اسلامی تعلیمات میں اوراسلامی شادیوں کاحق مہر

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

حضرت آدم علیہ السلام جب بیدارہوئے توایک عورت کواپنے پاس بیٹھاہوادیکھا۔حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت حواکوہاتھ لگاناچاہا تواللہ تعالیٰ نے روک دیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ پہلے حق مہراداکرو۔ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کی یااللہ ، اس کاحق مہرکیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ اس کاحق مہریہ ہے کہ تونبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پردس مرتبہ درودشریف بھیج۔یوں حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت حواسے قربت سے پہلے حق مہراداکیا۔اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حق مہرکتنا ضروری ہے۔یہ حق مہرحضرت آدم علیہ السلام نے اس وقت اداکیا جب نہ دنیا تھی اورنہ ہی دنیا میں موجودکوئی اورچیز۔شادی آسان کروتحریک کی جانب سے مسلمانوں کویہ بات سمجھانے کاسلسلہ جاری ہے اورجاری رہے گا کہ شادی بیاہ کے سلسلہ میں کون کون سے اخراجات ضروری ہیں اورکون کون سے اخراجات ضروری نہیں ہیں۔شادی بیاہ کے سلسلہ میں جوضروری اخراجات ہیں ان میں سب سے اہم حق مہرکی ادائیگی ہے۔حق مہرکی ادائیگی کے بارے میں قرآن وحدیث میں کیااحکامات آئے ہیں ۔ اس سے ہم قارئین کوآگاہ کردیتے ہیں کہ قرآن پاک کی سورۃ النساء کی ایک آیت مبارکہ کامطلب یوں ہے کہ ’’ اورعورتوں کوان کے مہرخوشی سے دے دیاکرو۔ہاں اگروہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ تم کوچھوڑدیں تواسے شوق اور خوشگواری سے کھالو۔‘‘ اس آیت مبارکہ پرغورکیا جائے تواس میں صرف حق مہراداکرنے کاہی حکم نہیں دیاگیا بلکہ خوشی سے اداکرنے کاحکم دیاگیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے مہرخوشی سے دے دیاکرو۔اس بات آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اپنی بیویوں کے حق مہرخوش ہوکردیاکرو۔جس عورت سے نکاح کرواس کامہراداکرتے وقت مجبورنہ ہوجایاکرو۔حق مہراداکرتے وقت اسے تاوان یاجرمانہ خیال نہ کیاکرو، حق مہردیتے ہوئے ناگواری اور پریشانی کامظاہرہ نہ کیاکرو۔اس آیت مبارکہ میں مزیدفرمایا کہ اگروہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ تم کو چھوڑ دیں توشوق اورخوشگواری سے کھالو۔اس میں شوہر اوربیوی دونوں سے فرمایا جارہا ہے۔ شوہرسے فرمایا گیا ہے کہ اپنی بیویوں کوحق مہرمعاف کرنے یا اس میں سے کچھ چھوڑنے پرمجبورنہ کروہاں اگروہ اپنی خوشی سے چھوڑدیں تواسے شوق اورخوشگواری سے کھالو۔عورتوں سے اس آیت مبارکہ میں یہ فرمایاگیا ہے کہ وہ چاہیں تواپنے شوہرکے حق مہرمیں سے کچھ چھوڑبھی سکتی ہیں ۔ اب یہ معلومات حاصل کرتے ہیں کہ احادیث مبارکہ میں حق مہرکے متعلق کیافرمایاگیا ہے۔کتاب انوارالحدیث کے صفحہ ۵۹۲پرہے کہ حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ (نکاح) کی شرطوں میں سے جس شرط کاپوراکرناتمہارے لیے سب سے زیادہ اہم ہے وہ وہی شرط ہے جس کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کواپنے لیے حلال کیا ہے۔(یعنی دین مہر) اسی کتاب کے اسی صفحہ پرایک اورحدیث مبارکہ لکھی ہوئی ہے، جس کامفہوم یہ ہے کہ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے دریافت کیا کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کا مہر کتناتھا۔