رمضان المبارک کے حقیقی فوائد و ثمرات

(Mehar Ali Raza, )

 رمضان المبارک پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے رحمت و مغفرت کا مہینہ ہے۔سب سے بڑی بات اﷲ تعالیٰ نے ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ پر قرآن مجید اسی مہینے نازل فرمایا۔ہمیں بھی اس مہینے کا احترام کرنا چاہیے ۔رمضان المبارک کی فضیلت اور برکت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔اﷲ تعالیٰ نے ہمیں بخشش کا ایک اور موقع دیا ہے کہ ہم اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیں۔گمراہی کے راستے سے ہٹ کر صراط مستقیم کی طرف رجوع کریں۔روزے کا اصل مقصدبھی یہی خواہشاتِ نفس کو اﷲ تعالیٰ کے تابع کرنا اور اخلاقی برائیوں سے اجتناب کرتے ہوئے اپنا زیادہ وقت عبادات اور نیک کاموں گزارنا ہے۔جھوٹ،ناپ تول میں کمی، ہیراپھیری، دھوکہ دہی ،نمائشی عبادت سے اجتناب کرنا ہے اگر انسان ان خواہشاتِ نفس پر قابو نہیں پاتا تو انسان روزے کے اصل حقیقی فوائد و ثمرات سے محروم رہ گیا۔

لیکن یہاں دیکھ کر تعجب ہوتا کہ مسلمان اس مہینے کو وہ مہینہ سمجھتے ہیں جس سے ذریعہ آمدن بڑھتا ہے۔رمضان آتے ہی اشیاء غریب کی بس سے دور کیوں ہو جاتی ہیں؟ یہ مہینہ آتے ہی بے ایمانی ، دھوکہ وفریب، حرام کمائی زیادہ کیوں ہوجاتی ہے؟پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوجاتا ہے؟اور رمضان کے بعد عید الفطر پر بے چاری عوام کو لوٹا جاتا ہے۔دکاندار سمجھتے ہیں یہی ہمارا مہینہ ہے ۔کیا رمضان یہ پیغا م دیتا ہے صرف روزے رکھو؟ کیا رمضان کی کوئی فضیلت نہیں؟ کیا رمضا ن میں صرف روزے رکھنے سے حق ادا ہو جاتا ہے؟کیا نمازیں صرف اسی مہینے فرض ہوتی ہیں؟ کیا عبادت و تقویٰ اسی مہینے اختیار کیا جاتا ہے؟ رمضان سے پہلے مسجدیں خالی کیوں ہوجاتی ہیں؟

ہم کسی کو نہیں اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ہم دین اسلام کا مذاق اڑا رہے ہے۔ہمیں دنیا کے کاروبار کی پڑی ہوئی ہے آخرت کی کوئی فکر ہی نہیں ہے۔اپنے مفاد کی خاطرلوگوں نے وہ راستہ اختیار کر لیا ہے جس راستے پر اسلام نے کہتا ہے ۔۔۔رک جاؤ۔۔رک جاؤ۔۔آگے دوزخ کا گڑھا ہے گر جاؤ گے ۔۔اپنے گناہوں کی بخشش مانگ لو ۔۔برائی کے راستے سے ہٹ جاؤ۔ کسی کو دھوکہ مت دو۔ اچھے اخلاق پیدا کرو۔ خواہشاتِ نفس سے مقابلہ کرو۔ملاوٹ نہ کرو۔کسی غریب کا حق نہ کھاؤ۔

