مذہبی رہنماؤں کا امتحان


قیادت محض اقتدار یا منبر پر کھڑے ہونے کا نام نہیں، بلکہ یہ فکری دیانت، اخلاقی جرات اور اجتماعی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کا عمل ہے۔ چاہے معاملہ سیاسی قیادت کا ہو یا مذہبی رہنمائی کا، رہنما عمومی طور پر دو واضح اقسام میں تقسیم نظر آتے ہیں۔ ایک وہ جو لوگوں کو نئی فکری راہوں، بلند مقاصد اور وسیع تر شعور کی طرف لے جاتا ہے، اور دوسرا وہ جو خود عوام کے پیچھے چلتا ہے اور وہی دہراتا ہے جو مجمع سننا چاہتا ہے۔
پہلی قسم کا رہنما بصیرت کا حامل ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ سچ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا اور اصلاح اکثر مزاحمت کو جنم دیتی ہے۔ ایسا رہنما وقتی مقبولیت کے بجائے طویل المدت فلاح کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ اپنے پیروکاروں کے ذوق کی نہیں بلکہ ان کے شعور کی تربیت کرتا ہے۔ یہی اصول مذہبی قیادت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ حقیقی دینی رہنما وہ ہے جو دین کو اخلاق، عدل، تحمل اور انسانیت کے وسیع تناظر میں پیش کرے، چاہے اس کی بات عوامی جذبات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
اس کے برعکس دوسری قسم کا رہنما—خصوصاً مذہبی مبلغ—عوامی خواہشات کا اسیر بن جاتا ہے۔ وہ منبر اور محراب کو اصلاح کے بجائے تائید حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ جو بات مجمع کو جوش دلائے، جو جملہ تالیاں بٹورے، اور جو موقف عوامی تعصبات کو تقویت دے، وہی اس کی دعوت بن جاتی ہے۔ ایسے مبلغ کے نزدیک دین حق کی تلاش نہیں رہتا بلکہ شناخت، گروہ بندی اور جذباتی وابستگی کا ہتھیار بن جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مذہبی رہنمائی تبلیغ سے پھسل کر فرقہ پرستی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ عوام کی خواہشات کے مطابق دین بیان کرنے والا مبلغ، انجامِ کار خدا کا نمائندہ بننے کے بجائے اپنے فرقے کا ترجمان بن کر رہ جاتا ہے۔ وہ وحدت کے پیغام کے بجائے تقسیم کو ہوا دیتا ہے، اخلاقی تطہیر کے بجائے نفرت کو جواز فراہم کرتا ہے، اور دین کو ہدایت کے سرچشمے کے بجائے شناختی نشان میں بدل دیتا ہے۔
اصل فرق نیت اور مقصد کا ہے۔ بصیرت رکھنے والا رہنما—خواہ سیاسی ہو یا مذہبی—لوگوں کو وہ نہیں بتاتا جو وہ سننا چاہتے ہیں، بلکہ وہ بتاتا ہے جو سننا ضروری ہوتا ہے۔ جبکہ عوام کے پیچھے چلنے والا رہنما وقتی مقبولیت تو حاصل کر لیتا ہے، مگر تاریخ، اخلاق اور دین—تینوں کے سامنے ناکام رہتا ہے۔
آخر میں یہ حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ قومیں اور امتیں نعروں سے نہیں بلکہ بصیرت سے بنتی ہیں۔ مذہبی قیادت اگر عوامی خواہشات کی پیروی چھوڑ کر حق، عدل اور حکمت کی رہنمائی اختیار کرے تو وہ اتحاد اور اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے، ورنہ منبر بھی بازار بن جاتا ہے اور دین بھی فرقے کی قید میں آ جاتا ہے۔ 
Dilpazir Ahmed
About the Author: Dilpazir Ahmed Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 265 Articles with 234852 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.