واقفان حال

(Amjad Siddique, lahore)

سیاسی قیادت کا سب سے بڑا کمال اس کی استقامت ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو ثابت قدم رہااس لیڈر کی پوزیشن بدتدریج مضبوط ہوتی چلی گئی پھر ایک وقت آیاکہ ، وہ ناقابل تسخیر ہوتاچلاگیا۔ اس کے گراتنا د ہجوم اہستہ اہستہ اتنابڑھ گیاکہ ایک فصیل بن گئی ۔ایسی فصیل جسے توڑنا ناممکن بن گیا۔اس کام میں وقت تو لگا۔مگر اس کی ثابت قدمی اور استقلال نے اسے بالاخر منزل مقصود تک پہنچاگیا۔ اپنے پاؤں پرکھڑا یہ لیڈر دوسروں کے لیے مضبوط سہار بن جاتاہے۔اس میں پیدا ہونے والی بلا کی خود اعتمادی اسے بڑے بڑے ٹاسک مقرر کرنے پر اکساتی ہے۔پھر وقت کی کٹھالی سے گزرتے گزرتے اس کی برداشت بڑھتی ہے۔اور وسعت قلبی میں اضافہ ہوتا ہے۔بدقسمتی سے یہ محنت اور مشقت کا راستہ اخیار کرنے کی ہمارے ہاں عادت نہیں بلکہ بقول شیخ رشیددارو اندر چوہا جالندھر والاقلچر ہے۔خواہش ہے کہ راتوں رات بادشاہی مل جائے۔بے صبر ی او رشارٹ کٹ کا ایسا کلچر موجودہے۔جس میں لمبی چوڑی پلاننگ کو وقت کا ضیاع تصور کیا جارہا ہے۔اصول او راخلاقیات جو کسی دور میں سیاست کی سب سے بڑی حکمت او رسبق ہوا کرتے تھے۔اب انہیں اپنے راستے کی دیوار سمجھا جاتاہے۔تحریک انصا ف کی قیاد ت بھی سیدھے رستے پر چلتے چلتے جلد اکتاگئی۔شاید وہ جھجکتے جھجکتے نئے راستے پر آئی ہوگی۔مگر اب اسی شارٹ کٹ کے ٹیڑھے میڑھے رستے پر سرپٹ دوڑ رہی ہے۔۔چئیرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا۔کہ جے آئی ٹی کا نتیجہ جو بھی نکلے میری نظر میں نواز شریف سب سے بڑا چور ،ڈاکو،میر صادق ہیں۔جب تک جان ہے مقابلہ کروں گا۔اور ہرا کر دم لوں گا۔نواز شریف نے تما م اداروں پر قبضہ کرلیاہے۔اب کہا جارہا ہے کہ فوج پیچھے ہٹ گئی ۔فوج پیچھے نہ ہٹتی تو کیا مارشل لا لگادیتی۔نیوز لیکس میں فوج کوکمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔نیوز لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے۔

نوازشریف کے خلاف کچھ لوگوں نے ایک محاز بنا رکھاہے۔وہ تیسری بار وزیر اعظم بنے ہیں۔مگر ان کا تیسری بار وزیراعظم بننا ایک داستان سے کم نہ ہوگا۔ایسی داستان جو جمہوریت اور آمریت کے درمیان گھمسان کی جنگ کے تناظر میں بیان کی جاتی رہے گی۔غیر جمہوری قوتیں اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے بھولی بھالی عوام کے ساتھ ٹھگ بازی کرتی رہتی ہیں۔ کبھی مذہب کے نام پر اور کبھی تبدیلی کے نام پر بھولے بھالے لوگوں سے دھوکہ کیا گیا۔اس طرح کے ڈراموں کے بعدجب نقاب اتر ا تو شرافت اور پاکبازی کی اصلیت سامنے آئی۔چمکدار چہروں کے پیچھے اس قدر غلاظت او رکراہت نکلی کہ قوم نے توبہ توبہ کی۔۔نواز شریف کو تیسری بار وزیر اعظم بننے سے روکنے کے لیے بھی یہ قوتیں مسلسل منصوبہ باندی میں مصرف ہیں۔سیاست نہیں ریاست بچاؤسکیم اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔جب بادشاہ گروں نے محسوس کیا کہ الیکشن قریب ہے۔او ران کا بچہ جمہورہ گروپ ا ن کے مخالف کا راستہ روکنے کی سکت نہیں رکھتاتو انہوں نے علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی پروفیسری کا سہارہ لیا۔ٹاسک یہ ملا کہ کچھ عرصہ کے لیے الیکشن کو ملتوی کروایا جائے ۔تاکہ اس عرصے کے دوران اپنے بچہ جمہورہ کومذید فیڈنگ دی جاسکے۔پروفیسر صاحب اپنی تما م تر پروفیسری کے ساتھ وطن لوٹ آئے ۔سب سے پہلے تو انہوں نے قران کو بیچ میں لا کر ہجوم کو بتایاکہ وہ کسی کے کہنے پر نہیں آئے کسی کا ایجنڈہ لے کر نہیں آئے۔وہ تو صرف قوم اور ریاست کے بھلے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ آپ نے الیکشنز کو خرابی قراردے دیا۔کہا کہ اگر یہ الیکشن ہوگئے تو قوم کا نقصان ہوگا۔برے لوگ جیت کر ملک کا ستیاناس کردیں گے۔یہ مطالبہ کیا کہ جب تک نظام میں اصلاحات نہ کردی جائیں۔الیکشنز ملتوی کردیے جائیں۔علامہ صاحب نے دی گئی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے دن رات ایک کردیا اپنی تما م تر مہارتیں استعمال کرڈالیں ۔مگر ان کا نسخہ نہ چل سکا ۔الیکشن ملتوی نہ ہوسکے ۔آ پ بہتیرا چیختے چلاتے رہے ۔مگر قوم نے کان نہ دھرا اور نواز شریف کو تیسری بار وزیر اعظم بنا کردم لیا۔قادری صاحب اپنے تئیں فرض ادا کرکے ایک با رپھر کینڈا سدھارگئے۔ ان کے میزبانوں کا یہ اندازہ درست ثابت ہوا کہ ا ن کاپٹھا ابھی نواز شریف کے جوڑ کا نہیں ہوپایا۔

