آزاد کشمیر کا اضا فی ترقیا تی بجٹ اور جیالوں کا میلہ

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarabad)
آزاد کشمیر کا اضا فی ترقیا تی بجٹ اور جیالوں کا میلہ

پاکستان میں نئے مالی سالی کے بجٹ پیش کرنے کی تیاریاں تقریباََ مکمل ہو گئی ہیں۔2017ءمیں 2016ءگزشتہ صدی سے زیادہ قرضے لیکر ملک و ملت کو ایسا مقروض کر دیا گیا ہے کہ اب تاریخ پاکستان کا ریکارڈ 10ارب چالیس کروڑ ڈالر خسارے والا بجٹ پیش ہو گا۔ یہ آئینے کا ایک رخ ہے دوسرا رخ یہ ہے قو می اقتصادی کونسل میں 21سوتیرہ ارب کے ریکارڈ ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی ہے۔ جس میں ایک ہزار ایک ارب وفاق گیارہ سو بارہ ارب صوبوں کے حصوں میں آئیں گے۔ صوبوں کے بجٹ میں تین گناہ اضافہ کیا گیا ہے جس کے تحت پہلے ایک فیصد تھا تو اب مذید تین فیصد بڑھا کر چار فیصدہو گیا ہے۔ جس میں پنجاب 600، سندھ263، کے ۔ پی ۔کے202، بلوچستان کو 75ارب ملیں گے۔آزاد کشمیر جس کا پہلے گیارہ ارب 54کروڑ بجٹ ہے اب بڑھا کر اب 22ارب کر دیا گیا ہے۔ یعنی ایک اور ایک دو ہو گیا ہے۔ جو نئی ترتیب شمار میں صوبوں کی طرح 3فیصد زیادہ کیا جاتا تو چالیس ارب بن جاتا ۔ اسلام آباد والے بغیر کسی چوں چراں کے کر بھی دیتے مگر خود آزاد کشمیر کے نظام سے منسلک مشینری ایسی ہے جو تین گناءاضافے کا استعمال تو درکنار ایسے کرنے کا خیال بھی نہیں کر سکتی۔ یہ گیارہ ارب کے بجٹ کا درست بروقت استعمال کی صلاحیتوں سے بھی عاری ہے۔ ایسے میں جو اضافہ ہوا ہے وہ بھی بہت بری پیش رفت ہے اس کے صحیح معنوں میں استعمال کا اہتمام ہو جائے تو کمال ہو گامگر اس میں مرکزی حکومت کی کوئی اضافی مہربانی نہیں بنتی۔ صوبوں کا تین فیصد اضافہ کر کے آزاد کشمیر کا ایک فیصد زیادہ ہونا ہی تھا،یہ عمل خوش آئندہ ضرور ہے ، وزیر اعظم نواز شریف نیلم جہلم ہائیڈرل کے معائینے کیلئے آئے تو مقبوضہ کشمیر کی مریم جیسی بہنوں ، بیٹیوں کے حق میں دو لفظ ہمدردی کے ادا کرنا ، چین جاتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، وزیر اعظم آزاد کشمیر کو وفد میں شامل کرنا بھول گئے تھے، جو قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں یاد آگئے۔ ان کو قومی وسائل تقسیم کرنے کے سب سے اہم فیصلہ ساز فورم میں شریک کر کے بنیاد فراہم کر دی ہے، اب یہ ان کی فہم فراست ہے وہ بنیاد کو مذید مضبوط و مستحکم بناتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جائیں۔وزیر اعظم فاروق حیدر کو یہ بھی پورا حق ہے وہ پہلی بار آزاد حکومت کی قومی اقتصادی کونسل میں نمائندگی و ترقیاتی بجٹ ڈبل ہونے پر خوشی و مسرت کا اظہار کریں، عوام سے مبارکبادیں وصول بھی کریں اور مبارکبادیں پیش بھی کریں، کیونکہ یہ مقاصد کے اعتبار سے بہت بڑی پیش رفت ہے اور مملکت پاکستان کی مستقبل کے تناظر میں زبردست سوچ کا مظہر ہے جس میں پاکستان پیپلز پارٹی بھی شامل ہے جسکے سید نئیر بخاری نے مرکزی سیکرٹری جنرل کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے مظفرآباد کا دورہ کر کے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے پوری قوت سے تائید و حمایت کا پیغام دیا۔ آزاد کشمیر کے پارٹی صدر چوہدری لطیف اکبر ، سینئر نائب صد ر چوہدری پرویز اشرف، سیکرٹری جنرل فیصل ممتاز راٹھور، سیکرٹری اطلاعات سردار جاوید ایوب، میاں عبدالوحید، چوہدری رشید، بازل نقوی، خنیف اعوان سمیت عہدیداران جیالوں کی بڑی احتجاجی ریلی کے ساتھ اقوام متحدہ کے مبصر آفس جا کر احتجاجی یاداشت پیش کی۔ مطالبہ کی مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم بند کراتے ہوئے یو این او اپنی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خوداریت دلائیں ۔ ایسٹ تیمور والوں کو حق دے دیا مگر ستر سال سے قربانیاں دینے والے کشمیریوں کے معاملے پر یو این او اقوام عالم کیوں دہرے معیار کا شکار ہے جنہوں نے پریس کانفرنس میں بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں پیغام دیا پیپلزپارٹی کی قیادت ملت پاکستان کو ان کی آزمائشوں مصائب و آلام قربانیوں کا نہ صرف احساس ہے بلکہ سیاسی سفارتی اخلاقی سطح پر اپنی تمام تر قوت کے ساتھ ان کی پوری طرح پشت پناہی کرتے رہیں گے۔ تا وقت ہے کہ ان کو ان کا حق خودارادیت مل نہیں جاتا ۔ نیئر بخاری ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھیوں میں سے ہیںجو گفتگو کریں یا خطاب کرتے ہوئے ایک سکہ بند پیپلزپارٹی کا جیالا نظر آتے ہیں اور عالمی قومی سیاسی آئینی قانونی امور پر دلیل و حقائق کیساتھ موقف پیش کرتے ہیں۔ انکا انداز بیاں سیاسی کارکنوں نوجوانوں کیلئے تربیت و سیکھنے کا نادر موقع ہوتا ہے جن کا مظفرآباد شہر سے میانی بانڈی بازل نقوی کے گھر تک بڑے جلوس کی شکل میں استقبال اور پھر بھرپور جلسے سے خطاب جیالوں کے اپنے روائیتی کلچر جوش و خروش کا زبردست اظہار تھا۔ تو یہ اپوزیشن میں آئے پہلے نو ماہ کے عرصے میں پیپلزپارٹی اور لچھراٹ میں بازل نقوی کی قوت بھی ظاہر کر رہا تھا۔ حکومت کوئی خاص معنی نہیں رکھتی ، عوامی مزاج سیاست اصل طاقت ہے اور پیپلزپارٹی بطور اپوزیشن ماضی کی طرح بڑی عوامی قوت کے طور پر کردار ادا کرنے کی قوت بھی رکھتی ہے جسکا کریڈٹ پیپلزپارٹی کے صدر چوہدری لطیف اکبر اور انکی ٹیم کو بھی جاتا ہے جنہوںنے دو دن کے نوٹس پر کشمیر کے حوالے سے بھی زبردست سرگرمی کا انعقاد کیا اور پارٹی کا میلہ بھی سجا دیا ۔ اب یہ آزاد حکومت جو اپنی بساط کے مطابق کشمیر پر سرگرمی دکھاتی ہے مگر بطور جماعت مسلم لیگ ن سمیت دیگر جماعتوں کیلئے بھی دعوت فکر ہے کیا وہ بھی خالصتاََکارکنوں لوگوں کو ساتھ لیکر کشمیر کاز کے حوالے سے بھرپور جلسے جلوس مظاہرے کر سکتی ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 204 Articles with 68240 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 May, 2017 Views: 344

Comments

آپ کی رائے