ماہ رمضان ، ایک وعدہ جو ہمیں کرنا ہے

(Maryam Arif, Karachi)

ودیا مسکان ، راولپنڈی
یوں تو رمضان کی آمد آمد ہے ہر طرف ایک ہی بحث جاری ہے کہ رمضان میں کیا خاص کریں۔ کوئی کچھ خاص پکانے کے لیے تراکیب تلاش کررہا ہے تو کوئی دوسرے شہروں سے اپنی مرغوب چیزیں منگوا کر رمضان کا اہتمام کررہا ہے۔ ساتھ ساتھ کچھ لوگ ایسے بھی ملیں گے جو ابھی تک بے فکر ہیں اگر ان سے رمضان کے بارے میں پوچھا جائے تو ان میں سے کچھ تو حیلے بہانے بنا کر روزوں سے جان چڑا لیتے ہیں مگر کچھ لوگوں کا بڑا صاف سا جواب ہوتا ہے ’’کہ جناب یہ بھوک فاقے ہم سے نہیں ہوتے ۔ معذرت کے ساتھ مگر یہ جواب زیادہ تر ہمارے امیر اور سو کالڈ ماڈرن طبقہ سے سننے میں آتا ہیں۔

کچھ لوگ تو ایسے بھی کہ روزے تو رکھنے کے بعد تو ایسی حالت ہوتی ہیں جیسے اﷲ تعالی پر خوب احسان کر لیتے ہیں ۔ مگر بجائے رمضان کے اس رحمتوں والے مہینے میں عبادت کے، روزہ رکھ کر لمبی تان کر سو جاتے ہیں۔ ان کا معمول یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ روزہ رکھ کر رات جاگ کر اور دن سو کر گزارتے ہیں جیسے کہ اﷲ تعالیٰ کو دھوکا دے رہے ہو ں کہ لو بندکر لیا کھانا پینا بنداب ہم جو بھی کریں آزاد ہیں ۔
ایسے روزے کا کیا فائدہ۔کیا اﷲ تعالی کو تمہاری بھوک پیاس سے مطلب ہے ؟ یہ تو آزمائش ہے ، یہ تو اﷲ تعالی کا انعام ہے کہ محسوس کرو یہ خوشی جو روزہ افطار اور روزے رکھنے کے بعد عید پر ملتی ہے ۔ امتحان ہے کہ کیسا لگتا ہے جن کو دو وقت کا کھانا نہیں ملتا اور وہ اپنے پیٹ کے عذاب بھرنے کے لیے اک مخصوص وقت کا انتظار کرتے ہیں۔اگر سو کر ہی گزارنا ہے رمضان تو اس سے بہتر تھا کہ روزہ نہ ہی رکھا جائے۔

رمضان تو رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہیں۔ ماہ رمضان میں تو شیطانوں کو زنجیروں سے جکڑا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازے بند ہوتے ہیں۔ رمضان میں تو ہر سو رحمتیں نازل ہوتی ہے پھر ہم اس کو سوتے ہوئے کیوں ضائع کریں۔ رمضان میں تو اک نماز کی جزا کئی گناہ زیادہ ہوتی ہے پھر ایسے مہینے میں ہماری نیند بہت ضروری ہے ؟ کیا ہم پورے سال میں صرف 30دن روزہ رکھ کا اپنے معمولات نہیں چلاسکتے؟ سب کچھ ممکن ہے اگر ہم حقیقی معنوں میں عبادت کی طرف خود کو راغب کرلیں تو۔

قارئین! ہمارے ہر فعل کی ذمے دار ہم خود ہیں۔ ہمارے بدلے نہ کسی کو جزا ملنی ہے نہ سزا دی جائے گی۔ پھر کیوں ہم خود کو دھوکا دے۔ آیئے! اپنے رمضان کو خوبصورت بناتے ہیں۔ آئیں اس رحمتوں کے مہینے میں خود کو اﷲ کی رحمت سے مستفید کرتے ہیں۔ خود سے وعدہ کریں کہ ایک ایسا روزہ رکھیں گے جو ہمارے اﷲ کو پسندہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے ان پڑوسیوں اور مستحق لوگوں کا بھی خیال رکھیں گے ۔ جو اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے خاموش رہتے ہیں۔

اﷲ تعالیٰ نے ہمیں ایک مرتبہ پھر سے اپنا محاسبہ کرنے کا موقع عطا کیا ہے۔ الگ تھلگ بیٹھ کر اپنے رب سے اپنے گناہوں کی توبہ کریں۔ اپنے آپ کی اصلاح کی کوشش کریں اور وعدہ کریں کہ اس کے بعد ہم آئندہ رمضان تک اپنے آپ کو ناجائزہ اور گناہ کے کاموں سے بچائیں گے۔ ہمیں یہ روزہ ایک درس دیتا ہے کہ اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھیں۔ ان کی بھوک اور پیاس کا خیال رکھیں۔ گاہے بگاہے ان سے پوچھتے رہا کریں کہ انہیں ہماری ضرورت تو نہیں۔ اگر ہم اس درس پر عمل کرگئے تو یقینا ہم نے روزے کا صحیح معنوں میں حق ادا کردیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1240 Articles with 517902 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2017 Views: 343

Comments

آپ کی رائے