ماہ ِ رمضان اور میڈیا

(Maemuna Sadaf, Rawalpindi)

ماہ رمضان کا آغاز ہو چکا ہے ۔یہ مہینہ ہر سال کی طرح اپنے ساتھ فیوض و برکات لے کر آتا ہے ۔رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی سحری اور افطاری کے اوقات میں دستر خوان انواع و اقسام کی ڈشز سے سجا دیے جاتے ہیں اور مساجد میں نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔یہی نہیں رمضان کے آغاز سے کچھ دن قبل سے تمام میڈیا چینلز پر رمضان ٹرانسمشن کا اشتہار چلنے لگتا ہے ۔ ہر چینل کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ ریٹنگ اورنظارگی حاصل کر سکے ۔پہلے پہل رمضان ٹرانسمشن میں علماء کو بلایا جاتا تھا اور ان سے مختلف مسائل پر سیر حاصل گفتگو کروائی جاتی تھی جس میں رمضان کی فیوض وبرکات اور اس کے مسائل پر بحث کی جاتی تھی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ رویہ بھی تنزلی کا شکار ہوتا چلا گیا ۔ اب حال یہ ہے کہ ہر ٹی وی چینل پر مختلف طرح کے سٹیج سجائے ، شو کے میزبان انعامات تقسیم کرتے نظر آتے ہیں یا پھر وہ مائیں بیٹیاں جو رمضان میں گھر کو عبادت کے لیے مختص کر دیتی تھیں اب ٹی وی شوز میں مختلف کھیلوں میں حصہ لیتی نظر آتی ہیں ۔ان پرگراموں میں تحائف تقسیم کیے جاتے ہیں جن کو حاصل کرنے کے لیے عوام میں ایک عجیب دھکم پیل کا سا سماں ہوتا ہے ۔ ان رمضان ٹراسمشنزمیں شعبہ ہائے زندگی کے تمام طبقات سے لوگ مدعو کئے جاتے ہیں جن میں چند لمحے علماء کے لیے بھی مختص ہو تے ہیں ۔ یہ لمحات عموما افطار سے پہلے دعا کے ہوتے ہیں ۔ مختلف چینلز پر ایک سے ایک بڑھ کے سیٹ ڈیزائین کیے جاتے ہیں ، انواع واقسام کے پروگرام بھی ترتیب دیے جاتے ہیں ۔
تمام نجی چینلز نے حالیہ برس دوسری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تقاریر کے مقابلوں کا انعقاد بھی کروایا جس میں بعض نام نہاد مفکرین مقرر بچوں کی ہتک و تزہیک کرتے نظر آتے ہیں۔ تنقید اگر مثبت ہو تو یہ افراد کی ذہنی نمومیں ایک بہترین کردار ادا کر سکتی ہے اور اگر تنقید کا انداز ایسا ہو جو کہ دوسرو ں کی عزت ِ نفس کو مجروح کرنے کا سبب بن جائے تو یہ تنقید ذہنی توڑ پھوڑ کاسبب بن جاتی ہے ۔ اگرچہ اس رویہ کی وجہ سے چینلز کی ریٹنگ میں تو اضافہ ہو سکتا ہے لیکن واضع رہے کہ ایک جانب ان مقرر بچوں کی عزت ِ نقس کو مجروح کرکے ان کے ذہنوں پر یہ نقش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جو اس چینل پر شو کا میزبان ہے اسے کسی کی عزت و آبرو سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ کل کو یہی بچے جب کسی عہدے پر فائز ہوں گے تو ان بچوں کا رویہ بھی دوسروں کے ساتھ ایسا ہی توہین آمیز ہو گا۔ ان بچوں کی نفسیات پر کس طرح کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس بارے میں سوچنے کی زحمت نہیں کی جاتی ۔

دوسری جانب! ان اینکرز کا رویہ پاکستان اور اسلام کاعکس پوری دنیا میں مجروح کرنے کی ایک مزموم کوشش ہے ۔ اسلام خصوصا دوسروں کی عزت نفس کا خیال کرنے کا درس دیتا ہے اور کسی کو اجازت نہیں دیتا کہ سرعام دوسرے کی توہین کردی جائے ، مبادہ کہ اس بابرکت مہینے میں ۔ اسلام میں دوسروں کی عزت و ناموس کو اپنی عزت کی طرح اہم جاننے کا حکم دیا گیا ہے ۔
ایک حدیث کا مفہوم کچھ یو ں ہے
مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔

ان احکامات کی موجودگی میں ماہ رمضان کی مقدس ساعتوں میں کسی کی عزت و اچھال دینا اگر اس چینل کی ریٹنگ میں وقت اضافہ کردیتا ہے تو واضع رہے کہ بعید یہ ریتنگ از خود اپنے ہاتھوں خود کشی بھی کر لیتی ہے۔ اس طرح کے رویوں اور ٹی وی شوز کے نتائج دور رس ہوتے ہیں اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ رویے ثبت ہو کر رہ جاتے ہیں ۔

واضع رہے کہ میڈیا خصوصاالیکڑانک میڈیا اگرچہ تفریح مہیا کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اور اسی تفریح کی بنیاد پر ان چیلنز کی ریٹنگ میں اضافہ ہوتا ہے تاہم یہ میڈیاکسی بھی ملک ایک بہت بڑا سفیر بھی ہے ۔اب کسی ملک کو بھی عالمی سطح پر اپنا ایمج بہتر بنانے کے لیے میڈیا کا بہترین استعمال از حد ضروری ہو چکا ہے ۔

ایک جانب تو ٹی وی پر دیکھائے جانے والے پروگرام پوری دنیا میں ملک کا ایک عکس پیش کر رہے ہوتے ہیں ۔آج کل جب کہ دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے ۔ کسی بھی ملک کی ٹی وی نشریات دوسرے ممالک میں دیکھا جانا ایک عام سی بات بن چکی ہے ۔اس وقت کم و بیش ہر ملک دوسروں کی نظر میں بہتر نظر آنے کے لیے میڈیا کو استعمال کر رہا ہے ۔جبکہ بد قسمتی سے پاکستان کا میڈیا ، خود پاکستان اور اسلام کی بدنامی کا سبب بنتا جا رہا ہے ۔کیونکہ جب ان چینلز کی ٹرانسمشن دوسرے ممالک میں دیکھی جاتی ہیں تو اسلام اور ملک دونوں کی توہین ہے ۔ نو مسلم یا غیر مسلم جب ہمارے ایسے رویے سرِ عام دیکھتے ہیں تو اسلام کا ان کی نظر میں کیا عکس پیش ہوتا ہوگا ؟ اور پاکستان کے بارے میں ان کے خیالات کس رخ کو اختیار کرتے ہوں گے کہ ایک ایسا ملک جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اور اس ملک میں اپنے ہی ملک کے بچوں کو ٹی وی سکرین پر سرعام توہین کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو عام معمولات ِ زندگی میں دوسروں کی عزت کا کیا خیال رکھا جاتا ہو گا ؟

دوسر ی جانب ان پرگراموں کو دیکھنے والے ان سے کچھ نہ کچھ متاثر بھی ہوتے ہیں اور ان عادات کو اپناتے بھی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق کسی بھی ملک میں رائج فیشن ، گھروں کی تزین و آرائش اسی فی صد تک اس ملک کے میڈیا خصوصا ڈرامہ اور دیگر شوز کی مرہون ِ منت ہو ا کرتی ہے ۔ ٹی وی پر دیکھائے جانے والے پروگرام خصوصا نوجوان طبقہ کی ذہنیت پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو اس طرح ٹی وی چیلنز پر ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ چینلز مثبت رویوں اور ملک کے مثبت عکس کو دنیا کے سامنے پیش کریں بجائے اس کہ چھچھور پن یا ایسی کامیڈی پیش کی جائے جو ملک کے نوجوانوں کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کرے، ملک کا عکس دوسرے ممالک میں خراب کرے ۔میڈیا چینلز کو چاہیے ریٹنگ بھی بڑھائے لیکن اپنی ذمہ داری سے انحراف نہ کرے ۔ ریٹنگ کے لیے اقدار کا سودا کر لینا کسی طور جائز نہیں۔

پیمپرا کو چاہیے کہ وہ ایسے قوانین بنائے جو میڈیا کو مثبت رویوں کے فروغ کے لیے استعمال کو ممکن بنا سکے ۔چینلز کے اپنے بھی کچھ اصول و قوائد ہونا چاہیں جن میں اسلامی اقدار کو ایک واضع مقام حاصل ہونا ضروری ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maemuna Sadaf

Read More Articles by Maemuna Sadaf: 165 Articles with 95060 views »
i write what i feel .. View More
02 Jun, 2017 Views: 415

Comments

آپ کی رائے