاہ کے ظلم و ستم کا سامنہ کرنا پڑتا تھا وہ لوگ جو بادشاہ کی اور اس کے باطل دین کی جھوٹی سچی تعریفیں کرتا اس کو امان ملتی عوام بھی اس کو اپنا آقا سمجھتے تھے کہ فلاں کے تعلقات بادشاہ کے دربار تک ہیں لہٰذا اس کی عزّت کرنا سب لازم ہے ورنہ سخت سزائیں جھیلنی پڑتی ہیں اس طرح کے طریقوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی پرورش ہوئی اور پھر انھوں نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کا پرچار شروع کیا لوگ ان کی بہت عزّت کرنے لگے وہ کوڑھیوں کو بھلا چنگا کر دیتے اور مردوں کو زندہ کر دیتے تھے اندھوں کو آنکھیں مل جاتی تھیں ان کے ان معجزات کی دور دور تک شہرت ہوگئی آپ علیہ السلام کو اللہ کا پیغمبر ماننے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا جس کا وقت کےبادشاہ کو بڑا حسد تھا -

بہت سارے اعلٰی عہدے دار بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیروی کرنے لگے تھے جس کی وجہ سے بادشاہ کی بار بار کوششوں کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وہ قتل نہیں کر سکا تھا حتّی کہ باد شاہ کو اپنے اقتدار کا خاتمہ سامنے نظر نے لگا تو اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حمایت کرنے والے اعلٰی عہدے داروں کو بھی خاطر میں لانا گوارہ نا کیا اور نعوذ باللہ ان کو اور ان کے حواریوں کو باغی قرار دے کر ان کے قتل کا باقاعدہ حکم دے دیا اور وہ بادشاہ خود حضرت عیسٰی علیہ السلام اور ان کے حواریوں کو قتل کرنے والے دستے کے ساتھ تھا تو بادشاہ عیسی علیہ السلام کو قتل کرنے کے لیے جب ان کے قریب پہنچا تو اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھا لیا اور اس بادشاہ کی شکل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ بنا دی اور اس ظالم بادشاہ کے اپنے تیار کیے ہوئے سپاہی اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر گرفتا ر کر کے لے گیے اور اس کو پھانسی پر لٹکا دیا حالانکہ وہ دہائی دیتا رہا کہ میں تمھارا بادشاہ ہوں عیسیٰ علیہ السلام اپنے جادو کے زور پر آسمانوں کی طرف چلے گیے ہیں مجھے صلیب پر مت لٹکاو -

مگر اس کے سپاہیوں نے اس کی ایک نا سنی ان سپاہیوں نے سمجھا کہ یہ اپنی جان بچانے کے لیے ایسا کہہ رہا ہے اور اس کو جب صلیب پر لٹکا دیا تومحل میں جاکر دیکھا کہ تخت تو خالی پڑا تھا اور بادشاہ کہیں نہیں مل رہا تھا بادشاہ مٹ گیا اور عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی شریعت ان کے شاگردوں کے پاس موجود تھی جس کو انھوں نے صدیوں تک مجفوظ رکھا اور ایمان والے اس شریعت پر عمل کر کے جنت کماتے رہے وہ شریعت جو عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی اس کا نام انجیل ہے اور اس ظالم بادشاہ کا نام و نشان مٹ گیا -

اور یو ںحضرت عیسی علیہ السلام کے دور کا آغاز ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے ملک پر حضرت عیسی علیہ السلام کو ماننے والوں کی حکمرانی ہو گئی - اور وہ انقلاب برپا ہوگیا جس کو رائج کرنے کے لیے عیسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے -

آج بھی ایسے ہی حالات ہیں کہ ہر طرف بدعنوان جعل ساز ظالم لوگ اقتدار پر قابض ہیں اور مظلوموں کو نجات دہندہ کی تلاش ہے اور جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعات بیان کرتے ہیں ان کو عیسائی کہہ کر ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے اور جو لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات کا حوالہ دیتے ہیں ان کو یہودی کہہ کر مرتد اور غدّار قرار دیا جاتا ہے اور ان کو ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ اب تو مرزا کا دور ہے-

