خاموشی (پانچویں قسط)

(Kanwal Naveed, Karachi)

خوشی نے ڈاکٹر شیزاد کی طرف دیکھا۔ ڈاکٹر شیزادکے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
خوشی پہلی بارکسی شاپنگ مال آئی تھی۔ ڈاکٹر شیزاد نےعنابیہ کو خوشی کی مدد کرنے کو کہا۔ عنابیہ کے چہرے پر ناراضگی صاف ظاہر تھی ،خوشی دونوں کی بات جیت اور چہروں کے تاثرات کو دیکھ اور سمجھ رہی تھی۔ ڈاکٹر شیزاد نے اسے اپنی بیٹی بنانے کا جو فیصلہ کیا تھا ،ان کی بیوی عنابیہ کوپسند نہیں آیا تھا۔ مگر ڈاکٹر شیزاد نے ہر اس چیز کی شاپنگ خوشی کو کروائی جوان کے مطا بق اس کے لیے ضروری تھی۔ انہوں نے عنابیہ کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا۔
عنابیہ: ظاہر ہے وہ لڑکی ہے ۔تم اس کی ضرورتیں مجھ سے ذیادہ بہتر جانتی ہو ۔ وہ نہ بھی کہے ،اس کی ضرورت کی ہر چیز گھر میں موجود ہونی چاہیے۔
ڈاکٹر شیزاد عنابیہ کے رویے سے خائف تھے مگر پھر بھی ان کی آواز دھمی اور لہجہ نرم تھا۔ وہ بھی مرد تھے ،شوہر بھی ۔خوشی مرد کے اس روپ سے واقف نہ تھی۔وہ حیرانی سے بس بدلےہوئے ماحول ،حالات اور لوگوں کا مشاہدہ کر رہی تھی۔دماغ میں درد کی طرح بیٹھی ہوئی اس سوچ کے ساتھ کہ ۔نو ماہ بعد اس کی زندگی بہت بھیانک ہونے والی ہے ۔ کبھی کبھی یہ سوچ ،اس کے آس پاس کے واقعات میں دب جاتی تو کبھی سب سے اوپر آ جاتی ، جب یہ سوچ سب سے اوپر آتی تو پریشانی سے خوشی کا سر پھٹنے لگتا ۔ اسے سمجھ نہیں آتا کہ وہ اس مسلہ کو کیسے دور کرئے۔ وہ شدت سے رونے لگتی۔ڈاکٹر شیزاد اس کے اچانک اس طر ح شدید رونے سے پریشان ہو جاتے۔ ان کا خیال تھا کہ جو اس کے ساتھ ہوا۔شاہد یہ اس کا نتیجہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دانش نے رفیق کے گھر کے باہر دروازے پر دستک دی۔ رفیق نے دروازہ کھولا۔
رفیق : ارے تم کیسے ہو ۔
دانش : وہ میں نے سوچا ۔
رفیق: اندر آو۔
دانش : آنٹی کہاں ہیں ۔
اس کی نظر شفق کو ڈھونڈ رہی تھی ،رفیق نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا ۔ پھر اسے گیسٹ روم میں لے آیا۔
دانش : پرسوں رذلٹ نکل آئے گا۔ تمہیں کیا لگ رہا ہے۔
رفیق : اللہ کرئے بہت اچھا رذلٹ آئے سب کا ہی ۔ ہمارا بھی۔
دانش: آج کل تم کون سی کتابیں پڑھ رہے ہو ، مجھے بھی کوئی ایک آدھ دو۔ تمہاری طرح کچھ اچھا سیکھ جاوں۔
رفیق: ہاں کیوں نہیں ۔ضرور دوں گا۔
دانش : میں پہلے بھی آیا تھا ، یہاں تالا لگا تھا۔
مہناز کمرے میں داخل ہوتی ہیں ۔ دانش بیٹا کیسے ہو۔
دانش: ٹھیک آنٹی ۔
رفیق: وہ دراصل ہم لوگ اسلام آباد گئے تھے ،پہلے نانی گزر گئی ،اللہ انہیں جنت نصیب کرئے ۔
مہناز آپ لوگ باتیں کرو میں چائے لاتی ہوں۔
دانش : میں بھی سوچ رہا تھا ۔ آپ لوگ تو غائب ہی ہو گئے۔
رفیق نے دل میں سوچا ،دانش کو شفق کی شادی کا بتا نا چاہیے یا نہیں ۔
رفیق: تم جس لڑکی کو پسند کرتے تھے اس کا کیا ہوا؟
دانش : بس ایک غلطی ہو گئی ،کچھ نا راض ہے لیکن میں نے امی سے بات کی ہے ،وہ مان گئی ہیں ،رشتہ بھیجوں کا تور اضی ہو جائے گی ۔میں جانتاہوں ،وہ بھی مجھ سے محبت کرتی ہے۔
رفیق: کچھ غلطیاں قابل معافی نہیں ہوتیں۔
دانش: ٹھیک کہہ رہے ہو مگر ،کبھی کبھی ہم دوسروں کی باتوں میں آجاتے ہیں۔
رفیق : یہ اچھی بات ہے کہ تمہیں احساس ہے کہ تم نے غلطی کی ۔ورنہ ہمارے ہاں کوئی اپنی غلطی ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔
دانش: کاش وہ بھی تمہاری طرح سوچے اور مجھے معاف کر دے۔
مہناز: لو بھئی چائے آگئی۔
دانش : آنٹی آپ نے یونہی تکلف کیا۔ اس کی ضرورت نہیں تھی۔
مہناز : بیٹا اب تو دوبارہ سے کام کرنے لگی ہوں ،شفق ہوتی تھی تو کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی تھی۔
دانش کا دل ذور سے دھڑکا ،وہ جو اتنی دیر سے اسی لیے بیٹھا تھا کہ کسی طرح شفق کی ایک جھلک دیکھنے کو مل جائے ،یا اس کی خیر خبر معلوم ہو ،آخر کار اس کا نام سن کر اسے اپنی دھڑکن تیز ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔مگر وہ پھر بھی نہیں پوچھ سکا کہ اب شفق کہاں ہے۔
مہناز: لڑکیاں بھی آنگن میں چڑیوں کی طرح رونق لگا کر چلی جاتی ہیں ۔ ماں باپ کے لیے تو مہمان ہی ہوتیں ہیں نا۔ چائے لو نا بیٹا۔
دانش کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا ۔
دانش: کیا مطلب آنٹی میں کچھ سمجھا نہیں؟
مہناز:شادی کر دی ہے نا ۔میں نے اپنی شفق کی ۔
دانش: جی
دانش کے ہاتھ میں موجود چائے کا کپ گِر گیا ،اس کے پاوں پر گرم گرم چائے گِری۔
رفیق: دانش ،تم ٹھیک ہو ۔
اس کے پاوں کی طرف دیکھتے ہوئے ۔ رفیق نے افسردہ لہجے میں اس سے پوچھا ۔
مہناز :او او ۔تمہارے پاو ں تو جل گئے۔
دانش نے اپنی انکھوں میں اُتر آنے والے آنسووں کو روکنے کی ناکام کوشش کی ۔رفیق کو پتہ تھا کہ وہ چائے کی جلن کے آنسو نہیں تھے ۔اس کا دل جل رہا تھا۔ سوری مجھ سے غلطی ہو گئی۔
رفیق : کوئی بات نہیں دانش ۔ بیٹھ جاو ۔
دانش : نہیں ۔مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ۔
اس کی آنکھوں سے لگا تار آنسو بہنے لگے تھے۔مہناز بیٹا بہت درد ہو رہا ہے ۔
دانش : میں چلتا ہوں ۔
وہ جلدی سے کمرے سے نکل گیا ،رفیق اس کے پیچھے گیا ۔وہ خود کو رونے سے روکنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ رفیق اس کو تسلی بھی نہیں دیے سکتا تھا ۔ اسے شفق کی سسکیاں یاد آگئی۔ وہ جس طرح دانش کی وجہ سے روئی تھی۔ اس کے دل میں آ رہا تھا کہ انسان کو اس کا عمل ضرور واپس ملتا ہے۔ خوشی دینے والے کو خوشی اور غم دینے والے کو غم کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم بے وفائی کر کے وفاحاصل نہیں کر سکتے۔ ہمارے عمل اسی دنیا میں ہمارے سامنے آتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیصل کمرے میں داخل ہوا۔ شفق سنڈے میگزین دیکھ رہی تھی۔
فیصل : کیا دیکھ رہی ہو؟
شفق: وہ ٹوٹکے پڑھ رہی ہوں ۔
فیصل : مجھے جھوٹ سے سخت نفرت ہے۔ جھوٹ ہر برائی کی جڑ ہوتا ہے ۔انسان ایسے شخص پر اعتبار نہیں کر سکتا جو جھوٹ بولتا ہو۔
شفق: جی
شفق نے دل میں سوچا ،بات تو یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔مگر مجھے اس وقت یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔
فیصل : مجھے پتہ ہے لڑکیوں کو یہ یہودیوں کی شکل والے لڑکے اچھے لگتے ہیں ۔
اس نے میگزین کے دوسرے صفحے پر عمرآن عباس کی تصویر کی طرف اشارہ کیا۔شفق غیر محرم کو نظر بھر کر دیکھنا بھی گناہ ہے ۔تم جانتی ہو یہ بات۔
شفق : مگر میں سچ میں ٹوٹکے ہی دیکھ رہی تھی۔
فیصل : میں اندھا نہیں ہوں ۔مجھے نظر آتا ہے تم کیا دیکھ رہی تھی اور کیوں دیکھ رہی تھی۔ میں علاج کروا رہا ہوں ،بہت جلد ٹھیک ہو جاوں گا ۔ حکیم صاحب نے کہا ہے ۔میں ورد بھی کر رہا ہوں مردانہ طاقت کے لیے۔
