مشکل راستے قسط نمبر48

(farah ejaz, Karachi)

میں اس عورت کو حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اس کی چال عجیب سی تھی ۔۔۔ جیسے پیر گھسیٹ کر چل رہی ہو ۔۔۔ اور سر غیر معمولی آگے کو جھکا ہوا تھا ۔۔۔ سفید میکسی سی پہنی ہوئی تھی ۔۔۔۔ جس پر دھبے پڑے ہوئے تھے ۔۔۔ بال ایک دم سیدھے اور چہرے کو ڈھانکے ہوئے تھے ۔۔۔ اسے دیکھ کر میں اپنی جگہ جم سی گئی تھی ۔۔۔ وہ پرسرار عورت آہستہ آہستہ چلتی مجھ سے قریب ہوتے جارہی تھی ۔۔۔۔ اچانک وہ کسی چھلاوے کی طرح اچھلی تھی اور میرے بالکل قریب پہنچ گئی ۔۔۔ اور اپنا جھکا سر ایک دم اُٹھا کر مجھے دیکھا تھا ۔۔۔ اور میں اس کی صورت دیکھ کر چونکی تھی ۔۔۔۔ ککو نے جس پرسرار خبیث عورت کا حلیہ بیان کیا تھا ۔۔۔۔ میرے سامنے کھڑی عورت ہو بہو بلکل ویسے ہی تھی ۔۔۔ عجیب سی مکروعہ شکل تھی اس عورت کی ۔۔۔ اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو خوف سے بےبوش ہوجاتا ۔۔۔ یا پھر اس کی دل کی دھڑکن ہی بند ہوجاتی ۔۔۔ ہلکی سی سرد سی لہر نے میرے وجود کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا تھا لیکن اگلے ہی پل میں خود کو سنبھال چکی تھی ۔۔۔ اس کی میکسی پر تازہ خون کے چھینٹے سے پڑے ہوئے تھے ۔۔۔ اور منہ پر بھی خون لگا ہوا تھا ۔۔۔۔ جیسے ابھی کسی کا خون پی کر آرہی ہو ۔۔۔۔

کون ہو تم ؟ اور مجھے کیسے جانتی ہو ؟

میں نے سخت لہجے میں اس سے پوچھا تھا ۔۔۔ تو وہ ایک دم مسکرائی تھی ۔۔۔ اس کی مسکراہٹ اسے اور بھی خوفناک بنا رہی تھی ۔۔۔ عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ وہ مجھے دیکھے گئی ۔۔۔۔ مگر بولی کچھ نہیں ۔۔۔۔ اور اپنی ایک دم سفید اور بڑی بڑی خوفناک آنکھوں سے مجھے ایسے دیکھرہی تھی جیسے ابھی کچا چبا جائے گی ۔۔۔ تھوڑی دیر مجھے وہ ایسے ہی دیکھتی رہی ۔۔۔ پھر اچانک اس نے مجھ پر حملہ کردیا ۔۔۔ میں اس حملے کے لئے تیار تھی ۔۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے مجھ پر وار کیا تھا ۔۔۔ اس کی انگلیوں کے ناخن کسی تیز دھار آرے کی طرح تھے ۔۔۔ اگر میں بروقت تیزی سے ایک طرف نہ ہوتی تو یقیناً میرے چہرے کی کھال اُدھڑ چکی ہوتی ۔۔۔۔ اپنے وار کو خالی جاتا دیکھ کر وہ عجیب سے انداز میں غُرائی تھی اور دوسرے ہی پل وہ پھر مجھ پر حملہ آور ہوئی تھی ۔۔۔۔ اور لٹوُ کی طرح گھومتی ہوئی تیزی سے مجھ تک پہنچی تھی اور ابھی میں سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ مجھے اُٹھا کر روڈ پر پٹخ دیا ۔۔۔ لیکن دوسرے ہی لمحے میں ایک دم ہی اُٹھ کر کھڑی ہوگئی تھی ۔۔۔ اس کے اتنے زور سے پٹخنے کی وجہ سے میرے بازو اور کمر میں چوٹ آئی تھی اور بازو سے خون رسنے لگا تھا غالباً اس کے آرے جیسے ناخن میرے بازو میں چب گئے تھے ۔۔۔ اچانک ہی وہ پھر دوبارہ سے مجھ پر حملہ آور ہوئی مگر اس دفعہ جب وہ میرے قریب پہنچی تو میں نے اس کے منہ پر زور دار طمانچہ ماردیا ۔۔۔۔ وہ ایک چانٹا کھا کر کئی فٹ دور جا گری ۔۔۔ ابھی وہ اُٹھنے بھی نہ پائی تھی کہ میں اس کے سر پر پہنچ گئی اور اسے پاؤں سے زور دار ٹھوکر ماری تھی ۔۔۔ میری ٹھوکر سے وہ کئی فٹ اوپر اچھل کر گری تھی ۔۔اب وہ زور زور سے ڈکرانے والے انداز میں چیخ رہی تھی ۔۔۔۔ اس کے چیخنے کی آواز پر اللہ نا جانے کدھر سے دس یا بارہ کالے کتے تاریکی میں سے نکل کر ہمارے چاروں طرف گھیرا ڈال کر کھڑے ہوگئے ۔۔۔وہ جسامت میں عام کتوں سے زیادہ بڑے تھے ۔۔۔۔