انہوں نے فرمایاحضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامہرآپ کی اکثربیویوں کے لیے بارہ اوقیہ اورایک نش تھا۔پھرحضرت عائشہ نے فرمایا جانتے ہونش کیا ہے ؟ میں نے کہانہیں ،انہوں نے فرمایانصف اوقیہ۔ توسب مل کرپانچ سودرہم ہوئے۔ایک اوقیہ چالیس درہم کاہوتا ہے۔ ایک درہم ساڑھے تین ماشہ کا ہوتا ہے ۔ یوں پانچ سودرہم ایک سوپینتالیس تولہ دس ماشہ چاندی کے برابرہے۔اپنے کسی قریبی جیولرزسے یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ بتائی گئی مقدارکی چاندی کی اس وقت قیمت کیا ہے۔اس سے یہ معلوم ہوجائے گا کہ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موجودہ دورکے تناسب سے کتناحق مہراداکیا۔اسی کتاب میں اس سے اگلے صفحہ پرمہرفاطمہ بھی لکھا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکامہرچارسودرہم یعنی ایک سوساڑھے سولہ تولے چاندی تھی۔کتاب تحفۃ العروس کے صفحہ ۹۶ پر ایک حدیث مبارکہ لکھی ہوئی ہے۔ جس کامفہوم یہ ہے کہ مبارک عورت وہ ہے جس سے منگنی کرناآسان ہو،جس کامہردیناآسان ہو،جس کے ساتھ حسن سلوک کرناآسان ہو۔اسی کتاب کے اگلے صفحہ پرلکھاہواہے کہ ایک عورت نے خدمت گرامی میں حاضرہوکرعرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیک وآلک وسلم میں اپنے نفس کااختیارحضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودینے کے لیے آئی ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نظراٹھاکراس کودیکھااورسرمبارک جھکالیا۔عورت دیرتک کھڑی رہی۔تب ایک صحابی نے کھڑے ہوکرعرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیک وآلک وسلم اگرآپ کواس کی ضرورت نہیں ہے تومیرانکاح اس سے کرا دیجئے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتیرے پاس مہرکے طورپرکوئی چیزبھی ہے؟ اس نے عرض کیامیرے پاس کچھ بھی نہیں ہے،بس یہی ایک تہمدہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا گھرجاکردیکھ شایدلوہے کی کوئی انگوٹھی ہی مل جائے۔اس حدیث کایہ مطلب نہیں کہ لوہے کی انگوٹھی پہنناجائزہے،اورعورتیں بھی اسے استعمال کرسکتی ہیں ۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کی قیمت سے کوئی فائدہ اٹھایاجائے۔کیونکہ اس کااستعمال ممنوع ہے۔رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی صحابی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی توان سے قدرے بے التفاتی فرمائی۔انہوں نے سونے کی انگوٹھی اتارپھینکی اس کی جگہ لوہے کی ایک انگوٹھی پہن لی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھاتوفرمایا یہ تواوربراہوا،یہ دوزخیوں کازیورہے،انہوں نے لوہے کی انگوٹھی بھی ایک طرف ڈال دی۔اوراس کی جگہ چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پروہ صحابی گھرگیا لیکن کوئی چیزنہیں ملی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتجھ کوکچھ قرآن بھی آتا ہے۔ اس نے تفصیل واربتایا کہ فلاں فلاں سورتیں آتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایااچھاتوجا!میں نے تیرانکاح اس سے کردیا ہے کہ تواس کو جتناقرآن تجھے یادہے اس کی تعلیم دے۔دوسری روایت میں مذکورہے کہ جامیں نے تیرااس کے ساتھ نکاح کیاتواسے قرآن سکھادے۔ایک اورروایت میں ہے کہ جب حضورپرنورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی سے لوہے کی انگوٹھی طلب فرمائی اورانہیں وہ بھی دستیاب نہ ہوئی توانہوں نے عرض کیاحضور!میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے سوائے میری اس تہمدکے۔میں اس کونصف دے سکتاہوں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایایہ تیری تہمدکیاکرے گی۔اگریہ پہن لے گی توبرہنہ رہے گا،اگرتونے پہن لیاتواس کے پاس کچھ نہیں رہے گا،مجبوراً وہ صحابی بیٹھ گیا۔جب بیٹھے بیٹھے دیرہوگئی تواٹھ کھڑاہوا۔حضورپرنورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوجاتے دیکھ کرحکم دیاکہ اس کوبلالو! اس کوبلایاگیا وہ حاضرہوا۔ارشادفرمایاتجھ کوکچھ قرآن بھی آتاہے۔ وہ تفصیل بتانے لگا کہ فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے تیرااس سے نکاح کردیا ہے کہ تواس کوجتناقرآن تجھے یادہے اس کی تعلیم دے۔اسی کتاب کے صفحہ ۱۷ پر ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاسے نکاح کیاتوحضورپرنورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،اسے کچھ مہراداکردو۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔میرے پاس توکچھ بھی نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری تانت والی زرہ کہاں ہے؟چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے وہی زرہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکوعطاء فرمائی۔اس سے پہلے اس تحریرمیں لکھاجاچکا ہے کہ حضرت خاتون جنت کاحق مہر چار سودرہم تھا۔اب لکھا گیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے زرہ حق مہرمیں دی۔ علماء کرام بتاتے ہیں کہ رسول اکرم نورمجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفرمایا کہ زرہ بازارمیں فروخت کرآؤ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ بازارمیں گئے توحضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وہی زرہ چارسودرہم میں خریدکروہی زرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوتحفے میں دے دی۔یہی چارسودرہم خاتون جنت کاحق مہرتھا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ام سلیم مسلمان ہونے میں ابوطلحہ سے سبقت لے گئیں۔ابوطلحہ نے ان کے پاس پیغام بھیجا،آپ نے جواب میں فرمایامیں نے اسلام قبول کرلیا ہے اگرتم بھی اسلام لے آؤتومیراتم سے نکاح ہوجائے ،چنانچہ ابوطلحہ مسلمان ہوئے۔اورآپ کااسلام ام سلیم رضی اللہ عنہاکاحق مہرقرارپایا۔حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سنو!عورتوں کامہرزیادہ نہ رکھو۔ اگرزیادہ مہررکھنادنیامیں کسی عزت کے لائق یاخداکے نزدیک تقویٰ کے قابل ہوتا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ اس کے حق دارہوتے۔میں نہیں جانتاکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوداپناکسی عورت سے نکاح کیاہویااپنی کسی بیٹی کانکاح کرایاہواوربارہ اوقیہ سے زیادہ مہرمقررفرمایاہو۔بارہ اوقیہ کتنے وزن کی چاندی کے برابرہے یہ اس تحریرمیں پہلے ہی لکھاجاچکا ہے۔اسی کتاب تحفۃ العروس کے صفحہ۴۷ پرہے کہ سرکارمدینہ سرورقلب وسینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاایک صحابی پوری یکسوئی سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے تھے۔تاکہ اگرکوئی ضرورت درپیش ہوتوفوراًاس کی تعمیل کرسکیں۔ایک باررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی سے فرمایاتم شادی کیوں نہیں کر لیتے ۔اس صحابی نے عرض کیا۔