شفق کو اس کی پہلی باتوں پر بہت غصہ آیا لیکن ورد والی بات سن کر اُس کا غصہ جاتا رہا۔اس سے رہا نہیں گیا اور اس کی ہنسی نکل گئی۔اس نے اپنے دانتوں کو ہونٹوں کے اندر چھپانے کی کوشش کی۔
فیصل کو لگا کہ وہ اس کا مذاق اُڑا رہی ہے ۔اس نے غصے میں آ کر اسے دو تھپڑ لگائے۔
فیصل :اب دانت نکالو ،نکالونا۔ اپنے شوہر کا مذاق اُڑاتی ہو ، شوہر مجازی خدا ہوتا ہے۔ تمہیں معلوم ہے۔ پیا رے نبی ﷺ کا فرمان،اگرشوہر کے پورے جسم میں سے پیپ نکل رہی ہو اور عورت اس کے پورے جسم کو اپنی زبان سے چاٹے ،تو بھی شوہر کا حق ادا نہیں ہوتا۔
شفق: میں نے یہ حدیث نہیں سنی ،نہ ہی مجھے اس کے سچے ہونے کا یقین ہے۔
فیصل : کیا کہا ،حدیث کو جھوٹا کہتی ہو ۔یہ تم نہیں تمہاری ماں کی گھٹیا تربیت ہے۔ جو نوکری کرتی ہے۔ پتہ نہیں کتنے مردوں کے آگے پیچھے گھومتی ہے۔
شفق: میری ماں آپ کی پھوپھو بھی ہے ،تمیز سے بات کریں۔
تمیز،پھر فیصل نے اسے اپنی تربیت کا نمونہ دیکھایا اور اس کی ایسی دُھلائی کی ،کہ وہ بات کرتے ہوئے دس ہزار دفعہ سوچتی کہ کہیں وہ پھر جانور نہ بن جائے ۔ اس نے پہلی دفعہ کسی سے مار کھائی تھی اور وہ پھر کبھی مار کھانا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے فیصل کی ہر غلط ،ٹھیک بات میں ہاں ،ہاں کرنا شروع کر دیا ۔تاکہ وہ اس سے خوش رہے۔وہ جانتی تھی کے شیر کو گھاس کھانے کی ترغیب نہیں دلائی جا سکتی ،اس سے بچنا ہے تو اس سے دور رہنے میں ہی بھلائی ہے۔دین کو جس نظر سے فیصل دیکھتا تھا ،اس دین سے شفق انجان تھی۔
محبت ہمدری ،احساس اور انسانیت فیصل کے دین اسلام کا حصہ نہ تھی۔ اس کے دین میں ہر وہ چیز تھی جو اس کے عیب چھپا لے اور جس کو استعمال کر کے وہ ہر فائدہ حاصل کر سکے ۔ وہ اسے بیوی کے ایسے ایسے حقوق بتاتا جواس نے کبھی پڑھے نہ تھے۔اور نہ ہی سنے تھے ۔ وہ انہیں ایسے تسلیم کر لیتی کہ گویا وہ کوئی عالم دین ہو۔ اس کی تمام تر پابندیاں فقط شفق کے لیے تھیں ۔اس کی تینوں بہنیں ہر قسم کا فیشن کرتی ،کالج میں پڑھتی تھی۔ وہ خود ان کے بارے میں کہتا،میرا ان سے کیا واسطہ۔ میری رعیت تم ہو ۔ مجھ سے تمہارے بارے میں سوال ہو گا۔میں سب کا جواب دہ نہیں ہوں ۔تم جانتی ہو ۔ اگر ایک عورت نماز نہ پڑھے تو آدمی پر فرض ہے کہ وہ اسے مار کر نماز پڑھائے۔بس تم میں یہ ہی اچھی عادت ہے،کہ نماز کی پابندی کرتی ہو۔نماز کی پابندی کیا کرو۔کچھ دن میں ہی اس نے شفق کی زندگی جہنم بنا دی تھی۔ اس کے ماموں، ممانی فیصل کے کسی معاملے میں نہ بولتے ۔نہ ہی وہ اپنے گھر والوں سے ذیادہ بات جیت کرتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خوشی کا کمرہ ڈاکٹر شیزادنے بہت اچھے سے ڈیکور کروایا تھا ۔ وہ لاونچ کے سامنے کا کمرہ تھا ۔ خوشی اب بھی کسی سے بات نہ کرتی تھی۔ڈاکٹر شیزاد خوشی کو بولتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے ۔
ڈاکٹر شیزاد: تم غزل سے بات جیت کیا کرو نا۔
عنابیہ: وہ بولتی ہی نہیں ہے آگے سے کیا فائدہ۔
ڈاکٹر شیزاد: وہ بول سکتی ہے ،بس اسے بات کے لیے راضی کرنا ہے۔ایک دفعہ اس کے منہ سے جی کا لفظ سنا ہے میں نے۔
عنابیہ: مجھے سمجھ نہیں آتی، آپ نے اس لڑکی کو بیٹی کیوں بنا لیا ہے ،کسی کی مدد کرنا اور بات ہے ،آپ کریں مگر۔
ڈاکٹر شیزاد: تمہیں مسلہ کیا ہے۔
عنابیہ: مسلہ ہے نا۔ میں اگر کسی کو بیٹا بنا کر لے آوں تو؟
ڈاکٹر شیزاد: یہاں کوئی مقابلہ چل رہا ہے کیا ؟جو تم کسی کو بیٹا بنا کر لاو گی؟
عنابیہ: آپ کو عجیب نہیں لگتا ، یہاں روز لڑکیوں کے ریب ہوتے ہیں ،روز بچوں کو کیسے کیسے حالات سے گزارا جاتا ہے۔ ہم سب کو اپنے گھر میں لا کر تو نہیں رکھ سکتے۔اوپر سے آپ نے اسے میری بیٹی کا نام دے دیا ،اس کے ساتھ جو کچھ ہوا ۔اس کے بعد بھی ۔صرف انکھیں نیلی ہونے سے وہ میری بیٹی نہیں بن سکتی ۔نہ ہی میں اُسے اپنی بیٹی مان سکتی ہوں ۔ میں جانتی ہوں۔ آپ کو شروع سے ہی بیٹی کی چاہ تھی ۔اس کے لیے آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔
ڈاکٹر شیزاد : یہ جو ٹی وی میں تم لوگوں کو محبت ،ہمدردی اور انسانیت کا درس دیتی ہو ،وہ سب جھوٹ ہوتا ہے کیا۔ ایک معصوم سی بچی تم سےبرداشت نہیں ہو رہی ۔میں صرف اسے جینے کے لیے ایک راہ مہیا کرنا چاہ رہا ہوں ،مجھے لگتا ہے وہ سکون سے کھانا بھی نہیں کھا پا رہی ۔تمہارے اس گھر میں بھی ایک پل کا سکون نہیں دیکھا ۔میں نے اس کی انکھوں میں ۔ میرے اندر کا انسان کہتا ہے کہ اگر میں اسے خوشی سے جینے کے لیے آمادہ کر سکوں تو میری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہی ہو گی۔مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ تم اس کے لیے دل میں ہمدردی محسوس کیوں نہیں کرتی ہو۔
عنابیہ : اس لیے کہ آپ اس کے لیے کچھ ذیادہ ہی ہمدردی محسوس کرتے ہیں۔ عنابیہ نے گود میں رکھا ہوا کشن غصہ سے صوفہ پر پھینکا اور لاونچ سے اُٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دانش : امی آپ جائیں یہاں سے۔
کلثوم: اب شفق کی شادی ہو گئی ،تو میرا کیا قصور ہے۔ تمہارے لیے ماں کچھ بھی نہیں۔ راتیں جاگ جاگ کر تمہیں میں نےپالا ہے۔دو سال اپنا دودھ پلایا ہے ، میرا کوئی حق نہیں ہے تم پر ۔اچھا خاصا رذلٹ آیا ہے ۔تمہارا ،آگے پڑھنا ہے تو بھی بولو۔کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لے لو۔ لڑکیاں ہی لڑکیاں ہو ں گئی ۔ تم جس سے کہو گئے ،تمہاری شادی کر ادوں گی۔ پورا نام بھی نہیں پوچھو گئ ۔مگر یوں نہ کرو ۔ کمرے سے نکلو بیٹا ۔ تم ہماری آس ہو۔ وہ باتیں کرتے ہوئے بُری طرح رونے لگیں ۔اس نے اپنی ماں کو دیکھا تو سوچنے لگا ۔پہلے خود غرض بن کر شفق کو کھو دیا۔ کس قدر دُکھی تھی وہ ۔اس کی انکھوں سے کیسے آنسو جاری تھے ۔آج میری ماں اسی کی طرح رو رہی ہے ۔میں خود غرض بن کر اپنی تکلیف کا رونا رو رہا ہوں ۔ دوسروں کو دُکھ دے کر دُکھ ہی ملتا ہے ۔ اس نے اپنی امی کو تسلی دی۔
دانش : امی آپ نہ روئیں ۔جو آپ چاہتی ہیں میں وہ ہی کروں گا ۔ آپ کیا چاہتی ہیں۔
کلثوم: تمہارے اِتنے اچھے نمبر آئے ہیں ، تمہارے بابا کہہ رہے تھے ،تمہیں کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہیے۔
دانش : اچھا امی آپ لوگ جو چاہتے ہیں ۔ میں ویسا ہی کرو گا۔ بس اب آنسو صاف کریں ۔اس نے اپنی ماں کی گود میں سر رکھ دیا۔