تو اب بچ کر کہیں نہیں جاسکتی ۔۔۔۔۔

ان کتوں کو دیکھ کر وہ عورت کھرکھراتی آواز میں مجھ سے بولی تھی ۔۔۔۔

اچانک ہی وہ سب ایک ساتھ مجھ پر حملہ آور ہوئے ہی تھے کہ ایک بچے کی آواز نے مجھ سمیت سب کو چونکا دیا ۔۔۔

ارے یہ کیا کر لے رئیں بھئی ۔۔۔۔ ایک کے مقابلے میں اتے سارے لوگاں ۔۔۔۔ چلو بھر پانی میں جاکو ڈبکیاں لگاؤ آپ لوگاں ۔۔۔

وہ ایک ننا سا بچہ تھا جس کے ساتھ ایک عورت بھی کھڑی تھی ۔۔۔۔ اور بڑے ہی غصے سے اس عورت اور کتوں کو گھور رہی تھی ۔۔۔۔ پھر اچانک ہی وہ اچھلی تھی اپنی جگہ سے اس کے ہاتھ میں ایک عصا سا تھا جس کے دونوں سِروں پر کوئی تکونی خنجر جیسا تیز دھار سلور بڑا سا آلہ لگا تھا ۔۔۔۔ وہ انکے سروں پر سے ہوتے ہوئے گھیرے کے اندر کودی تھی ۔۔۔۔ میں اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ایک لمبی سروقد عورت تھی ۔۔۔جس کے نقوش میری ماں سے کافی مل رہے تھے ۔۔۔۔۔

کک کون ہیں آپ ۔۔۔۔۔

یہ وقت سوال جواب کا نہیں ہے ۔۔۔۔ ان شیاطین سے نبٹ لو اس کے بعد مجھ سے یہ سوال پوچھنا۔۔۔۔

وہ بولیں تو میں خاموش ہوگئی ۔۔۔۔ اور ان خبیث کتوں اور عورت جسے وہ شیاطین کہہ رہی تھیں انہیں دیکھنے لگی ۔۔

