اپنی جیت کیلئے دوسروں کو ہرانا ضروری ہے

(Saqlain Raza, )

 ایک این جی او زکے پروگرام کی ویڈیو ان دنوں عام بلکہ مقبول عام ہے ،اب خبر نہیں کہ یہ پروگرام پاکستان کا ہے یابھارت کا ، لیکن اس میں دیاگیا سبق بہرحال قابل ذکر ہے ، پروگرام کے دوران میزبان نے پندرہ بیس نوجوان سٹیج پربلائے اوران کے ہاتھ میں غبارے دئیے اورپھر ساتھ ساتھ ٹوتھ پکس بھی دیدیں ، پھر کہاگیا کہ جیتے گا وہی جس کے ہاتھ میں غبارہ سلامت ہوگا۔ پھر یوں ہوا کہ سبھی نوجوان ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ کھڑے ہوئے ، ہوتے ہوتے یہاں تک بات آن پہنچی کہ غباروں کی تعداد تین یاچار رہ گئی، اب یوں ہوا کہ دو ،تین تین افراد اکٹھے ہوکر ایک غبارے والے کے پیچھے بھاگے اور پھر ٹوتھ پکس کے ذریعے غبارے پھاڑنے کی کوشش کی گئی ،ٹائم ابھی باقی تھا لیکن سبھی کے سبھی غبارے پھٹ چکے تھے ،میزبان نے مخاطب ہوکر کہا کہ ’’میں نے کہاتھا کہ جس کے ہاتھ میں غبارہ سلامت ہوگا وہی جیتے گا اس اعتبار سے بتائیے کہ کوئی جیتابھی ہے ؟‘‘سبھی کے چہروں پر شرمندگی تھی، اورانہوں نے نفی کے انداز میں سر ہلایا۔ پھر میزبان نے کہا کہ ’’ میں نے کہاتھا کہ جس کے ہاتھ میں غبارہ سلامت ہوگا وہی جیتے گا ، مگر میں نے یہ نہیں کہاکہ کسی دوسرے کاغبارہ پھاڑ کر اپناغبارہ بچانے کی کوشش کی جائے، ایک آدمی کا غبارہ پھٹاتو وہ سوچ میں پڑگیا کہ میرا تو پھٹ گیا اب دوسروں کاسلامت کیوں ہو اس طرح ہوتے ہوتے سبھی کے غبارے پھٹ گئے یعنی سب ہار گئے، کوئی نہیں جیت پایا،‘ پھر میزبان تھوڑے توقف کے بعد بولا ’’ یوں بھی ہوسکتا تھا کہ سبھی جیت جاتے یعنی کوئی کسی کا غبارہ نہ پھاڑتا تو سبھی جیت جاتے ‘‘ میزبان بولا’ ’ دراصل یہ ہماری سائیکی بن چکی ہے کہ ہم اپنی جیت کیلئے دوسروں کوہراناضروری سمجھتے ہیں ، یہ رویہ دفاتر میں بھی ہوتاہے ،سیاسی جماعتوں میں بھی، اسی سائیکی وجہ سے ہم سب ہار جاتے ہیں ، حالانکہ اگر ہم اپنی جیت کیلئے کسی کوہرانے کا نہ سوچیں تو پھر جیت سبھی کامقدر ہوگی۔

ابھی چند ہی دن قبل معذور افراد کے قومی کھیلوں کے دوران مقابلہ دوڑ کیلئے بچے پوری طرح دوڑنے کوتیار تھے ،وسل ہوئی اور پھر سب بچے دوڑ پڑے تاہم اچانک ایک بچے کا پاؤں مڑا اور وہ نیچے گرگیا ، ہونا تو یہ چاہئے تھا (بلکہ سائیکی بھی یہی ہے ) کہ سارے بچے اس زمین پر گرے بچے کی پرواہ کئے بغیر دوڑتے ہی رہتے لیکن نارمل افراد کی طرح نہیں ہوا بلکہ سبھی بچے واپس آئے اور اس گرے ہوئے بچے کو اٹھایا اور پھر سبھی دوڑتے ہوئے اختتامی لائن تک پہنچ گئے، یہ وہ موقع تھا کہ سٹیڈیم میں موجود سبھی افراد نے نمناک آنکھوں کے ساتھ کھڑے ہوکر ان معذور بچوں کے جذبے کو سلام پیش کیا۔