دانش نے کافی دنوں بعد آئینہ دیکھا ، اپنی شکل اس کی پہچان میں نہیں آرہی تھی۔ انکھیں اندر کو دھنسی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ اچھی خاصی دھاڑی بڑھی ہوئی تھی۔ اس نے خود سے بات کی ، دانش صاحب شفق کے ساتھ جو تم نے کیا ۔اس کا جواب یہ ہی ملنا تھا ۔ کوئی بھی اچھی لڑکی تمہاری گھٹیا حرکت کے بعد یہ ہی کرتی ۔ اگر غلطی کی ہے تو سزا پانے کا حوصلہ بھی پیدا کرو۔ بزدل بن کر اندھرے میں پڑے رہنے سے کچھ نہیں ہو گا ۔ اچھا یا برا جو بھی ہے اپنا آپ سنبھالوں ۔تم راجہ گدھ نہیں ہو ۔ تم ہوس پرست بھی نہیں ہو ۔غلطی کر کے ہی انسان سیکھتا ہے۔محبت پا لینے کا نام نہیں ۔شفق جہاں بھی رہے خوش رہے ، یہ ہی تمہارے لیے کافی ہونا چاہیے ۔ تم اس سے محبت کرتے رہو ۔ مگر زندہ رہو گئے تو محبت کرو گئے نا۔ دانش صاحب ۔ اس نے اپنے منہ پر ٹھنڈے ٹھنڈے پانی کے کافی دیر تک چھینٹے مارے۔اس نے دوبارہ سے زندگی کو جینے کا فیصلہ کیا۔
دانش: امی میں یونیورسٹی جا رہا ہوں ، فارم لینے۔
دانش کی امی : جاو بیٹا جاو ،ٹھہرو انہوں نے پرس سے نکال کر اُسے پانچ ہزار روپے دیے۔ اللہ کسی کی نظر نہ لگائے میرے بیٹے کو۔
دانش نے اپنی بائیک سٹارٹ کی اور باہر نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر شیزاد: کیا بات ہے رفیق ،پریشان لگ رہے ہو۔
رفیق: سر وہ امی کہہ رہی ہیں کہ میں انگلینڈ چلا جاوں ،میرا رذلٹ آگیا ہے، میرے ماموں مجھے پڑھائی کے ویزے پر لے کر جانا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر شیزاد: یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ آج کے دور میں بنا مطلب کے تمہارے ماموں تمہیں انگلینڈ جیسے ملک میں تعلیم کے لیے ،مدد کرنے کو تیار ہیں ۔مسلہ کیا ہے؟
رفیق: وہ مجھے بغیر مطلب کے مدر کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ان کی بیٹی ہے ایک ،میشا ۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں انگلینڈ میں آ کر اسے شادی پر آمادہ کروں۔ میری امی بھی یہ ہی چاہتی ہیں ۔مگر میرا دل نہیں مانتا ،خود کو بیچنے کا ۔
ڈاکٹر شیزاد۔ تم کسی اور کو پسند کرتے ہو۔
رفیق: نہیں سر۔
رفیق کے دل و دماغ میں اس لڑکی کا خیال آیا ، جس کو اُٹھا کر اس نے گاڑی میں لیٹا دیا تھا ۔ اسےخود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ایسا کیوں ہوا ہے۔ ڈاکٹر شیزاد کی بات پر اس نے فوکس کرنے کی کوشش کی۔
ڈاکٹر شیزاد : پھر تمہیں چلے جانا چاہیے ۔ ممکن ہے کہ وہ لڑکی اچھے اخلاق کی ہو ۔ تمہیں پسند آئے ۔پسند آئی تو شادی کر لینا۔
رفیق: اگر پسند نہ آئی تو۔ یہ دھوکا نہیں ہو گا ، ماموں اپنا اِتنا پیسہ صرف اسی لیے لگا رہے ہیں کہ میں ان کا داماد بنوں ۔
ڈاکٹر شیزاد : دھوکا کیسا ۔زندگی ہمیں جو مواقع دیتی ہے۔ ان سے فائدہ اُٹھانا ہر کسی کا حق ہے ،تمہارے ماموں کو اپنی بیٹی کی لالچ ہے،تمہاری امی کو تمہاری لالچ ہے ۔ تمہیں بھی زندگی کو سنوارنے کی لالچ ہے ، ایسے میں کبھی کبھی اُڑنے والا بیچ بننا ۔کنچہ بننے سے بہت بہتر ہوتا ہے۔
رفیق :آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں ۔میری تو سمجھ میں نہیں آیا۔
ڈاکٹر شیزاد: تم نے کبھی ہوا کے ساتھ اُڑنے والے بیج نہیں دیکھے ،جو خود کو ہوا کے دوش پر سوار کر لیتے ہیں ،پھر جہاں حالات سازگار ملتے ہیں ،اُگ جاتے ہیں ، لیکن کنچے وہ اپنی ذات کو ہوا کے دوش پر سوار نہیں ہونے دیتے ، وہ مزاحمت کرتے ہیں ،وہیں کہ وہیں رہ جاتے ہیں ۔ یہ فیصلہ تمہیں کرنا ہے کہ اُڑنے والا بیچ بننا ہے یا پھر اپنی جگہ نہیں چھوڑنی۔ تم اگر انگلینڈ کی کسی یونیورسٹی سے پڑھ لکھ جاو گئے تو سوچو ترقی کے کس قدرمواقع تمہیں ملیں گئے۔
رفیق: آپ کے خیال میں مجھے انگلینڈ جانا چاہیے؟
ڈاکٹر شیزاد: زندگی میں ملنے والے ہر موقع سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ہاں اگر تمہیں شادی کر کے جانا ہوتا تو حالات مختلف ہوتے ،تمہیں وہاں پڑھائی کے لیے بلایا جا رہا ہے۔ اگر مجھے بلایا جاتا تو میں ضرور جاتا ۔ انگلینڈ کی یونیورسٹی دیکھتا ،وہاں کا تعلیمی نظام دیکھتا ۔ اگر میری کسی مدد کی ضرورت ہو تو بتانا۔
رفیق: نہیں سر ۔ماموں نے امی کو دو لاکھ روپے پہلے ہی بھیج دیئےہیں ۔
ڈاکٹر شیزاد:یہ تو اچھی بات ہے ، چلو بھئی ہو سکے تو بات جیت رکھنا ۔
رفیق: کیوں نہیں سر ۔ میں اس ماہ کے بعد یہ کام چھوڑ دوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیصل لڑکھڑاتا ہوا کمرے میں داخل ہوا شفق نے جلدی سے قریب آ کر سہارا دیا ۔
فیصل : کمینے ،کافر یہ سارے خبیث ہیں۔ بے غیرت ہیں ۔
شفق کو پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ کس کو گالیاں دے رہا ہے۔وہ چپ چاپ سنتی رہی۔
فیصل : منہ کیا دیکھ رہی ہو۔ یہ نہیں کہ پوچھو ، کیا ہوا ہے ۔ کیسے لگ گئی۔ بس دیکھتی رہو ،گونگی کہیں کی۔جاو گرم پانی والی بوتل لے کر آو ۔ کتے نے بہت مارا ہے ،پر میں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ،بیٹھا ہو گا اپنی ماں کی گود میں ۔
شفق گرم پانی کی بوتل لائی ۔
فیصل : کیا دھیرے دھیرے چل رہی ہو۔ جلدی اور میری ٹکور کرو کندے کی ،گردن موڑ دی میری۔
شفق: کیا ہوا ؟
دھیرے سے شفق نے کہا۔
فیصل : حجام کی دوکان پر بیٹھے تھے ،باتوں سے بات نکلی ، تو ایک بے غیرت بولا ،بول والی فلم اچھی ہے ۔ لعنتی ۔کیا خاک اچھی ہے خرافات پر مبنی ،دل و دماغ میں فتور پیدا کرنے والی۔
شفق: آپ نے دیکھی ہے بول والی فلم۔
فیصل : ہاں دیکھی ہے ۔ مرد کو باخبر رہنا چاہیے نا ، معاشرے میں کیا ہو رہا ہے۔یہ چند بے غیرت کہتے ہیں ،دین کو بدل دیں ۔بدلنے دیں گئے ہم۔ خود تو دین کی پیروی نہیں کرتے اور ہماری نسلوں کو برباد کرنے پر تلے ہیں ۔میں نے کہا اگر تیری ماں نے تیرے باپ کو کہا ہوتا کہ مجھے بچہ پیدا نہیں کرنا تو اچھا ہوتا ، بُرا لگ گیا کمینے کو۔ مارنے پر آ گیا ۔
جب ہمارے نبی ﷺ نے فرما دیا۔مجھے میری امت کے ذیادہ ہونے پر خوشی ہو گی تو بات ختم ہو گئی ۔ یہ لوگ تشریح چاہتے ہیں ۔جب پیغمر ﷺ نے منع فرما دیا کہ گانا بجانا حرام ہے تو حرام ہے ،یہ چاہتے ہیں کہ ان کی مرضی چلے ۔ ان کی مرضی سے حلال اور حرام کا تعین ہو گا ۔ سور کہیں کے۔
تم نے دیکھی ہے بول فلم؟
شفق: نہیں۔
اس نے جان چھڑانے کے لیے جھوٹ بولا ۔ وہ بات کو ختم کرنا چاہ رہی تھی ۔اسے بے اختیار دانش یاد آیا ۔ اس نے بول فلم سینما میں دیکھی تھی ،شفق کو کہانی سناتے ہوئے ،وہ فلم کی ایک ایک چیز کو اچھا بول رہا تھا ۔ کیا فلم لکھی ہے لکھنے والے نے ۔ہلا کر رکھ دیا۔ لڑکی اپنے باپ کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ واہ واہ ، کیا فلم ہے ۔ انسان کے ظاہر اور باطن کا کیا خوب نقشہ کھنچا ہے ،لکھنے والے اور بنانے والے نے ۔زبردست ۔ مبارکباد کا مستحق ہے ۔ شعیب مسعود۔
فیصل : کیا سوچ رہی ہو۔
شفق: آپ کے لیے چائے لے کر آوں ۔
