کسان کی نصیحت

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: نجم الدین خان،ڈیرہ اسماعیل خان
کسی گاؤں میں ضمیر گل نامی ایک محنت کش کسان رہتا تھا۔وہ سارا دن اپنے کھیتوں میں کام کرتا تھا اس کے باغات،اور کاشت کی زمینیں بہت تھی۔ اس گاؤں میں قائد لطیف اور بشیر تین دوست رہتے تھے۔ وہ اپنے شرارتوں کی وجہ سے مشہور تھے۔ تو اسکول آتے جاتے ان کا کافی سارا شرارتوں میں صرف ہوتا تھا۔ اسکول سے واپسی پر کسان کے باغ میں خوب مزے کرتے تھے۔ کسان کو اپنے شرارتوں سے بہت تنگ کرتے تھے۔ وہ ان کی وجہ سے بہت پریشان تھا۔اور سبق سیکھانے پر مجبور ہوگیا۔کسان نے سوچا کہ ان تینوں کو پکڑ لیا جائے اور ان سے کام کروالیا جائے۔

ایک دن کسان اور اس کے دو دوست باغ میں چھپ کر بیٹھ گئے۔ وہ تینوں دوست اسکول سے واپسی پر موج مستی کرنے لگے اور اپنے شرارتیں شروع کردیں اور کسان نے ان تینوں کو پکڑ لیا۔ وہ تینوں کسان سے معافیاں مانگنے لگے کہ غلطی ہوگئی ہے اگلے بار ایسا نہیں ہوگا۔ لیکن کسان نے انہیں ایک کمرے میں بند کردیا ۔ کسان نے ان کو کہا کہ اب تینوں کو تب جانے دیا جائے گا جب ایک دن میرے ساتھ کھیتوں میں کام کریں گے۔ انہوں نے بہت منت سماجت کی لیکن کسان نے ایک بھی نہ سنی۔ تینوں بہت پریشان ہوئے آخرکار کسان کے بات پر راضی ہوگئے۔

کل صبح سویرے کو مختلف کام دیے گئے جو کسان خود کرتا تھا۔ یہ سارے کام ان کے لیے بہت مشکل تھے۔ سب اپنے کام کرنے لگے۔ دوپہر کو وہ تینوں بہت تھک چکے تھے۔ ان سے اور کام نہیں ہورہا تھا۔ وہ پسینوں میں شرابور تھے۔ ان کو کسان نے بلایا اور کہا کہ کیسے لگا کام مشکل ہے کہ آسان؟

تینوں سر جھکائے ہوئے کھڑے تھے ان کو اپنی کئے ہوئے غلطیوں پر بہت افسوس تھی۔کسان نے کہا کہ ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھو۔کبھی بھی کسی کو تکلیف نہیں دینا۔ تینوں نے کہا کہ ہم کبھی ایسا نہیں کرینگے۔آپ ہمیں معاف کر دیں۔ کسان کہنے لگا کہا کہ اب آپ لوگ جا سکتے ہو۔ وہ تینوں خوشی خوشی گھر کی طرف چل پڑے اور آئندہ کے لیے شرارتوں سے توبہ کرلی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1238 Articles with 517218 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 May, 2017 Views: 697

Comments

آپ کی رائے