اسی مائنڈ سیٹ کو لیکر آگے بڑھتے ہیں، کلاس روم میں استاد نے بلیک بورڈ پر ایک لائن کھینچی اور پھر طلبہ سے مخاطب ہوکر کہا کہ ’’ کوئی طالبعلم ایسا ہے کہ جو اس لکیر کو مٹائے یا چھوئے بنا چھوٹاکردے‘‘ سبھی طالبعلم ذہن لڑانے کے باوجود ناکام رہے، کافی دیر گزرگئی لیکن کسی جانب سے اس کا جواب سامنے نہ آنے پر مذکورہ ٹیچر نے اسی لکیر کے مقابل ایک بڑی لکیر کھینچی اور طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلی لائن کو چھوئے اورمٹائے بغیر چھوٹاکردیا ہے وہ یوں کہ اس کے مقابل اس سے بڑی لائن کھینچ دی اس طرح پہلے والی لائن یا لکیر چھوٹی ہوگئی۔

صاحبو! اگر معاشرہ میں گھوم پھر کردیکھیں تو آپ کے سامنے ایک آدھ نہیں بلکہ ہزاروں ایسی مثالیں سامنے آئیں گی کہ لوگ اپنی کامیابی کیلئے اس حد تک کوشش کرتے ہیں کہ انہیں دوسروں کی عزت نفس تک کاخیال نہیں رہتا ۔بلکہ بعض افراد کی سائیکی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی کامیابی سے زیادہ دوسروں کی ناکامی پربھرپور توجہ مرکوز کرتے ہوئے انہیں گرانے میں لگے رہتے ہیں۔ حالانکہ اگر اپنی کامیابی پر ہی توجہ رکھی جائے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی بدولت کئی دوسروں کو بھی کامیابی میسر آسکے۔

سیاست کا یہاں اس لئے بھی ذکر نہیں کرینگے کہ یہ شعبہ غلاظت کا پہاڑ بن چکا ہے جسے ذرا سا کھولنے پر بدبو کے بھبھوکے اڑکر ذہن وجسم کو آلودہ کردیتے ہیں، دوسرے ممالک کو چھوڑئیے ہمارے ہاں سیاست نام ہی منفی ذہنیت ،گھٹیاالزام تراشی ، دوسروں کی عزت نفس سے کھیلاجاتاہے شاید منفی ذہن کے حامل افراد کا خیال ہوتاہے کہ دوسروں کی عزت نفس کو کچل کر وہ کامیاب اوردوسرے ناکام ہوجائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا وقتی کامیابی تو انہیں مل جاتی ہے لیکن غلاظت کا ایک پہاڑ ان کے دامن سے جڑجاتاہے اورپھر زندگی بھر پیچھا نہیں چھوڑتا۔

ہم نے ایک بار اپنے نہایت ہی قابل احترام پروفیسر منیر خان بلوچ سے پوچھاتھا کہ ذہن کیسے مثبت ہوسکتاہے؟ جواب میں انہوں نے اپنی مخصوص پروقار مسکراہٹ کے ساتھ کہاتھا کہ ’’ جس دن آپ نے نصف بھرے گلا س کو آدھا خالی سمجھناچھوڑدیا اور یہ سوچ لیا کہ گلاس آدھا بھرا ہوا ہے اسی دن سے ذہن مثبت ہوتا چلاجائیگا ۔ نیز ہرنظر آنیوالی شئے کے بارے فوری فیصلہ صادرکرنے کی بجائے اس کے پس منظر میں جھانک کر اصل حقیقت کو جاننا ہوگا ‘‘ پروفیسر صاحب تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر بولے ’’ ہمارے معاشرہ میں برائیاں اس لئے بھی زیادہ ہیں کہ ہم میں سے ہرایک شخص جج کا کردار اداکرنے کوترجیح دیتا ہے وہ دوسروں کی سنے بغیر فیصلہ کرنے کو ترجیح دیتاہے لیکن اپنی ذات سے متعلق اسے یہ بات برداشت نہیں ہوتی کہ کوئی اس کے بارے فیصلہ کرے، جب تک عام انسان بن کر نہیں سوچیں گے اس وقت تک معاشرہ میں یونہی بے ترتیبی اوربے سکونی رہے گی‘‘

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saqlain Raza

Read More Articles by Saqlain Raza: 23 Articles with 10221 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2017 Views: 410

Comments

آپ کی رائے