فیصل : ہاں لے آو۔ چینی ذیادہ ڈالنا ،ہمارے نبی ﷺ کو میٹھا بہت پسند تھا۔
شفق کمرے سے چلی گئی ۔چائے بناتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی ۔نبی ﷺ کے نام پر فیصل جیسی سوچ کے لوگ دروغہ بن بیٹھے ہیں ۔قرآن تو انہیں بھی اس چیز سے دور رہنے کی تنبیہ کر تا ہے ۔ کیسے اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ (اے نبی ﷺ میں نےتمہیں ان پر دروغہ نہیں بنایا) کیسے اللہ تعالی نے ذور ذبردستی کرنے سے منع کر دیا ہے ۔قرآن تو صاف صاف کہتا ہے۔( ہدایت ،گمرائی سے الگ ہو گئی ،اب جو چاہے اپنے رب تک جانے کا راستہ بنا لے ) کون سی جگہ پر کہا گیا ہے ،دوسروں کو کھینچ کھینچ کر دین میں ذبردستی داخل کرو۔ فیصل جیسے لوگوں کو دین ایسا کیوں سمجھ آتا ہے۔ ہمارے نبی ﷺ پتھر مارنے والوں کو معاف کر دیتے تھے ۔ یہ کیسے امتی ہیں ۔جن کا دین تشدد ہے ۔ جو لوگوں کو سوچنے سمجھنے اور بات کرنے کا حق ہی نہیں دیتے۔سحریش کچن میں آئیں ۔ چائے کو ابلتے دیکھا ۔تو شفق سے پوچھا۔
سحریش : کن سوچوں میں گم ہو۔
شفق نے فوراً چولہا بند کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر شیزاد نےاپنے ایک دوست سے خوشی سے متعلق بات کی ۔آغا خان یونیورسٹی ہوسپٹل میں نیورو سرجن تھے ۔ ڈاکٹر سہراب ۔انہوں نے ڈاکٹرشیزاد کو مشورہ دیا کہ وہ غزل کو کسی ماہر نفسیات کو دیکھائیں ۔
ڈاکٹر سہراب : یار تم جس طرح بتا رہے ہو بچی گم سم رہتی ہے ۔وجہ معلوم نہیں ٹین ایج کی بچی کے ساتھ کوئی بھی مسلہ ہو سکتا ہے ۔ میرے جاننے والے ہیں ۔ صدیق صاحب ان کی بیوی ہیں ۔ بہت اچھی ماہر نفسیات ہیں ۔ان کا اپنا ہوسپٹل ہے ،جہاں وہ مریضوں کو بھی لیتی ہے ۔ جنہیں کوئی مینٹل ایشو ز ہوتے ہیں ۔اللہ نہ کرے تمہاری بیٹی کے ساتھ کوئی ایسا مسلہ ہو مگر ۔آج میڈیکل سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے ۔ہر مسلہ کا حل موجود ہے ۔ میں ان سے بات کر لوں گا ، تم ان کے گھر لے جانا ،اپنی غزل کووہ نکلوا لیں گئی جوبھی مسلہ ہو گا۔سامنے آ جائے گا۔
ڈاکٹر شیزاد : یار وہ بولتی نہیں ہے۔
ڈاکٹر سہراب : گونگی ہے؟
ڈاکٹر شیزاد : نہیں بس کچھ عرصہ سے بات جیت نہیں کرتی یا کرنا نہیں چاہتی ۔
ڈاکٹر سہراب : اگر گونگی نہیں ہے تو ضرور بول پڑھے گی۔ شہر بانو ،مانی ہوئی ماہر نفسیات ہے۔ آدھا مسلہ تو دیکھ کر بتا دیتی ہے بندے کا ۔ صدیق سے میرے بہت اچھے تعلقات ہیں ۔ آنا جانا ہے میرا ان کے ہاں۔ وہ کہتے ہیں ،بیوی کچھ بھی ہو ماہر نفسیات نہیں ہونی چاہیے۔
ڈاکٹر شیزاد ہنسنےلگے ، ڈاکٹر سہراب نے ان کا ساتھ دیا۔
ڈاکٹر شیزاد : تم بات کر لو ان سے ٹائم لے لو ۔ میں غزل کو ان کے پاس لے جاوں گا ۔غزل کو پتہ نہیں چلنا چاہیے کہ وہ کوئی ڈاکٹر ہیں ۔ ان کی جو بھی فیس ہو گی میں دینے کو تیار ہوں ۔
ڈاکٹر سہراب : ارے کیسی بات کر رہے ہو ۔ تمہاری بیٹی، میری بیٹی ۔ وہ بھابھی ہیں میری ،فیس لیں گی۔ ہاں جب تمہاری غزل باتیں کرنے لگے تو کھانا کھلادیناہم سب کوکسی اچھے سے ہوٹل میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفیق اندر داخل ہوا ،خوشی لاونچ میں بیٹھی ہے۔وہ ادھر اُدھر دیکھتا ہے ۔ اسے سامنے کوئی نظر نہیں آتا۔اسے خوشی کا سر نظر آتا ہے۔صوفہ پر اُٹھا ہوا۔
رفیق: اسلام علیکم
خوشی پلٹ کر پیچھے دیکھتی ہے۔
رفیق اس کو دیکھتے ہی پہچان لیتا ہے ۔ یہ وہی لڑکی ہے ،جسے میں نے گود میں ہوسپٹل پہنچایا تھا۔اس کی نیلی نیلی انکھیں اسے اپنے اندر جھانکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ۔ اس سے ذیادہ خوبصورت لڑکی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔اس کا دل اس بات کی گواہی دیتا ہے ۔ وہ پھر اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
رفیق : ڈاکٹر شیزاد کہاں ہیں۔
خوشی خاموش رہتی ہے ۔ڈاکٹر شیزاد کی امی پیچھے سے لاونچ میں داخل ہوتی ہیں ۔رفیق چونک جاتا ہے۔
مدحت: رفیق تم ہو ۔میں نے سوچا ،غزل سے بات کون کر رہا ہے۔
رفیق: وہ میں ڈاکٹر شیزاد سے ملنے آیا تھا۔ کل میں اسلام آباد جا رہا ہوں ،وہاں سے انگلینڈ چلا جاوں گا۔سوچا سر سے مل کر جاوں۔
مدحت: یہ تو بہت خوشی کی بات ہے ۔ انگلینڈ کیوں جا رہے ہو۔
رفیق : پڑھائی کے لیے۔
مدحت : شیزاد تو دیر سے آتا ہے ۔فون کر لو یا پھر شیزاد مموریل ہوسپٹل چلے جاو۔
رفیق : جی
( اس نے ایک گہری نگاہ اس لڑکی پر ڈالی۔ غزل اس نے دل میں نام لیا ۔ اس کا نام بھی کیسا پیارا ہے۔وہ خداحافظ کہہ کر وہاں سے نکل گیا ۔ مگر کچھ دیراس کے دل و دماغ کا محور اور مرکز غزل بنی رہی ۔)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شایان کی نائن کلاس شروع ہو چکی تھی۔ مگر اسے فزکس ذرا سمجھ میں نہ آتی تھی ۔ اس نے فزکس کی کتاب کو لاونچ میں لا کر ذور سے پھینکا۔ کل یہ سوال سکول میں میڈم چیک کریں گئی ۔ آج ہی ٹیوشن والے سر کو چھٹی کرنی تھی ۔ وہ ذور ذور سے شور مچا رہا تھا ۔ عنابیہ نے آ کر اسے مذید ڈانٹا تو وہ اور غصہ ہو کر کتاب اور کاپی وہیں پھینک کر چلا گیا ۔ خوشی اپنے کمرے کی کھڑکی سے کھڑی سب دیکھ رہی تھی۔ جب عنابیہ اور شایان وہاں سے چلے گئے تو وہ لاونچ میں آئی ۔ فزکس کی کتاب کو دیکھنے لگی ۔ یہ وہی کتاب تھی جو اس نے پڑھی تھی مگر یہ انگلش میں تھی۔ اس نے پورے دو منٹ بھی نہیں لگائے اور نومیریکل کو حل کر دیا ۔ آفان نے شایان کو جا کر بتایا کہ غزل اس کی کتاب اور کاپی لیے بیٹھی ہے تو شایان حیرت سے لاونچ میں آیا َمگر خوشی وہاں سے جا چکی تھی ۔ شایان نے نومیریکل سے متعلق ڈاکٹر شیزاد کو بتایا۔
شایان ناشتہ کی ٹیبل پر بیٹھا تھا۔
شا یان : ڈیڈی غزل آپی تو بہت لائق ہیں ۔ انہوں نے میرا فزکس کا ایک نومیریکل ایک منٹ میں حل کر دیا ۔ آپ انہیں کہیں نا ، مجھے ٹیوشن دیں ۔
ڈاکٹر شیزاد : اچھا
ڈاکٹر شیزاد نے خوشی کی طرف دیکھا ۔ غزل اس کا مطلب ہے کہ سانئس کے ساتھ نویں کلاس کی طالب علم تھی ۔یا پھر دسویں کی۔ اسی لیے تو۔
خوشی کو اپنے کیے پر افسوس ہوا ۔ اس نے اپنی گردن مذید نیچے جھکا لی
ڈاکٹر شیزاد : غزل آج شام کو تیار رہنا چار بجے ،ہمیں کہیں جانا ہے۔
خوشی نے ان کی طرف دیکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفیق: وہ میں کل انگلینڈ جا رہا ہوں ، سوچا شفق سے مل کر ہی جاوں ۔اسی لیے میں نےیہاں سے انگلینڈ جانے کا سوچا ۔شفق کہاں ہے۔
فرحان : ابھی آ جائے گی ۔
انہوں نے شفق کو آواز دی۔ کافی دیر بعد شفق کمرے میں آئی شفق کا منہ سوجا ہوا تھا ۔وہ لڑکھرا کر چل رہی تھی۔
رفیق : کیا ہوا شفق ؟
رفیق اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
شفق: وہ میں واش روم میں گِر گئی تھی۔ چوٹ لگ گئی ۔ امی کیسی ہیں اورربیعہ ۔ کل پھر انگلیند جا رہے ہو ۔ امی نے بتایا تھا۔