لیکن ہم ایسی ٹھیٹ قوم ہیں کہ ہمیں دین اسلام کی بنیادی باتوں کا علم ہونے کے باوجود آنکھوں پر کالی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ہم بڑی رفتار کے ساتھ گڑھے میں جارہے ہیں۔ہم وہ کام کرتے ہیں جو نمائشی ہوں جس سے لوگوں کے سامنے عزت بڑھے۔بھول گئے ہیں کہ اوپر خدا بیٹھا ہے وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور بار بار بخشش کا موقع دیتا ہے سدھر جاؤ ۔۔سدھر جاؤ۔رمضان المبارک میں حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ رمضان بازاروں کے ذریعے لوگوں کو معیاری اور کم قیمت پر اشیاء فراہم کی جائیں۔رمضان بازاروں کے ذریعے سستی اشیاء کا حصول سب غریبوں کا حق ہے لیکن رمضان بازار تو لگائے گئے ہیں لیکن اس کا فائدہ صرف مخصوص لوگوں کو کیوں ہورہاہے؟کیا دیہاتوں میں لوگ نہیں بستے؟کیا دیہات کے لوگ روزے نہیں رکھتے؟اگر اشیاء میں کمی کر دی گئی ہے سب کے لیے کیوں نہیں؟کیا سب انسان برابر نہیں ہے؟جن دیہات کی شہروں تک رسائی حاصل نہیں ہے ان کا کیا کیا جائے۔حکومت کو چاہیے کہ رمضان بازار شہروں کے ساتھ ساتھ دیہاتوں میں بھی لگائیں جائیں تاکہ دیہات میں بسنے والے غریب سستی اشیاء سے فائدہ اٹھا سکیں۔اگر رمضان بازاروں سے پوری عوام کو سستی اور معیاری چیزیں تک رسائی نہ ہو تو ان رمضان بازاروں کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔یہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ اس میں تو اپنے مفاد پس پشت ڈال کر غریب عوام کا سوچنا چاہیے۔

ویسے فرض تو یہ بنتا ہے کہ رمضان بازاروں سے بہتر ہے پورے ملک میں کھانے پینے کی اشیاء انتہائی کم ریٹ پر ہونی چاہیے۔ہمیں تو چاہیے مذہبی تہواروں میں ضرورت اشیاء کی قیمتیں انتہائی کم قیمت پر کردینی چاہیے تاکہ تھوڑی آمدن والے لوگ بھی اشیاء خرید سکیں اور رمضان المبارک مسرت و خوشی کے ساتھ گزار سکیں۔رمضان المبارک میں ٹی وی پر مختلف پروگرام ہوتے ہیں جہاں افطار میں طرح طرح کے کھانے لوگوں کو کھلائے جاتے ہیں۔ لیکن جب یہ غریب دیکھتا ہے کیا اس کا دل نہیں کرتا ہے ہمیں بھی یہ اشیاء میسر ہوں ہم بھی خرید سکیں ۔بچے احساس کمتری کا شکار نہیں ہوتے اورکیا وہ والدین سے فرمائش نہیں کرتے ہیں کہ ہمیں بھی افطار میں پھل وغیرہ اور طرح طرح کے کھانے کیوں میسر نہیں ہیں۔مجھے اب بتائیں کہ کیا غریب باپ اس انتظار میں رمضان المبارک گزار دے گا کہ شاید کوئی شخص آئے گا ہماری مدد کرے گا؟میرے خیال میں خودوالدین کو اپنے بچوں کے لیے اشیاء خرید تے وقت زیادہ خوشی ہوتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کی مدد کے ساتھ ساتھ ضرورت کی اشیاء سستی کرنی چاہیے۔روزے کے اصلی فوائد تلاش کریں اورٹی وی پر اپنا وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں مستغرق ہوجائیں۔اﷲ تعالیٰ کو لوگوں کے دلوں میں تلاش کریں۔

اخلاقی برائیوں سے اجتناب کریں ناپ تول،جھوٹ نہ بولیں ملاوٹ کر کے کسی کو دھوکہ مت دیں۔ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے ’’ اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹ اور غلط کاریوں سے نہیں بچتا تو اس کا کھانا پینا چھڑانے میں اﷲ کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘اگر یہی باتیں روزے رکھنے کے باوجو ہم میں موجود ہیں تو میرے خیال سے ہم روزے کے حقیقی فوائد و ثمرات سے محروم ہیں۔

اگر کوئی شخص سچے دل کے ساتھ اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کی مددکرتا ہے۔آج ہی سب مسلمانوں کو تہیہ کر لینا چاہیے کہ ہم وہ کام نہیں کریں گے جو اﷲ تعالیٰ کی مرضی و منشاء کے خلاف ہو ۔ملاوٹ نہیں کریں گے کسی کو دھوکہ نہیں دیں گے کسی کے نا انصافی نہیں کریں گے کسی غریب کا حق نہیں کھائے گے تو یقین مانے اﷲ تعالیٰ ہمیں ان خوشیوں سے نوازیں گا جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔اور میری حکومت سے یہی درخواست ہے رمضان بازاروں سے یہی بہتر ہے کہ بڑھتی اور مہنگاتی پر قابو پایاجائے تاکہ اس سے غریب عوام بھی فائدہ اٹھا سکے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehar Ali Raza

Read More Articles by Mehar Ali Raza: 18 Articles with 7495 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2017 Views: 477

Comments

آپ کی رائے