×××××××××××××

میاں جی جب واپس مکہ سے کراچی لوٹے تو فجر کی آزان ہورہی تھی ۔۔۔ وہ سیدھا عائیشہ کے گھر پہنچے تھے ۔۔ تہجد کی نماز تو حرم میں ھی پڑھ چکے تھے ۔۔۔ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ سنئیہ اور عائیشہ کے کمرے میں داخل ہوئے۔۔۔۔ مگر ککو کو اکیلے نماز پڑھتا دیکھ کر وہ عائیشہ کے لئے تھوڑے سے فکرمند ہو گئے ۔۔۔ زیادہ تر وہ نماز اسی کمرے میں پڑھتی تھی ۔۔۔ اب اگر وہاں نہیں تھی تو اسے اپنے کمرے میں ہی ہونا چاہئیے تھا ۔۔۔ ایک سیکنڈ میں ہی وہ پورے گھر کو کھنگال چکے تھے مگر عائیشہ کہیں نہیں تھی ۔۔۔ اس گھر کی دیکھ بھال صرف انہی کے ذمہ فاطمہ بی بی نے کی تھی ۔۔۔ گھر میں روز سورہ بقراء پڑھی جاتی تھی جس کی بدولت شیاطین گھر میں داخل نہیں ہوسکتے تھے ۔۔ اس لئے بھی گھر میں کسی اور مسلم جن کی ضرورت نہیں تھی ۔۔۔ صرف وہی غائب حالت میں یہاں اس وقت سے رہ رہے تھے جب سے عائیشہ اس گھر میں زاکرہ اور دانیال کی بیٹی کی حثیت سے رہ رہی تھی ۔۔۔ وہ ایک لمحہ بھی زائع کئے بغیر گھر سے باہر اسے تلاش کرنے کے لئے نکل چکے تھے ۔۔۔آس پاس کی تقریباً ہر گلی محلہ حتہ کہ پورا کراچی اسے ڈھونڈ لیا ۔۔۔ مگر وہ کہیں نہ ملی ۔۔۔ اب وہ جمال ولا پہنچے تھے فاطمہ بی بی پاس ۔۔۔

اسلامُ علیکم فاطمہ بی بی ۔۔۔۔۔

وعلیکم اسلام ۔۔۔۔ آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں ۔۔۔ میاں جی ۔۔۔ سب خیریت ہے نا ۔۔۔

فاطمہ بی بی جمال ولا کے خوبصورت بیضوی شکل کے لان میں ٹہل رہی تھیں ۔۔۔ تب ہی وہ ایک کبوتر کی شکل میں ان کے پاس پہنچے تھے ۔۔۔۔

جی پریشانی کی بات تو ہے ۔۔۔ عائیشہ گھر پر نہیں ہے ۔۔۔

جی کیا مطلب ۔۔۔۔ گھر پر نہیں ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟

جی وہ کہیں چلے گئی ہیں بی بی ۔۔۔۔ مجھے وہ کہیں دکھائی نہیں دیں ۔۔۔ ان کی خاص دوستوں تک کے گھر تک دیکھ آیا ہوں مگر وہ کہیں نہیں ملیں ۔۔۔

وہ انکی بات سن کر سخت پریشان ہوگئی تھیں ۔۔۔۔

کہیں خدا نخواسطہ مما حور کی طرح وہ بھی کہیں کسی حادثے کا شکار تو نہیں ہوگئی ۔۔۔

یہ پہلا خیال تھا جو انہیں آیا تھا ۔۔۔۔ اور اس خیال نے انہیں مزید پریشان کر دیا تھا ۔۔۔۔

یا اللہ میری بچی کی حفاظت کرنا میرے مالک ۔۔۔

سر آسمان کی طرف بے ساختہ اُٹھا کر دعا کی تھی انہوں نے ۔۔۔۔

×××××××××××××××××××××

میں اس لمبی عورت کے کہنے پر اس خوفناک عورت اور کتوں کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔ جو اس کے اچانک وارد ہونے پر تھوڑے پریشان سے دکھائی دئے ۔۔۔۔

تو تُو ابھی تک زندہ ہے ۔۔۔۔ چل اچھا ہی ہوا ابھیمنیو کو تیرا سر بھی کاٹ کر پیش کردونگی ۔۔۔۔