رفیق : ہاں ،امی کی یہ ہی خواہش ہے تو ۔ اس لیے۔
فرحان اُٹھ کر باہر چلے گئے۔ رفیق ،فیصل کیسا ہے؟تم خوش ہو نا۔ کوئی بھی مسلہ ہو تو مجھے فون کر لینا ۔ میں وہاں جاتے ہی فون کروں گا ۔تمہیں اپنا نمبر بھی دے دوں گا۔
شفق: فون
شفق کا فون رات کو فیصل نے توڑ دیا تھا۔ شادی کی شاپنگ کرتے ہوئے مہناز نے دس ہزار کا ایک موبائل شفق کے لیے لیا تھا ۔ رات کو فیصل جب کمرے میں ہی تھا تو فون پر بیل بجی ، شفق ، واش روم سے باہر آئی ،اتنی دیر میں رفیق نے فون اُٹھا لیا۔مگر فون کرنے والے نے فون بند کر دیا ۔ فیصل نے شفق سے پوچھا تم جانتی ہو کس کا نمبر ہے ۔ شفق نے دیکھا تو کوئی انجان نمبر تھا۔شفق نےانکار کر دیا ۔فیصل نے جھوٹ بولنے پر جہنم کی وعید سنائی اور اپنی طرف سے الگ سزاد ی ۔ فون کو توڑ دیا ۔آئندہ فون نہ رکھنے کا حکم دیا ۔
رفیق: کیا ہوا؟کہاں کھو گئی؟
شفق: میرا فون تو ٹوٹ گیا۔
رفیق : کیسے ؟ اچھا میں تمہیں کل نیا لا دوں گا۔
شفق :نہیں
رفیق: کیوں؟
شفق:میں خود لے لوں گی۔ بہت جلد۔
رفیق: مسکراتے ہوئے۔اچھا چلو تمہاری مرضی۔ لگتا ہے فیصل نے ذیادہ اچھا فون دلانے کا وعدہ کیا ہے۔
شفق نے مسکرانے کی کوشش کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر سہراب نے ڈاکٹر شیزاد کو کال کی اور انہیں ماہر نفسیات ڈاکٹر شہر بانو کے بارے میں بتایا۔
ڈاکٹر سہراب : اسلام علیکم ،کیسے ہو ۔ کیا کر رہے تھے ،بزی تو نہیں ہو ؟
ڈاکٹر شیزاد : نہیں نہیں بولو، بات ہوئی کیا تمہاری اس ماہر نفسیات سے؟
ڈاکٹر سہراب : ہاں مگر انہوں نے کہا کہ مریض سے پہلے میں اس کے ورثا سے ایک ملاقات کرنا چاہتی ہوں ۔ جس میں مریض نہیں ہونا چاہیے۔میں نے انہیں بچی کی حالت کے بارے میں بتایا تھا ۔
ڈاکٹر شیزاد : تم ٹائم لے لو ۔ میں تو ابھی تیار ہوں ،ملنے کےلیے۔
ڈاکٹرسہراب : اچھا میں تمہیں کال بیک کرتا ہوں ۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر شیزاد کے فون پر دوبارہ ڈاکٹر سہراب کی کال آئی ۔ اور انہوں نے رات کو ساڑھے دس کا ٹائم دیا اور خود ساتھ چلنے سے معذرت کر لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر شیزاد ، ماہر نفسیات ڈاکٹر شہر بانو کے ہوسپٹل پہنچے۔ڈاکٹر شہر بانو نے علیک سلیک کے بعد چائے منگوائی ۔
ڈاکٹر شہربانو: آپ مریض کے بارے میں کچھ بتائیں۔
ڈاکٹر شیزاد : اس کا نام غزل ہے ۔اسے ایسی کوئی بیماری نہیں ہے ۔میرا مطلب ہے ۔ دماغ کاکو ئی مسلہ نہیں ہے۔
ڈاکٹر شہربانو: مسلہ کیا ہے؟
ڈاکٹر شہزاد خاموش ہو گئے ۔ وہ سوچنے لگے ۔
ڈاکٹر شہر بانو: آپ کے دوست نے بتایا کہ آپ کی بیٹی نے اچانک بولناچھوڑ دیا وہ کچھ عرصہ سے بلکل بات نہیں کرتی ۔ وجہ کیا ہے؟
ڈاکٹر شیزاد ،پھر خاموش رہے ۔انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ غزل کے متعلق جو انہیں معلوم ہے سب کا سب بتا دیں یا پھر نہ بتائیں ۔
ڈاکٹر شہر بانو: ڈاکٹر شیزاد آپ خود ڈاکٹر ہے یہ تو آپ بھی جانتے ہیں کہ اگر درست معلومات ملیں تب ہی اصل مرض کی تشخیص ممکن ہوتی ہے ۔ آپ کو جو سب کچھ معلوم ہے ۔اس میں کم پیشی کیے بغیر مجھے بتا سکتے ہیں ۔ آپ کی بیٹی سے متعلقہ کوئی معلومات کہیں نہیں جائیں گی ۔ مجھے جب تک آپ کی بچی کی مکمل کیس ہسٹری پتہ نہیں ہو گی تو میں اس کا علاج کیسے کر سکوں گی۔ڈاکٹر شیزاد آپ کی فراہم کی جانے والی ہر بات مکمل راز رکھی جائے گی ۔یہ ہمارا اصول ہے۔
ڈاکٹر شیزاد : اس بچی کا اصل نام مجھے معلوم نہیں ،وہ بولتی ہی نہیں تو کیسے معلوم ہو گا۔ وہ مجھے ایک کچرا کنڈی کے پاس ملی ۔ڈاکٹر شیزاد کو خوشی سے متعلق جو معلوم تھا ۔ ایک ایک لفظ بتا دیا ۔ اس کا جی کا لفظ بولنا اور فزکس کاایک نومیریکل حل کرنا۔
ڈاکٹر شہر بانو: شکریہ ، آپ کا تعاون اس بچی کو دوبارہ بولنے کے قابل بنا دے گا ۔ آپ اسے میرے گھر پر لے کر آئیں ،اس عمر کے بچے لوگوں سے جلدی متاثر ہو جاتے ہیں ۔ان کو محبت اور دوستی کے لیے جلد تیار کیا جا سکتا ہے۔اس سے کچھ بھی سننے کے لیے پہلے اس سے بہت بولنا ہو گا۔ میں اس سے ریپوبناوں گی ۔ مطلب ایسا رشتہ کہ وہ مجھے اپنا سمجھنے لگے ۔
ڈاکٹر شیزاد : آپ جو کچھ بھی کریں ۔بس میں اس بچی کو زندگی کی طرف لوٹتا دیکھنا چاہتا ہوں ۔ آپ کی جو بھی فیس ہو گی۔ وہ میں دوں گا۔ غزل میری بیٹی ہی ہے اب۔میں غزل کو کب لے کر آوں؟
ڈاکٹر شہر بانو: ہفتہ کو شام چار بجے۔ آپ ایک بہت اچھا کام کر رہے ہیں ۔ ڈاکٹر شیزاداور اس نیکی کے کام میں ،میں ضرور حصہ ڈالنا چاہوں گی ۔فیس کا کوئی مسلہ نہیں ہے۔ میں پوری کوشش کروں گی کہ آپ کی غزل بولنے لگے ۔بہت جلد ایسا ہو گا۔ آپ فکر نہ کریں۔غزل کو آپ یہ کہہ دیجئے گا کہ آپ نے اس کے لیے ایک ٹیچر کا انتظام کیا ہے۔اب آپ جا سکتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمرآن فاروق: کیا کہہ رہی ہو ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔
حبیبہ : میشا ایسا کر سکتی ہے۔ میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
عمرآن فاروق: میں رفیق کو لینے جا رہا ہوں ۔ تم مجھے اگر پہلے بتا دیتی تو میرا اِتنا پیسہ برباد نہیں ہوتا۔
حبیبہ: مجھے کیا پتہ تھا ۔ میں نے واپس آ کر ہی اس کے دل میں رفیق کا خیال ڈالا تھا ۔ اس نے کوئی ردعمل ظاہر ہی نہیں کیا تھا ۔ اچانک سے جا کر ڈیوڈ سے شادی کر لے گی۔ مجھے کیا پتہ تھا۔
عمرآن فاروق: تمہیں کچھ پتہ ہے ۔ اس لڑکے کو یہاں پر لانے کے لیے میرا کتنا پیسہ برباد ہوا ہے۔ اب میں اس کا کیا کروں گا۔
غصہ میں بڑبڑھاتے ہوئے وہ گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ اس خوبصورت ملک کی سب سے بڑی بدصورتی یہ ہی ہے ، احساس ہی نہیں ، شرم لحاظ سب بے کار کی شے سمجھ کر چھوڑ دی جاتی ہے۔ بچوں کو پالنے کا کوئی صلہ ہی نہیں ۔ پوری زندگی غارت جاتی ہے ،بندے کی ۔ ایک گورے کے ساتھ چلی گئی۔یہاں کوئی کچھ نہیں کر سکتا ۔آزادی ہے۔ ہر جیز کی آزادی ۔ انہوں نے ایک آہ بھری۔ میشا ان کے ارمانوں کو توڑ چکی تھی ۔اب کیا ہو سکتا تھا۔
رفیق: ماموں آپ بہت دیر سے آئے۔
رفیق نے عمرآن فاروق کے چہرے پر مایوسی کے جذبات دیکھے تو دھیرے سے پوچھا۔
عمرآن فاروق: ہاں وہ کچھ کام تھا ،یہ پاکستان نہیں ہے ۔یہاں کئی گناہ ذیادہ محنت کرناپڑتی ہے ۔ صرف محنت ہی سے انسان پیسہ کما سکتا ہے ۔ آسان نہیں ہے ۔پیسہ کمانا۔
رفیق:جی