تحریک انصاف کی قیادت اب لوگوں کو باہر نکلنے کی کال دے رہی ہے۔کہاجارہاہے کہ اب نہ نکلے تومعاملات کبھی حل نہ ہونگے۔پتہ نہیں خاں صاحب لوگوں کے کس طرح سے باہر نکلنے کی بات کررہے ہیں۔پچھلے چارسال سے لوگ سڑکوں پر ہیں۔شاید ہی کوئی ایسا مہینہ گزرا ہوجب خاں صاحب نے کسی نہ کسی بہانے سے لوگوں کو سڑکوں پر نہ لاکھڑا کیاہو۔اب خاں صاحب پھرقوم کو باہر نکلنے کا کہ رہے ہیں ۔ قوم اب اس روز روزکی ڈرامے بازی سے شاید اکتاچکی ہے۔وہ چارم جو کچھ برس پہلے عمرا ن خان کا تھا۔باقی نہیں رہا۔اب وہ باتیں سامنے آرہی ہیں۔جنہیں چھپایا جاتارہاہے۔عمران خاں نوازشریف کو ملک کا سب سے چور او رڈاکو قرار دے کرقوم کے جزبات سے متصادم بات کررہے ہیں۔قوم نواز شریف کو فرشتہ نہیں سمجھتی مگر وہ ملک میں موجود کئی لوگوں کو نواز شریف سے بڑے چو رنہ سہی مگر اس کے برابر کے چور ضرور سمجھتی ہے۔خاں صاحب نواز شریف کو میر جعفراو ر میر صادق کہ کر بھی اپنی بات کا وزن کم کررہے ہیں۔خاں صاحب کے ارد گرد جتنے بھی لوگ ہیں وہ کسی نہ کسی کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر آئے ہیں۔ان کے ہونے ہوئے خاں صاحب کو دوسروں کو میر جعفراورمیر صادق کہنا سمجھ سے بالاترہے۔حقیقت تویہ ہے کہ خاں صاحب کا ڈرامہ ناکام ہوچکا۔انہوں نے جو ٹسوے بہائے وہ ڈھونگ نکلے جواچھل کود کی وہ تماشہ نکلی۔عام آدمی تحریک انصاف کو میر جعفروں اور میر صادقوں کی یک ایسی پناہ گاہ سمجھ رہاہے۔جہاں سے سٹیتس کو مافیا کے سہارے کرائے کے شو کررہے ہیں۔ا س پناہ گاہ میں اب کوئی بھی ایسا لیڈر نہیں جس پر عام آدمی کو اعتمادہو۔جس پر تبدیلی یا انقلاب کی امید لگائی جاسکے۔شریف او ر مخلص لوگ پہلے تحریک انصاف سے امیدیں باندھے ہوئے تھے۔مگر ایک ایک کر کے پیچھے ہٹتے چلے گئے۔انہیں احساس ہوگیا۔کہ انقلاب او رتبدیلی کا یہ سفر صرف او رصرف ایک خاص طرف سے کیے اشارے کے تحت جاری ہے۔اور اس سفر کی منزل کسی ایک گروہ کو نیست و نابود کرنا ہے۔اس سفر کی منزل میں نہ کہیں قوم کا مفاد نظر آتا تھا۔نہ ریاست کا کچھ بھلا ۔آہستہ آہستہ وہ تما م لو گ اس سفر میں ساتھ چھوڑتے چلے گئے۔جو بھلے کی امید پر ساتھ ہولیے تھے۔اب اس طرز کا ایک بندہ بھی شاید تحریک انصاف میں نہ ملے۔اس وقت تحریک انصاف میں صر ف اور صرف واقفان حال ہی بچے ہیں۔جو خوب جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں۔کہاں سے آئے۔کس نے بلایا ۔اور کیا ذمہ داری ہے۔واقفان حال کے لیے بھلا اس شغل میلے کو جاری رکھنے میں کیا قباحت ہوسکتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 66022 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 May, 2017 Views: 467

Comments

آپ کی رائے