لگتا ہے خواب تم شیاطین بھی کچھ زیادہ دیکھتے ہو ۔۔۔۔ آج کون کس کی موت کا سبب بنتا ہے یہ تو اللہ بہتر جانے ۔۔۔ تیری اوقات ہی کیا ہے ۔۔۔۔

میرے ساتھ کھڑی عورت نے اسے جواب دیا تھا ۔۔۔۔

ہا ہا ہا وہ عجیب انداز میں ہنسی تھی اور اپنے ساتھی کتوں کو اشارہ کیا تھا ۔۔۔ اس کے اشارہ کرتے ہی انہوں نے ایک ساتھ ہم پر حملہ کردیا ۔۔۔۔ ادھر وہ بھی تیار کھڑی تھی اور میں بھی ۔۔۔ ہم دونوں ہی ایک ساتھ اچھلی تھیں ۔۔۔ میرے ساتھ کھڑی وہ پرسرار عورت تیزی سے لٹو کی طرح فضاء میں گھوم گئی تھی ۔۔اور اس طرح گھومتی ہوئی ان پر حملہ کیا تھا اور اس تاریکی میں پانچ چھے خوفناک چیخیں گونجی تھیں ایک ساتھ ۔۔۔ ایک سڑاند سی بدبو پھیلی تھی اور پانچ چھے کتے کالے دھوئے میں تبدیل ہوکر اپنے انجام کو پہنچ گئے تھے ۔۔۔ ادھر میں کتوں پر حملہ کرنے کی بجائے اس خوفناک عورت پر حملہ کیا تھا ۔۔۔ اسے شاید مجھ سے یہ توقع نہیں تھی کہ میں اس پر حملہ کرونگی ۔۔۔ اسی لئے جب کتوں کے اوپر سے ہوتے ہوئے میں اس کے قریب کودی تو وہ ایک دم حیرت سے مجھے دیکھنے لگی ۔۔۔ پھر اپنی لال سرخ زبان ہونٹوں پر پھیر کر ہنسی تھی ۔۔۔۔ میں اس کی خوفناک شکل سے اب بلکل خائیف نہیں تھی بلکہ ککو کا زخمی وجود میری نگاہوں میں پھر گیا تھا ۔۔۔ اور میں اس بدبخت سے اپنی ککو کا بدلہ ہر حال میں لینا چاہتی ۔۔۔ اور انتقام کی آگ اندر بھڑک چکی تھی ۔۔۔ اس عورت کی بدولت ہی مجھے اپنے بابا جانی اور اماں بی کا گھر چھوڑنا پڑا تھا ۔۔۔ میں اسے کیسے بخشتی ۔۔۔ اچانک ہی مجھ سے پہلے ہی اس عورت نے مجھ پر حملہ کردیا تھا ۔۔۔ اپنے دونوں پنجے نما ہاتھوں سے میری گردن پکڑنے کی کوشش کی تھی مگر میں تیزی سے ایک طرف جھکائی دے گئی ۔۔۔ جس پر وہ تلملا کر مجھ پر جھپٹ پڑی ۔۔۔۔ لیکن جیسے ہی وہ میرے قریب پہنچی میں ایک دم بجلی کی سی تیزی سے اس کی گردن اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اچھل اس کے پیچھے جاکھڑی ہوئی ۔۔۔۔ اور ایک لمحہ بھی زائع کئے بغیر اس کو اس طرح اپنے بازؤں کے شکنجے میں جکڑ لیا کہ اب وہ مجھ پر پلٹ کر حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی ۔۔۔