رفیق کو ان کے لہجے کی تلخی محسوس ہوئی تھی ،مگر اس نے خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا۔ وہ اسے لے کرگھر آگئے ۔گھر کافی بڑا اور خوبصورت تھا ،اسے ان کی ترقی پر رشک محسوس ہوا ۔اس نے سب میں ایک اجنبیت سی محسوس کی۔کسی نے اس کے آنے پر خوشی کا اظہار نہ کیا ، ارسل کو اس نے اپنے پاس سےگزر کر کمرے میں جاتے دیکھا ،وہ اُٹھا کہ اس سے ملے۔ مگر وہ جا چکا تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب اس طرح سے کیوں ظاہر کر رہے ہیں ۔ ہوا کیا تھا اس کی سمجھ سے باہر تھا۔اس نے چپ چاپ ایک دن گزار دیا ۔ماموں سے بات کرنے کی خاطر اس نے یوں ہی یونیورسٹی کا تذکرہ کیا۔ورنہ وہ ساری معلومات لے چکا تھا ، برمینگم یونیورسٹی میں ایم پی اے کے لیے اس کی درخواست منظور ہوئی تھی ، اڑھائی سالہ اس کورس کے بعد وہ کسی بھی اچھی کمپنی کے لیے پالیسی میکر بن سکتا تھا ۔
رفیق :یونیورسٹی یہاں سے کتنی دور ہے ۔ماموں ۔
عمرآن فاروق: کیوں
رفیق: جی
اسے ان کے جواب پر حیرانی ہوئی تھی۔
عمرآن فاروق: تمہیں یہاں پڑھائی کے ویزا پر بلایا ضرور گیا ہے لیکن پڑھائی کے لیےنہیں ۔ کام کے لیے ۔ یہاں میرے ہاں کیشیر کے طور پر کام کرو گئے۔میں سوچ رہا ہوں ،تمہارے رہنے کا انتظام بھی وہاں ہی کر دوں گا۔ یہاں رات کو دیر تک کام کر کے تمہارے لیے آنا مشکل ہو گا۔
رفیق: لیکن ماموں، میں تو یہاں پڑھائی کے لیے ہی آیا ہوں ۔آپ جو کام دیں گئے وہ تو میں ضرور کروں گا لیکن پڑھائی ہی میرے آنے کا اصل مقصد تھی۔
عمرآن فاروق : یہاں کی یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے بہت پیسہ چاہیے ۔ تم پیسہ کماو گئے یا پڑھائی کرو گئے؟
رفیق: مگر پیپرز کے مطابق تو آپ نے یونیورسٹی کو فسٹ سمسٹر کی فیس دی ہوئی ہے نا۔ میں کام کے ساتھ پڑھائی کر لوں گا۔
عمرآن فاروق: ہاں تو جب تم میرے لیے کام کرو گئے تو تمہاری تنخواہ سے لے لوں گا میں وہ پیسہ۔پڑھائی کرنے کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے۔اس کی اجاذت میں تمہیں نہیں دے سکتا۔
رفیق کو ان کا اس طرح صاف گو ہونا بُرا محسوس ہوا ۔ رفیق نے سوچا ماموں مجھے یہاں ایک نوکر بنا کر لائے ہیں ۔کیا وہ اپنی بیٹی ایک نوکر کو دینا چاہتے ہیں ۔کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ اسے ملازم بنا کر ہی اپنے پاس ہمیشہ کے لیے رکھنا چاہتے ہیں ۔اگر ایسا ہے تو وہ ایسا نہیں ہونے دے گا ۔ اسے اپنے پاوں کے نیچے سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
رفیق : ماموں ،میں تو پڑھائی کا خواب لے کر آیا ہوں ،وہ پورا کروں گا ،رہی بات آپ کے پیسے واپس کرنے کی تو وہ بھی کر دو ں گا لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ میں یونیورسٹی نہ جاوں ۔
عمرآن فاروق پہلے ہی غصے میں بھرے بیٹھے تھے ۔ان کے بچوں پر تو ان کی چلتی نہ تھی ۔انہوں نے اپنا غصہ رفیق پر نکالا ۔اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے ۔
عمرآن فاروق: مجھے تم سے اس لہجے کی امید نہ تھی ،ایک تو اتنا پیسہ لگ گیا میرا اور تم ۔ٹھیک ۔تم جہاں چاہو جاو اور جہاں رہنا چاہو رہو ۔میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں ۔میں سمجھو گا میری رقم کو آگ لگ گئی ۔سامان سمیٹ لو اپنا اور نکلو یہاں سے۔
رفیق کو ایسا لگا کہ اگر اس نے ان کی بات نہ مانی تو وہ خود اس کا سامان اُٹھا کر اسے سڑک پر پھینک دیں گئے۔اس نے اپنی چیزیں سمیٹی اور اپنے بیگ لے کر گھر سے باہر نکل گیا۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔ عمرآن فاروق نے اسے گھر سے اس طرح کیوں نکال دیا۔ واقعی انہوں نے رقم تو اس پر لگائی تھی۔وہ ان کی رقم واپس کرنے کے لیے بھی تیار تھا لیکن انہوں نے اس کی ایک نہ سنی۔ اب وہ اس پردیس میں کہاں پناہ لے گا۔کوئی بھی تو نہ تھا ۔آسمان کو اس نے بے بسی سے دیکھا ،جس نے بنا سوچے برفباری شروع کردی تھی ۔ اس نے سوچا کیا وہ اپنی ماں کو فون کر کے ماموں کے رویے کی خبر دے اور واپس لوٹ جائے ۔ اس کے دل نے انکار کر دیا ۔ اس نے سوچا وہ یونیورسٹی جائے گا ۔کوئی نہ کوئی کام بھی ڈھونڈے گا ۔اس نے اپنی جیب میں موجود پیسوں کو گننا شروع کیا۔ رہنے کے لیے جگہ ڈھونڈنا سب سے مشکل تھا ۔ اس نے ہوٹل کا رخ کیا۔اس نے دی کولیکشن ہوٹل برمینگم میں کمرہ بک کیا جو پچاس پونڈ پر ڈے کے حساب سے تھے ۔ اتنی سردی میں اس کے لیے باہر رہنا مشکل ہو رہا تھا ۔کمرے میں داخل ہونے کے بعد وہ سوچنے لگا ،اس نے ماموں سے معافی کیوں نہیں مانگی ،شاہد وہ معاف کر دیتے ،شاہد وہ اسے پڑھائی کرنے کی اجاذت دے دیتے۔ اس نے پھر اپنے پاس موجود رقم کو جمع کر کے دیکھا۔ اس نے انکھیں بند کیں اور سوچنے لگا ۔وہ یونیورسٹی میں ہے اور پروفیسر کا لیکچر سن رہا ہے جو کہہ رہے ہیں ۔اگر آپ نے ایم پی اے کر لیا تو اس کورس کی بدولت آپ میں پالیسی میکر بننے کی صلاحیت پیدا ہوجائے گی ۔ کب اس کی انکھ لگ گئی ۔اسے خبر بھی نہ ہوئی ۔ اس نے اُٹھنے کے بعد نوکری ڈھونڈنے کا سوچا۔ جو اچھی بات اس کے ساتھ ہوئی ، وہ عامر سے ملاقات تھی ، وہ اس ہوٹل میں ویٹر کا کام کرتا تھا ۔کونٹر پر آتے ہوئے ،رفیق کی اس سے ٹکر ہوئی تو اس نے فوری طور پر معافی مانگی ۔
رفیق: نہیں کوئی بات نہیں ۔ میری غلطی تھی۔
عامر: کہاں سے ہیں آپ؟انڈیا ،پاکستان؟
رفیق: جی ،پاکستان سے رفیق نام ہے میرا ،آپ کا نام کیا ہے؟
عامر: او ،میں لاہور کا ہوں۔عامر نام ہے میرا ۔
رفیق: یہ تو بہت اچھا ہے ۔ آپ تو پھر اپنے ہوئے۔
عامر : میری شفٹ ختم ہو رہی ہے ۔ پھر ملتے ہیں ۔ یہ کہہ کر وہ کھانے کی ٹرالی کو ایک کمرے کی طرف لے کر بڑھ کیا۔رفیق حسرت سے اسے دیکھتا رہا۔رفیق نے کاونٹر پر جا کر پوچھا ۔ یہاں پر کوئی کام مل سکتا ہے۔ ریسپشن پر بیٹھی انگلش عورت نے اُسے سر سے پاوں تک دیکھا۔نہیں میں سر ہلا کر اپنے کمپیوٹر پر کام کرنے لگی۔
رفیق: ہوٹل کے بڑے حال میں موجود کرسیوں کی طرف گیا اور مایوسی سے بیٹھ گیا۔ دل ہی دل میں وہ دُعا کرنے لگا ،اے اللہ کوئی سبب بنا دے ۔میرا کیا ہو گا۔میرے رب تو تو ہر جگہ ہر حال میں انسان کی سنتا ہے ۔میری مدد کر۔
وہ اپنی دُعا میں انکھیں بند کیے مگن تھا کہ کسی نے آ کر کرسی کو گھسیٹا ۔ اس نے آنکھ کھولی تو عامر تھا۔
عامر: اسلام علیکم
رفیق: مسکراہٹ کے ساتھ واعلیکم اسلام۔
عامر: یہا ں کس سلسلے میں آئے ہیں۔ آپ؟
رفیق: آیا تو پڑھنے کے لیے تھا ۔ لیکن اب کچھ سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں ۔
عامر: کیا مطلب؟
رفیق : جس کے سہارے پر آیا تھا ،اس انسان نے لاتعلقی اختیار کر لی ہے ۔ سمجھ نہیں آرہا کہ یہاں رہ سکوں گا یا نہیں۔کوئی کام مل جائے تو، میرا یہاں کوئی جان پہچان کا بھی نہیں ہے ۔
عامر : مسکراتے ہوئے۔ یعنی سر منڈھاتے ہی اولے پڑے۔
عامر ذور ذور سے ہنسنے لگا۔
عامر : میں آپ کو تم کہہ سکتا ہوں ۔
رفیق: کیوں نہیں ۔
عامر: کیا کیا کام کر لیتے ہو؟