اس لعین کے ہوتے ہوئے کسی اور پیغمبر کی بات کرنے سے روک دیا جاتا ہے اور اس پر طرح طرح سے تنگ کیا جاتا ہے یہ لوگ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عام لوگوں سے زیادہ واقف ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم جن پالیسیوں کو محمد رسول اللہ علیہ وسلم نے اپنایا تھا ہم بھی ان کو اپنائیں گے اور جس منہج پر چل کر صحابہ کرام نے محدود وسائل کے باوجود اور دنیا کی دو سپر پاوروں کو شکست دے کر ان کے ملکوں پر اسلام کا جھنڈہ لہرایا ان مرزائیوں کا کہنا ہے کہ ہم پالیسیاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین والی اپنائیں گے اور ان کا فائدہ مرزائیت کو پہنچائیں گے اور وہ لوگ اسلام کو جہالت قرار دیتے ہیں اور اپنی جدید پالیسیوں کو اسلام کا نام دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عیسائیت اسلام ہوا کرتا تھا اور لوگوں کی جاہلانہ رسموں کی وجہ سے اور اللہ کی کتاب انجیل میں رد وبدل کی وجہ سے پہلی شریعتوں کو اللہ نے منسوخ کردیا اور اب مرزائیت کے ہوتے ہوئے اسلام میں جاہلانہ رسومات رائج ہونے کی وجہ سے اسلام کی شریعت اب وہ ہی ہے جو مرزا قادیانی نے پاس کی ہے رائج کی ہے-

اور ان کا کہنا ہے کہ اصل اور خالص اسلام وہ ہی ہے جو مرزائیوں کے پاس ہے ان کی ان مذموم کوششوں کی وجہ سے اب اپنے آپ کو اسلام کا ایک فرقہ بنانے میں کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں حالانکہ پاکستانی قانون میں یہ بات موجود ہے کہ مرزائی اسلامی فرقہ نہیں کہلا سکتے جیسے سنی بریلوی دیوبندی شیعہ و اہلحدیث اسلامی فرقہ کہلاتے ہیں ان کی اس مذموم سازش میں امریکہ کا بلکل اسی طرح ہاتھ ہے جیسے اسرائیل کو ایک ملک کے طور پر بنانے میں ہے اس معاملہ میں حکومت وقت کو چاہیے کہ ان کو اسلامی فرقہ کہلانے سے روکیں اور ان کی عبادت گاہوں کو مساجد کہنے سے روکیں ان پر پابندیاں لگائیں ان کے مراکز کو ختم کریں اور ان کے لیڈروں کو گرفتار کریں اور بینکوں میں سے ان کا عمل دخل بند کریں اور سرکاری اور غیر سرکاری اثاثوں کاحساب کتاب ان کو ہر گز نا کرنے دیں کیونکہ اسلام میں ایسے لوگوں کو اختیار دینا تو دور کی بات ہے ان کو زندہ رہنے کی اجازت دینا بھی منع ہے کہنے والے یہ کہتے ہیں کہ آپ کبھی کوئی بات کرتے ہو اور کبھی کوئی بات کرتے ہو میں نہایت انکساری سے عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ کسی ایک کنبے کا یا کسی ایک آدمی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک پورے ملک کا مسئلہ ہے جس میں بے شمار راستے ہیں-

جن کے ذریعے ملک کو نقصان پہنچایا جارہا ہے ایک ملک میں کئی صوبے ہوتے ہیں اور ایک صوبے میں کئی ڈویژن اور ایک ڈویژن میں کئی ضلعے ہوتے ہیں ہر ضلعے میں کئی تحصیلیں ہوتی ہیں اور ہر تحصیل میں کئی حلقے اور محلّے ہوتے ہیں اور گلیاں اور خاندان ہوتے ہیں ایسے میں ہر سطح پر دفاعی تداببر کرنا لازمی ہے ورنہ نا ملک ترقْی کر سکتا ہے اور نا ہی ملک و قوم کی حفاظت ممکن ہو سکتی ہے اس لیے ایسے ہزاروں معاملات کو تفصیل سے زیر بحث لایا جانا لازمی ہے اس لیے دشمنوں کی چالوں کو سمجھنا چاہیے کہ وہ جان جاتے ہیں کہ یہ فارمولہ کارگر ہو سکتا ہے مگر اس کے بارے میں پروپیگنڈہ یہ کیا جاتا ہے کہ یہ کبھی کسی طرح کی بات کرتے ہیں اور کبھی کسی طرح کی تو ان کی باتوں میں آکر ایسے فیصلے نہیں کرنے چاہئیں جن سے دین کو اور ملک و ملت کو نقصان پہنچے اللہ تعالیٰ حکمرانوں کو اپنی پالیسیوں میں بہتری لانے کی توفیق دے اور ملک کے سکے کو بھاری کرنے کی توفیق دے اور ہر سطح پر کرپشن ختم کرنے کی توفیق دے آمین -
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 82814 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 May, 2017 Views: 359

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