اللہ اکبر ۔۔۔۔

ایک فلک شگاف نعرہ بلند کیا تھا میں نے ۔۔۔ اور ساتھ ہی اس کی گردن مروڑ ڈالی ۔۔۔۔ میرے نعرہ تکبیر بلند کرنے پر باقی بچے اس کے ساتھی اور اُس لمبی عورت نے بھی میری طرف چونک کر دیکھا تھا ۔۔۔ وہ خوفناک عورت کالے دھوئے میں تبدیل ہوکر جہنم واسل ہوگئی ادھر ان خاتون نے بھی تقریباً سب کتوں کا ہی سفایا کردیا تھا جو بچ گئے تھے اپنے ساتھیوں اور اس عورت کا انجام دیکھ کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے تھے ۔۔۔۔ اب صرف وہاں میرے علاوہ وہ پرسرار عورت اور اس کا ساتھی بچہ ہی رہ گئے تھے ۔۔۔۔

ارے خالہ اماں یہ تو آپ کی طرح ہی نکلئیں ۔۔۔ واہ بھئی واہ ۔۔۔۔ مزہ آگیا ۔۔۔۔۔۔

وہ بچہ خوشی سے تالیاں بجاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔ اور وہ عورت مجھے بڑے غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ پھر وہ چلتی ہوئی میرے قریب آکر رک گئی ۔۔۔۔ اور مجھے حیرت سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔ پھر ایک دم ہی چونکی تھی ۔۔۔۔۔

کک تم فاطمہ ہو نا ۔۔۔۔۔

میں اس کی زبان سے اپنی ماں کا ذکر سن کر چونکی تھی ۔۔۔۔

نن نہیں میرا نام عائیشہ ہے ۔۔۔ لیکن آپ کون ہیں ۔۔۔۔

حوریہ نام ہے ہمارا ۔۔۔۔۔

میرے الٹا پوچھنے پر وہ بولیں تو اب چونکنے کی باری میری تھی ۔۔۔۔ یہ نام میں ان بزرگ جن سے کئے دفع سن چکی تھی کہ فاطمہ بی بی کی والدہ یعنی میری ماں کی والدہ کا نام حوریہ تھا ۔۔۔۔

×××××××××××××××××××××××××××××

باقی آئندہ ×××××××××××××

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: farah ejaz

Read More Articles by farah ejaz: 146 Articles with 151464 views »
My name is Farah Ejaz. I love to read and write novels and articles. Basically, I am from Karachi, but I live in the United States. .. View More
14 May, 2017 Views: 1020

Comments

آپ کی رائے
bohoth bohoth shukriya mini ..... Jazak Allah Hu Khairan Kaseera ...
By: farah ejaz, Karachi on May, 15 2017
Reply Reply
0 Like
کہانی عمدگی سے آگے بڑھ رہی ہے،ایک سسپنس کے ساتھ کرداروں کا ظہور ہوتا ہے اور واقعات بھی ڈرامائی انداز میں سامنے آ رہے ہیں،لکھنے میں روز بروز نکھار آ رہے ہے پہلی قسط سے یہاں تک بہت کچھ بہتر نظر آیا ہے،امید کرتا ہوں یوں ہی آپ لکھنا جاری رکھیں گی۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on May, 15 2017
Reply Reply
0 Like
ap ka bohoth bohoth shukriya kahani per apni rai say agah kernay ka ... Jazak Allah Hu Khairan Kaseera ..
By: farah ejaz, Karachi on May, 15 2017
0 Like
Very nice sis ,,,,,keep it up
By: Mini, mandi bhauddin on May, 15 2017
Reply Reply
0 Like
please apni ara say zaroor agah kijiyai ga .... takay mazeed behtar likh sakoon ..... shukriya
By: farah ejaz, Karachi on May, 14 2017
Reply Reply
0 Like
مشکل راستے کے تمام کرداروں کا حقیقی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔ ہم نے اپنے تخیل کو لفظی پیراہن سے سجا کر آپ کے سامنے پیش کیا ہے ۔۔۔امید ہے کہانی آپ سب کو پسند آئے گی ۔۔۔اور اگر کہانی میں کوئی جھول دیکھیں تو ضرور آگاہ کریں ۔۔ شکریہ
By: farah ejaz, Karachi on May, 14 2017
Reply Reply
0 Like