میں سلمان ہوں(٣١)

(Hukhan, karachi)
نہ رہا وہ شہر ،، نہ رہیں وہ بستیاں
ملتٰی تھیں محبتیں،،نا پید تھیں د شمنیاں

سلمان بھائی‘‘،،،آپ فارغ ہو‘‘تو ذرا ڈرائنگ روم میں آ جاؤ‘‘،،،سلمان نے اسلم کی آواز پر فوراَ کرسی کو اپنے بوجھ سے آزاد کر دیا‘‘،،،روزی اپنی جگہ ساکت رہی‘‘،،،سلمان اسلم کے پیچھے کمرے سے نکلنے لگا‘‘،،،مجھ پرفیکٹ بولنے کا ریزن دینا ہے‘‘آپ نے سلمان‘‘،،،اس کے لہجے سے سلمان کو بھاگ جانے میں ہی عافیت لگی‘‘،،اسے ایسا لگا‘‘روزی ا ک بار پھر مسکرا رہی ہے‘‘،،،
کم بخت‘‘،،میرے اندر کا شاعر کسی دن مروا دے گا‘‘،،،کیا ضرورت تھی بھلا پر فیکٹ بولنے کی‘‘،،،یہ الفاظ بھی انسان کو امتحان میں ڈال دیتے ہیں‘‘،،،
تھوڑی دیر بعد‘‘،،،تینوں زور زور سے ہانپ رہے تھے‘‘،،،صوفے سب کے سب ڈرائنگ روم سے نکال دئیے گئے تھے‘‘،،،اور فرشی نشست کا انتظام کر دیا گیا‘‘،،،مہمان ذیادہ آ جاتے تھے‘‘،،،اب بہت سے لوگوں کی جگہ بن گئی تھی‘‘،،،
کیا بات ہے زمین کی‘‘،،،زندہ رہو‘‘اس پر دھما چوکڑی کرتے رہو‘‘،،،،،فنا ہونے کے لیے پھر سے زمین کے دامن میں پناہ لے لو‘‘،،،
مجال کبھی یہ کہہ دے‘‘،،،اٹھو میرے سینے سے‘‘،،،بہت سو لیے اب جاگ جاؤ‘‘،،،ماں کی طرح‘‘،،بچہ سو رہا ہو‘‘تو گھنٹوں کروٹ نہیں لیتی‘‘،،،کہیں اس کی تخلیق کی نیند‘‘آرام خراب نہ ہو ‘‘،،،گیلی جگہ سے اپنے جگرگوشے کو ہٹا کے‘‘
پوری سرد رات اپنا جسم اس ٹھنڈ کے حوالے کر دیتی ہے‘‘،،،اسلم نے سلمان کو دیکھ کر زور سے قہقہہ لگایا‘‘،،،
یار ابھی سے یہ حال ہے‘‘،،ہماری عمر میں پہنچ کے کیا ہو گا‘‘،،،سلمان نے اسلم بھائی کی طرف دیکھا‘‘،،،مسکرا کے کہا‘‘،،ہم اس راہ کے مسافر نہیں‘‘،،
صوفے اٹھانا ہماری عادت نہیں‘‘،،پہلی دفعہ چاچا ماڈل بھی ہنس دیا‘‘،،،دونوں نے چاچا ماڈل کو حیرت سے دیکھا‘‘،،
طبیعت ٹھیک ہے نا ماڈل‘‘،،،اسلم نے مذاق کیا‘‘،،،
اس کی عادت نہیں ہے‘‘،،چاچا ماڈل سنجیدگی سے بولا‘‘،،،میں اس لیے ہنس رہا ہوں‘‘،،،ہم تو جیسے پیدا ہی مزدور ہوئے ہیں‘‘،،،جیسے‘‘ہم کوئی گدھے‘‘،،کوئی سزا یافتہ مجرم ہیں‘‘،،،جو جرم غریبی کاٹ رہے ہیں‘‘،،،اس کی آنکھیں اس کے درد کی گواہ بن گئی‘‘،،،سلمان نے اداسی سے اس پچپن(٥٥) سالہ بلکتے انسان کو دیکھا‘‘،،،وہ بولتاگیا‘‘،،سردی میں کمبل نہیں‘‘،،، بیماری میں دوائی نہیں‘‘،،،اندھیرے میں روشنی نہیں‘‘،،پتا نہیں ہم کیوں پیدا ہو گئے‘‘،،،
سلمان نے آگے بڑھ کے چاچا کو گلے سے لگا لیا‘‘،،،چاچا ہم ہیں نا تیرے‘‘تیرا کمبل‘‘،،تیری روشنی‘‘،،تیری دوائی‘‘(جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 880850 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jun, 2017 Views: 866

Comments

آپ کی رائے
nice ,,,,,
By: Zeena, Lahore on Jun, 04 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Jun, 30 2017
0 Like
Very niceee
By: Mini, mandi bhauddin on Jun, 03 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Jun, 04 2017
0 Like
kamal poetry alaa novel
By: aslam memon, karachi on Jun, 03 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Jun, 04 2017
0 Like
very nice,,,,,, bht achy story hai,,,,,,,,,,
By: umama khan, kohat on Jun, 03 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Jun, 03 2017
0 Like