یارسول اللہ میں فقیرآدمی ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے ،میں چاہتاہوں کہ بس آپ کی خدمت میں حاضررہوں،حضورپرنورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔وہ صحابی دوبارہ حاضرخدمت ہوئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہی سوال دہرایا۔اس صحابی نے وہی جواب دیا۔پھروہ صحابی تھوڑی دیرسوچنے لگے۔پھرکہاخداکی قسم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومیری دنیااورآخرت کی مصلحتوں کااوران چیزوں کازیادہ علم ہے جوبارگاہ خداوندی میں مجھے قریب کرسکتی ہیں۔اگرتیسری بارآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے فرمائیں گے تومیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادکی تعمیل کروں گا۔بالآخرتیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتم شادی کیوں نہیں کرلیتے؟اس باراس صحابی نے عرض کیا،حضورمیری شادی کرادیجئے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بنو فلاں کے پاس جاؤاورکہوکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنی کسی لڑکی سے میرانکاح کردو۔صحابی نے عرض کیایارسول اللہ میرے پاس توکچھ بھی نہیں (یعنی کوئی چیزمیری ملکیت میں نہیں ہے۔)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایاجاؤاپنے بھائی کے لیے ایک گٹھلی کے وزن کے برابرسوناجمع کردو۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس قدرسوناجمع کیاپھراسے لے کران لوگوں کے پاس گئے،اوراس کی شادی کرا دی۔پھرانہوں نے مل کرایک بکری فراہم کی اوراس کاولیمہ کیا۔کتاب انوارالحدیث کے صفحہ ۶۹۲ پرہے کہ کم سے کم یعنی ابتدائی مہردس درہم ہے۔دس درہم دوتولہ گیارہ ماشہ چاندی کے برابرہیں۔کم سے کم حق مہردوتولہ گیارہ ماشہ چاندی یااس کی رائج قیمت بطورحق مہراداکرناہوگی۔زیادہ سے زیادہ کی کوئی حدمقررنہیں ہے ۔ لیکن بہت زیادہ مہرباندھنابہترنہیں۔مہرکی تین قسمیں ہیں ،معجل وہ ہے جوخلوت سے پہلے دیناقرارپایاہو،موئجل وہ ہے جس کی ادائیگی کی کے لیے کوئی میعاد مقرر ہو،مطلق وہ مہرہے نہ خلوت سے پہلے دیناقرارپایاہونہ کوئی میعادمقررہو۔بہارشریعت اورکتاب تحفہ شادی خانہ آبادی میں بھی حق مہرکی کم سے کم مقداریہی لکھی ہوئی ہے۔اس تحریرسے ہم یہ درس حاصل کرتے ہیں کہ عورتوں کاحق مہراداکرناضروری ہے۔ حق مہرکی کم سے کم مقدارمقررہے زیادہ کی کوئی حدمقررنہیں تاہم زیادہ حق مہرمقررکرنے سے بھی حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے روکا ہے۔کئی لوگ معاشرہ میں اپنانام اونچاکرنے کے لیے لاکھوں روپے حق مہر مقرر کر دیتے ہیں۔حق مہرکی جوکم سے کم مقدارمقررہے وہ مقررکیاجائے یا اس سے زیادہ اتنامقررکیاجائے جوآسانی سے اداکیاجاسکے۔ بعض علاقوں میں چونکہ شادی کے تمام انتظامات والدین اوررشتہ دارکرتے ہیں اس لیے دولہاسے پوچھے بغیرحق مہربھی وہ مقررکردیتے ہیں۔یہ نہیں دیکھتے کہ دولہایہ ادابھی کرسکتاہے یا نہیں ۔ حق مہرمقررکرتے وقت دولہاکی آمدنی کوبھی مدنظررکھناچاہیے۔حق مہرکی کم سے کم مقدارکودیکھاجائے تواسلام میں شادی کرنابہت آسان ہے،آج کے دورمیں شایدہی کوئی ایساشخص ہوجویہ حق مہرادانہ کرسکتاہو۔شادی آسان کروتحریک کامقصدبھی یہی ہے کہ شادی اسلامی تعلیمات کے مطابق سادگی اورآسانی سے کی جائے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 338 Articles with 155221 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 May, 2017 Views: 730

Comments

آپ کی رائے