رفیق: گاڑی چلا لیتا ہوں ۔ الیکٹریشن ہوں ،ہر کام جو بھی ملے ابھی تو کر لوں گا۔
عامر : ہم چار لوگ مل کر ایک کمرے میں ہی رہتے ہیں ایک دوکان کا پچھلا حصہ ہے ۔ ہمیں پیسے کم دینے پڑتے ہیں ،مالک کو رینٹ اچھا مل جاتا ہے ۔ تین انڈین ہیں۔ میں اکیلا پاکستانی ہوں۔ ہم لوگ آپس میں مل بانٹ کر کام کرتے ہیں ۔اگر تم ہمارے لیے کھانا پکانے اور کپڑے دھونے کا کام کرو تو فری ہمارے ساتھ رہ سکتے ہو ۔ پہلے بھی ایک انڈین لڑکے کو ہم نے اسی شرط پر پناہ دی تھی۔
رفیق : ہاں ٹھیک ہے۔ مگر مجھے کھانا پکانا نہیں آتا ،مگر میں سیکھ لوں گا۔
عامر : یہاں کمرہ کتنے دن کے لیے لیا ہے ؟
رفیق: تین دن کے لیے۔
عامر: کینسل کروا دو میں ابھی ، گھر ہی جا رہا ہوں ،ساتھ چلو۔
رفیق کو ایسے لگا ،رب نے کوئی فرشتہ بھیج کر اس کی مدد کی ہے ۔اس نے تشکر کے انداز میں عامر کو دیکھا ،
رفیق :میں ابھی سامان لے کر آتا ہوں ۔آپ کہیں جانا نہیں ۔
عامر : تم فکر نہ کرو ۔آ جاو، میں یہاں پر ہی ہوں۔
عامر کے پاس کچھ دیر بعد رفیق پہنچ گیا۔ وہ اسے اپنے ساتھ ، اس جگہ لے گیا، جہاں وہ رہتا تھا ۔ کمرہ کافی بڑھا تھا ۔ کمرے میں گدئے بچھے تھے ۔ ایک کونے میں ،اشارہ کرتے ہوئے۔عامر نے بتایا یہ واش روم ہے۔ اِسے بھی تم ہی صاف کرو گئے۔
ایک سائیڈ پر ایک کاوچ پڑھا تھا۔ عامر یہ ہمارا الیکٹریک چولہا ہے ۔ ہم اسی پر کھانا بناتے ہیں ۔ میں تمہیں سیکھا دوں گا کھانا بنانا۔یہ فریج ہے ۔ ہم سب کی ہے ،اب تمہاری بھی۔
رفیق: یہاں پر تو کوئی نہیں ہے ۔
عامر: دن میں عموماً کوئی نہیں ہوتا۔ جس کو آنا ہو وہ آ سکتا ہے۔ صبح اور رات کو سب ہی ہوتے ہیں ۔ سنیل ،سوباش اور گلکندر۔ان میں دو ہندو اور ایک سکھ ہے ۔میں ایک مسلمان ہوں ۔اب ہم دو ہو جائیں گئے۔
رفیق کو سوچتا ہوا دیکھ کر اس نے کہا ،یار یہ پاکستان نہیں ہے ۔ ہم لوگ ایک دوسرے کو مذہبی یا جغرافیائی نقطہ نظر سے نہیں دیکھتے ہیں ۔ ہمارا مقصد ایک ہے اور وہ ہے پیسہ ۔ ذیادہ سے ذیادہ پیسہ بنانا اور اپنے گھر والوں کو بھیجنا۔ تم بھی ذرا اپنی سوچ کو وسعت دو گئے ،تو تمہارے لیے یہاں رہنا آسان ہو جائے گا۔
رفیق : ان لوگوں کو مجھ سے کوئی مسلہ تو نہیں ہو گا۔
عامر: کیسا مسلہ؟دوست ہیں میرے ۔میں نے بتایا نا ۔تم سے پہلے بھی ہم نے ایک لڑکے کو پناہ دی تھی ۔ اس کے پاس بھی کچھ نہیں تھا ۔نہ پیسہ اور نہ پاسپورٹ۔ کچھ دن بعد وہ غائب ہی ہو گیا۔ شاہد پولیس نے پکڑ کر ڈیبوٹ کر دیا ہو۔ پتہ نہیں خیر۔
رفیق:وہ میرے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھا لیں گئے ۔
عامر: میں نے کہانا ۔ ہم چیزوں کو مذہبی ،جغرافیائی نقطہ نظر سے نہیں دیکھتے۔کھانا بس کھانے لائق ہونا چاہیے ۔ وہ بھکوان کا نام لے کر اور میں اللہ کا نام لے کر کھا لیتا ہوں ۔ ہاں ان میں سے دو ویجی ہیں ماس مچھلی نہیں کھاتے ۔ہمیں کھانا ہو مجھے اور گلکندر کو تو ہم الگ پکا لیتے ہیں اورکھا لیتے ہیں ۔مجھے ایک سال ہو گیا ہے یہاں ۔ گلکندرکی طرح ایک گوری ڈھونڈ رہا ہوں ۔شادی ہو جائے تو سارے مسلہ حل۔چلو آج دال چاول پکاتے ہیں۔دیکھو۔ کھانا اور رہنا تمہیں کہیں اور مفت نہیں ملے گا ۔ سب کو خوش رکھو گئے تو تمہارے لیے اچھا ہو گا۔اپنا کام ختم کر کے تم باقی کا وقت کام ڈھونڈنے جا سکتے ہو۔ جب کرایہ دینے لائق ہو جاو تو پھر باری سے کام کرنا شروع کر دینا ۔ ویسے بھی اس کمرے میں جگہ کافی ہے ۔اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر شیزاد: غزل آ پ تیار ہو جائیں ۔آج ہم کہیں جا رہے ہیں۔
خوشی نے سوالیہ نظروں کے ساتھ ڈاکٹر شیزاد کی طرف دیکھا ۔ ڈاکٹر شیزاد اُسے کہاں لے کر جانا چاہ رہے تھے۔اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔
ڈاکٹر شہربانو: یہ بیٹی ہے آپ کی؟
ڈاکٹر شیزاد: جی یہ غزل ہے ۔جیسے آپ نے پڑھانا ہے ۔ یہ بولتی نہیں ہے ۔
ڈاکٹر شہربانو : آپ یہاں چھوڑ جائیں ۔ اِسے۔
غزل کی طرف دیکھ کر انہوں نے بڑے پیار سے کہا۔
وہ خوشی کو وہاں چھوڑ کر چلے گئے۔ ڈاکٹر شہر بانونے خوشی کا ہاتھ پکڑا ۔
ڈاکٹر شہر بانو: تم کس قدرخوبصورت ہو ۔ اگر دو پر ہوتے تو پری لگتی ۔ نیلی نیلی آنکھیں ،تمہارے خاندان میں کس کی ہیں ؟نیلی نیلی آنکھیں۔
خوشی نے ایک نظر ڈاکٹر شہر بانو کی طرف دیکھا۔
ڈاکٹر شہر بانو : تمہارے ڈیڈی چاہ رہے ہیں کہ تم پڑھو لکھو ۔ تم پڑھنا لکھنا چاہتی ہو۔
ڈاکٹر شہر بانوکے فون کی گھنٹی بجی۔ انہوں نے کہا۔اچھا اور فون بند کر دیا۔
ڈاکٹر شہر بانو: چلو چلیں غزل۔
خوشی نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
ڈاکٹر شہر بانو:یونہی سیر کے لیے۔تم کہاں جانا چاہو گی ۔آج ہی ہم پڑھائی نہیں کریں گئے۔سمندر پر چلتے ہیں ۔
ڈاکٹر شہر بانو کو ڈاکٹر شیزاد نے بتایا تھا کہ انہوں نے اس کے منہ سے جی کا لفظ سمندر پرسنا ہے ۔
ڈاکٹر شہربانو نے اپنی گاڑی نکالی ۔انہوں نے اپنے گاگل انکھوں پر لگا لیے۔ اور سمندر کی طرف گاڑی چلتی جا رہی تھی۔
خوشی سوچ رہی تھی یہ مجھے سمندر پر کیوں لے کر جا رہی ہیں ۔اچانک ڈاکٹر شہر بانو نے اس کی طرف دیکھا۔
ڈاکٹر شہر بانو: غزل تم مجھے میم کہہ سکتی ہو ۔ تم جانتی ہو ۔میری بہت خواہش تھی کہ میری کوئی بیٹی ہو مگر انسان کی ہر خواہش کہاں پوری ہوتی ہے ۔ میں پھر بھی خوش ہوں ۔اللہ جو کرتا ہے اچھے کے لیے ہی کرتا ہے۔ تم بھی کیا ایسا ہی سوچتی ہو۔
خوشی نےدل ہی دل میں ان سے کہا نہیں میں ایسا نہیں سوچتی،اللہ جو کرتا ہے اچھے کے لیے نہیں کرتا۔
ڈاکٹر شیزاد: کیا کہا تم نے ۔ایسا نہیں ہے کیوں؟اللہ سے کیا ناراضگی ہو گی بچہ۔
خوشی نےحیرت سے ڈاکٹر شہر بانو کی طرف دیکھا۔انہوں نے کیسے جان لیا کہ اس نے کیا کہا ہے۔ان کا لفظ بچہ اس کے دل پر لگا ۔ صبا اسے کبھی کبھی بچہ ہی کہتی تھی۔
ڈاکٹر شہربانو: تم سوچ رہی ہو گی کہ میں نے کیسے جانا تم کیا سوچ رہی ہو۔ کبھی کبھی میں جان جاتی ہوں کہ دوسروں کے دل میں کیا چل رہا ہے ۔ تم بولتی نہیں ہو نا ۔اسی لیے ڈاکٹر شیزاد تمہیں میرے پاس لے کر آئے ہیں ۔میں دل میں ہونے والی بات کو جان جاتی ہوں، تمہیں بس سوچنے کی ضرورت ہو گی ۔میں جان جاوں گی کہ تم کیا کہنا چاہ رہی ہو ۔
خوشی نے رونا شروع کر دیا۔ڈاکٹر شہر بانو نے اسے ٹشو دیا ۔پھر سمندر آ گیا۔
ڈاکٹر شہر بانو: غزل بیٹا نیچے اُترو۔رونا ہے تو اور رو سکتی ہو۔ میں بھی جب کسی بات کو لے کر پریشان ہوتی ہوں تو بہت روتی ہوں ۔ رونے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے ۔ تکلیف کم ہو جاتی ہے۔لیکن بہت دفعہ میرے ساتھ ایسا ہوا کہ بہت رونے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ میں جس بات کے لیے رو رہی تھی، وہ تو رونے والی تھی ہی نہیں ۔ کبھی کبھی ہم بغیر وجہ کے خود کو اذیت دیتے ہیں جبکہ دنیا میں سب سے اہم ہستی ہماری ذات ہی ہوتی ہے جوموت تک ہمارے ساتھ رہی ہے ،ہر خوشی، ہر غم میں ہم ہی تو اپنے آپ سنگ ہوتے ہیں ۔تمہارا کیا خیال ہے۔
