ماں تجھے سلام!!

(Rehman Mehmood Khan, )
ماں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے، جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے

پیارے بچوں!آپ جانتے ہیں کہ اﷲ نے ہمیں دنیا کی سب سے بڑی نعمت ماں دی ہے۔ماں ایک ایسی ہستی ہے جواپنی اولاد کے لیے خود تکلیف سہتی ہے لیکن بچوں پر کوئی آنچ آنے نہیں دیتی ہے۔جو ہمارے لیے ہر حال میں بہتر سوچتی ہے۔ہمارے فائدے کی بات کہتی ہے۔حدیث نبویﷺہے،’’ما ں کے قدموں تلے جنت ہے‘‘۔اس طرح اہمیت اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔جب ہم چھوٹے تھے اور صحیح طرح سے اپنا آپ بھی بتا نہیں سکتے تھے،تو یہ ہماری امی ہی تھیں جو ہماری بات سمجھتے ہوئے پوری کرتی تھیں۔بچو!ہم سب کے بچپن میں ہم ایک ایسا وقت بھی آیا تھا جب ہم لیٹے لیٹے کروٹ بھی نہیں لے سکتے تھے تب ہماری امی ہمارے الجھن کو سمجھتے ہوئے ہمیں نہ صرف کروٹ دلاتیں بلکہ ہماری غذائی ضرورت بھی پورا کرتیں،ماں خود گیلے بستر پر سوتی ہے اور بچے کو خشک بستر پر سلاتی ہے۔ماں وہ ہے اگر بچہ تندرست نہ ہوتووہ پریشان رہتی ہے۔دوستو!اگر یہ نعمت کھو جائے تو خواہ دنیا کی ساری دولت خرچ کر ڈالیں یہ دوبارہ کسی کو بھی نصیب نہیں ہوتی۔یہاں تک کہ وہ عظیم ہستی ہے جس کے بغیر دنیا میں ہر چیزبے رونق ہے۔ماں اﷲ تعالی کی طرف سے ہمارے ایک عظیم نعمت ہے۔ جس کا کوئی نعم البدل (متبادل)نہیں ہے۔ ماں کے بغیر اس دنیا میں کچھ بھی نہیں ہے۔ ماں کائنات میں انسانیت کی سب سے قیمتی متاع اور عظیم سرمایہ ہے۔

دوستو! ہمارے مذہب اسلام میں بچوں کی پوری زندگی ماں کے تقدس، اس کی عظمت کے اظہار اور خدمت واطاعت کے لیے مخصوص ہے۔ اس کے لیے کسی دن کو مخصوص کرنا اس کی روح کے منافی ہے۔ اسلام میں ہر سال ، ہر مہینہ ، ہر دن اور ہر لمحہ ماں کی خدمت اور اطاعت کے لیے وقف ہے’’۔ہمارے پیارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ماؤں کے قدموں تلے جنت ہے‘‘،ماں دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے جس کی محبت کے سامنے ہرانسان کی محبت کم ترہے،ماں جیسی محبت،خلوص اور ایثارکوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ ماں اپنا وجود کاٹ کر، اپنے حصے کی خوشیاں چھوڑ کراپنے بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشوں اوربڑے بڑے ارادوں میں ان کی مددگار ہوتی ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جس کے سامنے صرف اورصرف اس کی اولاد کی بہتری اوراس کی خوشی ہوتی ہے۔ماں کی عظمت کااس سے بڑاثبوت کیا ہوگا کہ اﷲ کریم جب انسان سے محبت کادعویٰ کرتاہے تواس کے لیے محبت کی مثال ماں کوبناتاہے اور کہتاہے کہ ’’میں انسان کے ساتھ 70ماؤں سے زیادہ محبت کرتاہوں۔‘‘

پیارے بچو!!ماں سے محبت کے اظہارکے لیے کسی ایک دن کومخصوص نہیں کرنا چاہیے۔ سال میں ایک دن منالینے سے بات نہیں بنتی بلکہ اسلام میں تو ہر دن ہر لمحہ مدرز ڈے ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی مائیں حیات ہیں اور جن کی مائیں اس دنیا میں نہیں ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اﷲ سے اُن مغفرت کی دعائیں کریں۔دوستو۱ہمیں ہردن اور ہر رات اپنی ماں سے محبت، ادب اور لگاؤ میں گزارنا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ باپ کی بھی اتنی ہی قدر کرنی چاہیے کیونکہ یہی دونوں ہستیاں دنیا کی لازوال نعمتیں اور رحمتیں ہیں۔آپ نے اکثر سن رکھا ہے کہ جس کے ماں باپ زندہ ہوں،اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا،کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ماں باپ زندہ ہوتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کے لیے ہر لمحہ دعائیں کرتے ہیں ،زندگی کی کسی بھی منزل پراوران کی کامیابی کے لیے دعاگو رہتے ہیں،ان دعاؤں کے نتیجے میں بالآخر دنیا کی گرم ہوا ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔

دوستو!!ویسے تو ہمیں سارا سال اپنی امی سے الفت اور محبت میں گزارنا چاہیے اور تحفے تحائف دینے چاہیے لیکن اس دن خاص طور پراپنی امی کے لیے خاص اپنی پاکٹ منی سے یا پھر سب بہن بھائی مل کر کچھ رقم اکھٹی کرکے اپنی امی کی پسندکی کوئی چیز مثلاً جیولری،کپڑے،گلدستہ،سینڈل،میک اپ کٹ یا چاکلیٹ خریدیں اور انھیں وِش کریں،اب کوئی تحفہ خریدنے کے لیے آپ اپنے بہن بھائیوں میں سے کسی بڑے اور سمجھداربہن بھائی کا انتخاب کریں یا پھر اپنے ابو کے ساتھ بازار جا کر مدرز ڈے سے ایک دن پہلے تحفے تحائف خریدنے کا سلسلہ کریں اور اس دن کو خوشدلی سے منائیں اور عہد کریں کہ آئیندہ بھی اپنی امی کے ادب آداب میں کوئی کمی نہیں آنے دیں گے اور ان کی صحت کا بھی خیا ل رکھیں گے۔۔

دعا
اے اﷲ! ہم سب کے والدین کو صحت و تندرستی،لمبی عمراور لاکھوں خوشیاں نصیب فرما، ہمارے والدین کو ہماری طرف سے مسکراہٹیں اور خوشیاں عطا فرما اور ہمیں اپنے ماں باپ کا فرمانبردار بنا۔آمین۔
٭٭٭
ڈیک:

ماں وہ ہستی ہے جس کے سامنے صرف اورصرف اس کی اولاد کی بہتری اوراس کی خوشی ہوتی ہے
مدرز ڈے پر باالخصوص اپنی امی کوایسا تحفہ دیں کہ جس سے وہ ناصرف خوش ہوجائیں بلکہ حیران بھی ہوجائیں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rehman Mehmood Khan

Read More Articles by Rehman Mehmood Khan: 6 Articles with 4845 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 May, 2017 Views: 346

Comments

آپ کی رائے