خوشی نے سوچا جو درد میں محسوس کر رہی ہوں ،جس بے جینی کامجھے سامنا ہے وہ تو یہ ٹیچر سوچ ہی نہیں سکتی ۔
ڈاکٹر شہر بانو : کیا کہا مجھے تمہارے غم کا اندازہ نہیں اسی لیے میں ایسا کہہ رہی ہوں۔انہوں نے سمندر سے دور فاصلہ پر بنی ہوئی سیڑھیوں پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ہاں ہر کسی کو غم بھی اسی کے حساب سے ملتے ہیں ،تم میرا غم اور میں تمہارا غم کبھی اس طرح سے محسوس نہیں کر سکتے ،جیسے اپنا غم محسوس کرتے ہیں۔ چاہئے غم ایک نوعیت کا ہو تو بھی ۔ دو مختلف انسان ،ایک سا محسوس کر ہی کیسے سکتے ہیں ؟
خوشی کو یقین آ گیا کہ وہ دل کی بات سن لیتی ہیں اس نے ان پر پریشانی سے نگاہ ڈالی۔
ڈاکٹر شہر بانو:دوسروں سے اپنی باتیں کرنا میراشوق ہے ۔ اس لیے تم بھی سنو ۔جب میں تمہاری عمر کی تھی تو میری شادی ہو گئی ۔ بابو جی ،میرے والد میں انہیں بابو کہتی ہوں انہوں نےمجھے تعلیم سے آٹھویں کلاس میں ہی ہٹا لیا تھا ۔ ہمارے ہاں لڑکیوں کو ماہواری آ جائے تو ان کے لیے رشتہ دیکھنے لگتے ہیں ۔ سندھ کے ایک دہی علاقے کی ہوں میں ۔ میرے میاں صدیق صاحب مجھ سے عمر میں کافی بڑے تھے ۔مجھے اس وقت اللہ سے بہت شکایت ہوئی ، میں اللہ سے لڑنے لگی۔ کیا تھا کہ وہ مجھے لڑکی نہ بناتا ۔ ماہواری نہ آتی ۔شادی نہ ہوتی ۔مجھے میری ماں سے دور کر دیا ۔
کبھی کبھی چیزیں ہماری سمجھ سے باہر ہوتی ہیں ۔ وہ بہتر جانتا ہے ۔کیا، کب ،کہاں اور کیسے کرنا ہے۔ صدیق صاحب پڑ ھے لکھے تھے ۔ وہ مجھے یہاں لے آئے۔ کراچی میں ،میں ان کے ساتھ بچی بچی سی لگتی تھی۔سمجھومیں سولہ کی اور وہ تیس کے ، شادی کے بعد سب کی خواہش تھی کہ میں جلد ماں بن جاوں مگر میرے شوہر نہیں چاہتے تھے۔ وہ چاہتےتھے کہ میں پڑھو لکھوں ۔کچھ بن جاوں ۔ انہوں نے مجھے پڑھایا لکھایا ۔شادی کے بہت عرصے بعد بھی جب میری اولاد نہ ہوئی تو سب نے میرے شوہر کو مشورہ دیا کہ وہ دوسری شادی کر لیں ۔ ڈاکٹر شہر بانو خاموش ہوگئی ۔
انہوں نے خاموش ہو کر جائزہ لیا کہ غزل کس حد تک ان کی باتوں کو غور سے سن رہی ہے۔ انہوں نے غزل کی طرف دیکھا اور پھر مسکر ا کر کہا۔
ڈاکٹر شہر بانو : تم جانتی ہو یہ سب میں تمہیں کیوں بتا رہی ہوں ۔ کیوں کہ تم مجھے بہت اچھی لگی ہو۔ پتہ نہیں میں بھی تمہیں اچھی لگی ہوں یا نہیں ۔
وہ کچھ دیر پھر خاموش رہی۔
خوشی کے دل میں آیا۔ ٹیچرکے شوہر نے شادی کی ہو گی یا نہیں
ڈاکٹر شہر بانو نے اس کی نظر اپنے چہرے پرفکر سے گھومتے ہوئے پائی۔
ڈاکٹرشہر بانو: تم یہ ہی سوچ رہی ہو نا کہ صدیق صاحب نے شادی کی یا نہیں ۔تو جواب ہے۔ نہیں ۔
خوشی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔ جیسے اسے خوشی محسوس ہوئی ہو۔
ڈاکٹر شہر بانو : اس کا مطلب ہے کہ تم نے مجھے اپنا دوست مان لیا ہے ۔اسی لیے تو تم نے خوشی محسوس کی میرے میاں کے شادی نہ کرنے پر ،یہی بات ہے نا۔
خوشی کے چہرے پر مسکراہٹ پھر سے پھیل گئی ۔ اس نے اِتنےدنوں میں پہلی بار کسی کی باتوں میں اس قدر دلچسپی محسوس کی تھی۔
ڈاکٹر شہر بانو: اب گھر چلتے ہیں ۔صرف دو گھنٹے ہی تھے ۔ پھر اب پرسوں ملتے ہیں ۔
خوشی نے سوچا پرسوں کیوں ،کل کیوں نہیں ؟سکول تو روز جاتے ہیں ؟
ڈاکٹر شہر بانو نے خوشی کے چہرے کی طرف گاڑی چلاتے ہوئے یک نظر دیکھا ۔ مجھے امید ہے کہ تمہیں مجھ سے مل کر خوشی ہوئی ہو گی ۔ جیسے مجھے محسوس ہر رہی ہے۔ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو میری تمہاری عمرکی بیٹی ہوتی ۔ انسان کے ہاتھ میں صرف کوشش ہوتی ہے ۔باقی سب کچھ اسی کے ہاتھ میں ہے ،وہ جس کو چاہے جو دے ۔ کچھ لوگ بہت امیر ہوتے ہیں لیکن خوبصورت نہیں ہوتے۔جس طرح تم خوبصورت ہو ۔کوئی نہ کوئی کمی رہ ہی جاتی ہے ۔غزل بیٹا
گاڑی میں کچھ دیر مکمل خاموشی تھی ۔پھر ڈاکٹر شہر بانو نے ایک سی ڈی چلا دی۔ ہلکی ہلکی آواز میں گانا بجنے لگا۔
یہ مت کہو خدا سے میری مشکلیں بڑی ہیں ۔
یہ مشکلوں سے کہہ دو میرا خدا بڑا ہے۔
آتی ہیں آھندیاں تو کر ان کا خیر مقدم ۔
طوفان سے ہی تو لڑنے تجھے رب نے جڑھا ہے۔
یہ مت کہو خدا سے میری مشکلیں بڑی ہیں ۔
خوشی گانے کے میوزک میں ہی کھوئی ہوئی تھی کہ ڈاکٹر شہر بانو کا گھر آ گیا ۔اسے گاڑی کے رکنے پر مایوسی محسوس ہوئی ۔ وہ سوچنے لگی کاش کہ زندگی بھر یہ سفر یوں ہی جاری رہتا ۔
ڈاکٹر شیزاد : میں تو آپ کا ایس ایم ایس ملتے ہی آ گیا تھا۔ غزل کیسی ہو بیٹا ۔
خوشی نے بددستور اپنی خاموشی قائم رکھی۔
ڈاکٹر شیزاد : تو پھر ہمیں اجاذت دیں ۔
ڈاکٹرشہر بانو: میں غزل کو اپنے ساتھ رکھ لوں آج ۔
ڈاکٹر شیزاد: غزل رکو گی کیا۔
خوشی نے ڈاکٹر شہر بانو کو دیکھا اور پھر ڈاکٹر شیزاد کو ۔اس کادل کہہ رہا تھا کہ وہ رکنا چاہتی ہے۔ مگر وہ خاموش رہی۔
ڈاکٹر شیزاد : میرا نہیں خیال کہ غزل رکنا چاہ رہی ہے ۔ اب ہم چلتے ہیں ۔
خوشی فوراً صوفہ پر بیٹھ گئی۔
ڈاکٹر شیزاد: تم یہاں رُکنا چاہ رہی ہو غزل۔
خوشی نے ہاں میں گردن ہلائی ،تو ڈاکٹر شہر بانو مسکرانے لگیں ۔
ڈاکٹرشیزاد: آج نہیں بیٹا ،پھر کبھی رُک جانا۔کل شایان کی سالگرہ بھی ہے نا۔ تو بہت اچھی پاڑی ہو گی ۔ آپ یہاں رہ جاو گی تو مجھے آپ کو لینے آنا پڑھے گا۔
ڈاکٹر شیزاد: چلیں ہم پھر آئیں گئے۔
ڈاکٹر شیزاد کو بہت خوشی محسوس ہو رہی تھی ،جبکہ خوشی کو سخت مایوسی ، شایان کی سالگرہ سے میرا کیا واسطہ وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی۔ اس کے دل و دماغ میں ڈاکٹر شہربانو کی باتیں گونج رہی تھیں ۔ اس نے سوچا جس طرح ٹیچر کہہ رہی تھیں ،سب کچھ اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے ۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ میں نو ماہ بعد ماں نہ بنوں۔ ڈاکٹر شیزاد مجھے بھی سکول داخل کروا دیں ۔ میں بھی سکول جانے لگوں ۔ پھر ٹیچر بن جاوں ۔ جیسے یہ ٹیچر ہیں جو گاڑی چلاتی ہیں ،چشمہ لگا کر اسی طرح میں بھی چشمہ لگا کر کبھی گاڑی چلاوں۔کیا یہ ممکن ہے؟
پہلی دفعہ اس کی سوچوں کا دھارا ایک نیا رُخ اختیار کر چکا تھا۔ڈاکٹر شیزاد نے اس کی طرف ایک نظر دیکھا۔انہیں امید ہوئی کہ شاہد اب غزل کچھ عرصہ میں زندگی کی طرف لوٹ آئے گی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 185026 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
14 May, 2017 Views: 1470

Comments

آپ کی رائے
awaiting next episodes-----
By: uzma ahmad, Lahore on May, 18 2017
Reply Reply
0 Like